正在加载视频...

视频加载失败

دیکھتا جا شرماتا جا ملاحظہ کریں ، ہم بحیثیت قوم مردہ ہیں۔ بوتلوں کا ٹرک الٹ گیا۔ اس حادثے میں ٹرک کے نیچے ایک رکشہ آگیا جس میں ایک پوری فیملی جاں بحق ہو گئی۔ لیکن ہم موت سے پہلے ہی مری ہوئی قوم، ہم نے اس کو بھی...

27,308 次观看 • 7 天前 •via X (Twitter)

27 条评论

ابنِ کشمیر 的头像
ابنِ کشمیر7 天前

راولپنڈی میں جہاز گر کر تباہ ہوا خواتین کے جسموں کے ٹکڑے ہو گئے لوگ خواتین کی کٹی ہوئی انگلیوں سے انگوٹھیاں اتارنے پر لگ گئے تھے

Samina khan 的头像
Samina khan7 天前

Afsos

ابنِ کشمیر 的头像
ابنِ کشمیر7 天前

صد افسوس

Myk Joseph 的头像
Myk Joseph7 天前

پاکستان جیسی گھٹیا قوم شائید ہی کہیں ہو

Samina khan 的头像
Samina khan7 天前

ھم اجتماعی اخلاقی طور پر زوال کا شکار ہیں

Usman Pakistani 的头像
Usman Pakistani7 天前

تب ہی تو یہ حالت ہے اس قوم کی کبھی کبھی لگتا ہے جو ہو رہا اس قوم کے ساتھ وہ سہی ہو رہا ہے

چوہدری محب وطن™️🇵🇰 的头像
چوہدری محب وطن™️🇵🇰6 天前

خدا کی قسم ہم وہ غلیظ قوم ہیں کہ بس نا ہی پوچھیں

Nadeem 的头像
Nadeem6 天前

😔👎🏽

box 的头像
box6 天前

100%پنجابی۔۔۔ہاہاہاہا

Muhammad Bilal 的头像
Muhammad Bilal7 天前

کون کہتا ہے کہ ہم ایک قوم ہیں ہم تو عوام کا ایک ہجوم ہے اسی لیے حکمرانوں سے دن رات تھپڑ اور جوتے کھاتے ہیں

sohail ahmed mirza 的头像
sohail ahmed mirza6 天前

Fake

ahsan pervaiz 的头像
ahsan pervaiz6 天前

Haram halal ki tameez hi khatam ho gayi ha

Najma Aftab 的头像
Najma Aftab6 天前

آخر کسی نے تو صفائی کرنی تھی

PAKISTAN1947 的头像
PAKISTAN19477 天前

یہ تعلیم۔نھیں یہ بس رٹا ھے جاھلیت کا

Sheikh Sahib 的头像
Sheikh Sahib6 天前

اللہ ہی کرم کرے ہم سب لوگوں پر. 😡😢

ہم کوئی غلام تو نہیں 的头像
ہم کوئی غلام تو نہیں6 天前

یہ قوم نہیں گدا گروں، چوروں اور ٹھگوں کا ایک ٹولہ ہے۔ عمران اس غلیظ قوم کے لیے اپنی جان جھوکوں میں ڈال رہا ہے۔ جس قوم کو اللہ تعالٰی نے سیدھا پیدا نہیں کیا، عمران اسکا کیا بگاڑ لیگا؟

Baya 的头像
Baya6 天前

اسی لئے تو چھتر مقدر

pak۔lover 的头像
pak۔lover6 天前

یہ کوئ قوم نہیں یہ تو صرف ہجوم ہے یا پھر جانوروں کا ریورڑ اور اس ریوڑ کا پیٹ کبھی نہیں بھرے گا جبتک یہ زمین بوس نہ ہو جائے

SM 的头像
SM6 天前

ظاہر ہے جو ملک کے حکمران کر رہے ہیں وہی عوام بھی اب کر رہی ہے

adeel khan 的头像
adeel khan6 天前

Ap jis koom ki baat ker raha ha os ki zaat paso pa bak jati ha kasi ko bi marna ka liya ya to phir ek free ki coldring ha

Ibn-e-Adam 的头像
Ibn-e-Adam7 天前

City??

