正在加载视频...

视频加载失败

🛑🚫 دجل کے دلدادہ بلاسفیمی بزنس گروپ کا نیا دجل ، نیا دھوکہ ، نئی مکاری، نیا فریب 🛑 📍 بلاسفیمی بزنس گروپ کے ڈچ نیشنل ترجمان نے یوٹیوب چینل پر متاثرہ فیملیز کے 4 لوگوں کا انٹرویو نشر کیا اور ظاہر کیا کہ ان کا موقف تو سب...

16,577 次观看 • 1 年前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

میری ماہ رنگ بلوچ کی جو بہن ہے، نادیہ بلوچ، ان سے اور وہ باقی جو ان کی سینئر رہنما ہے، سمی دین بلوچ، ان سے تفصیلی بات ہوئی ہے۔ اور میں آپ کو بتاؤں کہ پچھلے دس دن سے وہ بل... جو جیل میں ہیں وہاں پہ انہوں نے دھرنا دے رکھا ہے۔ اور اس بنیاد پہ انہوں نے دھرنا دیا ہے کہ ان کو، اب عدالت یہ کہہ رہی ہے، پراسیکیوشن یہ کہہ رہی ہے کہ ان کو ہم عدالت نہیں لا سکتے، ان کا جو ہے نہ وہ موبائل پہ جو فیس ٹرائل ہے وہ، اس طرح کا ٹرائل کریں۔ تو اس کے خ... خلاف انہوں نے دھرنا دے رکھا ہے۔ یہ ان کا، یہ سیاسی قیدی ہیں۔ ​یہ سیاسی قیدی ہیں اور سیاسی قیدیوں کو سیاسی قیدیوں کی طرح ہی ٹریٹ کیا جائے۔ یہ خدانخواستہ کوئی ملک دشمن عناصر نہیں ہیں۔ بلوچستان آگے اس میں جو ہے نہ آپ کو سب کو پتا ہے کہ بلوچستان کے اس وقت حالات کیا ہیں؟ بلوچستان کے اندر لاء اینڈ آرڈر کی سچویشن کیا ہے؟ اور آپ اس میں پھر جمہوری آوازوں کے ساتھ اس طرح کا رویہ رکھ رہے ہیں۔ ​پرسوں اختر مینگل صاحب کی پارٹی کے ایک سینئر رہنما کو ان کے گھر کے دہلیز پہ شہید کیا گیا اور کلاشنکوف کے بٹ سے مار کر شہید کیا گیا۔ پھر لواحقین کو ان کی لاش حوالے نہیں کی گئی۔ پھر اختر مینگل صاحب اور ان کی پارٹی کے باقی لوگ ان کے گھر جانا چاہتے تھے، ان کی رسائی روک دی گئی۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسیران کے ساتھ آپ کا یہ رویہ ہے، تو ہم آپ سے پھر یہی پوچھنا چاہتے ہیں کہ آپ خدارا اس ملک کو کس طرف لے کے جانا چاہ رہے ہیں؟ ​تو ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جتنے بھی اسیران ہیں، ان کا آئینی اور قانونی حق ہے کہ ان کا عدالتی ٹرائل اسی طرح ہو جس طرح باقی ملزمان کے ساتھ ہوتے ہیں

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

12,890 次观看 • 3 个月前

اقرار الحسن سے عوام نے جو سوالات پوچھے ہیں ان میں سے ایک کا بھی جواب نہیں دیا گیا۔ پہلا سوال آپ نے خود ایک انٹرویو میں کہا کہ جب آپ چھٹی جماعت میں تھے تو آپ کے والد نے دوسری شادی کی اور پھر جرمنی چلے گئے۔ آپ نے کہا کہ آپ کو نہیں معلوم وہ کہاں رہتے ہیں کیا کرتے ہیں یا انہوں نے کتنی شادیاں کی ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف دوسری شادی کی وجہ سے کوئی ملک چھوڑ کر جرمنی میں پناہ لیتا ہے؟ ملک چھوڑنے کی اصل وجہ کیا تھی وہ آپ نے آج تک نہیں بتائی۔ دوسرا سوال آپ کے والد اسماعیل شاہ پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی شان میں گستاخی کے الزامات ہیں اور اس کی ویڈیو شواہد بھی موجود ہیں۔ آپ کے والد پر 295C کی دفعات بھی درج ہیں۔ اگر یہ سب جھوٹے الزامات تھے تو آپ کے والد نے عدالت کا دروازہ کیوں نہیں کھٹکھٹایا اور پاکستان چھوڑ کر بھاگنے کو ترجیح کیوں دی؟ تیسرا سوال آپ کی کمپنی Perfectum Pakistan کا واحد بیرون ملک دفتر جرمنی کے فرینکفرٹ میں ہے جہاں آپ کے والد مقیم ہیں۔ یہ محض اتفاق ہے یا آپ کے اور آپ کے والد کے درمیان کاروباری تعلق بھی ہے؟ اگر آپ کو اپنے والد کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تو پھر جرمنی میں دفتر کیوں؟ چوتھا سوال آپ نے خود ایک انٹرویو میں اعتراف کیا کہ آپ نے اہم معاملات پر والد سے رابطہ کیا اور ان سے مشورہ لیا۔ جب آپ انہیں نہیں جانتے اور ان سے کوئی تعلق نہیں تو پھر مشورہ کس بات پر لیا گیا؟ یہ تضاد کیسے؟ پانچواں سوال آپ کہتے ہیں آپ کو فخر ہے مگر برسوں میں ایک بار بھی والد سے ملاقات کا کوئی ویڈیو ثبوت سامنے نہیں آیا۔ جس باپ پر فخر ہو اس کے ساتھ ایک تصویر ایک مشترکہ ویڈیو بھی نہیں؟ یہ کیسا فخر ہے جو چھپ کر ہو؟ چھٹا سوال آپ کے والد کا تعلق اہل تشیع مکتب فکر سے ہے اور وہ ایک مذہبی مقرر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ اگر آپ واقعی ان کی سوچ اور عقائد سے الگ ہیں تو آپ نے کبھی عوامی سطح پر اپنے والد کے ان مبینہ بیانات سے لاتعلقی کا اظہار کیوں نہیں کیا؟ ساتواں سوال آپ نے پاسپورٹ شناختی کارڈ اور اسناد دکھا کر والد کا نام ثابت کیا مگر کسی نے آپ کی والدیت پر سوال نہیں اٹھایا۔ عوام آپ کے والد کے مبینہ کارناموں کے بارے میں حقائق جاننا چاہتی ہے جو زبان زد عام ہیں منقول

