Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

حماد اظہر کا لاہور سے جب بھی Disposal ہو گا تو وہ نو مئی جی ایچ کیو حملہ کیس میں مجرم ہو چکے ہیں ان کو 10 سال کی سزا ہو چکی ہے۔ مقررہ وقت پر انہوں نے فیصلے کیخلاف اپیل بھی نہیں کی لہذا فیصلہ فائنلیٹی اختیار کر...

12,565 просмотров • 20 дней назад •via X (Twitter)

Комментарии: 15

Фото профиля javed Bhutta
javed Bhutta20 дней назад

عسکری گدھے 9 مئی کی کل اوقات عمران خان کے خلاف ایک پریس کانفرنس اور استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت ھے

Фото профиля Kuku King🇵🇰
Kuku King🇵🇰20 дней назад

9 مئی کے پرتشدد واقعات کے بعد ریاست اور عدلیہ نے جو آہنی فیصلے صادر کیے ہیں، ان کے تناظر میں اب کسی بھی قسم کی "ڈیل" یا نرمی کی اُمید رکھنا محض سراب اور سیاسی نابینا پن ہے۔ مرکزی کرداروں کے لیے آنے والا وقت مفاہمت کا نہیں بلکہ کڑے احتساب کا دور ہے۔

Фото профиля Engnrt Mushtaq Ahmad
Engnrt Mushtaq Ahmad20 дней назад

تم ایک حرامی کتے ہو اسٹیبلشمنٹ کے

Фото профиля stretegiclens
stretegiclens20 дней назад

Muqarrah waqt bhi mery bhai ko ticket nahin di yeh gussa jata hi nahin

Фото профиля Learner
Learner20 дней назад

Asim khinzeer ki raiwind wali gashti ki surgeries ka case bhi daal dou. Army @OfficialDGISPR ne randi of raiwind ke liye Pakistan ko circus bana diya hai. Asim khinzeer is making sure that no one trusts this army for generations

Фото профиля Darkknight2021
Darkknight202120 дней назад

Agr Hammad Azhar ku bail mili tu establishment ye soch le k ye bnda har protest ku lead krta tha Lahore se

Фото профиля Muhammad Ajmal
Muhammad Ajmal 20 дней назад

Tomy oh tomy

Фото профиля Naeem1988pk
Naeem1988pk20 дней назад

Hassan Ayub, remember you have committed many crimes. One can see you spending the next 25 years in prison.

Фото профиля Gangadin
Gangadin19 дней назад

HASSAN AYUB IS A BOOT LICKER

Фото профиля Tahir Ahmed Jilal
Tahir Ahmed Jilal20 дней назад

That’s always pti sporter before they creat falls narrative,promote that lies soon they face realty then start blaming to establishment and government and ask for sympathising from media ,,like that ,no trust them I don’t when we stop hearing everyday negative politics news instead of positive for Pakistan debate should be

Фото профиля Muhammad Nabi
Muhammad Nabi19 дней назад

عسکری گانڈو اور عسکری رنڈیاں لگے ہیں دلالی میں اور عمران خان اور انکے ورکر پر بھونکتے ہیں

Фото профиля Malik Atiq
Malik Atiq19 дней назад

کوٹھے سے فیصلہ آنے پہلے ہی طوائف کے بیٹے نے فیصلہ سنا دیا

Фото профиля Brain Smith
Brain Smith20 дней назад

پاکستان کا قانون ایک گیٹ کی توڑ پھوڑ پے تو ہزاروں لوگوں ہینڈلر کہہ کو سزا دے رہا ہے لیکن انڈیا کی بلوچستان میں دست اندازی اور معصوم لوگوں کو مارنے والے ہینڈلرز کے نام تک سامنے نہیں آتے ۔

Фото профиля Sultan
Sultan20 дней назад

تو یہ بتا تم نے الیکشن چوری نون لیگ و اسٹیبلشمنٹ و پیپلز پارٹی کرپشن ایوین فیلڈ حالیہ مہنگائی بے روزگاری لنڈن جاکے بیٹھ جانا قرضے لیکر تم جیسے کو پلانا کمیشن لینا ڈان لیکس اور کئی معاملات وہاں تمھاری بند ہے سارے ڈھکن