Ehtisham Shabbir 的头像
Ehtisham Shabbir6 天前

ہم بحیثیتِ قوم اتنے گر چکے ہیں کہ ہمیں کسی کے نقصان کا ذرا برابر بھی دکھ نہیں ہوتا بلکہ ہم کسی کے نقصان کو اپنے لیے فائدہ جان لیتے ہیں۔ پھر ہم شکوہ کرتے ہیں حکمرانوں کے کرپٹ ہونے کا خود کون سا دودھ کے دھلے ہیں کوئی موقع کرپشن کا ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔

Mahmood 的头像
Mahmood6 天前

Yehi waja ha k pakistan ki awam per inhien jaisy hukmraan musalit kiye gye han.. ye bottles ka othana apny gher le ker jana haram ha ....hilal khao aur achi zindagi jiyo...

bewiser 的头像
bewiser6 天前

جس جو جہاں موقعہ ملتا ہے لوٹ لیتا ہے بھارت پاکستان افریقہ ہیں ہی زہنی غریب

A Jaan 的头像
A Jaan6 天前

Ye to porani vduo ha

Follow city news021 的头像
Follow city news0216 天前

As you sow/ teach, so shall you Reap. How can u expect an honourable Nation/ population when they see every one a CHEAT - top to bottom, Gov Officials, Politicians, Armed Forces, Religious leaders/preachers/ Celeberaties/ Journalist/You Tubers/ Influncers, have I missed anyone?