Aamir Gujjar

29,105 次观看 • 4 个月前

آپ کے میسج کا شکریہ۔ ویسے تو میں اس طرح کے ٹویٹس کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتا، لیکن چونکہ معاملہ ایک بچی کا ہے اس لیے چند باتیں واضح کرنا چاہتا ہوں۔ سب سے پہلے، اس بچی کی مکمل حوصلہ افزائی کی گئی تھی اور آج بھی ہم اپنی اس بات پر قائم ہیں کہ اُس نے بہت خوبصورت سنایا۔ لیکن یہ ایک ایڈلٹس (Adults) سنگنگ کمپٹیشن تھا، جبکہ ہر جگہ بچوں اور بڑوں کے مقابلے الگ الگ ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ جن 32 کنٹسٹنٹس کے نام فائنل ہوئے تھے 44 افراد میں سے ، اُن میں اس بچی کا نام شامل نہیں تھا، بعد میں اُسے فرمائشی موقع دیا گیا۔ اب اگر پہلے سے منتخب کنٹسٹنٹس کو سائیڈ پر رکھ کر کسی اور کو آگے لایا جاتا تو یہ باقی لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہوتی۔ جہاں تک ان دو افراد کا بار بار ذکر کیا جا رہا ہے کہ انہیں کیوں ہٹایا گیا، تو حقیقت یہ ہے کہ کسی کو “ہٹایا” نہیں گیا تھا۔ بیک اینڈ پر کافی مسائل چل رہے تھے، جن میں ایک ہوسٹ کا کنیکشن مسلسل اَن اسٹیبل تھا۔ اسپیس بیچ میں ایک مرتبہ گری بھی اور دوبارہ کنیکٹ ہوئی، جس کی وجہ سے کافی لوگوں کو مسائل پیش آئے۔ اسی لیے صرف یہ گزارش کی گئی کہ ہوسٹنگ وہ شخص سنبھال لے جس کا نیٹ ورک زیادہ مستحکم ہو تاکہ کمپٹیشن متاثر نہ ہو۔ لیکن اس فیصلے پر بھی غیر ضروری اعتراضات کیے گئے۔ اس کے بعد جو زبان اور الفاظ استعمال کیے گئے، اگر وہ یہاں شیئر کیے جائیں تو وہ خود ایک نامناسب چیز ہوگی۔ آپ ان افراد سے حلفاً خود بھی پوچھ سکتے ہیں۔ انہی میں سے ایک شخص نے یہ تجویز دی کہ بچی کو کم نمبر دے کر اگلے راؤنڈ سے باہر کر دیا جائے، جو کہ بچی کے ساتھ سراسر زیادتی ہوتی۔ اسی لیے یہ فیصلہ کیا گیا کہ بچی کی دل آزاری نہیں کی جائے گی، نہ اسے جان بوجھ کر کم نمبر دیے جائیں گے۔ اُسے مکمل عزت کے ساتھ ایونٹ کے آخر تک سننے کا موقع دیا گیا اور آئندہ اگر Kids Competition ہوا تو اُسے ضرور شامل کیا جائے گا۔ مزید یہ کہ ابتدا سے فیصلہ یہ تھا کہ اسپیکرز پر صرف ججز اور سنگرز موجود ہوں گے اور فیصلہ بھی صرف ججز ہی کریں گے۔ لیکن اس کے باوجود دیگر افراد کی رائے اور فیصلے لینے کی کوشش کی گئی، جو کہ باقی سنگرز اور کنٹسٹنٹس کے ساتھ سراسر ناانصافی تھی، کیونکہ جب ججز موجود تھے تو پھر باہر کے لوگوں کی رائے کو فیصلے پر اثر انداز کرنا درست نہیں تھا۔ جہاں تک انعام کی بات ہے، تو پہلے راؤنڈ کے اختتام پر ہم نے خصوصی طور پر اسی بچی کے لیے انعام کا اعلان بھی کیا، اور ان شاء اللہ وہ اس تک پہنچایا بھی جائے گا۔ اصول صرف یہ ہے کہ ہر بات کے دو رخ ہوتے ہیں، لیکن اکثر لوگوں تک صرف وہی بات پہنچتی ہے جو کسی کے اپنے مفاد میں ہو۔ بہرحال، ہم سب کا احترام کرتے ہیں اور آپ سب کو آئندہ اسپیسز میں بھی خوش آمدید کہتے ہیں۔ بہت شکریہ ❤️۔ اور اس بچے کی آواز بھی بہت اچھی ہے اگلے راونڈ میں اسے بھی شامل کیا جائے گا !

M.Tayyab Tarar🎖

12,700 次观看 • 4 个月前

بریکنگ نیوز 🚨شہباز گل اپنے موقف پر، اپنے کیے گئے انکشاف پر ڈٹ گئے، اور ساتھ ہی ایک اور بڑا تہلکہ خیز انکشاف کرکے سہیل آفریدی کو چیلنج کردیا 🔥🔥 کل کے جو آپ کے انٹرویوز آئے اُس میں آپ نے Deny کیا اُس خبر کو جو ہم نے دی تھی۔ خبر یہ تھی کہ آپ کی ایک بہت ہی اہم شخصیت کے ساتھ ملاقات ہوئی اور ہم نے کورکمانڈر کا نام لیا تھا۔ پہلے ہم نے جس دن خبر دی بتایا کہ دو سے چار بجے، اُسی دن ہمارے سورس نے کنفرم کیا کہ ٹائمنگ غلط تھی چار بجے کے بعد اور یہ بھی بتایا کہ وہ سنئیر ترین پولیس افسران کے ساتھ ملاقات میں تھے، آئی جی کے گھر کے قریب۔ کتنی گاڑیوں پر گئے، کون کون انکے ساتھ تھا کورکمانڈر کے، کیسے وہ چیف منسٹر ہاؤس تک پہنچے۔ وہ تمام چیزیں ہمارے علم میں ہیں، ہم ان Details میں نہیں جارہے۔ اور ہمارے Source نے بتایا کہ ملاقات چار ساڑھے چار بجے کے بعد ہوئی، اگلے ہی ویلاگ میں ہم نے وہ اپڈیٹ کیا۔ آپ نے کہا کہ وہ ملاقات نہیں ہوئی۔ میری پوری ذمہ داری کے ساتھ انفارمیشن شئیر کرتا ہوں، اگر خبر غلط ہو تو میں پہلے ہی کہے دیتا ہوں، یہ سنی سنائی ہے، ہم اسکے اوپر پہرہ نہیں دے سکتے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آپ کے بہت قریبی شخصیت وہ اس کے سورس ہیں اور وہ ڈرتے بھی نہیں ہیں، اور وہ کہتے ہیں کہ آپ بتا دیں، میں پکڑا بھی گیا تو خیر ہے، لیکن یہ آفریدی صاحب کو پتہ ہونا چاہیے کہ سب کو پتہ ہے۔ اچھا اب کیا آپ پہلی مرتبہ کورکمانڈر سے ملے ہیں، کئی مرتبہ پہلے بھی ملے ہیں۔ اب آپ اس ملاقات کو Deny کر رہے ہیں۔ میں کہے رہا ہوں ایک ملاقات نہیں، آپ کی بہت ساری ملاقاتیں ہوئیں اور پہلے بھی ہوتی رہیں اور آئندہ بھی ہونگی اور ہمارے بہت ساری ملاقاتیں علم میں بھی ہیں اور ہم نے کبھی یہاں سے رپورٹ نہیں کیا کیونکہ وہ Importants نہیں ہیں۔ آپ چیف منسٹر کے عہدے پر ہیں کئی وجوہات کی بناہ پر آپ کو ان سے ملنا پڑ سکتا ہے۔ اب کیونکہ یہ جلسے سے ایک دن پہلے معاملہ تھا اور پھر 27 تاریخ کے اوپر ہماری Reservations ہیں۔ کورکمیٹی کے اندر یہ ڈسکس نہیں ہوا، پولیٹیکل کمیٹی کے اندر یہ ڈسکس نہیں ہوا۔ بہت سے سنئیر لوگوں سے میں نے پوچھا، انہوں نے کہا کہ ہمارے علم میں نہیں ہے کہ Date کیسے دی گئی ہے۔ اُسی پر میں نے بھی سوالات اُٹھائے، مراد سعید صاحب نے بھی اُٹھائے اور علیمہ خانم صاحبہ نے بھی اُٹھائے۔ اب آپ نے کہا کہ ملاقات نہیں ہوئی، میں ابھی بھی پوری ذمہ داری سے اور ایمانداری سے اپنی خبر کے اوپر کھڑا ہوں کہ ملاقات ہوئی۔ بلکہ آپ کو ایک اور Interesting بات بتا دوں۔ کل تین آپ کے انٹرویو چلے، تین ڈیفرنٹ چینل پر۔ حالانکہ پورے سال کے اندر کبھی آپ کا کوئی بھی ایسا انٹرویو چلنے کی اجازت نہیں تھی۔ میرے فون کے اندر میسج ہے کبھی اچھے دن آئیں گے تو یہ کیمرے میں ریکارڈ کر لیجیے تاکہ ثبوت رہے کہ جن تین لوگوں نے کل آپ کا انٹرویو لیا، انٹرویو کے فوراً بعد اُنہی کی ٹیم میں سے مجھے یہ میسج بھیجا گیا۔ وہ بہت ہی معتبر شخصیت جنہوں نے میسج بھیجا کہ آپ کو پتہ ہے آپ کے چیف منسٹر نے آپ کی خبر کو جھٹلا دیا ہے کہ اُنکی ملاقات نہیں ہوئی، میں نے آگے سے کہا مجھے پتہ ہے اور ان کا جھٹلانا ہی بنتا ہے، یہی انکی پوزیشن ٹھیک ہے۔ میں بار بار تو چیزیں Rep نہیں کروں گا، میں نے جو کہنا تھا کہے دیا۔ تو اُس شخصیت نے آگے سے کہا کہ میری بھی یہی خبر ہے کہ اُنکی ملاقات ہوئی ہے۔ یہ میں بالکل خدا کو گواہ بناکر آپ کو بات کہتا ہوں اور یہ انہوں نے کہا اور کبھی آپ کو دیکھا بھی دیں گے اُنکی اجازت سے ویسے نہیں۔ ان سے اجازت لے کے اور وہ اجازت دے بھی دیں گے کیونکہ وہ خان صاحب کے خیرخواہ ہیں اور وہ چاہیں گے کہ آپ کو بھی پتہ چلے کہ میرے پاس یہ خبر تھی۔ اور انہوں نے ایک جملہ بولا کہ ایسی ملاقاتیں چھپتی تھوڑی ہیں۔ اگر مجھے ساری Details پتہ ہے، ایک ایک بات پتہ ہے اور آپ کو بھی پتہ ہے، تو CM صاحب کو بھی چھپانی نہیں چاہیے تھی۔ میں اپنی خبر پر ابھی بھی قائم ہوں کیونکہ اگر یہ خبر غلط ہوتی تو میں خود مانتا اور آپ سے معذرت کرتا کیونکہ کوئی میرا یہ کوئی IQ لیول کا ٹیسٹ تو نہیں ہے ناں۔

