Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

“دہشت گردی پر خاموشی، ریاستی کارروائی پر سیاست” #دہشتگردی_پر_خاموشی #دہشتگردوں_کے_سیاسی_وکیل 📍دہشت گردی پر خاموشی اور آپریشن پر شور؛ یہی دوہرا معیار ہے۔ جب کوئٹہ میں ٹرین کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا، درجنوں معصوم جانیں گئیں، تو BNP قیادت کی فوری پریس کانفرنس، سخت مذمت اور عوامی احتجاج...

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

خاموشی جرم ہے! دہشت گردوں کو پناہ دینے والے بھی مجرم ہیں! جب بھی کوئی دہشت گرد حملہ ہوتا ہے، سوال اٹھتا ہے کہ یہ قاتل کہاں سے آتے ہیں؟ انہیں پناہ کون دیتا ہے؟ ان کے لیے محفوظ راستے کون بناتا ہے؟ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ معاشرے کے کچھ عناصر جان بوجھ کر یا خوف کی وجہ سے ان شدت پسندوں کی مدد کرتے ہیں۔ مگر یہ خاموشی اور چشم پوشی مزید خون بہانے کا سبب بنتی ہے۔ یہ دہشت گرد کہیں باہر سے نہیں آتے—یہ ہمارے ہی شہروں، دیہاتوں، اور محلوں میں چھپے ہوتے ہیں۔ کوئی انہیں رہائش دیتا ہے، کوئی خوراک، اور کوئی ان کی نقل و حرکت پر خاموش رہ کر نادانستہ طور پر ان کے معاون بن جاتا ہے۔ مگر یاد رکھیں! جو دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو محفوظ سمجھتے ہیں، وہی ایک دن انہی کے ہاتھوں تباہ ہو جاتے ہیں۔ دہشت گرد کسی کے خیرخواہ نہیں! یہ عناصر نہ مذہب کے وفادار ہیں، نہ ملک کے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو ہمارے بچوں کو یتیم، ماں کو بے سہارا، اور گھروں کو ویران کرتے ہیں۔ مگر ان کے خلاف بروقت اطلاع نہ دینا، ان کی پشت پناہی کرنا، یا خوف کے مارے خاموش رہنا—یہ سب مجرمانہ غفلت ہے۔ اپنی پولیس اور فورسز کے ساتھ کھڑے ہوں! ہماری پولیس اور سیکیورٹی ادارے اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں تاکہ ہم محفوظ رہیں، مگر ان کی کامیابی تبھی ممکن ہے جب عوام دہشت گردوں کے بارے میں بروقت اطلاع دیں۔ اگر کوئی مشکوک سرگرمی دیکھیں، اگر کوئی غیر متعلقہ شخص علاقے میں رہائش اختیار کرے، اگر کسی کی حرکات و سکنات مشکوک ہوں—تو فوراً پولیس یا متعلقہ اداروں کو اطلاع دیں۔ اب فیصلہ کریں! آپ کس کے ساتھ ہیں؟ یہ جنگ صرف حکومت یا پولیس کی نہیں، بلکہ ہم سب کی ہے۔ اگر ہم نے آج آنکھیں بند رکھیں، تو کل کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔ دہشت گردوں کی مدد نہ کریں، بلکہ ان کا راستہ روکیں! کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوراً دیں، کیونکہ خاموشی کا مطلب ہے کہ آپ خود اپنے شہر، اپنے ملک، اور اپنے بچوں کے مستقبل کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔ “اب وقت آگیا ہے کہ ہم دہشت گردوں کے خلاف متحد ہوں! خاموشی جرم ہے!

