正在加载视频...
视频加载失败
دیکھتا جا شرماتا جا ملاحظہ کریں ، ہم بحیثیت قوم مردہ ہیں۔ بوتلوں کا ٹرک الٹ گیا۔ اس حادثے میں ٹرک کے نیچے ایک رکشہ آگیا جس میں ایک پوری فیملی جاں بحق ہو گئی۔ لیکن ہم موت سے پہلے ہی مری ہوئی قوم، ہم نے اس کو بھی... show more
27,308 次观看 • 7 天前 •via X (Twitter)
27 条评论

راولپنڈی میں جہاز گر کر تباہ ہوا خواتین کے جسموں کے ٹکڑے ہو گئے لوگ خواتین کی کٹی ہوئی انگلیوں سے انگوٹھیاں اتارنے پر لگ گئے تھے

Afsos

صد افسوس

پاکستان جیسی گھٹیا قوم شائید ہی کہیں ہو

ھم اجتماعی اخلاقی طور پر زوال کا شکار ہیں

تب ہی تو یہ حالت ہے اس قوم کی کبھی کبھی لگتا ہے جو ہو رہا اس قوم کے ساتھ وہ سہی ہو رہا ہے

خدا کی قسم ہم وہ غلیظ قوم ہیں کہ بس نا ہی پوچھیں

😔👎🏽

100%پنجابی۔۔۔ہاہاہاہا

کون کہتا ہے کہ ہم ایک قوم ہیں ہم تو عوام کا ایک ہجوم ہے اسی لیے حکمرانوں سے دن رات تھپڑ اور جوتے کھاتے ہیں

Fake

Haram halal ki tameez hi khatam ho gayi ha

آخر کسی نے تو صفائی کرنی تھی

یہ تعلیم۔نھیں یہ بس رٹا ھے جاھلیت کا

اللہ ہی کرم کرے ہم سب لوگوں پر. 😡😢

یہ قوم نہیں گدا گروں، چوروں اور ٹھگوں کا ایک ٹولہ ہے۔ عمران اس غلیظ قوم کے لیے اپنی جان جھوکوں میں ڈال رہا ہے۔ جس قوم کو اللہ تعالٰی نے سیدھا پیدا نہیں کیا، عمران اسکا کیا بگاڑ لیگا؟

اسی لئے تو چھتر مقدر

یہ کوئ قوم نہیں یہ تو صرف ہجوم ہے یا پھر جانوروں کا ریورڑ اور اس ریوڑ کا پیٹ کبھی نہیں بھرے گا جبتک یہ زمین بوس نہ ہو جائے

ظاہر ہے جو ملک کے حکمران کر رہے ہیں وہی عوام بھی اب کر رہی ہے

Ap jis koom ki baat ker raha ha os ki zaat paso pa bak jati ha kasi ko bi marna ka liya ya to phir ek free ki coldring ha

City??

ہم بحیثیتِ قوم اتنے گر چکے ہیں کہ ہمیں کسی کے نقصان کا ذرا برابر بھی دکھ نہیں ہوتا بلکہ ہم کسی کے نقصان کو اپنے لیے فائدہ جان لیتے ہیں۔ پھر ہم شکوہ کرتے ہیں حکمرانوں کے کرپٹ ہونے کا خود کون سا دودھ کے دھلے ہیں کوئی موقع کرپشن کا ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔

Yehi waja ha k pakistan ki awam per inhien jaisy hukmraan musalit kiye gye han.. ye bottles ka othana apny gher le ker jana haram ha ....hilal khao aur achi zindagi jiyo...

جس جو جہاں موقعہ ملتا ہے لوٹ لیتا ہے بھارت پاکستان افریقہ ہیں ہی زہنی غریب

Ye to porani vduo ha

As you sow/ teach, so shall you Reap. How can u expect an honourable Nation/ population when they see every one a CHEAT - top to bottom, Gov Officials, Politicians, Armed Forces, Religious leaders/preachers/ Celeberaties/ Journalist/You Tubers/ Influncers, have I missed anyone?