‏زہـــرہ لیــاقت

64,969 次观看 • 1 个月前

🛑نفرت کا بیوپار اور مذہب کارڈ کا آزادانہ استعمال 🛑 🔶بلاسفیمی بزنس گروپ کے نام نہاد ترجمان نے وکٹم فیملیز کے وکلا کو کافر قرار دے دیا اور کہا کہ ان کے نکاح منسوخ ہوچکے ہیں۔ اور اب یہ وکیل اپنے ایمان کی گواہی علماء کی موجودگی میں دیں 🔶بلاسفیمی بزنس گروپ اپنے حواس کھو بیٹھا ہے اور لوگوں کے ایمانوں کے فیصلے کرنا شروع ہوگیا ہے 🔶بلاسفیمی بزنس گروپ انتہائی مکار ، شاطر ، مذہب کا بیوپاری اور اخلاقیات کے ہر درجے سے گرا ہوا گروپ ہے جو تحقیقات کے خوف سے نہ صرف ہر جگہ جھوٹ کا سہارا لیتا ہے بلکہ اب لوگوں کو سرعام کافر کہنا شروع ہوگیا ہے 🔶اگر بلاسفیمی بزنس گروپ کے اس فلسفے کو مان لیا جائے تو پھر پورے پاکستان میں کوئی مسلمان رہ جائے گا ؟ 🔶بلاسفیمی بزنس نفرت ، فتنہ انگیزی اور فساد فی الارض کو ہوا دے رہا ہے اور چاہتا ہے کہ ملکی حالات خراب ہوں ان کا یہ خواب کبھی پورا نہیں ہوگا کیوں کہ پورا گروپ بمع ہنی ٹریپنگ ایمان اور مخدومہ ایکسپوز ہوچکے ہیں 🟢وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ" (البقرۃ: 11) مفہوم: اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو، تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔ 🔶 فیملیز کو جن وکیل صاحب کو بلاسفیمی بزنس گروپ نے کافر قرار دیا ہے وہ الحمد للّہ ایک سچے مسلمان اور حافظ قرآن ہیں ۔ 🔶بلاسفیمی بزنس گروپ کو نہ تو شرم ہے اور نہ ہی اللہ کا اور روز قیامت کا خوف ، جس کو چاہا کافر بنادیا جس کو چاہا اسلام سے خارج کردیا جس کو چاہا اس کا نکاح منسوخ کرنے کا اعلان کردیا ۔ 🔶یہی آیت جو موصوف نے استعمال کی ہے ان کے فلسفے کے حساب سے کیا وہ واپس انہی پر بھی صادق نہیں آتی؟ کہ جس پر یہ الزام لگا رہے ہیں اگر وہ ویسے نہیں ہیں تو یہ ان پر واپس لوٹ آتا ہے تو کسی کو کافر قرار دینے سے پہلے انہیں اس پر بھی غور کرلینا چاہییے تھا یا مذہب کا بیوپار نہیں کرنا چاہیے تھا 🔶ایک جنگ کے دوران حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے ایک دشمن شخص کا پیچھا کیا۔ جب اسامہؓ نے اس شخص پر قابو پایا اور تلوار اس کی گردن پر رکھی، تو اس شخص نے فوراً "لا إله إلا الله" (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں) پڑھ لیا۔ مگر حضرت اسامہؓ نے یہ سوچ کر کہ یہ شخص جان بچانے کے لیے صرف زبان سے کلمہ پڑھ رہا ہے، دل سے نہیں، اسے قتل کر دیا۔ جب حضور اکرم ﷺ کو اس کی خبر ملی تو آپ ﷺ بہت ناراض ہوئے۔ آپ ﷺ نے حضرت اسامہؓ سے فرمایا: "کیا اس نے لا الٰہ الا اللہ کہا تھا اور تم نے پھر بھی اسے قتل کر دیا؟" اسامہؓ نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! اس نے محض جان بچانے کے لیے کہا تھا۔" آپ ﷺ نے فرمایا: "کیا تو نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا؟" (یعنی تمہیں کیسے پتہ کہ اس کے دل میں کیا تھا؟) اور آپ ﷺ بار بار فرمایا: "قیامت کے دن تم اس کلمے کا کیا جواب دو گے؟" صحیح بخاری، حدیث نمبر: 4269 صحیح مسلم، حدیث نمبر: 96 🔶 لوگوں کے دلوں کے حال اللہ جانتا ہے مگر بلاسفیمی بزنس گروپ کا یہ نام نہاد ترجمان اور اسائلم والے کا بیٹا لوگوں کے دلوں کے حال بھی جاننا شروع ہوگیا ہے یہ صفات تو صرف اللہ کی ذات کے ساتھ مخصوص تھیں ۔ 🟢 "إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِمَا فِي قُلُوبِكُمْ" مفہوم: بیشک اللہ تمہارے دلوں کا حال جانتا ہے۔ (سورۃ الاحزاب: 51) 🔶 جو کام اللہ تبارک و تعالیٰ کے کرنے کے ہیں وہ اس بلاسفیمی بزنس گروپ نے کرنے شروع کردیے ہیں لوگوں کے دلوں کے احوال اور ایمانوں کے فیصلے سوشل میڈیا پر بلاسفیمی بزنس گروپ کے یوٹیوبر کرنے لگے ہیں۔ #StopBlasphemyBusiness #JusticeFor400

Voice of the Victims of Blasphemy Business Group

32,418 次观看 • 1 年前

افغان مہاجرین کی جبری انخلاء کا فیصلہ جذباتی قسم کا ہے،افغانستان سے ناراضگی کا زور ہم ان کے ہم مہاجرین پر نکال کر انہیں تکلیف دے رہے ہیں،یہ مسئلہ 2017 میں اٹھا تھا،اس وقت ہم نے تجویز دی تھی کہ آپ کیٹگریز طے کریں، اس میں ایک کیٹیگری گریجوئیٹ مہاجرین کی ہے، یہ لوگ پاکستان کا اسکل ہیں، ان کو دھکے دے کر نکالنے بجائے ملکی ترقی کے لئے انہیں کھپانا چاہئے۔ دوسری کیٹیگری افغان سرمایہ کار کی ہے جو پچھلے 35 برس سے اقتصادی ترقی میں حصہ ملا رہا ہے، ان کے سرمایہ کو تحفظ دیا جائے، اگر وہ اپنا سرمایہ یہاں سے منتقل کریں گے تو اس کے اثرات معیشت پر ہوں گے۔ تیسری کیٹیگری طلباء کی ہے، جن کی منتقلی سے ان کے نصاب میں فرق آئے گا ان کی تعلیم میں حرج ہوگا۔ ان تجاویز کو اس وقت کی کابینہ نے منظور کیا تھا ، اب کونسی کابینہ کا اجلاس ہوا ہے اور کس نے منظوری دی ہے ؟ افغان مہاجرین یک طرفہ مسئلہ نہیں ہیں،افغانستان پاکستان کا دو طرفہ مسئلہ ہے اور ہم نے خوشی سے ان کو قبول کیا تھا اور پھر پشتون معاشرے میں جہاں مہمان نوازی ان کا ایک طرہ امتیاز ہے ان کی روایات کا ایک روشن حصہ ہے، آپ چالیس سال تک کسی کو مہمان رکھ کر جب گھر سے نکالے اور لات مار کر نکالیں گے تو آپ کی چالیس پینتالیس سال کی مہمانداری کا نفی ہوجائے گی۔ اس لئے مہاجرین کے انخلاء کے لئے جامع حکمت عملی بنائی جائے،ان کی واپسی کا شیڈول طے کیا جائے،یہ واپسی کا کیسا طریقہ ہے کہ ان کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جارہا ہے،بین الاقوامی برادری کو اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کو اس کا نوٹس لینا چاہیے، تو یہ ساری چیزیں نیگوسئیشن سے طے ہو سکتی ہیں اور ہمیں مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہئے، الیکشن سے قبل جے یو آئی کا وفد افغانستان گیا تھا،ہم وہاں پر ایک ہفتہ گذار کر کامیاب واپس آئے تو لیکن یہاں حکومت اتنی نااہل ہے کہ انہوں نے ان معاملات کی پاسداری نہیں کی،پاکستان اچھے کردار سے نیک نام ہوگا اس طرح کے کردار سے پاکستان کو آپ بیرونی دنیا میں کوئی اچھا نام نہیں دے رہے ہیں۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