Defense Intelligence

20,096 views • 1 year ago

"کیا زخموں کی شماری بتآئیگی ملک سے یاری ؟" آج کی پریس کانفرنس کا سب سے نرالہ اور خطرناک مطلب یہ تھا کہ آج ڈی جی ای ایس پی آر کی طرف سے حب الوطنی کا ایک نیا معیار سیٹ کیا گیا ہے - ماضی میں کسی لیڈر کو ایجنٹ کہ دینا یا کسی کو غدار یا دشمن کا آلہ کار کہ دینا تو سنا تھا پر یہ معیار کہ جس جماعت کے زیادہ لوگ دہشت گردی کا شکار ہویے ہیں وہ زیادہ حب الوطن ہے جبکہ جس جماعت کے لوگ اس کا شکار نہیں ہوتے وہ دہشت گردوں کی سہولت کار اور ہمنوا ہے' بہت ہی خطرناک ہے - یہ بات نہ صرف حقائق کے منافی ہے بلکہ اس منصب اور ڈیوٹی کے بھی برعکس ہے جسکے تحت ملک کے اداروں کا کام یہاں سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہے نہ کہ دہشت گردوں کو نیے نیے ٹارگٹ دکھانا - 1. کی پی کے صوبے کے اسی ہزار سے زیادہ عوام دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں تو کیا اس کا یہ مطلب ہوگا کہ پنجاب یا سندھ کے لوگ کم حب الوطن اور دہشت گردوں کے سہولت کار ہیں ؟ 2. پیپلز پارٹی کی لیڈر بے نظیر کو شہید کیا گیا پر آج تک مسلم لیگ نواز کے کسی بڑے لیڈر کو یوں قتل نہی کیا گیا ' تو کیا یہ پیپلز پارٹی کو "محب الوطن " اور نواز لیگ کو ملک دشمن ثابت کرتا ہے ؟ 3. جہاں تک تحریک انصاف کا تعلق ہے تو یہ بات حقائق کے ہی برعکس ہے کہ ان کے لوگوں کو کبھی دہشت گردوں نے نشانہ نہیں بنایا - 2024الیکشن کے دوران اکرام الله گنڈا پور کا قتل ہو یا بونیر میں کی پی کے کے چیف منسٹر کے مشیر خاص سردار سوران سنگھ کا قتل ہو جس کی ذمے داری تحریک طالبان نے قبول کی تھی ' تحریک انصاف کے ممبر ملک لیاقت علی خان پر گولیاں چلنا ہو یا بلوچستان میں تحریک انصاف کی ریلی میں خود کش حملے کے نتیجے میں چار لوگوں کا ہلاک ہونا ہو ' یہ حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ پر اپنے خون کی مہر ثبت کرنے کیلئے کیا کافی نہیں ہیں ؟ 4. نومبر 2022 میں عمران خان خود دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں - وزیر آباد میں ان پر جو گولیاں چلائی گئیں' کیا وہ دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتی ؟ اور اگر نہیں آتی تو پھر اس کا یہ مطلب کیوں نہ لیا جائے کہ وہ ان کی طرف سے ہی تھا جو آج ایک ادارے سے ایک سیاسی جماعت بن چکے ہیں ؟ 5. جہاں تک یہ بات کہ بس ایک جماعت ہی ملٹری آپریشن کے خلاف ہے ' حقائق کے منافی ہے - دہشت گردی کے خلاف ملٹری آپریشن کا فیصلہ محض تحریک انصاف کا نہیں بلکہ پورے صوبے کی تمام جماعتیں اور جرگے "امن جرگہ " میں اسی رایے کا اظہار کر چکے ہیں تو کیا اب ان سب کو بھی اپنے لاشے بچھانے پڑیں گے تب جا کر ان کی نیت پر اداروں کو یقین آئیگا ؟ 6. اور اگر اسی منطق پر چلنا ہے تو آج تک کسی تھری یا فور سٹار جرنیل کو بھی تحریک طالبان نے ڈائریکٹ ٹارگٹ نہی کیا ' تو کیا پھر ان کو بھی سہولت کار سمجھا جائے اور ان کی حب الوطنی پر بھی سوالیہ نشان لگایا جاسکتا ہے یا یہ پیشکش بس سیاسی جماعتوں کیلئے ہی ہے ؟ اب عوام جب یہ نکتہ اٹھائیگی تو کہا جائیگا کہ دہشتگردوں کو راستہ دکھایا جارہا ہے ' تو پھر سیاسی جماعت کو ٹارگٹ کرنے کے حوالے سے آج ڈی جی آئ ایس پی آر کے اس بیان کو دہشت گردوں کو تحریک انصاف کے لوگوں کو ٹارگٹ کرنے کا راستہ دکھانا کیوں نہ سمجھا جائے ؟ 7. آج کی پریس کانفرنس میں کسی طلال چوہدری کسی فیصل واوڈا اور کسی رانا ثنا الله کی طرح اپنی مرضی کے کلپس دکھاے گیے جس میں فقط تحریک انصاف کے لیڈروں کی تقریریں دکھا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ یہ طالبان اور دہشت گردوں کے سہولت کار ہیں ' تو لگے ہاتھوں ایک کلپ اس جلسے کا بھی چلا دیتے جس میں مریم نواز کی موجودگی میں "یہ جو دہشت گردی ہے " والے نعرے لگا کر اداروں کو بھی ان کا سہولت کار کہا گیا تھا ' جس پر مریم نواز محض مسکراتی رہی تھیں ' تو پھر ہمیں لگتا کہ واقعی اداروں کا کسی سیاسی جماعت سے بغض یا تعلق نہی ہوتا بلکہ وہ غیر سیاسی ہوتے ہیں - لیکن یہاں تو ایسا لگ رہا تھا کہ رانا ثنا الله وردی میں ملبوس چیخ چنگھاڑ رہے ہیں فیصل واوڈا جوش خطابت سے سرشار ہیں - 8. اس پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر طالبان کے خلاف آپریشن نہی کرنا تو کیا ان کے قدموں میں بیٹھ جانا ہے ' یہ ہیبت الله کو صوبے کا چیف منسٹر بنانا ہے ؟ یہ کہتے ہویے ہمارے ڈی جی آئ ایس پی آر ان طالبان کی ہسٹری ہی بھول گیے کہ آج سے پینتالیس سال قبل امریکا اور سی آئ اے کے ایماپر ان طالبان کو جنم دینے والی کوکھ بھی ہمارے اداروں کی ہی تھی - زیادہ دور نہیں جاتے 2022 میں تمام پارلیمانی جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خیبر پختونخواہ میں دہشت گردی کا حل ان سے بات چیت ہے - اگر فوجی آپریشن مسلے کا حل ہے تو پچھلے بائیس بڑے اور چودہ ہزار کے قریب انٹیلجنس آپریشنز ' جن کی تفصیل ہر مہینے یہی ادارے آ کر بتاتے رہے ہیں ' تو یہ سب فوجی آپریشن بھی آج تک ان کو کیوں نہیں ختم کرسکے ؟ اور جو اگلا ملٹری آپریشن ہوگا اس میں ایسا کیا نیا ہوگا جو پچھلے بائیس میں نہیں تھا ؟ 9. کیا کبھی اس ملک کے میڈیا اور اداروں نے ایک عام پشتون بن کر بھی ان آپریشنز کے دوسرے پہلوؤں کے بارے میں سوچا ہے ؟ ان فوجی آپریشن میں کولیٹرل ڈیمیج جو ہوتا ہے وہ بھی اسی صوبے کے عوام کا ہوتا ہے جن کی حب الوطنی پر آج سوال اٹھاے گیے ہیں - طالبان کا جو ردعمل آتا ہے وہ بھی ان کے شہروں اور بستیوں میں آتا ہے کسی ڈی ایچ اے میں نہی - ڈرون سے لے کر فضائی حملوں میں بم کبھی بچوں اور مقامی پشتونوں اور طالبانوں میں فرق نہی کرتے اور اس بات کی ہسٹری گواہ رہی ہے - 10.لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ملٹری آپریشن کی اجازت دینے کا مینڈیٹ کس کا ہے ؟ اگر اس ملک میں تھوڑا سا بھی آئین ' قانون اور ضابطہ بچ گیا ہے تو پھر ڈی جی آئ ایس پی آر کو یہ پڑھنا چاہیے کہ کسی بھی صوبے میں ملٹری آپریشن کا اختیار کسی ادارے کے گریڈ بائیس کے کسی افسر یا ملازم کے پاس نہی بلکہ اس صوبے کے چیف ایکزیکٹو کے پاس ہوتا ہے جس کو اس صوبے کے عوام نے منتخب کیا ہوتا ہے اور جو اس صوبے کی باقی جماعتوں ' جرگوں اور عوامی حلقوں کے باہمی مشورے سے یہ فیصلہ کرتا ہے کہ یہاں کیا کرنا ہے اور یہ مینڈیٹ کسی بھی عسکری ادارے کے پاس نہی ہے - یہ بہت بڑا لمحۂ فکریہ ہے کہ ملکہ کے دفاعی ادارے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے لیڈروں کی دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاکتوں سے ہی اس جماعت کی ملک دوستی اور دہشت گردوں کے خلاف ان کی سنجیدگی کے بارے میں مطمین ہوں - پاسبانی والے اداروں کا مقتولین کی تعداد اور وکٹم کے زخموں کی بنیاد پر ان کے وفاداری کو جج کرنا میرے نزدیک ایسے ہی ہے کہ آپ ایک غازی اور ایک شہید فوجی میں آپس میں مقابلہ کروادیں کہ جو شہید ہوا ہے وہ زیادہ وفادار اور بہادر تھا اور جو جان بچانے میں کامیاب ہوگیا ہے ' اس کی بہادری اور جانثاری قابل سوال اور قابل اعتراض ہے - آپ کا کام زخموں کی گنتی سے وفاداری کی جانچ کرنا نہی بلکہ ان زخموں پر مرہم رکھنا ہے - باقی آپ ضرور ہر پریس کانفرنس میں عمران خان کے خلاف زہر اگلیں ' کیوں کہ اس سے آپ کا اپنا ہی بیانیہ کہ "آپ کا سیاست سے تعلق نہیں ہے " غلط اور جھوٹا ثابت ہوتا ہے لیکن جس بہادری اور جرات کا نشان آپ نے اپنے جسم پر ملبوس کیا ہوا ہے اس کا تو یہی تقاضہ ہے کہ ہر دوہفتے بعد ایک جیل میں بند انسان کے خلاف تین تین گھنٹے کی پریس کانفرنس کرنے کے بعد آپ کم سے کم دو مہینے میں ایک دفعہ ضرور اس کو جواب دینے کا موقع دیں کہ وہ اپنی فیملی سے مل کر آپ کے ان دعووں اور الزامات کا پوسٹ مارٹم تو کرسکے- شکریہ "قلم کی جسارت وقاص نواز " ---------------------------------------------------- Moeed Pirzada Imran Afzal Raja