Фото профиля BadBoy
BadBoy20 дней назад

چل وڑ پراں —

Похожие видео

احمد رضا ڈار پر آپ نے ریپ کا کیس نہیں ڈالا، اسے بچا لیا گیا ہے، اور اسے ریپ کے الزام سے بچایا گیا ہے؟ میری تمام انویسٹیگیٹو جرنلسٹس سے گزارش ہے کہ ہمارے پاس ان خواتین کے رابطہ نمبرز موجود ہیں۔ آپ ان خواتین سے بھی بات کر سکتے ہیں اور ان کے والدین سے بھی بات کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کو پاکستان کے اداروں پر یقین نہیں ہے، تو شاید آپ کو بیرونِ ملک موجود ان افراد کی بات پر زیادہ یقین ہو۔ آپ ان سے بھی بات کر لیں۔ہم نے ان خواتین کو ایک ایک ملزم کی تصویر دکھائی تھی، اور انہوں نے جو بیان جج کے سامنے دیا، اس میں ایک خاتون کا چار صفحات پر مشتمل بیان ہے جبکہ دوسری خاتون کا بیان تین صفحات پر مشتمل ہے۔ 164 کا بیان اور میڈیکل کسی کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ جب جج 164 کے تحت بیان ریکارڈ کر رہا ہوتا ہے تو وہ بار بار یہ پوچھتا ہے اور سرٹیفکیٹ پر دستخط بھی کرواتا ہے کہ آپ جو بیان دے رہے ہیں، وہ بعد میں آپ کے خلاف بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ Muzamal Suharwardy Lahore Police Official

Muzamal Suharwardy Team

28,871 просмотров • 2 месяцев назад

"عالیہ حمزہ اور دیگر لوگوں کے خلاف ایک اور نیا مقدمہ درج کر دیا گیا ہے۔ اس میں یہ الزام ہے کہ جب مویشی منڈی والے جلسے میں حماد اظہر صاحب سٹیج پر موجود تھے، تو پولیس اہلکار حماد اظہر کو پکڑنے کے لیے وہاں پہنچا تو عالیہ حمزہ اور لاہور کے صدر شیخ امتیاز نے مل کر حماد اظہر کو چھڑوا کر فرار کرا دیا۔ اس دھکم پیل میں اس پولیس اہلکار کی وردی بھی پھٹ گئی اور اس پر حملہ بھی کیا گیا۔ یہ سب جھوٹ پر مبنی ہے۔ یہ ایک شرمناک ایف آئی آر ہے۔ یہ باتیں پولیس کی کریڈیبلیٹی پر سوال اٹھاتی ہیں۔ پولیس کا کیا حال ہو چکا ہے۔ ان میں ضمیر نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ یہ لوگ انسان کہلانے کے بھی لائق نہیں ہیں۔ ان کے جرائم کا حال اتنا بُرا ہے کہ انہیں یونیفارم پہنے غنڈے کہنا بھی کم ہے۔ یہ لوگ ہمارے پیسوں پر تنخواہیں لیتے ہیں اور ہمارے اوپر ظلم کرتے ہیں۔ یہ پولیس اصلاحات کی اشد ضرورت ہے کیونکہ یہ لوگ قانون سے بھی گزر چکے ہیں۔" Samina Pasha #عدلیہ_بچاؤ_ملک_بچاؤ #UndeclaredMartialLaw