32,241 次观看 • 1 年前

آپ نے ہمارے نصاب کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مدارس کے نظم و نسق کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مالیاتی نظام کو بھی جائز تسلیم کیا، پھر اس وقت سے لے کر آج تک مدارس کی رجسٹریشن کیوں نہیں ہو رہی؟ مدارس کے اکاؤنٹس کیوں بند ہیں؟اس کا معنیٰ یہ ہے کہ آپ مسئلے کا حل نہیں چاہتے۔ آپ کسی طرح چاہتے ہیں کہ مدارس اشتعال میں آئیں، سڑکوں پر آئیں، نوجوان کو اشتعال ملے، وہ بندوق کی طرف جائے، اور پھر ریاست بندوق کی طاقت کو طاقت کے ساتھ مارنے کے لیے اپنے لیے ایک جواز مہیا کر سکے۔ سو، ہم نے آپ کو یہ جواز مہیا نہیں کیا۔ ہم نے اس ملک کو پُرامن ملک بنانے کی کوشش کی۔ تاہم ایک گروہ ضرور ہے جو پہاڑوں میں چلا گیا، جو بندوق لے کر کھڑا ہو گیا، لیکن وہ بندوق اٹھا کر جب افغان_ستان جا رہا تھا تو آپ نے افغانس_تان جانے کے لیے اس کا راستہ روکا؟ آپ امریکہ کے اتحادی بھی بنے، آپ نے ہوائی اڈے بھی دیے، فضائیں بھی ان کو دیں، یہاں سے جہاز بھی اڑتے تھے، ان فضاؤں سے گزر کر وہاں پر بمباری بھی کرتے تھے، اور دوسری طرف اس جنگ میں شریک ہونے کے لیے پاکستانی مجاہد بھی جا رہا تھا، اور تم بھی اس کو تھپکی دے رہے تھے کہ آپ مجاہد ہیں۔ پھر انہی حالات میں ان کے ساتھ مصالحت کرنے کے لیے میں نہیں گیا ہوں، ان کے ساتھ مفاہمت کرنے کے لیے میں نے افغانستان کا سفر نہیں کیا۔ میں نے دو ملکوں کے درمیان معاملات ٹھیک کرنے کے لیے سفر کیا، لیکن طال_بان کے ساتھ بات کرنے کے لیے میرے ملک کے آئی ایس آئی کے چیف گئے ہیں، اور اس نے وہاں پر ان سے کیا باتیں کی ہیں، کچھ مجھے معلوم بھی ہے۔ سو اگر ان دہشت گردوں کو کوئی حوصلہ دلانے کا عمل ہے، وہ بھی آپ کے صفوں میں مل رہا ہے، ہمارے صفوں میں تو وہ ہم سے ناراض ہیں۔ آپ اپنے شہداء کی بات کرتے ہیں، مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کس کو کہتے ہیں؟ مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کا مقام کیا ہے؟ میں قرآن و سنت کا ایک طالب علم ہوں، میں شہید کے مقام کو جانتا ہوں، شہید کیا ہوتا ہے؟ جو شہید اپنے وطن کے لیے قربانی دیتا ہے، اس کی قدر و منزلت کو میں جانتا ہوں۔ آپ مجھے اس کی قدر و منزلت نہ سمجھائیں۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #قائدانقلاب_مولانا #سیاسی_چوکیدار #مولانا_سے_معافی_مانگ #شہداء_صرف_بہانہ #لشکر_نہیں_امن

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

15,079 次观看 • 2 个月前

سب سے بڑی بریکنگ نیوز 🚨 سٹیو وٹکاف کی زبانی ” جنگ سے پہلے مذاکرات کے دوران ہم نے ایران سے تقاضا کیا کہ اپنا افزودہ یورینیم امریکہ کےحوالے کردو۔۔ ایران نے انکار کیا اور جواب دیا کہ جو جنگ میں نہیں جیتا جاسکتا وہ سفارتی ٹیبل پرکیسے ہار دیں ۔ “ ترجمہ : "مسٹر پریزیڈنٹ، میں اور میری ٹیم ایران کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے آپ کو رپورٹ پیش کر رہے ہیں۔ آپ نے مجھے اور جیرڈ کو ہدایت دی تھی کہ 'آپریشن ایپک فیوری' سے پہلے ایران کے ساتھ سفارتی حل کی کوشش کی جائے، جو ہم نے کی۔ تاہم، ان ملاقاتوں کے دوران ایرانی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ ہم کوئی ایسا معاہدہ نہیں کر سکتے جو آپ کے درج ذیل مقاصد کو پورا کرتا ہو: • یورینیم کی افزودگی (enrichment) پر مکمل پابندی۔ • ہتھیار بنانے کے کسی بھی امکان کا مکمل خاتمہ۔ • فورڈو، نتنز اور اصفہان کی تنصیبات کو ختم کرنا، جنہیں آپ نے 'آپریشن مڈ نائٹ ہیمر' میں تباہ کیا تھا۔ • کسی بھی قسم کے مواد کا ذخیرہ نہ کرنا، جس کی انہوں نے کھلم کھلا خلاف ورزی کی تھی۔ • تمام افزودہ مواد ہمارے حوالے کرنا۔ • ایران کے میزائل پروگرام اور ان کی رینج کی صلاحیتوں میں کمی لانا۔ ایرانیوں کے ساتھ ہونے والی ان ملاقاتوں کے دوران، ہم نے ان کی جانب سے یہ باتیں سنیں: ایرانیوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس افزودگی کا ناقابلِ تنسیخ حق ہے۔ پھر ہم نے سنا کہ ان کے پاس 60 فیصد افزودہ 460 کلوگرام مواد موجود ہے، جس سے 11 ایٹمی بم بنائے جا سکتے ہیں۔ آخر میں، ہم نے یہ بیان سنا: وہ سفارتی طور پر وہ سب کچھ نہیں دیں گے جو ہم فوجی طاقت سے حاصل نہیں کر سکے۔ ان کی حکومت نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو وہ معاہدہ کرنے کا اختیار نہیں دیا جس کا آپ نے مطالبہ کیا تھا۔ میں آج آپ کو یہ رپورٹ دے سکتا ہوں کہ ہم نے آپ کی خارجہ پالیسی کی ٹیم کے ساتھ مل کر 15 نکاتی ایکشن لسٹ تیار کی ہے جو امن معاہدے کے فریم ورک کی بنیاد بنے گی۔ اسے پاکستانی حکومت کے ذریعے پہنچایا گیا ہے، جو ایک ثالث کا کردار ادا کر رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں بہت مثبت پیغامات اور بات چیت سامنے آئی ہے، جیسا کہ آپ نے حال ہی میں پریس کو بتایا تھا۔ لیکن یہ حساس سفارتی بات چیت ہے، اور آپ نے ہمیں ہدایت دی ہے کہ مخصوص شرائط پر رازداری برقرار رکھی جائے اور میڈیا کے ذریعے مذاکرات نہ کیے جائیں۔"