Manzar.M 的头像
Manzar.M6 天前

Sub ko doob mer jana chahiya

相关视频

آج بھی میگا پروجیکٹس پاکستان کے اندر معطل ہیں،گزرے کئی سالوں سے ملٹی نیشنل کمپنیاں درجنوں کے حساب سے ملک سے باہر جا چکی ہیں، سرمایہ یہاں سے منتقل کر دیا ہے،پاکستانی اپنا سرمایہ منتقل کر رہے ہیں اور کوئی باہر کی کمپنیاں پاکستان کے اندر سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ افغانستان کی سرحدات ہوں یا انڈیا کی سرحدات ہوں، شرق و غرب ہم نے اپنے اوپر بند کر دیے ہیں۔ تجارت نہیں ہے، کاروبار نہیں ہے، لوگوں کا آنا جانا مشکل ہو گیا ہے۔ چین کا ہم اعتماد کھو چکے ہیں، وہ پاکستان کے اندر سرمایہ کاری میں دلچسپی بھی نہیں لے رہا۔ تو پاکستان نے محصور ریاست کی شکل اختیار کر لی ہے۔ بدامنی میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پولیس اور فوجی جوانوں پر حملے ہو رہے ہیں اور ریاستی قوت دفاعی پوزیشن میں آ گئی ہے۔ کتنی بری بات ہے یہ! ہم ماضی کے معاملات اور مشکلات، اس سے تو ہم نمٹ نہیں پا رہے۔ گھر میں آگ لگی ہوئی ہے، نئے نئے مسائل ہم پیدا کر رہے ہیں۔ کبھی صوبوں کے سوال چھیڑ دیتے ہیں، کبھی این ایف سی ایوارڈ کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں، کبھی معدنی ذخائر کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں۔ اور پہلے جو ملک جس مشکل میں گھرا ہوا ہے اور جو ہمارے سروں پر مشکلات ہیں، موت ہمارے سروں پر منڈلا رہی ہے، آگ برس رہی ہے، بارود جو ہے، ہم ڈھیر پر بیٹھے ہوئے ہیں، اور ان حالات میں نئے نئے مسائل کھڑے کرنا، اس سے بڑھ کر غیر سنجیدگی اور نہیں ہو سکتی۔ مسائل ڈسکس کیے جائیں، پارلیمنٹ میں لائے جائیں اور حکومت کا ایک حصہ وہ صوبوں کی بات کر رہا ہے، صوبوں کو ٹکڑے کرنے کی بات کر رہا ہے۔ حکومت اور حکومت میں شامل جماعتیں خاموش ہیں، اس کا ایک فرد بول رہا ہے، وہ ہوتا کون ہے؟ ملک کے اندر اس کی حیثیت کیا ہے، اس کی پہچان کیا ہے؟ وہ جس کے گھر کا نوکر ہے، اس کی نوکری کرے، ان کے برتن دھوئے، کپڑے دھوئے، ان کی یہی ڈیوٹی ہے۔ ملک کے مسائل سے اس کا کوئی سروکار نہیں۔ اتنے بے بس ہم بھی نہیں ہیں کہ آپ ملک کے ساتھ کھیلتے رہیں اور ہم تماشا دیکھتے رہیں۔ اگر حالات نہیں ہیں، نئے مسائل اور ایشوز کا پاکستان متحمل نہیں ہے، تو پھر ہم بھی پاکستانی ہیں۔ ہم آپ کو پاکستان کا مالک تصور نہیں کرتے۔ حد سے آگے بڑھیں گے تو پھر اور لوگ بھی حد سے آگے بڑھیں گے۔ شکر کرو کہ ابھی ملک آپ کے ساتھ ہے، عوام پاکستان کے ساتھ ہیں، مذہبی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں، سیاسی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں۔ ہم نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا، ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا، لیکن قوم کو نتائج تو بتائے جائیں ناں کہ اس کردار کا کیا نتیجہ نکلا؟ آج سعودی عرب پر گولے برسائے جا رہے ہیں، حرمین شریفین کی طرف راکٹوں کے رخ کر دیئے گئے ہیں، اور کچھ پتہ نہیں کہ یہ جو ثالثی کا کردار تھا، خطے میں قیامِ امن کے لیے ایک کوشش تھی، اصولی طور پر ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا۔ لیکن قوم کو بتایا تو جائے، اور میں نے کئی بار اس بات کا ذکر کیا ہے کہ پارلیمنٹ کا اِن کیمرہ اجلاس بلا کر قوم کے نمائندوں کو بتایا جائے کہ ملک کہاں کھڑا ہے۔ کوئی جواب نہیں دیا جا رہا۔ پارلیمانی لیڈرز کا ایک بند کمرے کا اجلاس، میرے خیال میں، وہ کافی نہیں ہے اور اس میں اپوزیشن دلچسپی بھی نہیں لے رہی۔ تو اس اعتبار سے یہ ساری چیزیں ایسی ہیں کہ اس وقت قوم تشویش میں ہے۔ سعودی عرب پر حملہ، معاہدہ ہو چکا ہے ہمارا ان کے ساتھ۔ گو کہ وہ جنگی معاہدہ نہیں ہے، وہ دفاعی معاہدہ ہے، لیکن جب اس کے ساتھ یہ لفظ وابستہ کیا گیا کہ کسی بھی ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا تو اس میں کچھ ذمہ داریاں آ جاتی ہیں، ہمارے اوپر بھی آتی ہیں۔ اب ترکی بھی اس میں شامل ہو گیا۔ اس کو آگے بڑھنا چاہیے تھا، اس میں مصر کو شامل ہونا چاہیے تھا، اس میں ایران کو شامل ہونا چاہیے تھا، لیکن عالمی قوتوں نے ایسے حالات پیدا کر دیے کہ وہ جو اسلامی اتحاد کے عمل کا ایک تسلسل تھا، وہ فلحال رک گیا ۔ قوم کو تو بتایا جائے کہ وہ کیا کر رہے ہیں، پارلیمنٹ کو تو بتایا جائے،اس ساری صورتحال سے قوم کو بے خبر رکھا جا رہا ہے،اور ملک کے اندر تشویش بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اور پھر پیسہ نہیں آئے گا ملک کے اندر، پھر اسلحہ ملک کے اندر آئے گا۔ ملک کے اندر اسلحہ کے راستے بنائے جا رہے ہیں، اور حالات آپ کے رویوں کی وجہ سے بنتے چلے جا رہے ہیں۔ پھر شکایت کس سے؟ ہم نے ٹی ٹی پی سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے بی ایل اے سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے اتحاد المجاہدین سے امن کی درخواست نہیں کرنی۔ ہم نے امن کا مطالبہ حکومت سے کرنا ہے، ہم نے امن کا مطالبہ اپنے اداروں سے کرنا ہے، جو ہمارے قیامِ امن اور ہماری جان، مال و عزت و آبرو کے محافظ ہیں، اور یہ ان کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ ہم نے ان سے مطالبہ کرنا ہے کہ آپ ہمیں کیا امن دے رہے ہیں؟
6:46