Dr Waqas Nawaz

24,674 views • 7 months ago

ا ےآروائی نیوز/ 7 دسمبر 2025 یہ بات واضح ہے کہ آئی ایس پی آر کا جوابی مؤقف بالکل مناسب تھا، کیونکہ اگر کوئی سیاسی جماعت، اس کے کارکن اور اس کے ترجمان ملک اور بیرونِ ملک مسلسل فوج کو نشانہ بناتے رہیں تو ایک نہ ایک دن ادارے کا صبر بھی ختم ہو جاتا ہے۔ طاقت کے حصول کے لیے انسان گھٹنے ٹیک دیتا ہے اور گدھے کو بھی باپ بنا لیتا ہے۔ ایسے رویّوں کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔گزشتہ ایک دو برسوں میں پی ٹی آئی نے شہداء کے ساتھ یکجہتی کا اظہار تک نہیں کیا، نہ ہی وہ دہشت گرد حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔ جب صورتحال یہ ہو تو ڈی جی آئی ایس پی آر کیوں جواب نہ دیں؟ انہیں مکمل حق حاصل ہے کہ وہ ایسے بیانیوں کا جواب دیں جو اداروں کو کمزور کرتے ہوں۔اگرچہ ہمارے درمیان کئی اختلافات اور تنازعے موجود ہیں، لیکن دہشت گردی کے مسئلے پر پوری قوم کو متحد رہنا چاہیے۔ اگر پی ٹی آئی اس واحد قومی ایجنڈے، پاکستان کی سلامتی اور قومی خود مختاری، پر بھی متفق نہیں ہوتی، تو پھر کسی اور معاملے پر اتفاق ممکن ہی نہیں۔ دہشت گرد اس ملک کے دشمن ہیں، وہ مسلسل ہمارے جوانوں اور افسران کو نشانہ بنا رہے ہیں؛ ایسے عناصر سے بات چیت نہیں کی جا سکتی۔ اس کے باوجود وہ شخص جو صرف طاقت، اقتدار اور اختیار کی بات کرتا ہے، اس نے آج تک دہشت گردی کے خلاف ایک واضح لفظ تک نہیں کہا۔یہ بحث کہ کس کو جواب دینا چاہیے اور کس کو نہیں، اب ختم ہو جانی چاہیے۔ میرا ماننا ہے کہ جب ایک ایسا شخص، جو ملک کا وزیرِ اعظم رہ چکا ہے اور خود کو سب سے مقبول قرار دیتا ہے، پھر بھی دہشت گردی کی مذمت کے لیے تیار نہیں، تو ہر اُس فرد اور ادارے کو جواب دینا چاہیے جو اس بیانیے کا نشانہ بنتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انہی دشتگردوں کو اسی نے ماضی میں یہاں جگہ دی تھی۔*

