Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

خیبر پختونخوا اسمبلی کا مونوگرام اپڈیٹ نہیں ہوا اس لئے اسمبلی کی ویب سائٹ پر ایکٹ اپ لوڈ نہیں کیا گیا ترجمان پی ٹی آئی شوکت یوسفزئی کے جواز پر صحافیوں ، ممبران اسمبلی، سیکرٹریٹ سٹاف اور خود شوکت یوسفزئی کے قہقہوں سے ہال گونج اٹھا

36,932 Aufrufe • vor 29 Tagen •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

*وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع جان کا حزب اختلاف کے ممبران اسمبلی کے ہمراہ پریس کانفرنس* صوبائی اسمبلی میں ممبران اسمبلی کی مراعات کے متعلق جو قانون پاس ہوا ہے اس حوالے سے کنفیوژن پیدا کیا گیا، سوشل میڈیا اور میڈیا میں ایسی باتیں سامنے آرہی ہیں جن کا اس ایکٹ میں نام و نشان بھی نہیں ممبران صوبائی اسمبلی کے لئے بلیو پاسپورٹ 1988 کے قانون میں پہلے سے موجود تھا صوبائی کابینہ کسی ایسی نئی چیز کی منظوری نہیں دی جو 1988 کے ایکٹ میں شامل نہ ہو صوبائی کابینہ نے جو مسودہ منظور کرکے اسمبلی کو بھیجا تھا اس میں ممبران اسمبلی کے لئے لائف ٹائم پاسپورٹ اور اہل خانہ کے لئے پاسپورٹ شامل نہیں تھا، اسمبلی میں پیش ہونے کے بعد اپوزیشن نے ان میں کچھ ترامیم کیں، آج وزیر اعلی سہیل آفریدی نے واضح ہدایات دی ہیں کہ ایکٹ کے جن شقوں پر اعتراضات آرہے ہیں، تمام پارلیمانی لیڈر کو بٹھا کر ان پر نظر ثانی کی جائے، پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت آزادی صحافت پر یقین رکھتی ہے، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے ہمیشہ مثبت تنقید کا خیر مقدم کیا ہے، وزیراعلی سہیل آفریدی کی ہدایات پر صحافی برادری کیساتھ مل بیٹھ کر جرمانوں اور دیگر نکات پر بات کرینگے، شفیع جان خیبر پختونخوا کی اسمبلی عوام کی منتخب نمائندہ اسمبلی ہے یہاں عوامی مفادات کے خلاف کوئی قانون پاس نہیں ہوگا اگر موازنہ کیا جائے، تو خیبر پختونخوا اسمبلی کے ممبران کی مراعات دیگر صوبوں کی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی کے ممبران کے مراعات سے کہیں زیادہ کم ہیں، جب سے صوبے میں ہماری حکومت آئی یے ممبران اسمبلی کی مراعات میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، صوبائی اسمبلی کے ممبران کے لئے جو نئی مراعات منظور کی گئیں ہیں وہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان اسمبلی کے مقابلے میں ابھی بھی کم ہیں، ٹول ٹیکس پچھلے 20 سالوں سے پارلیمنٹیرینز اور ججز کے لئے فری ہیں، بجٹ کے معاملے پر بھی صوبائی حکومت پر بلا جواز تنقید کی گئی حالانکہ ہم نے عمران خان کے وژن کے مطابق ایک بہترین بجٹ دیا ہے، ہم پر شائد اس لئے تنقید ہو رہی ہے کہ ہم عوام کے اصل نمائندہ حکومت ہیں، ممبران اسمبلی کو درپیش سکیورٹی خدشات کے پیش نظر انہیں کٹیگری بی سکیورٹی دی گئی ہے، قومی اسمبلی، سینٹ ممبران سمیت ملک میں کل 57000 بلیو پاسپورٹ جاری ہوئے ہیں، ان پر بات ہونی چاہئے، وفاقی حکومت جاری شدہ بلیو پاسپورٹ کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھے، صوبائی اسمبلی کے ممبران کو پہلے سے چار اسلحہ لائسنس کی اجازت تھی، صوبے کی مخصوص سکیورٹی حالات اور ممبران کو درپیش سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ادائیگیوں پر ممبران کو مزید چار لائسنس کی منظوری دی گئی ہے،

Shafi Jan

11,495 Aufrufe • vor 29 Tagen