Zeeshan Baber

170,919 次观看 • 6 个月前

🚨🔵 بریکنگ 🔵🚨 📍 آج نیو نیوز کے پروگرام میں معروف اینکر شاہزیب خانزادہ نے بلاسفیمی بزنس گروپ کے جھوٹ، پروپیگنڈے اور من گھڑت بیانیے کو نہایت مدلل انداز میں زمین بوس کر دیا۔ 📍وہی عدالتی فیصلہ، جو بلاسفیمی بزنس گروپ نے بطور ثبوت شاہزیب خانزادہ کو فراہم کیا تھا، آج خود ان کے جھوٹ کی سب سے بڑی دلیل بن گیا۔ پروگرام میں واضح کر دیا گیا کہ کوئی رپورٹ من گھڑت نہیں تھی، جعلی بیانیہ خود بلاسفیمی بزنس گروپ کا تھا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ جن افسران نے بلاسفیمی بزنس گروپ کو کلین چٹ دی، وہ دونوں افسران خود اپنے ادارے میں متنازعہ ثابت ہوئے۔ یہ کلین چٹ دینے والے ٹوٹل تین نام تھے: 1۔ جسٹس ریٹائرڈ چودھری عبدالعزیز 2۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر چودھری سرفراز لاہور 3۔ ڈپٹی ڈائریکٹر سلمان اعوان راولپنڈی 📍ان میں سے ایک استعفیٰ دے چکا، جبکہ باقی دو پر کرپشن کے سنگین مقدمات موجود ہیں۔ کروڑوں کی کرپشن کے الزامات میں گھرے ہوئے یہ افراد پاکستانیوں کی زندگیاں، عزتیں اور ایمان تولنے بیٹھے تھے۔ 📍لاہور تبادلے اور چٹ منگنی پٹ بیاہ کے مصداق ارجنٹ رٹ پیٹیشن میں چودھری عبد العزیز کی کورٹ میں عثمان وڑائچ صاحب کے ساتھ آنکھوں دیکھا حال یہ تھا 👇۔ 📍سماعت کے دوران کھلا تعصب نظر آیا۔ پورا جھکاؤ بلاسفیمی بزنس گروپ کے حق میں تھا، یہاں تک کہ ان کے وکلا کو لقمے دیے جا رہے تھے۔ سپیشل برانچ کے افسر سے جج صاحب نے خود سوالات کئے گئے اور اپنی مرضی کے جوابات نکلوانے کی کوشش کی گئی۔ 📍اصل کہانی کچھ یوں ہے: جب جسٹس چودھری عبدالعزیز راولپنڈی بینچ میں تعینات تھے تو بلاسفیمی بزنس گروپ نے رپورٹس چیلنج کرنے کے لیے انہی کی عدالت میں رٹ دائر کی۔ بعد ازاں چودھری عبدالعزیز کا تبادلہ ملتان ہو گیا، تو بلاسفیمی بزنس گروپ کو انتظار کرنا پڑا۔ کیوں کہ کسی اور کی عدالت میں جاتے تو مطلوبہ نتائج ملنا مشکل تھا ۔ 📍جیسے ہی جسٹس چودھری عبد العزیز کا تبادلہ لاہور ہوا، بلاسفیمی بزنس گروپ نے فوراً لاہور میں انہی کے سامنے نئی پٹیشن دائر کر دی، ساتھ ہی تحریری طور پر خصوصی استدعا کی کہ کیس نہ صرف ارجنٹ بنیادوں پر سنا جائے بلکہ چودھری عبدالعزیز ہی کے پاس مقرر کیا جائے۔ 📍نتیجہ یہ نکلا کہ ایک ہفتے کے اندر اندر، لاہور ٹرانسفر کے فوراً بعد، پٹیشن ارجنٹ بنیادوں پر فکس بھی ہو گئی، تاریخ بھی آ گئی اور کیس وہیں لگا جہاں مطلوب تھا۔ 📍اصل دباؤ اسلام آباد میں تھا، جہاں جسٹس سردار اعجاز اسحاق کے سامنے متاثرہ فیملیز کی رٹ زیرِ سماعت تھی اور بلاسفیمی بزنس گروپ وہاں سے خوفزدہ تھا۔ اسی لیے جلدی میں چودھری عبدالعزیز کے ذریعے رپورٹس کالعدم کروانے کی کوشش کی گئی۔ 📍لاہور میں سماعتیں غیر معمولی تیزی سے ہوئیں، روز تاریخ پڑتی رہی۔ جب ہمارے وکلا نے تیاری کے لیے وقت مانگا تو صاف انکار کر دیا گیا م۔ وکلا نے کہاکہ سر وکالت ناموں پر فیملیز کے سائن کروانے ہیں اور پھر برانچ میں جمع کروانے ہیں تو جواب ملا کہ برانچ کو چھوڑیں یہاں ڈائریکٹ مجھے کی جمع کروائیں ٹائم کم ہے اور کاغذات بعد میں دے دینا، ابھی کھڑے ہو کر دلائل شروع کریں۔ 📍یہ ساری عجلت اس لیے تھی کہ کہیں جسٹس سردار اعجاز اسحاق کی طرف سے کوئی مؤثر حکم نہ آ جائے۔ بعد ازاں جب متاثرہ خاندان اپنے وکلا کے ذریعے لاہور میں بھی فریق بن گئے تو معاملہ لٹک گیا۔ کیوں کہ حیران کن طور پر دوسری طرف NCHR کو بھی نوٹس تک جاری نہیں کیے گئے۔ کیوں کہ ان کی رپورٹ کو بھی چیلنج کیا گیا تھا اور ان کا موقف سننا بھی ضروری تھا اس کے بغیر فیصلہ دینا اب ممکن نہیں دیا تھا ۔ 📍 اس دوران روزانہ کے عبوری احکامات اور سپیشل برانچ کے افسر فیصل راجہ کے بیانات کو اپنے حساب سے بنیاد بنا کر رپورٹس کو متنازع بنانے کی ناکام کوششیں جاری رہیں، حالانکہ سپیشل برانچ نے واضح کیا تھا کہ ان کی رپورٹس انٹیلی جنس اور مصدقہ ذرائع پر مبنی ہوتی ہیں۔ 📍پھر چودھری عبدالعزیز کا دوبارہ راولپنڈی تبادلہ ہوا، انہوں نے استعفیٰ دے دیا، اور استعفے کے چند دن بعد ہی ایک فیصلہ جاری کر دیا گیا، جو بذاتِ خود ایک سوالیہ نشان ہے۔ 📍 بلاسفیمی بزنس گروپ نے ایک پوری عمارت جھوٹ کی بنیاد پر کھڑی کی تھی، جو آج عوام کے سامنے منہدم ہو چکی ہے۔ 🔵📍 یہ کھیل کیسے کھیلا گیا؟ 👈پسندیدہ جج کے پاس رٹ پیٹیشن اور ارجنٹ فکسنگ سماعت میں غیر معمولی عجلت 👈فریقین کو مناسب وقتنہ دینا 👈 افسران کے بیانات کو اپنے حساب سے ہیر پھیر کرکے ہتھیار بنانا 📍یہ سب ایک منظم اسکرپٹ تھا، جو آج خود اپنے تضادات میں دفن ہو چکا ہے۔