PTI

17,076 просмотров • 2 лет назад

مجھے اکثر کہتے ہیں کہ آپ انسانی حقوق کی تنظیموں سے کیوں نہیں رابطہ کرتے تو میں یہ کہتی ہوں کہ وہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں جتنا ظلم پاکستان میں ہوا ہے وہ چھپا نہیں ہے، جہاں پہ یہ 26 نومبر ہوا وہاں پر ایمبیسیز تھیں ان کو سب پتہ ہے لیکن وہ ان کو سپورٹ کرتے ہیں، اوورسیز پاکستانی بہت بڑی طاقت ہیں جو عمران خان کے ساتھ ہیں، عمران خان ہمیشہ کہتے ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں جو پاکستان کو ہر مشکل سے نکالیں گے کیونکہ ان کے پاس آزادی بھی ہے اور ان کے پاس طاقت بھی ہے، پاکستان میں لوگ اتنے مجبور ہو چکے ہیں کہ اگر کوئی عمران خان کے لیے کاروبار والا انسان ساتھ دیتا ہے تو اس کا کاروبار بند ہو جاتا ہے، اوورسیز اس لحاظ سے بہت آزاد ہیں وہ پاکستان کے لیے بھی آواز اٹھائیں عمران خان کے لیے بھی بتائیں کہ ان کے ساتھ کیا ظلم ہو رہا ہے جیل کے اندر کتنا برا سلوک ہو رہا ہے اور یہ لوگ کتنے بڑے مجرم ہیں جو اس وقت وہاں پہ کھڑے ہیں، یہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ امریکہ ہمیں بچا لے گا ان کو کوئی بھی نہیں بچا سکے گا یہ ان کا آخری وقت چل رہے اور میرا خیال ہے اس کے بعد شاید پاکستان ظلم سے آزاد ہو جائے گا کیونکہ یہ ظلم بہت سالوں سے کرتے رہے ہیں تو مجھے امید ہے انشاءاللہ یہ آخری وقت ان کا چل رہا ہے۔ نورین نیازی #AllowAccessToImranKhan #ImranKhanHealthEmergency

Qasim Khan Suri

40,648 просмотров • 7 месяцев назад

نو مئی کے بارے میں یہ مقدمات نہیں ہیں بلکہ تماشا ہے۔ ​تھانہ شادمان حملہ کیس، شیر پاؤ پل جلاؤ گھیراؤ کیس، جناح ہاؤس کے قریب گاڑیاں جلانے کا کیس، سرور روڈ پولیس اسٹیشن میں درج مقدمات، کلب چوک اور جی او آر ون گیٹ پر حملہ کیس، ریس کورس تھانہ کیس، اور کلمہ چوک کے قریب کنٹینر جلانے کا کیس۔ ​ایک آدمی اگر جن بھی ہو، تو وہ ان سب جرائم میں بیک وقت شریک نہیں ہو سکتا۔ آپ نے تو ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ بریو! بریو! سبحان تیری قدرت، سبحان تیری کھیل! پانچ آدمیوں کو آپ نے فی کس 286 سال جیل کی سزا دی ہے۔ دنیا کی تاریخ میں کہیں بھی دیکھ لیں، کسی بھی جمہوریت یا بنانا ڈیموکریسی میں آپ کو اس قسم کی عدالتی کارروائیاں نہیں ملیں گی۔ ​پاکستان کا آئین ہائی ٹریزن (سنگین غداری) اس بات کو کہتا ہے کہ جو آئین کو توڑے گا، جو آئین کو روندے گا، اور جو آئین کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھے گا، وہ ہائی ٹریزن کا مجرم ہے۔ اور ساتھ ہی وہ سارے لوگ جو اس عمل میں شریک ہوں گے، وہ بھی ہائی ٹریزن کے مجرم ہیں۔ ​بات یہ ہے کہ ہم تو مجبور ہیں، پاکستان ہمارا ملک ہے۔ کل کسی وزیر نے کہا تھا کہ ہم اسلام آباد میں جیل بنائیں گے۔ بابا! پاکستان میں اب مزید جیلوں کی ضرورت نہیں ہے۔ ​آپ نے اس پارلیمنٹ کو ایک ڈیبیٹنگ سوسائٹی کے معیار سے بھی نیچے گرا دیا ہے، ڈیبیٹنگ سوسائٹی سے بھی نیچے کر دیا ہے آپ نے۔ آپ رحم نہیں کرتے، بار بار ہم آپ سے کہتے ہیں۔ ​میں نے اس دن بات کی تھی تو میرے بھائی شہباز نے اس کا جواب دیا تھا، لیکن جس انداز میں وہ بولے، مجھے مزہ نہیں آیا۔ قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی

PTI

13,532 просмотров • 3 месяцев назад

آج ان چار صوبوں کو توڑ کر ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے،جب فوج کی حکومت تھی انہی چار صوبوں کو ایک صوبہ مغربی پاکستان بنا کر ون یونٹ لگا دیا تھا،وہ بھی ہماری فوج کی سوچ تھی اور آج صوبوں کو توڑ کر تقسیم کرنا بھی اسی فوج کی سوچ ہے،خواہ مخواہ ایک "کاکے" کو آگے کردیا ہے۔ جب چاہیں پورے مغربی پاکستان کو ایک صوبہ بنا دیں اور جب چاہیں چار صوبوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں، جہاں ہر فیصلے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کے اپنے عزائم ہوں وہاں کوئی قومی مفاد نہیں ہوتا۔ ہم نے اس ملک میں رہنا ہے تو خیرخواہی کی بنیاد پر اپنے ضمیر کی بات کرتے ہیں،ہم اپنی بھلائی اسی میں دیکھتے ہیں اور آپ کی بھی خیرخواہی اسی میں دیکھتے ہیں،مگر ان کا مزاج بن گیا ہے کہ ان کو خوشامدگروں کی زبان اچھی لگتی ہے۔ لیکن ہم ملک کو اسٹیبلشمنٹ کی ملکیت نہیں مانتے،یہ ملک ہمارا ہے،ہم اس کے شہری ہیں،اور ریاست عوام کے بغیر کچھ نہیں ہے۔ ہم اصولاً کسی یونٹ بنانے کے خلاف نہیں،دوسرے ملکوں میں بھی یونٹس بنتے ہیں لیکن وقت اور ماحول کو بھی دیکھنا چاہئے۔ ہم نے فاٹا کو صوبے میں انضمام کے وقت بھی کہا تھا یہ فاٹا کے عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے، لہٰذا فاٹا کے عوام سے پوچھ لیا جائے لیکن آپ نے ان پر انضمام تھوپ دیا، آج اس کا کیا حشر ہے؟ اس وقت باجوہ صاحب تھے، جو مجھے کہتے تھے کہ آپ کیوں اس کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ہمارے لیے ضروری ہے اور جب میں نے ان کو جوابات دئے تو چند روز کے بعد مجھے ایک امریکی افسر گھر آ کر ملا، اور اس نے کہا کہ آپ کیوں فاٹا انضمام کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ضروری اور لازمی ہے۔ آج ہمارا جنرل خود مجھے کہتا ہے کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا۔ جب چاہو لوگوں کے سیاسی مستقبل کو داؤ پر لگا دو اور پھر جب چاہو طریقہ بدل دو، آپ کا فیصلہ جو آج ناگزیر ہے،کل آپ کا وہ فیصلہ غلط ثابت ہوتا ہے،کسی ایک فیصلے کی مثال بھی نہیں ملتی جس کے نتائج قوم کی حفاظت میں سامنے آئے ہوں۔ یہ وہ ساری چیزیں ہیں جس پر ڈیبیٹ ہونی چاہئے یک طرفہ فیصلہ مسلط نہ کریں،یہ عوام کا ملک ہے، یہاں عوام نے رہنا ہے،عوام کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔ صوبوں کی تقسیم کے پیچھے کیا مفادات ہیں؟ نمبر ایک، صوبوں کے اندر جو معدنی ذخائر ہیں، آئین کی اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے اس کے مالک ہیں، صوبوں کے بچے اس کے مالک ہیں، اور یہ چیز انہیں مرکز میں ہضم نہیں ہو رہی ہے۔ دوسری چیز کہ این ایف سی ایوارڈ، قومی محصولات کا جو حصہ صوبوں کو ملتا ہے، وہ اب ستاون فیصد تک پہنچ گیا ہے، اور آئین کہتا ہے کہ اضافہ ہو سکتا ہے، کم ہی نہیں ہو سکتا،یہ بھی ان کو ہضم نہیں ہو رہا۔ اب صوبے تقسیم کرو تاکہ یہ لوگ ازسرِنو معدنیات اور این ایف سی ایوارڈ کے فیصلے پھر سے کریں۔ ہم صوبوں کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ لوگ سب کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی بات تو کرتی ہے، لیکن وہ صرف سندھ کی حد تک کرتی ہے۔اصولی طور پر بات کریں۔ مسلم لیگ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، مرکز میں حکومت مسلم لیگ نون کی ہے، اور اتنے بڑے قومی سطح کے معاملات کاکے کے حوالے ہیں جس کی حیثیت ایک ذاتی ملازم سے ذیادہ اہم نہیں ہے،وہ کابینہ کا ممبر ہے۔ اسلام آباد ٹیریٹری کے لیے دو کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں۔ ایک کمیٹی میں بھی کاکا جی، دوسرے میں بھی کاکا جی، ایک کی رپورٹ کچھ، دوسری کی رپورٹ کچھ اس میں تضادات ہیں تو پاکستان ہم ان کے حوالے نہیں کرسکتے، یہ قوم کی چیز ہے، قوم کی امانت ہے اسکا فیصلہ بھی عوام نے کرنا ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

