Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

🔥 دوہرا معیار اور منافقت عوام کو ہرگز قبول نہیں! ​نورین نیازی کو تو فوراً نوٹس بھیج دیا گیا، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہی قانون اور معیار نواز شریف پر بھی لاگو ہوگا؟ کیا نواز شریف کے بیانات اور اقدامات پر غداری کا مقدمہ بنے...

17,680 Aufrufe • vor 24 Tagen •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

کیا نورین نیازی پاکستان کے خلاف بیان دینے پر معافی مانگ رہی ہیں Beenish Saleem عامرمغل کے جواب نے بینش سلیم کو تتے توے پر بٹھا دیا پروگرام میں ہی عامر مغل کو گرفتاری، پرچوں اور عبرتناک انجام کی دھمکیاں دینے لگ پڑیں۔ عامرمغل نے کہا کہ میں دوسال سے گھر نہیں جا سکا میرے اوپر پہلے سے دہشت گردی۔ بغاوت، غداری، چوری ، ڈکیتی کے 61 جھوٹے پرچے درج ہیں دو اور بھی ہوجائیں گے لیکن زرداری، نوازشریف کو جھوٹا کہنے سے پیچھے نہیں ہٹوں گا عامر مغل نے نورین نیازی صاحبہ والے سوال کا طنزا جواب دیتے ہؤے کہا کہ نورین نیازی صاحبہ نے چار قسم کے ماسک پہن رکھے ہیں کبھی وہ نوا شریف کا ماسک پہن کر بیان دیتی ہیں کہ ممبئ حملوں میں گرفتار ہونے والا اجمل قصاب پاکستانی ہےیہ بیان ڈان اخبار میں چھپتا ہے اور پھر انڈیا اسے بطور ثبوت انٹرویو نیشنل کورٹ میں پیش کرتا ہے، پھر نورین نیازی خواجہ آصف کا ماسک پہن کر اسمبلی میں پہنچ جاتی ہیں اور بیان دیتی ہیں کہ اس فوج نے قوم کی ہڈیوں سے گوشت تک نوچ لیا ہے پھر وہ مریم نواز کا ماسک پہن لیتی ہیں اور یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے کے نعرے لگاتی ہیں پھر وہ زرداری کا ماسک پہن لیتی ہیں اور جنرل راحیل شریف کو اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکی دیتی ہین عامر مغل نے کہا کہ نورین نیازی صاحبہ نے تین ماہ قبل انٹرویو دیا لیکن دینے کے بعد اسے آن ایئر کرنے سے منع کر دیا اب وہ انٹرویو جب بلااجازت نشر کیا گیا ہے تو نورین نیازی صاحبہ کو کیسے قصوروار ٹھہرایا جا سکتا ہے عامرمغل نے کہا کہ 13 مئی 2025 کو چیئرمین عمران خان نے پاک انڈیا جنگ پر جو موقف دیا تھا میرا اور تحریک انصاف کا وہی موقف ہے لیکن یہ دوہرا معیار ہے کہ نورین بی بی جو نہ تو سیاستدان ہیں نہ ہی ممبر پارلیمنٹ ان کے ایسے بیان کو ان کی اجازت کے بغیر نشر کیا گیا جواز بنا کر طوفان کھڑا کیا جا رہاہے لیکن دوسری طرف نواز شریف، زرداری ، مریم نواز ، خواجہ آصف کے فوج دشمن بیانات پر آنکھیں بند ہیں۔ عامرمغل نے مذید کہا کہ حالیہ مولانا فضل الرحمان کے فوج کے متعلق بیان اور پھر معافی کے مطالبے پر مذید خطرناک بیان اور معافی کو جوتے کی نوک پر رکھنے پر تو ملکی آئین و قانون حرکت میں نہیں آیا کیا سارے قوانین صرف تحریک انصاف کیلئے ہی ہیں۔