Sub ko doob mer jana chahiya
相关视频
Sensitive content
آج بھی میگا پروجیکٹس پاکستان کے اندر معطل ہیں،گزرے کئی سالوں سے ملٹی نیشنل کمپنیاں درجنوں کے حساب سے ملک سے باہر جا چکی ہیں، سرمایہ یہاں سے منتقل کر دیا ہے،پاکستانی اپنا سرمایہ منتقل کر رہے ہیں اور کوئی باہر کی کمپنیاں پاکستان کے اندر سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ افغانستان کی سرحدات ہوں یا انڈیا کی سرحدات ہوں، شرق و غرب ہم نے اپنے اوپر بند کر دیے ہیں۔ تجارت نہیں ہے، کاروبار نہیں ہے، لوگوں کا آنا جانا مشکل ہو گیا ہے۔ چین کا ہم اعتماد کھو چکے ہیں، وہ پاکستان کے اندر سرمایہ کاری میں دلچسپی بھی نہیں لے رہا۔ تو پاکستان نے محصور ریاست کی شکل اختیار کر لی ہے۔ بدامنی میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پولیس اور فوجی جوانوں پر حملے ہو رہے ہیں اور ریاستی قوت دفاعی پوزیشن میں آ گئی ہے۔ کتنی بری بات ہے یہ! ہم ماضی کے معاملات اور مشکلات، اس سے تو ہم نمٹ نہیں پا رہے۔ گھر میں آگ لگی ہوئی ہے، نئے نئے مسائل ہم پیدا کر رہے ہیں۔ کبھی صوبوں کے سوال چھیڑ دیتے ہیں، کبھی این ایف سی ایوارڈ کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں، کبھی معدنی ذخائر کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں۔ اور پہلے جو ملک جس مشکل میں گھرا ہوا ہے اور جو ہمارے سروں پر مشکلات ہیں، موت ہمارے سروں پر منڈلا رہی ہے، آگ برس رہی ہے، بارود جو ہے، ہم ڈھیر پر بیٹھے ہوئے ہیں، اور ان حالات میں نئے نئے مسائل کھڑے کرنا، اس سے بڑھ کر غیر سنجیدگی اور نہیں ہو سکتی۔ مسائل ڈسکس کیے جائیں، پارلیمنٹ میں لائے جائیں اور حکومت کا ایک حصہ وہ صوبوں کی بات کر رہا ہے، صوبوں کو ٹکڑے کرنے کی بات کر رہا ہے۔ حکومت اور حکومت میں شامل جماعتیں خاموش ہیں، اس کا ایک فرد بول رہا ہے، وہ ہوتا کون ہے؟ ملک کے اندر اس کی حیثیت کیا ہے، اس کی پہچان کیا ہے؟ وہ جس کے گھر کا نوکر ہے، اس کی نوکری کرے، ان کے برتن دھوئے، کپڑے دھوئے، ان کی یہی ڈیوٹی ہے۔ ملک کے مسائل سے اس کا کوئی سروکار نہیں۔ اتنے بے بس ہم بھی نہیں ہیں کہ آپ ملک کے ساتھ کھیلتے رہیں اور ہم تماشا دیکھتے رہیں۔ اگر حالات نہیں ہیں، نئے مسائل اور ایشوز کا پاکستان متحمل نہیں ہے، تو پھر ہم بھی پاکستانی ہیں۔ ہم آپ کو پاکستان کا مالک تصور نہیں کرتے۔ حد سے آگے بڑھیں گے تو پھر اور لوگ بھی حد سے آگے بڑھیں گے۔ شکر کرو کہ ابھی ملک آپ کے ساتھ ہے، عوام پاکستان کے ساتھ ہیں، مذہبی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں، سیاسی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں۔ ہم نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا، ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا، لیکن قوم کو نتائج تو بتائے جائیں ناں کہ اس کردار کا کیا نتیجہ نکلا؟ آج سعودی عرب پر گولے برسائے جا رہے ہیں، حرمین شریفین کی طرف راکٹوں کے رخ کر دیئے گئے ہیں، اور کچھ پتہ نہیں کہ یہ جو ثالثی کا کردار تھا، خطے میں قیامِ امن کے لیے ایک کوشش تھی، اصولی طور پر ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا۔ لیکن قوم کو بتایا تو جائے، اور میں نے کئی بار اس بات کا ذکر کیا ہے کہ پارلیمنٹ کا اِن کیمرہ اجلاس بلا کر قوم کے نمائندوں کو بتایا جائے کہ ملک کہاں کھڑا ہے۔ کوئی جواب نہیں دیا جا رہا۔ پارلیمانی لیڈرز کا ایک بند کمرے کا اجلاس، میرے خیال میں، وہ کافی نہیں ہے اور اس میں اپوزیشن دلچسپی بھی نہیں لے رہی۔ تو اس اعتبار سے یہ ساری چیزیں ایسی ہیں کہ اس وقت قوم تشویش میں ہے۔ سعودی عرب پر حملہ، معاہدہ ہو چکا ہے ہمارا ان کے ساتھ۔ گو کہ وہ جنگی معاہدہ نہیں ہے، وہ دفاعی معاہدہ ہے، لیکن جب اس کے ساتھ یہ لفظ وابستہ کیا گیا کہ کسی بھی ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا تو اس میں کچھ ذمہ داریاں آ جاتی ہیں، ہمارے اوپر بھی آتی ہیں۔ اب ترکی بھی اس میں شامل ہو گیا۔ اس کو آگے بڑھنا چاہیے تھا، اس میں مصر کو شامل ہونا چاہیے تھا، اس میں ایران کو شامل ہونا چاہیے تھا، لیکن عالمی قوتوں نے ایسے حالات پیدا کر دیے کہ وہ جو اسلامی اتحاد کے عمل کا ایک تسلسل تھا، وہ فلحال رک گیا ۔ قوم کو تو بتایا جائے کہ وہ کیا کر رہے ہیں، پارلیمنٹ کو تو بتایا جائے،اس ساری صورتحال سے قوم کو بے خبر رکھا جا رہا ہے،اور ملک کے اندر تشویش بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اور پھر پیسہ نہیں آئے گا ملک کے اندر، پھر اسلحہ ملک کے اندر آئے گا۔ ملک کے اندر اسلحہ کے راستے بنائے جا رہے ہیں، اور حالات آپ کے رویوں کی وجہ سے بنتے چلے جا رہے ہیں۔ پھر شکایت کس سے؟ ہم نے ٹی ٹی پی سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے بی ایل اے سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے اتحاد المجاہدین سے امن کی درخواست نہیں کرنی۔ ہم نے امن کا مطالبہ حکومت سے کرنا ہے، ہم نے امن کا مطالبہ اپنے اداروں سے کرنا ہے، جو ہمارے قیامِ امن اور ہماری جان، مال و عزت و آبرو کے محافظ ہیں، اور یہ ان کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ ہم نے ان سے مطالبہ کرنا ہے کہ آپ ہمیں کیا امن دے رہے ہیں؟
Maulana Fazl-ur-Rehman
24,742 次观看 • 14 天前