Khawaja M. Asif

16,043 views • 8 months ago

یہ ویڈیو لکی مروت کے گاؤں نصرخیل کی ہے، جہاں آج ایک اسکول میں فوج کیمپ لگانے کے لیے آئی تھی۔ اس پر گاؤں کی امن کمیٹی کے لوگ نکل آئے اور انہوں نے فوج کو اسکول سے نکال دیا۔ امن کمیٹی کے لوگ اس ویڈیو میں نعرے لگا رہے ہیں کہ جب یہاں دہشت گرد موجود تھے، تب تم لوگ نہیں آ رہے تھے۔ پھر ہم نے خود امن کمیٹی بنائی، ان کا مقابلہ کیا اور اپنے علاقے سے دہشت گردی اور دہشت گردوں کا خاتمہ کیا۔ اب یہاں فوج کی کوئی ضرورت نہیں، اور نہ ہی یہاں فوج کو آنے کی اجازت ہوگی۔ جو لوگ غیرت مند ہوتے ہیں، جو کسی کے ٹاؤٹ یا سہولت کار نہیں ہوتے، جو اپنے وطن، اپنی مٹی اور اپنی سرزمین سے محبت کرتے ہیں، وہ اس طرح معلوم اور نامعلوم، دونوں قسم کے دہشت گردوں سے اپنی مٹی اور اپنے وطن کی حفاظت کرتے ہیں۔ نہ وہ وزیرستان والوں کی طرح فوج سے نفرت کی وجہ سے دہشت گردوں کی سہولت کاری کرتے ہیں، نہ اپنے علاقے میں معلوم و نامعلوم دہشت گردوں کو گھسنے دیتے ہیں؛ بلکہ اپنی حریت اور آزادی کے لیے اگر ہتھیار اٹھانے کی ضرورت پڑے تو اسے سنت سمجھ کر اٹھاتے ہیں اور مقابلہ کرتے ہیں۔ اسی لیے وہ کسی آپریشن کے نتیجے میں بے گھر نہیں ہوتے اور نہ ہی متاثرین بن کر زندگی گزارتے ہیں، بلکہ اپنے علاقے میں امن اور خوشحالی کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں۔ جب آپ اپنے علاقے میں دہشت گردوں کو گھسنے نہیں دیں گے اور ان کی سہولت کاری نہیں کریں گے، تو پھر آپ کو یہ حق بھی پہنچتا ہے کہ وہاں فوج کو بھی گھسنے نہ دیں۔ یہ بھی نہیں ہو سکتا کہ آپ دہشت گردوں کے سامنے خاموش رہیں یا پھر ان کی سہولت کاری کریں، اور جب فوج آپ پر بمباری کرے، آپ کو بے گھر کر دے، تو آپ مظلومیت کا رونا بھی روتے رہیں۔