Aamir Mughal 🇵🇰

16,610 Aufrufe • vor 24 Tagen

بلوچستان میں جبری گمشدگی جیسے سنگین انسانی مسئلے کو کبھی جھوٹ اور من گھڑت قرار دیا جاتا ہے، کبھی کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ لاپتہ نہیں بلکہ پہاڑوں پر چلے گئے ہیں، اور کبھی اس مسئلے کے وجود ہی سے انکار کر دیا جاتا ہے۔ اور ایک ہفتے کے اندر اندر انہی حکومتی نمائندوں کی جانب سے جبری گمشدگیوں کے مسئلے پر مختلف اور متضاد بیانات دئے گئے ہیں۔ دس دن قبل وزیراعلیٰ نے بیان دیا کہ 2 فروری کے بعد کسی کو جبری طور پر لاپتہ نہیں کیا جائے گا۔ یہ بیان بذاتِ خود اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ بلوچستان میں برسوں سے جبری گمشدگیاں ہوتی رہی ہیں۔ اس کے برعکس، ایک ہفتہ قبل وزیر خواجہ آصف نے کہا کہ مسنگ پرسنز کا مسئلہ سراسر فراڈ ہے اور اس کا کوئی وجود ہی نہیں۔ جبکہ پاکستان کے وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ وفاقی حکومت جبری طور پر لاپتہ افراد کے دیرینہ مسئلے کی مزید تحقیقات کے لیے ایک نئی کمیٹی تشکیل دے رہی ہے۔ کل آصمہ جہانگیر کانفرنس میں رانا ثناء اللہ نے نہ صرف اس سنگین مسئلے کو مرغی اور انڈے جیسی غیر سنجیدہ مثال سے جوڑ کر کم اہم ظاہر کرنے کی کوشش کی بلکہ یہ بھی واضح الفاظ میں کہا کہ جب تک بلوچستان میں دہشتگردی ہے، جبری گمشدگیاں ہوتی رہیں گی۔ یہ بیان خود اس بات کا اعتراف ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں ہو رہی ہیں اور آئندہ بھی جاری رہیں گی۔ یہ بات ایک اس بیٹی کے سامنے کہی گئی جس کے والد گزشتہ سترہ برسوں سے جبری طور پر لاپتہ ہیں اور وہ انکی واپسی کی راہ دیکھ رہی ہیں اور اسی بیٹی کے ساتھ اور دیگر گمشدہ افراد کے لواحقین سے ستمبر 2022 میں رانا ثناء اللہ اور اعظم نذیر تارڑ نے کوئٹہ ریڈ زون میں دھرنے کے دوران ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں لواحقین کے دکھ درد کو سمجھنے کا دعویٰ کیا گیا، ایک کمیشن بھی قائم کیا گیا اور واضح الفاظ میں وعدہ کرکے یقین دہانی کرائی گئی کہ آئندہ جبری گمشدگیاں نہیں ہوں گی، جس شخص پر بھی الزام ہے اسے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے گا اور قانون کے مطابق شفاف ٹرائل کیا جائے گا۔ مگر کل میرے سامنے یہ کہا گیا کہ اگر کسی کو اٹھایا جائے گا تو اسے قانون کے مطابق ڈیل نہیں کیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس آئین اور قانون کی بالادستی کی بات کی جاتی ہے، خود ایک وفاقی وزیر اس کی نفی کر رہا ہے۔ بطور ایک ایسی بیٹی جس کا والد جبری طور پر لاپتہ ہے، کیا میں یہ امید بھی نہ رکھوں کہ ہمارے پیاروں کو آئین اور قانون کے مطابق ٹریٹ کیا جائے گا؟ جب ایک وزیر خود آئین کی عملداری پر سوال اٹھا دے تو عام شہری انصاف کی امید کس سے رکھے؟ اور آج انہی وعدوں کی نفی خود حکومتی بیانات سے ہو رہی ہے۔ جبری گمشدگیوں کے مسئلے پر ریاست اور ریاست سرگردان ہے حکومتی نمائندے خود شدید تضاد اور کنفیوژن کا شکار ہیں۔ کبھی اس مسئلے کو مکمل طور پر جھٹلایا جاتا ہے اور کبھی دہشتگردی کے نام پر اسے جائز قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر یہ جبری گمشدگیاں ریاست کے ماتھے پر سیاہ دھبہ بن چکی ہیں اور جب تک اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل نہیں کیا گیا ہے اس پر بات ہوتی رہے گی، حکومتی نمائندے اس مسئلے کو جیسے چاہیں جھٹلائیں یا جائز قرار دیں اس مسئلے کو حل کئے بغیر بری الزمہ نہیں ہوسکتے ہیں۔ Rana Sana Ullah Khan Azam Nazeer Tarar

