Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

دل لگی دل کی لگی بن کے مٹا دیتی ہے روگ دشمن کو بھی یا رب نہ لگانا دل کا نہ سنا اس نے توجہ سے فسانہ دل کا 🩷🌧️🌧️

13,686 просмотров • 2 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

بے قصور بیٹی، ٹوٹا ہوا گھرانہ راولپنڈی کا ایک عام سا گھر… مگر اس گھر میں خوابوں کی دنیا بسی ہوئی تھی۔ ایک بیٹی، جو اپنی ماں کی آنکھوں کا تارا تھی، بہتر مستقبل کے لیے پردیس گئی۔ برسوں کی محنت، تنہائی اور جدائی برداشت کی، لیکن دل میں یہ سکون تھا کہ ماں باپ خوش ہیں اور اس کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔ پردیس میں وہ مسکرا کر زندگی گزار رہی تھی، مگر دل ہمیشہ وطن کے ساتھ دھڑکتا تھا۔ پھر ایک دن وطن میں ایسا طوفان اٹھا جس نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔ ایک سازش کے تحت عوام کا محبوب وزیرِاعظم برطرف کر دیا گیا۔ اس کے بعد ظلم و جبر کا وہ سلسلہ شروع ہوا جس نے لاکھوں دل توڑ دیے۔ یہ خبر جب بیٹی نے سنی، تو اس کا دل تڑپ اٹھا۔ وہ ظلم کے خلاف بولنے لگی، سچ کہنے لگی۔ لیکن طاقت کے ایوانوں کو ایک نازک سی لڑکی کی آواز بھی برداشت نہ ہوئی۔ انتقام میں اس کے والد اور بھائی کو اٹھا لیا گیا، دھمکایا گیا، اور حکم دیا گیا: "اپنی بیٹی سے کوئی بات نہ کرو، ورنہ انجام برا ہوگا۔" ایک ماں، جس کا دل ہر لمحہ اپنی بیٹی کے لمس کو ترستا تھا، اپنی جان سے بڑھ کر چاہی جانے والی بچی سے بات نہ کر سکی۔ وہ ماں روز آنسو بہاتی، راتوں کو جاگتی، بیٹی کی آواز سننے کو تڑپتی رہی۔ مگر جب سب دروازے بند کر دیے گئے تو اس کا دل بھی ٹوٹ گیا۔ ماں کی سانسیں مدھم ہونے لگیں۔ رخصتی کے وقت لبوں پر بس ایک ہی فریاد تھی: "میری بیٹی بے قصور ہے… میری بیٹی بے قصور ہے۔" یوں ایک ماں کا دل، ایک بیٹی کی آواز اور ایک گھرانے کا سکون، سب ظلم کی بھینٹ چڑھ گئے۔ Eshaal honey PTI PTI Faisal Khan Shehr Bano Official

Salman Iqbal

68,436 просмотров • 1 год назад

پیر نصیر الدین نصیرؒ اُنکے اندازِ کرم اُن پہ وہ آنا دِل کا ہائے وہ وقت وہ باتیں وہ زمانہ دِل کا نہ سُنا اُس نے توجہ سے فسانہ دِل کا عُمر گُزری ہے مگر درد نہ جانا دِل کا کُچھ نئی بات نہیں حُسن پہ آنا دِل کا مشغلہ ہے یہ نہایت ہی پُرانا دِل کا وہ مُحبت کی شُروعات، وہ بے تھاہ خُوشی دیکھ کر اُنکو وہ پھولے نہ سمانا دِل کا دِل لگی دِل کی لگی بن کے مِٹا دیتی ہے روگ دُشمن کو بھی یا رب نہ لگانا دِل کا میرے پہلو میں نہیں آپکی مُٹھی میں نہیں بے ٹھکانا ہے بُہت دِن سے ٹھکانہ دِل کا وہ بھی اپنے نہ ہُوئے دِل بھی گیا ہاتھوں سے ایسے آنے سے تو بہتر ہے نہ آنا دِل کا بے جھجک آ کے مِلو ہنس کے مِلاؤ آنکھیں آؤ ہم تُم کو سِکھاتے ہیں مِلانا دِل کا نقش بر آب نہیں وہم نہیں خواب نہیں آپ کیوں کھیل سمجھتے ہیں مِٹانا دِل کا حسرتیں خاک ہُئیں مِٹ گئے ارماں سارے لُٹ گیا کوچۂ جاناں میں خزانہ دِل کا لے چلا ہے میرے پہلو سے بصد شوق کوئی اب تو مُمکن ہی لوٹ کے آنا دِل کا اُنکی محفل میں نصیرؔ اُنکے تبسُم کی قسم دیکھتے رہ گئے ہم ہاتھ سے جانا دِل کا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اردو ورثہ

16,078 просмотров • 1 год назад

اگر تنہائی میں گناہ کا دل چاہے تو خود کو یوں روکیں! اللہ کو یاد کریں کہ وہ دیکھ رہا ہے لوگ نہیں دیکھ رہے، مگر رب تو دیکھ رہا ہے یہ احساس دل کو فوراً نرم کر دیتا ہے۔ یہ سوچیں یہ چند لمحوں کی لذت ہے یا ہمیشہ کی ندامت؟ گناہ کا مزہ چند سیکنڈ کا ہوتا ہے، مگر اس کی شرمندگی دل پر دیر تک رہتی ہے۔ فوراً ماحول بدل دیں کمرے سے باہر نکل جائیں، وضو کریں، پانی پیئں، یا کسی کو کال کر لیں،خاموش بیٹھے رہنا خطرناک ہوتا ہے۔ زبان سے استعاذہ پڑھیں! اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ آواز کے ساتھ پڑھیں، دل کو طاقت ملے گی۔ اللہ کی نعمتوں کو یاد کریں سوچیں"اللہ نے مجھ پر اتنی رحمتیں کیں، کیا میں اسی رب کی نافرمانی کروں؟" دو رکعت نفل یا سادہ دعا اگر نماز ممکن نہ ہو تو بس دل سے کہیں "یا اللہ! مجھے میرے نفس کے شر سے بچا لے" آخری بات! دل میں خواہش آنا گناہ نہیں، اس پر عمل کرنا گناہ ہے۔ اور جو اللہ کے لیے رک جائے، اللہ اس کے دل کو سکون دے دیتا ہے۔ دعا: اللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ شَرِّ نَفْسِي، وَاصْرِفْ عَنِّي السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ، وَاجْعَلْنِي مِمَّنْ يَخْشَاكَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ۔ اے اللہ! مجھے میرے نفس کے شر سے محفوظ فرما، اور مجھ سے برائی اور بے حیائی کو دور فرما، اور مجھے ان لوگوں میں شامل فرما جو تجھ سے پوشیدہ اور ظاہر (ہر حال میں) ڈرتے ہیں

شبانہ شوکت

15,658 просмотров • 7 месяцев назад