33,845 просмотров • 20 дней назад

اس وقت پاکستان میں طاقت حق بن چکی ہے، اور ماحول ایسا بنا دیا گیا ہے کہ جس کی لاٹھی، اس کی بھینس۔ طاقتور اسٹیبلشمنٹ جو چاہتی ہے وہی ہو رہا ہے۔ جج خود فیصلے نہیں لکھ رہے، فیصلے لکھوائے جا رہے ہیں، ڈکٹیٹ ہو رہے ہیں، اور عدلیہ اپنی ساکھ اور استقلال کھو چکی ہے۔ پارلیمنٹ کے ذریعے عوام پر ظلم ہو رہا ہے، عدلیہ کے ذریعے ظلم ہو رہا ہے، پولیس کے ذریعے ظلم ہو رہا ہے۔ بے گناہوں کو قتل کیا جا رہا ہے، مبینہ پولیس مقابلے ہو رہے ہیں، اور یہ سب کچھ واضح طور پر اخبارات میں آ رہا ہے۔ پاکستان کے عوام بھی غیر متعلق کر دیے گئے ہیں، اور پاکستان کی پارلیمنٹ بھی غیر متعلق ہو چکی ہے۔ اب کوئی چیز اپنی جگہ پر باقی نہیں رہی۔ پاکستان میں جو کچھ نظر آ رہا ہے وہ کھنڈر ہیں۔ عدلیہ کی جو عمارتیں ہمیں پیچھے نظر آتی ہیں، وہ بھی اس وقت کھنڈر بن چکی ہیں۔ یہاں عادل نہیں ملتا، یہاں عدل و انصاف کا قتل ہو رہا ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر پاکستان کے عوام کے حق میں قانون سازی نہیں ہوتی، بلکہ عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ پولیس کیا کر رہی ہے، عدالتیں کیا کر رہی ہیں، بیوروکریسی کیا کر رہی ہے—سب آپ کے سامنے ہے۔ ایک طرف پاکستان کی ریاست اور اس کی سالمیت پر یلغار ہے، اور دوسری طرف بدترین مہنگائی ہے۔ پھر ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں جن سے عوام کو مزید تکلیف پہنچے۔ عمران خان صاحب کے ساتھ اس وقت پاکستان کے عوام کی نوّے فیصد اکثریت کھڑی ہے۔ جو بھی آج ان کا مخالف ہے، وہ دراصل انتہاکت واروں کے ساتھ کھڑا ہے۔ ہم سب ایک ہیں، اسی لیے ان کی پوری کوشش ہے کہ ہمیں مایوس کریں، ناامید کریں، اور لوگوں سے کہیں کہ آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ لیکن حقیقت میں یہ ان کی بزدلی اور پریشانی کی علامت ہے۔ یہ لوگ ہار چکے ہیں، اور جو اپنے عوام سے لڑتے ہیں وہ کبھی جیت نہیں سکتے۔ پاکستان کے نظام پر عوام کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے، اور اس وقت پاکستان عوام کے بغیر چلایا جا رہا ہے۔ یہ لوگ دنیا میں جا کر جو فیصلے اور معاہدے کر رہے ہیں، ان کی دو ٹکے کی حیثیت بھی نہیں۔ پاکستان کے عوام انہیں قبول نہیں کرتے۔ ہم آج ہونے والے فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ قابلِ مذمت ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ جس طرح کے ٹرائل ہو رہے ہیں، جس طرح کی صورتحال بنائی جا رہی ہے—جنوری سے عمران خان صاحب کے کیسز ہائی کورٹ میں زیرِ التوا ہیں، ان کی سماعت نہیں ہو رہی۔ یہ پک اینڈ چوز کی صورتحال ہے، اپنی مرضی کے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسے فیصلے انہیں بچا لیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ استثنا لینے کے باوجود ان کا خوف ختم نہیں ہو رہا۔ ڈر کے سائے میں ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ خدا نہ کرے کسی ملک پر بزدل، حقیر اور چھوٹے لوگ مسلط ہو جائیں۔ یہ لوگ پست ترین سطح پر جا کر مخالفت کرتے ہیں۔ ہم خداوندِ عبدالمطلب کے بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ ہمیں ان ظالموں، بونوں اور حقیر لوگوں سے نجات عطا فرمائے۔ یہاں آئین کی بالادستی ہو، قانون کی حکمرانی ہو، اور پاکستان کے عوام کو انصاف اور ان کا حق ملے۔