Voice of the Victims of Blasphemy Business Group

29,184 次观看 • 8 个月前

"میں سب سے پہلے اپنے وزیراعلی سے ایک شکوہ ضرور کروں گا کہ وہ کل میرے علاقے دیر تشریف لائے حالانکہ سوات میں ان کا کوئی معمولی سا دورہ تھا جس کے لیے وہ گئے تھے لیکن پھر شاید کوئی یہ بات ان کے علم میں لایا ہو گا کہ دیر میں اس طرح کا واقعہ ہوا ہے۔ ہم مہمان نواز لوگ ہیں، ہماری دہلیز پر اگر کوئی دشمن بھی چل کر آئے تو ہم اسے خوش آمدید کہتے ہیں، یہ تو ہمارے اپنے وزیراعلیٰ ہیں۔ لیکن جس طریقے سے وہ آئے اور جس طریقے سے وہ گئے، میرے خیال میں یہ دیر کے ان غیرت مند لوگوں کی ایک قسم کی توہین ہے۔ اور توہین اس بنیاد پر ہے کہ اس وقت ہسپتالوں میں تین شہداء اور دیگر لوگ پڑے تھے۔ میڈیا نے بھی دیکھا، کچھ لوگوں اور ان پولیس والوں نے جو وزیراعلیٰ سے فریاد اور شکایتیں کر رہے تھے، آپ نے بھی سنا ہو گا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ چونکہ وہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔ آپ دیر آ رہے ہیں، سیکیورٹی کی اتنی بڑی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ آپ کور کمانڈر کو، آئی جی خیبر پختونخوا کو، یہاں کے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تمام متعلقہ انتظامیہ کو بلاتے اور میٹنگ کرتے۔ میٹنگ میں دیر کے عمائدین کو بلاتے، سیاسی پارٹیوں کو بلاتے، اور سوال کرتے، کسی کو جوابدہ بناتے۔ یہ کس طرح کا دورہ تھا کہ آپ آئے اور واپس چلے گئے اور نہ کسی سے سوال ہوا نہ کسی سے جواب طلب کیا گیا؟ کیا دیر کی ماؤں نے بیٹے اس لیے جنم دیئے ہیں کہ وہ اس طرح کی ایک سنسان جنگ میں مارے جائیں گے اور کوئی اس پر سوال بھی نہیں اٹھائے گا، کوئی اعتراض بھی نہیں کرے گا؟ اور مجھے تحریک انصاف کے اپنے کارکنوں سے بھی گلہ ہے کہ وزیراعلیٰ کا جس طرح انہوں نے استقبال کیا اور ہسپتال کے اندر نعرے بازی کر رہے تھے، کیا وہ ادھر کوئی فتح کا جشن منانے آئے تھے؟ ہمیں ان رویوں کو تبدیل کرنا ہو گا۔ دیر ہمارا وطن ہے، یہ سیاست پیچھے ہے، دیر کی غیرت اور ناموس آگے ہے۔ ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

12,370 次观看 • 2 个月前

سوال: اچھا مولانا صاحب ملک کے بہتر مفاد میں آپ عمران خان سے بھی مل سکتے ہیں ان کو شامل ہونے کی دعوت دے سکتے ہیں؟ جواب: دیکھیے ہر چیز باوقار انداز سے ہو اس میں کوئی شک نہیں کہ دس بارہ سال ہم ایک دوسرے کے بڑے مد مقابل رہے ہیں اور ہمارے بڑے تحفظات ہیں اور ان کو اگر دور کیا جاتا ہے تو ہم سیاسی لوگ ہیں مذاکرات سے بھی انکار نہیں کریں گے اور مذاکرات کے لیے اگر ماحول بنتا ہے تو اس کی بھی حوصلہ افزائی کریں گے ہم کوئی مستقل جھگڑے اور جنگ اور تلخیاں اس کو باقی رکھنا نہ ملک کے مفاد میں سمجھتے ہیں نہ ہمارے سوسائٹی کے مفاد میں ہے۔ سوال: آپ کی طرف سے ویلکم ہے عمران خان کے لیے۔۔ تو یہ ذرا واضح کیجیے گا اگر آپ کو ضرورت پڑتی ہے یا۔۔۔۔ جواب: میرے پاس ان کے دو وفود آئے ہیں اس کے باوجود ان کے لوگ جو ہیں وہ مجھے مسلسل مل رہے ہیں چاہے آف دی ریکارڈ مل رہے ہیں یا میڈیا کے سامنے بھی مل رہے ہیں تو ملتے ہیں اور یہی گفتگو چل رہی ہے کہ آپس کے جو تحفظات ہیں کس طرح ان کو دور کرنے کے لیے ماحول بنایا جائے۔ سوال: مولانا صاحب ابھی آپ نے فرمایا کہ 10 12 سال کی تلخیاں تھی اب آپ سیاسی طور پر کہہ رہے ہیں کہ سیاسی لوگ دروازے کھلے رکھتے ہیں تو جو سب سے زیادہ پچھلے سات آٹھ سالوں میں آپ کی طرف سے الزام کہ یہ یہودی لابی ہے تو یہ سیاسی تلخیاں ختم ہوں گی تو آپ ان کو یہودی لابی سے مسلمان لابی میں کیسے دیکھیں گے؟ جواب: یہ بات ذہن میں رکھے اگر ہم نے برصغیر کی سیاست میں کسی کو انگریز کا ایجنٹ کہا ہے یا ہم نے عالمی سطح پر کسی کو امریکہ کا ایجنٹ کہا ہے تو یہ عنوان ہے یہ گالی نہیں ہے مطلب یہ ہے کہ جو عالمی سطح پر ایک ورلڈ وائڈ جو ایکنامک نیٹ ورک ہے اور اس کے اوپر جو جیوش کی ایک بالادستی ہے جب میں دیکھوں گا کہ میرے ملک کو بھی اس نیٹ ورک کے اندر ڈالا جا رہا ہے اور یہاں پر میں سود کے خاتمے کی بات کرتا ہوں اور میں مکمل طور پر عالمی سطح پر سودی نظام کے اندر جا رہا ہوں ان کی معیشت کے اصولوں کے مطابق چلوں گا تو اس سے میرا اختلاف ہوگا اب اس اختلاف کا عنوان اگر یہ ہے کہ یہودی ایجنٹ تو اس کو گالی کیوں کہا گیا اس کو سنجیدگی سے لینا چاہیے تھا مجھ سے پوچھنا چاہیے تھا کہ آپ یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں اگر میں کہتا ہوں کہ قادیانیوں کو دوبارہ مسلم سٹیٹس پاکستان میں دینا یہ میرے تحفظات ہیں بجائے اس کے کہ آپ مجھے اس کے بدلے میں گالیاں دیں آپ مجھے مطمئن کریں میں پاکستان کا شہری ہوں میرے پیچھے کچھ لوگ ہیں ان کے ایک سوچ ہے ان کے تحفظات ہیں میں ان کے نمائندگی کر رہا ہوں اگر میں کہتا ہوں کہ پاکستان میں مغربی تہذیب کو فروغ دیا جا رہا ہے اور ہماری اسلامی اور مشرقی تہذیب جو ہے اس کا خاتمہ کیا جا رہا ہے اس کے بدلے میں گالی دینے کی بجائے مجھ سے پوچھا جائے مجھ سے بات کی جائے سیاستدان کا کام یہی ہوتا ہے اگر میں نے آپ کے اوپر کوئی اعتراض کیا ہے یا آپ کے ساتھ میں کوئی ایک تحفظات کا اظہار کیا ہے تو اپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ یہ بات کہے کہ فضل الرحمان یہ بات آپ کیوں کر رہے ہیں مجھے تاکہ جب میں آپ کے ساتھ اپنی بات رکھوں تو آپ یا مجھے مطمئن کر سکیں اس بات پر کہ میں میرے ایجنڈا نہیں ہے یا یہ کہ یہ میرا ایجنڈا ہے اور آپ کے مفاد کے لیے ہے کچھ تو کرنا پڑے گا نا جی تو یہ چیزیں جو ہیں ان کو سیاسی طور پر ہم لے رہے ہیں اور آج جب ان کے لوگ آئے ہیں اگر یہ لوگ 12 سال پہلے بھی اتے تب بھی میرے یہی ایٹیٹیوڈ ہوتا اور اگر آج آئے ہیں تب بھی میرا وہی ایٹیٹیوڈ ہے

