Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

دو دوست، ایک خواب، اور بے شمار میلوں کا سفر ٹوکاٹ سے موٹر سائیکل پر نکلنے والے ان دوستوں نے 3 ممالک عبور کیے، 6,500 کلومیٹر کا سفر طے کیا، اور صرف 17 دن میں حرمِ پاک پہنچ کر عمرہ ادا کرنے کی سعادت حاصل کی۔ جب نیت سچی...

38,682 Aufrufe • vor 3 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

جب میرے والد صاحب ہم کا انتقال ہوا تو میں بارہویں جماعت میں پڑھتا تھا اور اپنے گھر میں سب سے بڑا تھا۔ ہمارا تعلق کسی جاگیردارانہ یا صنعتی پس منظر سے نہیں بلکہ ایک عام درمیانے طبقے سے تھا۔ محنت اور یکسوئی کے ساتھ میں نے بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور پھر اپنے ملک کی خدمت کے لیے واپس لوٹ آیا۔ میں نے عوامی خدمت کے میدان میں آنے کے لیے دس سال کا ہدف مقرر کیا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل اور محنت سے میں نے وہ منزل سات سال میں ہی حاصل کر لی۔ آج اگر میں کابینہ کے اس اہم مقام پر پہنچ کر ملک و قوم کی خدمت کر رہا ہوں تو یہ صرف اور صرف محنت، لگن اور اللہ کے کرم کا نتیجہ ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ہمارے نوجوانوں کو بھی صرف اپنے اہداف اور منزل پر نظر رکھنی ہے اور محنت کرنی ہے۔ جب میں ایک عام درمیانے طبقے سے نکل کر اس مقام تک پہنچ سکتا ہوں، تو ہمارے ملک کا کوئی بھی باصلاحیت نوجوان اپنی منزل حاصل کر سکتا ہے! #YouthPower #HardWork #Inspiration #SelfBelief #UraanPakistan #PakistanZindabad

Ahsan Iqbal

64,227 Aufrufe • vor 24 Tagen

’دو خواب، دو معمار‘ کی یہ سچی کہانی ایک خواب لگتی ہے۔ 2022 میں تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب تباہی لایا۔ بے گھر متاثرین کے خیمے میں اکرام اللہ کی زندگی کا نیا سفراس وقت شروع ہوا جب وزیراعظم شہبازشریف سے ملاقات میں غیرمعمولی جذبہ رکھنے والے اکرام اللّٰہ نے اعلیٰ تعلیم کی خواہش ظاہر کی۔ وزیراعظم شہبازشریف کی ہدایت پر سرکاری خرچ پر اکرام اللّٰہ کا لارنس کالج گھوڑا گلی مری میں داخلہ ہواجہاں آج وہ نویں جماعت میں ہے۔ شہبازشریف دوبارہ وزیراعظم بنے تو اکرام اللّٰہ انہیں مبارک اور پھول دینے وزیراعظم ہاﺅس آیا۔ شہبازشریف نے اس سے ٹاپ کرنے کا اس کا وعدہ یاد دلایا اور اسے ڈھیروں پیار کے ساتھ محنت اور تعلیم کے حصول پر توجہ دینے کی نصیحت کی۔ کون کہتا ہے کہ خواب پورے نہیں ہوتے۔ سرپرستی، توجہ، محنت اور احساس ہوتو خواب حقیقت بن جاتے ہیں ۔ اللّٰہ تعالیٰ پاکستان کے ہر بچے کا تعلیم کا خواب اکرام اللّٰہ کی طرح پورا فرمائے۔ آمین