Senator Allama Raja Nasir

29,309 просмотров • 9 месяцев назад

نئے صوبوں سے متعلق سوال پر امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا جواب: ایک بات میں پہلے آپ صحافیوں سے کرنا چاہوں گا جی، ذرا مہربانی کریں، آپ میڈیا کی دنیا میں حمایت اور مخالفت کی لکیر نہ کھینچیں۔ یہ ایک ڈیبیٹیبل ایشو ہے اور اس پر مختلف پہلوؤں سے بات ہو سکتی ہے۔ اصولی طور پر ایک مسئلے کی پوزیشن اور ہوتی ہے، عملی طور پر جب آپ آتے ہیں تو پھر اس کی صورت اور ہوتی ہے۔ اصولی طور پر آپ کو حق ہے کہ آپ اپنا گھر بنائیں، لیکن کیا آپ کے پاس وسائل ہیں کہ آپ بنا سکیں؟ وسائل نہیں ہیں، جیب خالی ہے اور آپ جا کر وہاں اینٹیں رکھنا شروع کر دیں تو لوگ کہیں گے کہ یہ کیا کر رہا ہے؟ تو وہ ایک خامخواہ ضائع ہونے والی بات ہو جاتی ہے۔ میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ اصولی طور پر تو ہم یونٹس کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم نے اس سے پہلے بہاولپور صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے سرائیکی صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے ہزارہ صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے خود فاٹا کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم سندھ ذرا اس سے مختلف تھا کہ سندھ کے عوام صوبے کی تقسیم کے لیے آمادہ نہیں تھے، اس وقت بھی نہیں تھے اور اب بھی نہیں ہیں۔ لیکن جو میری معلومات ہیں، جب اس وقت صوبہ، صوبہ ہو رہا تھا تو اسٹیبلشمنٹ بھی اس کی مخالف تھی۔ چنانچہ ان عناصر کی حوصلہ شکنی کی گئی جو صوبہ، صوبہ کر رہے تھے اور حکومتوں اور اسمبلیوں میں وہ لوگ نہیں آ سکے، کمزور پوزیشن میں آئے اور بالآخر ان کو وہ ایشوز چھوڑنے پڑ گئے۔ آج پھر کون سی ایسی وحی آ گئی ہے ان کے اوپر کہ آؤ، ان کو پتا نہیں کتنے اور کوئی نقشہ بھی نہیں ہے۔ کبھی آپ سولہ یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی آپ بتیس یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی ہر ڈویژن کو صوبے کا درجہ دے رہے ہیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ نقشہ کیا ہے۔ تو ایک بات کہہ دینا اور پھر لوگوں کو چھوڑ دینا کہ وہ اس پر بحث کرتے رہیں، میرے خیال میں ملک کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ ایشو پھینکا گیا ہے۔ اس میں کوئی سنجیدگی ہے، نہ اس کے لیے اس وقت کوئی ماحول موجود ہے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی تیاری موجود ہے۔ جب ماحول بھی نہیں ہے، اس وقت تیاری بھی نہیں ہے، تو خامخواہ ایک غیر سنجیدہ گفتگو، جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہمارے حکمران اس وقت باہر کی دنیا کے ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہیں اور ان کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ پاکستان کی سرزمین جو خون سے سرخ ہے، اس کو بھی تو ہمیں سنبھالنا ہے۔ تو جہاں خون بہہ رہا ہو، جہاں ملکی زمین جو ہے وہ خون سے سرخ ہو اور آپ باہر دنیا میں جا کر وہاں پر ریڈ کارپٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہوں، تو ذرا گھر کو تو ٹھیک کریں۔ ہم نہیں کہتے کہ آپ باہر کی دنیا سے اچھے تعلقات نہ رکھیں۔ ہم نے تو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کو سپورٹ کیا ہے۔ ہم نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کو سپورٹ کیا ہے۔ ترکی کی شمولیت کو ہم نے سپورٹ کیا ہے۔ مصر اس میں آتا ہے، ایران اس میں آتا ہے۔ خیر، مقدم کریں گے ایک اسلامی بلاک کے قیام کا۔ یہ خود جمعیت علماء اسلام کے منشور کا حصہ ہے۔ تو جو چیزیں دنیا میں ہمارے اپنے فکر اور ہمارے نظریے کے مطابق آگے بڑھیں گی، ہم اس کو سپورٹ کریں گے۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

11,368 просмотров • 1 месяц назад

"عمران خان نے کہا رہا ہونے کے بعد اکبر ایس بابر کے گھر جاؤں گا ایک تو یہ بات اب کی نہیں کچھ عرصہ قبل کی ہے پی ٹی آئی کے ایک بڑے مخلص ورکر ہیں جو اس وقت جیل میں تھے ان سے عمران خان نے یہ بات کی تھی وہ ضمانت پر رہا ہو کر باہر آئے تو مجھے بتائی وہ عمران کے بہت قریب ہیں ابھی بھی پی ٹی آئی میں ہیں " اکبر ایس بابر میرا سوال یہ ہے کہ 1. سیل میں کسی قیدی کی ملاقات عمران خان سے نہیں ہو سکتی 2. جیل عدالت میں شریک ملزمان اگر عمران خان کے ساتھ کسی کیس میں ہوں ان میں ہی ہو سکتی ہے وہ صرف ایک نو مئی کا کیس جہاں شریک ملزمان کی لسٹ طویل ہے 3. جی ایچ کیو کیس کی جیل سماعت ہوئے تقریبا ایک سال گزر چکا ہے 4. جی ایچ کیو جیل سماعتوں میں ملزمان پی ٹی آئی لیڈرز بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے الگ تھلگ ملاقات کسی کی ممکن نہیں صرف بعض اوقات ایک آدھ لیڈر ہو سکتا ہے جس کو عمران خان الگ لے جا کر پارٹی کے لئے پیغام دیتے رہے ہیں بہرحال اس خبر کا ڈائریکٹ سورس اکبر ایس بابر خود ہیں باقی نام کسی کا آئے گا تو اس سے بھی تصدیق کرکے ہی مزید بات ہو سکتی ہے

Saqib Bashir

91,831 просмотров • 1 месяц назад