Pakistan Walli

131,187 views • 9 days ago

بلوچستان اور خیبر میں ہم کو بہت بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے ۔۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ریاست اور حکومت ایک پالیسی کے تحت ایک دفاعی جنگ اپنی سرحدوں کے اندر لڑنے کی کوشش کر رہے ہیں ‌۔۔۔ جبکہ پوری دنیا سے دہشت گردوں کی قیادت اور سپلائی لائن محفوظ ہے ‌۔‌ ہم زمین پر ان کے چند کتے مار بھی دیتے ہیں تو اس تحریک کو کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ اس کے پاس مزید ہزاروں کی تعداد میں دہشت گرد موجود ہیں اور ان کی سپلائی لائن افغانستان بھارت متحدہ عرب امارات، ایران اور اسرائیل کے ذریعے کھلی ہوئی ہے۔۔۔ ان کی قیادت یورپ میں محفوظ ہے۔ ہم کو اپنی سرحدوں سے باہر نکل کر دشمن پر ضرب لگانی ہوگی۔۔ ہم افغانستان میں جا کر چھوٹی موٹی بمباری کر دیتے ہیں مگر کام مکمل نہیں کرتے۔ لندن میں اور یورپ میں ان دہشت گردوں کی پوری قیادت کھل کر اس جنگ کی قیادت کر رہی ہے۔۔۔ ہم ان کو واپس کیوں نہیں لا سکے؟ کوئی سرکاری طور پر مطالبہ بھی نہیں کیا گیا برطانیہ سے اور سوٹزرلینڈ سے کہ اس قیادت کو ہمارے حوالے کیا جائے ‌۔۔ ہم نے بھارت کے اندر ابھی تک کیوں نہیں جواب دیا؟ خالصتان کی تحریک اور کشمیر کی تحریک ازادی کو کیوں نہیں بھڑکایا؟ افغان طالبان کی قیادت کو ابھی تک قتل کیوں نہیں کیا؟ افغان طالبان کے مخالف دھڑوں کی کھل کر حمایت کیوں نہیں کی؟ ان کو بلائیں اسلام اباد میں ان سے کہیں اپنا دفتر کھولو ہم کھل کر تمہاری مدد کریں گے۔۔ طالبان کو تو ویسے بھی دنیا میں کوئی پسند نہیں کرتا۔۔‌ ہم کلبوشن یادیو کو ابھی تک پنجرے میں بند کر کر چھپا کر کیوں رکھے ہوئے ہیں؟ دشمن کا اتنا بڑا مہرہ ہماری قید میں ہے اس کو ہم پوری دنیا کے سامنے تماشہ کیوں نہیں بناتے کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے؟ نہ ہم ابلاغی جنگ ٹھیک سے لڑ رہے ہیں۔۔ نہ ہم عسکری جنگ ٹھیک سے لڑ رہے ہیں۔۔ نہ ہم سیاسی جنگ ٹھیک سے لڑ رہے ہیں ‌۔۔ نہ کوئی ہمارا مرکزی لیڈر ہے جو سامنے ا کر ان دہشت گردوں کو جواب دے اور قومی بیانیہ بنائے۔۔۔ جبکہ فضلو جیسے حرام خور مسلسل ریاست اور فوج پر حملے کر رہے ہیں۔۔۔ اس جنگ میں اگر ہمارا نقصان ہو رہا ہے تو اپنی نااہلی کوتاہی غفلت اور خیانت کی وجہ سے۔۔۔ اس لیے نہیں کہ دشمن بہت ہوشیار ہے۔۔ اس لیے کہ اپنی صفوں میں غداری اور خیانت ہے۔ کوئی سیاستدان ذمہ داری لینا نہیں چاہتا مگر ملک پر حکمرانی کرنا چاہتا ہے۔۔ کیا زرداری نواز شریف یا کسی اور بڑے سیاستدان نے بی ایل اے اور جہنم کے کتوں کے خلاف سٹینڈ لیا؟ صرف ریاست اور فوج کو گالی دیں گے کہ پالیسی ٹھیک نہیں ہے۔۔ اس سے ان کا مطلب ہوتا ہے کہ ان جہنم کے کتوں اور دہشت گردوں کو معاف کر دیں اور ان کے خلاف اپریشن بن کر دیں۔ موجودہ پالیسی مکمل طور پر ناکام ہے۔ ہمیں جارحانہ انداز میں اگے بڑھ کر ہما جہتی پالسی بنانی ہوگی جیسا ہم بتا رہے ہیں ‌۔ بہت زیادہ عرصہ ہو گیا ہم کو ایک ہی غلطی دہراتے ہوئے اور یہ توقع کرتے ہوئے کہ نتیجہ اپ کی دفعہ مختلف نکلے گا۔۔۔ اسی کو پاگل پن کہتے ہیں۔ صرف اس سال کے چھ مہینوں میں سینکڑوں کی تعداد میں ہمارے افسر اور جوان شہید ہو چکے ہیں۔۔ اب چپ رہنے کا وقت نہیں ہے۔۔ مصلحت کا وقت نہیں ہے۔۔ زمین پر کتوں کے خلاف فوجی اپریشن کرنے سے یہ دہشت گردی ختم نہیں ہوگی۔۔۔ اپ کو بہت اوپر سے شروع کرنا پڑے گا۔۔۔ ان کے سیاسی سہولت کار ان کے میڈیا میں سہولت کار ان کے مولویوں میں سہولت کار ان کے عالمی دہشت گرد ریاستوں میں سہولت کار۔۔۔ ان سب کو تو ہم نے ہاتھ ہی نہیں ڈالا اب تک۔۔۔ صرف روز اپنے بیٹوں کی لاشیں اٹھاتے ہیں۔۔۔ اور لگتا ہے جیسے سب اس پر راضی ہیں۔۔ کیا فرق پڑتا ہے کہ ہزاروں شہید ہو گئے ہزاروں بچے یتیم ہو گئے ہزاروں عورتیں بیوہ ہو گئیں۔۔۔ جمہوریت تو چل رہی ہے۔ سیاست دانوں کے پیٹ تو بھر رہے ہیں۔۔۔ فضلو کو بھونکنے کی اجازت ہے۔۔اس کا مطلب ہے سب اچھا ہے۔ ☹️