Sammi Deen Baloch

31,666 Aufrufe • vor 6 Monaten

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف کا لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداروں سے خطاب آج سب سے سستی کرنسی پاکستان کی ہے، پاکستان کی کرنسی کو مٹی میں ملا دیا گیا ، نوازشریف اتنی مہنگائی میں عوام کیسے زندہ رہیں گے، کاروبار کیسے چلے گا، نواز شریف قوم کو جھوٹے خواب دکھانے کا سلسلہ بند کرنا ہو گا، نواز شریف 2013 میں بھی پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالا تھا، نواز شریف ہم ملک کو ترقی دیتے ہیں اور جلاوطنی اور قید بھی کاٹتے ہیں، نواز شریف 2022 میں حکومت میں آنے پر تیار نہیں تھے لیکن پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانا ضروری تھا، نواز شریف شہباز شریف صاحب کے مستعفی ہونے کی تقریر تیار تھی، میں نے تقریر دیکھ لی تھی، نواز شریف ہم نے دھمکیوں کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا، نوازشریف پاکستان کے مفاد کے لئے بے خوف ہو کر آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا، نواز شریف بات پاکستان کی ہو تو ہم فیصلوں کے ذاتی مفاد پر نقصان کی پرواہ کبھی نہیں کرتے، یہی ہم میں اور دوسروں میں فرق ہے، نواز شریف پاکستان کو بچانے کے لئے جو بھی کرنا پڑے کرتے آئے ہیں، کرتے رہیں گے، نواز شریف معیشت کے فیصلے دلیری اور بہادری کے ساتھ کرنے ہوں گے عوام کو ریلیف دینا ہوگا گھریلو صارفین کے لئے بجلی سستی کرنے پڑے گی، اُن کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے ہیلتھ کارڈ دیا تھا ، غریب کا علاج سٹیٹ کی زمہ داری ہے

PMLN

50,023 Aufrufe • vor 2 Jahren

ہمیں ان کی کسی بات پر یقین نہیں ہے ۔۔ پی ٹی آئی کو بھی اس امر پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ کارکن اپنی مدد آپ کے تحت دھرنے میں بیٹھے ہیں اور ہر مرتبہ انہیں بلایا جاتا ہے پھر ایک کال پر واپس بھیج دیا جاتا ہے جماعت کو چاہیے کہ عوام کے سامنے واضح اور مؤثر لائحہ عمل پیش کرے کیونکہ عوام کو مسلسل بے خبر رکھ کر معاملات نہیں چل سکتے یہ کارکنوں کی آواز ہے اور کارکن جب چاہیں اور جیسے چاہیں بیٹھ سکتے ہیں انہیں کسی سہارے کی ضرورت نہیں وہ نظریے کے لیے نکلے ہیں اور جب تک اپنے مقصد تک نہ پہنچیں وہ ڈٹے رہیں گے ان لوگوں نے حد سے تجاوز کیا ہے عمران خان کی آنکھ پر حملہ کر کے انہوں نے اپنی جسارت کا اظہار کیا اور عوام کو للکارا جس کے نتیجے میں عوام خود میدان میں آئی ہے اور اب بظاہر یہ صورتحال ان کے قابو میں نہیں رہے گی جن افراد نے ڈان اخبار میں جعلی خبر شائع کی اس کا مقصد یہ تھا کہ عمران خان اس خبر کو دیکھیں کیونکہ انہیں یہی اخبار فراہم کیا جاتا ہے محض سوشل میڈیا پر معذرت کر لینا کافی نہیں کیونکہ یہ خبر دانستہ طور پر شائع کی گئی تھی۔۔ نورین خان نیازی سے آج کے انٹرویو میں گفتگو