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,018 次观看 • 2 年前

صحافی: مولانا صاحب آپ نے تقریر میں غزہ کا ذکر کیا فلسطین کا ذکر بھی کیا اور آپ نے کہا کہ یہ جو بالائے طاق رکھ کے آواز ہونی چاہیے، آپ سمجھتے ہیں کہ جو بڑے ممالک ہیں اسلامی ممالک ہیں سعودی عرب ہے پاکستان ہے ترکی ہے ان سب کو بڑی توانا طریقے سے آواز اٹھانی چاہیے پلیٹ فارم کی شکل میں تاکہ یہ ظلم و بربریت کا خاتمہ ہوسکے مولانا: ہم نے تو یہاں تک تجویز دی ہے کہ اسلامی امت کی اسی حوالے سے ایک تنظیم ہونی چاہیے اور اس تنظیم کی قیادت سعودی عرب کرے کہ مرکز اسلام کی نگرانی وہ کر رہے ہیں مرکز اسلام کی خدمت وہ کر رہے ہیں تو مکہ اور مدینہ دونوں مسلمانوں کے مراکز ہیں اسلام کے مراکز ہیں اور جن کی خدمت کی ذمہ داری جو ہے اس وقت خادم الحرمین الشریفین کے ذمے ہے تو یہ مقام ان کا ہے کہ وہ اسلامی دنیا کی قیادت کریں اس حوالے سے اور اس کو منظم کریں، اسی نظم کے ساتھ اور اسی وحدت کے ساتھ ہم دشمن سے دفاع کر سکیں گے مسلمانوں کا دفاع کر سکیں گے ان سے ان کے بشر حقوق کا دفاع کر سکیں گے ورنہ اسی طریقے سے دنیا ہمارا کھیلے گی کیا ہوا کیا گزرے افغانستان کے اوپر، کیا گزری عراق کے اوپر، کیا گزری لیبیا کے اوپر، کیا گزری شام کے اوپر اور اس وقت سعودی عرب اور یمن کے درمیان جو صورتحال ہے اس پر بھی اسلامی دنیا یقیناً پریشان ہے اور یہ حق ہے اس کا اور اس وقت جو فلسطینیوں پہ گزر رہی ہے حد کر دی ہے کہ کس طریقے سے یہ لوگ آئندہ انسان کی بات کریں گے یا انسانی حق کی بات کریں گے، تو یہ ضروری ہے کہ اسلامی دنیا کی طرف انہوں نے متوجہ کیا ہے اور ہم رابطہ عالمی اسلامی کے اور خادم الحرمین الشریفین کے اور ان کے ولی عہد کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس اقدام سے امت کو اس اہم مقصد کی طرف متوجہ کیا۔ صحافی: مولانا صاحب کچھ ممالک نے اسرائیل کو اسلامی ممالک نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہوا ہے تو آپ سمجھتے ہیں پاکستان پر بھی دباؤ ہو رہا ہے تو اس ساری صورتحال میں کیا لائحہ عمل ہو سکتا ہے کہ یو این تو اس پہ خاموش ہے امریکہ اس کا ساتھ دے رہا ہے تو کس طرح اسلامی ممالک اسرائیل کو روک سکیں گے؟ مولانا: اسلامی ممالک کی وحدت اور ایک موقف کے اوپر مجتمع ہونا، آج ایک موقف ہے سب کا کہ اسرائیل جو ہے وہ قابض ہے اور اس کا تسلط ہے اور فلسطینی جو ہے وہ آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں لہذا اسرائیل کو تسلیم کرنا یہ مسئلہ نہیں ہے بلکہ فلسطین کی آزادی یہ مسئلہ ہے مسلمانوں کا اور مسلمانوں کو اصل مسئلے کی طرف متوجہ ہونا چاہیے، ہمیں ایک غیر ضروری موقف کی طرف لے جایا جا رہا ہے جس میں خالصتاً یا اسرائیل کا مفاد ہے یا مغربی دنیا اور امریکہ کا مفاد ہے مسلمان کا مفاد کہاں گیا امت مسلمہ کا مفاد کہا گیا اور مسجد اقصیٰ کا حق کہاں چلا گیا جس پر مسلمانوں کا حق ہے پھر فلسطین جو ہے وہ ارض فلسطین مسلمانوں کی سرزمین ہے فلسطینیوں کی سرزمین ہے ان کی آزادی کا جو بنیادی سوال ہے جو 75 سال سے زندہ ہے کیا اس مقصد کو بھی ہم حاصل کریں گے یا نہیں کریں گے یہ بڑا بنیادی سوال ہے جی۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

13,145 次观看 • 2 年前

نئے صوبوں سے متعلق سوال پر امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا جواب: ایک بات میں پہلے آپ صحافیوں سے کرنا چاہوں گا جی، ذرا مہربانی کریں، آپ میڈیا کی دنیا میں حمایت اور مخالفت کی لکیر نہ کھینچیں۔ یہ ایک ڈیبیٹیبل ایشو ہے اور اس پر مختلف پہلوؤں سے بات ہو سکتی ہے۔ اصولی طور پر ایک مسئلے کی پوزیشن اور ہوتی ہے، عملی طور پر جب آپ آتے ہیں تو پھر اس کی صورت اور ہوتی ہے۔ اصولی طور پر آپ کو حق ہے کہ آپ اپنا گھر بنائیں، لیکن کیا آپ کے پاس وسائل ہیں کہ آپ بنا سکیں؟ وسائل نہیں ہیں، جیب خالی ہے اور آپ جا کر وہاں اینٹیں رکھنا شروع کر دیں تو لوگ کہیں گے کہ یہ کیا کر رہا ہے؟ تو وہ ایک خامخواہ ضائع ہونے والی بات ہو جاتی ہے۔ میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ اصولی طور پر تو ہم یونٹس کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم نے اس سے پہلے بہاولپور صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے سرائیکی صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے ہزارہ صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے خود فاٹا کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم سندھ ذرا اس سے مختلف تھا کہ سندھ کے عوام صوبے کی تقسیم کے لیے آمادہ نہیں تھے، اس وقت بھی نہیں تھے اور اب بھی نہیں ہیں۔ لیکن جو میری معلومات ہیں، جب اس وقت صوبہ، صوبہ ہو رہا تھا تو اسٹیبلشمنٹ بھی اس کی مخالف تھی۔ چنانچہ ان عناصر کی حوصلہ شکنی کی گئی جو صوبہ، صوبہ کر رہے تھے اور حکومتوں اور اسمبلیوں میں وہ لوگ نہیں آ سکے، کمزور پوزیشن میں آئے اور بالآخر ان کو وہ ایشوز چھوڑنے پڑ گئے۔ آج پھر کون سی ایسی وحی آ گئی ہے ان کے اوپر کہ آؤ، ان کو پتا نہیں کتنے اور کوئی نقشہ بھی نہیں ہے۔ کبھی آپ سولہ یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی آپ بتیس یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی ہر ڈویژن کو صوبے کا درجہ دے رہے ہیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ نقشہ کیا ہے۔ تو ایک بات کہہ دینا اور پھر لوگوں کو چھوڑ دینا کہ وہ اس پر بحث کرتے رہیں، میرے خیال میں ملک کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ ایشو پھینکا گیا ہے۔ اس میں کوئی سنجیدگی ہے، نہ اس کے لیے اس وقت کوئی ماحول موجود ہے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی تیاری موجود ہے۔ جب ماحول بھی نہیں ہے، اس وقت تیاری بھی نہیں ہے، تو خامخواہ ایک غیر سنجیدہ گفتگو، جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہمارے حکمران اس وقت باہر کی دنیا کے ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہیں اور ان کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ پاکستان کی سرزمین جو خون سے سرخ ہے، اس کو بھی تو ہمیں سنبھالنا ہے۔ تو جہاں خون بہہ رہا ہو، جہاں ملکی زمین جو ہے وہ خون سے سرخ ہو اور آپ باہر دنیا میں جا کر وہاں پر ریڈ کارپٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہوں، تو ذرا گھر کو تو ٹھیک کریں۔ ہم نہیں کہتے کہ آپ باہر کی دنیا سے اچھے تعلقات نہ رکھیں۔ ہم نے تو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کو سپورٹ کیا ہے۔ ہم نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کو سپورٹ کیا ہے۔ ترکی کی شمولیت کو ہم نے سپورٹ کیا ہے۔ مصر اس میں آتا ہے، ایران اس میں آتا ہے۔ خیر، مقدم کریں گے ایک اسلامی بلاک کے قیام کا۔ یہ خود جمعیت علماء اسلام کے منشور کا حصہ ہے۔ تو جو چیزیں دنیا میں ہمارے اپنے فکر اور ہمارے نظریے کے مطابق آگے بڑھیں گی، ہم اس کو سپورٹ کریں گے۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