اللہ کے بندے۔۔۔

15,381 views • 26 days ago

افغانستان پر حملوں کابیان یہ کوئی نئی بات نہیں ہے،نائن الیون کے فوراً بعد پاکستان کے اندر امریکیوں کو ہوائی اڈے دئے گئے،فضائیں امریکیوں کے حوالے کردی، 20 سال تک پاکستان کے ہوائی اڈوں سے امریکی جہازوں کو اڑنے کی اجازت دے دی گئی،20 سال تک افغانستان پر پاکستان کی سرزمین سے بمباریاں ہوتی رہیں، یہ سب نظر کیوں نہیں آرہا اور ایک بار پھر دہشت گردی کے عنوان سے ایک بھڑک مارنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ہم افغانستان میں جا کر کاروائی کریں گے، پاکستان کی دہشت گردی کو روکنے اور اس کی خواب میں ناکامی کو چھپانے کے لئے افغانستان پہ حملوں کی بات کی جارہی ہے۔ ہمیں اس بات کا جواب دیا جائے کہ خیبرپختونخوا میں حکومتی فنڈز سے جاری ہونے والے پروجیکٹس کے فنڈز کا 10 فی صد دہشت گردوں کو ادا نہیں کیا جاتا؟ ریاست سے شہری کو سوال کرنے کا حق ہے کہ یہ تم دہشت گردوں کے معاون ہو یا دہشت گردوں کے مقابلے میں بے بس ہو، ہم ریاست کے لیے فکر مند ہیں ہمیں ان طفل تسلیوں سے تسلیاں دینے کی کوشش نہ کی جائے سنجیدہ گفتگو کی جائے ہم معاملات کو آپ سے بہتر جانتے ہیں۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

127,503 views • 2 years ago

شہناز کی حقیقت: پروپیگنڈا ویڈیو کے پیچھے چھپی کہانی دہشت گرد تنظیم بی ایل اے کے پروپیگنڈا ویڈیوز میں دکھائے جانے والے کرداروں کی حقیقت اب آہستہ آہستہ سامنے آ رہی ہے۔ ویڈیو میں نظر آنے والی شہناز، جو دو بچوں کی ماں ہے، پہلے اپنے شوہر کے ساتھ مسقط میں رہائش پذیر تھی۔ خاندانی ذرائع کے مطابق اس کی مسلسل بد اخلاقیوں اور غیر اخلاقی حرکات کی وجہ سے اس کے شوہر نے اسے طلاق دے کر گھر سے نکال دیا۔ طلاق کے بعد یہ پاکستان واپس آئی۔ اس کے دو بھائی اور ایک بوڑھی ماں گھر پر موجود ہیں۔ گھر والوں کو اس نے یہ جھوٹ بتایا کہ وہ ایران شادی کے لیے جا رہی ہے، مگر بعد میں معلوم ہوا کہ اسے بی ایل اے کے دہشت گرد کیمپوں میں پہنچایا گیا۔ ذرائع یہ بھی بتا رہے ہیں کہ اسے دہشت گرد کیمپ تک پہنچانے میں اس کا سگا ماموں صدام بوہیر ملوث ہے، جو مبینہ طور پر دلالی جیسے گھناؤنے کاموں میں ملوث رہا ہے۔ آج یہی لوگ بلوچ خواتین کے نام پر معصوم نوجوانوں کو گمراہ کرنے اور دہشت گردی کے بیانیے کو آگے بڑھانے میں لگے ہوئے ہیں۔ بی ایل اے اور اس کے سہولت کاروں کا اصل چہرہ اب عوام کے سامنے بے نقاب ہو رہا ہے۔ ⚠️ بلوچ معاشرے کی عزت، روایات اور خواتین کے نام پر سیاست کرنے والے یہ کردار دراصل نوجوان نسل کو استعمال کر رہے ہیں۔

Hawk's Eye

34,318 views • 2 months ago