PMLN Digital

49,516 Aufrufe • vor 2 Jahren

کئی سال پہلے میں نے حامد میر صاحب (Hamid Mir حامد میر) کے کہنے پر چینی کا بائیکاٹ #BoycottSugar کیا اور نہ صرف خود بلکہ اپنے پورے گھر اور دوستوں کو بھی اس "سفید زہر" سے دور رکھا۔ تاہم، کچھ ماہ پہلے جب میں مکمل طور پر اسلام آباد منتقل ہوا اور دوبارہ ہاسٹل لائف شروع کی، تو آمدن نہ ہونے اور اخراجات کے مسائل کے باعث مجبوری میں چینی والی چائے اور پراٹھے کا استعمال شروع کر دیا۔ ​کچھ ہی عرصے بعد اچانک میری طبیعت خراب ہو گئی۔ اللہ بھلا کرے ایک انسان دوست ڈاکٹر کا، جب میں ان کے پاس گیا تو انہوں نے پوچھا: "نوجوان! چینی کا استعمال کب سے کر رہے ہو؟" میں نے بتایا کہ ڈیڑھ ماہ سے، کیونکہ اس سے پہلے کئی سالوں تک میں نے چینی مکمل طور پر ترک کر رکھی تھی اور اب صرف ہاسٹل کی مجبوری میں استعمال کر رہا ہوں۔ اس پر ڈاکٹر صاحب نے ہدایت کی: "بیٹا! آپ دوبارہ کبھی چینی استعمال نہ کرنا۔" ​اب میں صبح کے ناشتے میں صرف ایک گلاس دودھ اور سادی روٹی لیتا ہوں اور اس سفید زہر سے جان چھڑا کر بہت پرسکون ہوں۔ اس کانفرنس میں حامد میر صاحب نے بالکل درست کہا کہ چینی واقعی ایک سفید زہر ہے اور اس کے پیچھے شوگر مافیا کا ہاتھ ہے۔ شوگر کے بہت سارے نقصانات ہیں جن میں انسولین کی کارکردگی خراب کر کے شوگر کی بیماری پیدا کرتی ہے، جسم اور پیٹ پر تیزی سے چربی جمع کرتی ہے جبکہ جگر پر چربی جما کر اسے متاثر کرتی ہے۔ ​ماہرین کے مطابق بلڈ پریشر اور شریانوں کی سوزش بڑھاتی ہے اور خون میں شوگر اچانک بڑھا کر تیزی سے گراتی ہے۔ علاوہ ازیں دانتوں میں کیڑا اور کیویٹی پیدا کرتی ہے اور جھریوں اور دانوں کا باعث بنتی ہے۔ ​بہترین متبادل: گڑ، خالص شہد، کھجور، اور اسٹیویا (Stevia) ہے۔

Malik Ramzan Isra

30,232 Aufrufe • vor 5 Tagen

کیا کوئی پرندہ مسلسل بارہ دن رات زمین یا سطح آب پر بغیر اترے، بغیر کھائے پیے اور بنا آرام کیے اڑ سکتا ہے؟ آپ یقیناً اس بہادر اور عظیم الشان سے ملنا چاہیں گے۔ زیر نظر ویڈیو میں کراچی کے ساحل پر آئے مھمان "بار ٹیلڈ گاڈ وٹ" کو دیکھیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ انکی ساری زندگی مشکل اور لمبے سفر میں گزرتی ہے اور پہلے سفر میں زیادہ تر موجودہ سال کے پیدا ہوئے نواجوان اجل کا شکار ہو جاتے ہیں؟ انکا بچہ جب انڈے سے نکتا ہے تو عظیم الشان سفر پر روانہ ہونے میں صرف چار ھفتے ہوتے ہیں۔ اس دوران انکی نشوونما درکار ہوتی ہے اور یہ انڈے سے نکلنے کے چند گھنٹوں میں ہی تیز ترین شکاری کی طرح برتاؤ شروع کر دیتے ہیں۔ انکی وجہ شہرت الاسکا سے نیوزی لینڈ تک سمندر کے اوپر بین البراعظمی نان اسٹاپ 11680 کلومیٹر فاصلہ کی نان اسٹاپ اڑان ہے۔ سفر سے پہلے یہ خوب خوراک کھاتے ہیں اور اپنے جسم میں طاقت چربی کی صورت میں جمع کرتے ہیں۔انکی خوراک میں ساحلی کیڑے مکوڑے شامل ہیں جن کو یہ ساحلی کیچڑ سے لمبی چونچ کے ذریعے ڈھونڈ کر نکالتے ہیں۔ اڑان کے دوران زمین کی مقناطیسی لہروں سے فائدہ حاصل کرنے کی صلاحیت کے حامل ہیں جس کا تعلق انکی آنکھ اور انکے دماغ سے ہوتا ہے اسطرح فطرت سے حاصل شدہ صلاحیت کا بھرپور استعمال کرتے ہیں۔ اس تحریر کے بعد ذھن میں کئی سوال ابھرتے ہیں جیسا کہ: یہ اتنے لمبے فاصلے کی اڑان کیوں کرتے ہیں؟ یہ کیسے ممکن ہے؟ انکی عمر کتنی ہوتی ہے؟ کیا ساری زندگی سفر کرتے ہیں؟ ان سوالوں سمیت دیگر ذھن میں آنے والے سوالات کا جواب اگر وقت ملے تو ضرور تلاش کریں۔ حاصل ہونے والے جوابات آپ کو حیران کر دینگے۔ #SindhWildlife🇵🇰 #Bar_tailed_godwit