11,368 次观看 • 1 个月前

بریکنگ نیوز 🚨ڈاکٹر شہباز گل کی قوم سے بڑی اپیل، طاقتور لوگوں کا مکمل بائیکاٹ کرنے کا کہے دیا۔ قوم کو مکمل ترکیب بھی بتادی 🔥🔥 اب ایک ہی طریقہ رہ گیا ہے کہ ان سب کا boycott کریں۔ یہ میں آپ کو کال دے رہا ہوں۔ پاکستانی عوام کے پاس آج سے حل یہ ہے کہ جب آپ کی بہنوں کو بھی نہیں چھوڑا جاتا۔ عمران خان قوم کے لیے قیمت دے رہا ہے۔ بڑا آسان ہے اس کے لیے بھی نواز شریف بننا۔ وہ آپ سب کے لیے جیل کے اندر ڈٹ کے جیل کاٹ رہا ہے اور آج اس کے دشمن بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ ڈٹ کے جیل کاٹ رہا ہے۔ تو پھر میں آپ سے یہ اپیل کرتا ہوں یہاں سے پرزور کہ آج سے، آج اکیس ستمبر سے آپ ہر قسم کی فوجی products کا boycott کریں۔ چاہے آپ CSD سے چیزیں خریدتے ہیں یا آپ ان کے چاول خریدتے ہیں یا آٹا خریدتے ہیں یا ان کا سیریل خریدتے ہیں یا آپ ان کی insurance یا آپ عسکری بینک یا آپ کوئی بھی ان کی یونیورسٹیاں، ان کے کالج، ان کے سکول، جو بھی ان کی products آپ استعمال کرتے ہیں۔ یا آپ انہیں اپنی شادیوں میں بلاتے ہیں یا آپ انہیں اپنی غمی پہ بلاتے ہیں یا خوشی پہ بلاتے ہیں یا یہ آپ کو بلاتے ہیں اور آپ جاتے ہیں، آپ ان کے شادی ہالوں کے اندر شادیاں کرتے ہیں، جو بھی آپ کا ان کے ساتھ کاروبارِ زندگی ہے اس کو آج سے معطل کریں، اس کا boycott کریں۔ ان کا social boycott کریں۔ عسکری بینک ہے تو وہاں سے اپنے پیسے نکلوائیں۔ ان کی کوئی insurance ہے تو وہاں سے insurance cancel کروا کے دوسری جگہ insurance کروائیں۔ ان کے عسکری بینک کے، ان کے جتنے بھی products یہ آپ کو بیچتے ہیں جو اصل میں ان کی life line ہے جس کے اوپر سے یہ پیسہ اکٹھا کر کے آپ پر یہ سارا ظلم کرتے ہیں، اس کو بند کریں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ آپ اپنے بچے شاید باہر نکل کے نہیں مروا سکتے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ خود لاٹھی گولی نہیں کھا سکتے، آپ میں سے بہت سارے لوگ۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ بنگلہ دیش کی طرح، سری لنکا کی طرح، نیپال کی طرح ہمارے لوگ ابھی وہاں نہیں پہنچے کہ باہر نکلیں۔ تو پھر آپ سے میں صرف جو گزارش کر رہا ہوں وہ اتنی کر رہا ہوں کہ آپ یہ تو کر سکتے ہیں نا۔ میں جتنے بھی پاکستان تحریک انصاف کے social میڈیا کے volunteers ہیں میں ان سے اپیل کرتا ہوں کہ میری اس کال کے clip کاٹیں اور اس کو پھیلائیں کیونکہ جب یہ ہمارے گھروں کو نہیں چھوڑیں گے، گھر کی عورتوں کو نہیں چھوڑیں گے، کسی جگہ پر یہ نہیں رک رہے تو پھر ہمارے پاس اور کوئی چارہ نہیں رہ جاتا کہ ہم ان کا social boycott اب کریں۔ تو ان کی شادیوں میں جانا بند کریں، ان کی ہر ایسی جگہ پر جہاں سے انہیں تکلیف ہو سکتی ہے وہاں ان کا social boycott کریں، نہ انہیں اپنے گھروں پر بلائیں نہ ان کی طرف جائیں، ان کی سالگرہ، منگنی، شادی، جو بھی ان کی خوشی غمی ہے اس کا مکمل طور پر boycott کریں۔ جہاں پر ستائیس ستمبر کی بھرپور ہم نے تیاری کرنی ہے ساتھ ساتھ اس boycott کو بھرپور طریقے سے implement کریں۔

‏زہـــرہ لیــاقت

14,212 次观看 • 7 天前

احمد رضا ڈار پر آپ نے ریپ کا کیس نہیں ڈالا، اسے بچا لیا گیا ہے، اور اسے ریپ کے الزام سے بچایا گیا ہے؟ میری تمام انویسٹیگیٹو جرنلسٹس سے گزارش ہے کہ ہمارے پاس ان خواتین کے رابطہ نمبرز موجود ہیں۔ آپ ان خواتین سے بھی بات کر سکتے ہیں اور ان کے والدین سے بھی بات کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کو پاکستان کے اداروں پر یقین نہیں ہے، تو شاید آپ کو بیرونِ ملک موجود ان افراد کی بات پر زیادہ یقین ہو۔ آپ ان سے بھی بات کر لیں۔ہم نے ان خواتین کو ایک ایک ملزم کی تصویر دکھائی تھی، اور انہوں نے جو بیان جج کے سامنے دیا، اس میں ایک خاتون کا چار صفحات پر مشتمل بیان ہے جبکہ دوسری خاتون کا بیان تین صفحات پر مشتمل ہے۔ 164 کا بیان اور میڈیکل کسی کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ جب جج 164 کے تحت بیان ریکارڈ کر رہا ہوتا ہے تو وہ بار بار یہ پوچھتا ہے اور سرٹیفکیٹ پر دستخط بھی کرواتا ہے کہ آپ جو بیان دے رہے ہیں، وہ بعد میں آپ کے خلاف بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ Muzamal Suharwardy Lahore Police Official

Muzamal Suharwardy Team

28,871 次观看 • 2 个月前

" کسی وقت میں (اسلام آباد ہائیکورٹ میں) یومیہ دائری 50 سے زیادہ نہیں تھی آج ہم اڑھائی سو کے ساتھ کام کر رہے ہیں اس انڈیکیٹر سے ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ لوگ کتنا عدالتوں میں آنا چاہتے ہیں " چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کا اسلام آباد ہائیکورٹ میں یوم آزادی تقریب سے خطاب "ہم پاکستان کی ترقی میں اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہوئے اپنا سب سے جو مختص کیا گیا کردار ہے وہ غیر جانبداری اور شفافیت کے ساتھ ہر کسی کا حق ان کے گھروں تک پہنچا دینا ہمارا کام ہے اس مقصد کے حصول کے لئے بینچ اور بار ایک ہی نظام کے دو ستون ہیں ایک مضبوط ، باوقار ، آزاد اور مضبوط عدلیہ نظام کے لئے ناگزیر ہیں جب کہ بینچ کی ذمہ داری ہماری شفافیت اور قانون کے مطابق فیصلوں کے ذریعے عوام کے اعتماد کو مزید مضبوط کرنا ہے اس کے لئے میں آپ لوگوں سے یہ بات آج کے موقع پر شئیر کرنا چاہتا ہوں کہ ایک سال پہلے کے بعد آج ہی کے دن دوسری دفعہ آپ سے مخاطب ہوں اس وقت میں اور آج کے وقت میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آپ کی عدالتوں پر اسلام آباد ہائی کورٹ پر اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹ پر لوگوں کا اعتماد کیلکولیٹیڈ طریقے سے دیکھیں سے تو آجُ یومیہ دائری اڑھائی سو کے قریب ہے اس کے باوجود کہ ججز ہمارے پاس کم تھے لیکن کسی وقت میں یومیہ دائری 50 سے زیادہ نہیں تھی آج ہم اڑھائی سو کے ساتھ کام کر رہے ہیں اس انڈیکیٹر سے ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ لوگ کتنا عدالتوں میں آنا چاہتے ہیں اور کتنا عدالتوں میں ریلیف ملتا ہے جس کی وجہ سے ان کا عدالتوں میں آنا اور مسائل کو لےکر آنا اور ان کے حل کے لئے وہ عدالتوں کا رخ کرتے ہیں "

Saqib Bashir

53,268 次观看 • 1 个月前