Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

جے یو آئی نے انتخابی نتائج کو مسترد کردیا

43,665 просмотров • 2 лет назад •via X (Twitter)

Комментарии: 9

Фото профиля AHMAD
AHMAD2 лет назад

@mehboob6501248 نون لیگ کو بھی مسترد کر کے اپوزیشن میں بیٹھ جانا چاہیے اگر ائندہ اپنی سیاست بچانی ہے تو

Фото профиля Muhammad Faiz
Muhammad Faiz2 лет назад

Abi maza aye ga Saab

Фото профиля AN Baloch (Ch)
AN Baloch (Ch)2 лет назад

❤❤

Фото профиля gohar mehsud
gohar mehsud2 лет назад

Ab smaj agai

Фото профиля Umer Memon
Umer Memon2 лет назад

Hum awam ke mazmat kete hein jis ne fazalulrehman ko vote naheen diya

Фото профиля shah g
shah g2 лет назад

مولانا کو آج اپنی سہی اوقات کا پتا چلا ہے ۔ اب یہ صرف ایک استعمال شدہ لوٹا ہے۔ خان کو گرانے آیا تھا ۔صدر بنتے بنتے استعمال شدہ لوٹا بن گیا ۔

Фото профиля Real afghan ✿
Real afghan ✿2 лет назад

جهاد کبھ شروع کرنا هی ستاسو ښځی وغیم

Фото профиля ziamalik
ziamalik2 лет назад

Ye chez

Фото профиля قاری امان اللہ
قاری امان اللہ2 лет назад

قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب زندہ باد

Похожие видео

جےیو آئی کے مرکزی مجلس عاملہ نے 8 فروری 2024 کے انتخابی نتائج کو مجموعی طور پر مسترد کردیا ہے ۔ انتخابی دھاندلی نے 2018 کا ریکارڈ بھی توڑ دیا ہے ۔الیکشن کمیشن اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں یرغمال رہا ہے ۔جے یو آئی الیکشن کمیشن کے اس بیان کو مسترد کرتی ہے جسمیں الیکشن کو شفاف قرار دیا گیا ہے ۔ جے یو آئی سمجھتی ہے کہ پارلیمنٹ اپنی اہمیت کھو بیٹھی ہے اور جمہوریت اپنا مقدمہ ہار رہی ہے، لگتا ہے اب فیصلے ایوان کی بجائے میدان میں ہونگے ۔ جے یو آئی پارلیمانی کردار ادا کرے گی تاہم اسمبلیوں میں ہماری شرکت تحفظات کے ساتھ ہوگی ۔ مرکزی مجلس عاملہ نے جے یو آئی پاکستان کی مرکزی مجلس عمومی کو سفارش کی ہے کہ وہ جماعت کی پارلیمانی سیاست بارے فیصلہ دے کہ جے یو آئی مستقل پارلیمانی سیاست سے دستبردار ہوتاکہ عوامی جدوجہد کے ذریعے اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت سے پاک ماحول میں عوام کی حقیقی نمائندگی کی حامل اسمبلیوں کے انتخابات ممکن ہوسکیں ۔ چاروں صوبائی مجالس عمومی کے اجلاس صوبوں کے مرکزی مقامات میں طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ مرکزی مجلس عاملہ کے فیصلوں بارے انہیں اعتماد میں لیا جائے ۔ جے یو آئی سمجھتی ہے کہ جے یو آئی کو دھاندلی کے ذریعے شکست سے دوچار کرنے کی منصوبہ بندی اسلام دشمن عالمی قوتوں کے ذریعے سے ہوئی ہے ۔ ہمارا جرم یہ ہے کہ ہم نے افغانستان میں امارت اسلامیہ کے استحکام اور پاکستان افغانستان پرامن تعلقات کے لئے کردار ادا کیا نیز جے یوآئی نے اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی کے خلاف حماس کے موقف کی حمایت کی ہے ۔ جے یو آئی نظریاتی قوت ہے ۔ملک کا یہ داخلی نظام اور بین الاقوامی مسائل کسی مصلحت یا سمجھوتے کا شکار نہیں ہوگی ۔نیز مشاورت کے بعد ملک میں اپنے مقاصد کے لئے تحریک چلائے گی ۔ کارکن اپنی تاریخ کو اپنی قربانیوں سے تابندہ رکھنے کے عزم کے ساتھ تحریک میں بھرپور حصہ لینے کے لئے تیار رہیں ۔ اگر اسٹیبلشمنٹ سمجھتی ہے کہ الیکشن صاف شفاف ہوئے ہیں تو پھر اس کا معنی ہے کہ فوج کا نو مئی کا بیانیہ دفن ہوچکا ہے، اور عوام نے ان کے غداروں کو مینڈیٹ دیا ہے۔ الیکشن کے نتائج اس بات کا بھی اشارہ دے رہے ہیں کہ کامیاب یا ناکام امیدواروں سے رشوتیں لی گئیں ہیں اور بعض کو تو پیسوں کے بدلے پوری صوبائی اسمبلیاں دی گئیں ہیں ۔ مسلم لیگ کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ بھی ہمارے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھے ۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کا روز اول سے کردار مشکوک رہا ہے ۔اب بھی اسلام آباد میں الیکشن کمیشن ہمارے امیدواروں کی درخواستوں کی سماعت سے انکار کررہا ہے اور نوٹس جاری کئے بغیر درخواستوں کو خارج کررہا ہے ۔22 فروری کو جے یو آئی اسلام آباد ،25 فروری کو جے یو آئی بلوچستان ، 27 فروری کو جے یو آئی کے پی ، 3مارچ کو جے یو آئی سندھ جبکہ 5 مارچ کو جے یو آئی پنجاب کی مجالس عمومی کے اجلاس ہونگے ۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

148,186 просмотров • 2 лет назад

اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ جب الیکشن ہوتے ہیں تو خفیہ ادارے انتخابی عمل کو کنٹرول کر کے من پسند نتائج مرتب کرتے ہیں، ہم نے 2018ء اور 2024 کے انتخابات کو اسی بنیاد پر مسترد کیا ، عوامی تائید کے ساتھ اپنا مؤقف دنیا تک پہنچانے کے لئے چاروں صوبوں میں عوامی اسمبلیوں کا انعقاد کیا ، جس میں عوام کی شمولیت نے 8 فروری 2024 کے انتخابات کی حقیقت کو بے نقاب کردیا اور دنیا کو بتایا کہ ہماری رائے کو تبدیل کیا گیا ہے،چاروں صوبوں کی عوام سے رائے لینے کے بعد جے یو آئی کی قیادت عید کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی۔ ہم بخوبی جانتے ہیں کہ ہمارے ہمسفر تھے جنہوں نے الیکشن نتائج کو تسلیم کیا اور اقتدار میں بیٹھ گئے لیکن ہم نے اپنا اصول نہیں بدلا، اگر نتائج آئندہ بھی تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ جنگ جاری رہے گی۔ ہم سرنڈر نہیں ہونگے اور ہر قسم کے نتائج بھگتنے کیلئے بھی تیار ہیں، بلکہ عوامی رائے تبدیل کرنے والی قوتوں کو عوام کے سامنے سرنڈر ہونا پڑے گا۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

15,064 просмотров • 2 лет назад