SindhWildlife

14,236 Aufrufe • vor 4 Monaten

فیری میڈوز گلگت بلتستان کا دل دہلا دینے والا راستہ ۔ جہاں انسان، گھوڑے اور وفادار محافظ ایک ساتھ سفر کرتے ہیں اسلام آباد سے نارتھ تک تقریباً 600 کلومیٹر پر مشتمل گھوڑوں کا یہ تاریخی ایڈونچر صرف ایک سفر نہیں تھا بلکہ ہمت، حوصلے اور وفاداری کی ایک زندہ داستان تھا۔ اس پورے سفر کا سب سے خطرناک، سنسنی خیز اور دل دہلا دینے والا حصہ Fairy Meadows تک جانے والا راستہ تھا، جو Raikot Bridge سے شروع ہوتا ہے اور اپنی خطرناکی کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔ اس منفرد ایڈونچر میں ہمارے ساتھ صرف ہم اور ہمارے گھوڑے ہی نہیں تھے بلکہ ہمارے وفادار محافظ کتے بھی ہر قدم پر ہمارے ساتھ رہے۔ Cane Corso، Afghan Kuchi Dog اور Tina نامی German Shepherd اس خطرناک راستے میں ہمارے محافظ بنے رہے۔ تنگ پہاڑی راستے، اندھیری راتیں اور ویران جنگل — یہ کتے ہر لمحہ ہمارے گرد پہرا دیتے رہے۔ Fairy Meadows دنیا کے خوبصورت ترین مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں ہمیں England، New Zealand، Thailand، Australia اور Germany سمیت کئی ممالک کے سیاح ملے۔ جب ہم نے انہیں بتایا کہ ہم Islamabad سے گھوڑوں اور کتوں کے ساتھ سفر کرتے ہوئے یہاں پہنچے ہیں تو وہ حیران رہ گئے۔ فیری میڈوز تک جانے والا راستہ تقریباً 22 کلومیٹر طویل خطرناک جیپ ٹریک ہے، جہاں صرف مقامی ڈرائیوروں کی جیپس چلتی ہیں۔ یہ جیپس زیادہ تر Tattu Village کے لوگ چلاتے ہیں۔ ایک طرف بلند و بالا پہاڑ اور دوسری طرف خوفناک گہری کھائیاں — سڑک اتنی تنگ کہ دیکھتے ہی دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے اور سانسیں رک سی جاتی ہیں۔ یہاں صرف ڈرائیونگ نہیں بلکہ حوصلہ اور یقین بھی آزمایا جاتا ہے۔ ہم نے اس پورے سفر کو صرف جیا نہیں بلکہ کیمرے میں قید بھی کیا تاکہ دنیا دیکھ سکے کہ پاکستان میں ایڈونچر کی اصل روح کیا ہے

Gilgit Baltistan Tourism.

14,549 Aufrufe • vor 6 Monaten