Agha Sheikh Sarwar

19,048 Aufrufe • vor 5 Monaten

🚨🚨 بریکینگ نیوز : وقار ملک کے تہلکہ خیز انکشافات. نواز شریف ڈٹ گیا ہے, وہ ڈٹ گیا ہے بس اب نہیں چھوڑے گا۔🔥🔥🛑 خبر یہ ہے کہ فوج نے جو ری سیٹ پلان دیا ہے۔ نون لیگ نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اسکو ٹکر دیں گے ۔ہم فوج کو ٹکر دیں گے ۔ خبر یہ ہے کہ ن لیگ یہ سمجھ رہی ہے کہ محسن نقوی نے بات کی چلو خیر تھی لیکن جب DGISPR نے بھی وہ ہی بات کردی تو اب اسکا مطلب ہے ہمیں کچھ بولنا پڑے گا ۔ اگر اب ہم نے چوں, چا نا کی تو بہت دیر ہو جائیگی ۔اور ہم ساری زندگی پچھتائیں گے ۔تو میرے پاکستانیوں نواز شریف کیا کرسکتا ہے میں وہ آپکو بتا دیتا ہوں ۔ میں نے اس پر پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے ۔ تو میں نے اس پر ایک پوسٹ بھی کیا ہے ۔ میں نے لکھا ہے کہ ن لیگی صحافیوں کیمطابق نواز شریف ڈٹ گیا ہے, اور ووٹ کو عزت دو والے بیانیے کو سٹور سے نکال کر صاف کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے ۔ آگر جرنیل نا مانیں تو نواز شریف اگلی فلائیٹ سے مزاحمت کرنے لندن چلے جائینگے ۔اور پھر پکے ناراض ہو جائینگے ۔ اور کبھی واپس نہیں آئینگے ۔ تو میری یہ بات یاد رکھیئے گا کہ نواز شریف کی ٹوٹل مزاحمت یہ ہے کہ اگر اس بار حالات نے پلٹا کھایا تو نواز شریف پاکستان میں رہنے کی غلطی نہیں کرینگے. نواز شریف راتوں رات وہ کام کرے گا۔ جو 2017 میں اسحاق ڈار نے بڑی سمجھداری سے کیا تھا ۔اور خاقان عباسی کی جہاز میں لندن پہنچ گیا تھا ۔ اس بار نواز شریف بھی پرائیویٹ جہاز پکڑے گا اور سیدھا لندن چلا جائیگا ۔ پتہ نہیں مریم کو لیکر جائیگا۔ یا ہمیشہ کیطرح چھوڑ جائیگا پیچھے ہی۔ لیکن نواز شریف ٹھہرنے والے بندوں میں سے نہیں ہے ۔ نواز شریف کو جیسے ہی لگتا ہے کہ زمین گرم ہونے والی ہے تو وہ فوراً بھاگنے کی کرتا ہے ۔ تو میرے خیال میں نواز شریف یہی دھمکی لگائے گا۔کہ بھائی میں ناراض ہوکر چلا جاؤں گا ۔ میں روس جاؤنگا ۔ پھر آپ مجھے منانے آتے رہینگے ۔ کیونکہ میں آپکا لاڈلا بچہ ہوں ۔ منانے تو آپ نے پھر آجانا ہے ۔ تو اس بار میں ہکا ناراض ہو جاؤں گا ۔ بس یہ نواز شریف کی ٹوٹل اوقات اور حیثیت ہے ۔اس سے زیادہ نواز شریف کچھ نہیں کرسکتا ۔🔥🔥🚨

Anisha KHAN

45,293 Aufrufe • vor 11 Tagen