Sensitive content

آج بھی میگا پروجیکٹس پاکستان کے اندر معطل ہیں،گزرے کئی سالوں سے ملٹی نیشنل کمپنیاں درجنوں کے حساب سے ملک سے باہر جا چکی ہیں، سرمایہ یہاں سے منتقل کر دیا ہے،پاکستانی اپنا سرمایہ منتقل کر رہے ہیں اور کوئی باہر کی کمپنیاں پاکستان کے اندر سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ افغانستان کی سرحدات ہوں یا انڈیا کی سرحدات ہوں، شرق و غرب ہم نے اپنے اوپر بند کر دیے ہیں۔ تجارت نہیں ہے، کاروبار نہیں ہے، لوگوں کا آنا جانا مشکل ہو گیا ہے۔ چین کا ہم اعتماد کھو چکے ہیں، وہ پاکستان کے اندر سرمایہ کاری میں دلچسپی بھی نہیں لے رہا۔ تو پاکستان نے محصور ریاست کی شکل اختیار کر لی ہے۔ بدامنی میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پولیس اور فوجی جوانوں پر حملے ہو رہے ہیں اور ریاستی قوت دفاعی پوزیشن میں آ گئی ہے۔ کتنی بری بات ہے یہ! ہم ماضی کے معاملات اور مشکلات، اس سے تو ہم نمٹ نہیں پا رہے۔ گھر میں آگ لگی ہوئی ہے، نئے نئے مسائل ہم پیدا کر رہے ہیں۔ کبھی صوبوں کے سوال چھیڑ دیتے ہیں، کبھی این ایف سی ایوارڈ کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں، کبھی معدنی ذخائر کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں۔ اور پہلے جو ملک جس مشکل میں گھرا ہوا ہے اور جو ہمارے سروں پر مشکلات ہیں، موت ہمارے سروں پر منڈلا رہی ہے، آگ برس رہی ہے، بارود جو ہے، ہم ڈھیر پر بیٹھے ہوئے ہیں، اور ان حالات میں نئے نئے مسائل کھڑے کرنا، اس سے بڑھ کر غیر سنجیدگی اور نہیں ہو سکتی۔ مسائل ڈسکس کیے جائیں، پارلیمنٹ میں لائے جائیں اور حکومت کا ایک حصہ وہ صوبوں کی بات کر رہا ہے، صوبوں کو ٹکڑے کرنے کی بات کر رہا ہے۔ حکومت اور حکومت میں شامل جماعتیں خاموش ہیں، اس کا ایک فرد بول رہا ہے، وہ ہوتا کون ہے؟ ملک کے اندر اس کی حیثیت کیا ہے، اس کی پہچان کیا ہے؟ وہ جس کے گھر کا نوکر ہے، اس کی نوکری کرے، ان کے برتن دھوئے، کپڑے دھوئے، ان کی یہی ڈیوٹی ہے۔ ملک کے مسائل سے اس کا کوئی سروکار نہیں۔ اتنے بے بس ہم بھی نہیں ہیں کہ آپ ملک کے ساتھ کھیلتے رہیں اور ہم تماشا دیکھتے رہیں۔ اگر حالات نہیں ہیں، نئے مسائل اور ایشوز کا پاکستان متحمل نہیں ہے، تو پھر ہم بھی پاکستانی ہیں۔ ہم آپ کو پاکستان کا مالک تصور نہیں کرتے۔ حد سے آگے بڑھیں گے تو پھر اور لوگ بھی حد سے آگے بڑھیں گے۔ شکر کرو کہ ابھی ملک آپ کے ساتھ ہے، عوام پاکستان کے ساتھ ہیں، مذہبی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں، سیاسی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں۔ ہم نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا، ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا، لیکن قوم کو نتائج تو بتائے جائیں ناں کہ اس کردار کا کیا نتیجہ نکلا؟ آج سعودی عرب پر گولے برسائے جا رہے ہیں، حرمین شریفین کی طرف راکٹوں کے رخ کر دیئے گئے ہیں، اور کچھ پتہ نہیں کہ یہ جو ثالثی کا کردار تھا، خطے میں قیامِ امن کے لیے ایک کوشش تھی، اصولی طور پر ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا۔ لیکن قوم کو بتایا تو جائے، اور میں نے کئی بار اس بات کا ذکر کیا ہے کہ پارلیمنٹ کا اِن کیمرہ اجلاس بلا کر قوم کے نمائندوں کو بتایا جائے کہ ملک کہاں کھڑا ہے۔ کوئی جواب نہیں دیا جا رہا۔ پارلیمانی لیڈرز کا ایک بند کمرے کا اجلاس، میرے خیال میں، وہ کافی نہیں ہے اور اس میں اپوزیشن دلچسپی بھی نہیں لے رہی۔ تو اس اعتبار سے یہ ساری چیزیں ایسی ہیں کہ اس وقت قوم تشویش میں ہے۔ سعودی عرب پر حملہ، معاہدہ ہو چکا ہے ہمارا ان کے ساتھ۔ گو کہ وہ جنگی معاہدہ نہیں ہے، وہ دفاعی معاہدہ ہے، لیکن جب اس کے ساتھ یہ لفظ وابستہ کیا گیا کہ کسی بھی ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا تو اس میں کچھ ذمہ داریاں آ جاتی ہیں، ہمارے اوپر بھی آتی ہیں۔ اب ترکی بھی اس میں شامل ہو گیا۔ اس کو آگے بڑھنا چاہیے تھا، اس میں مصر کو شامل ہونا چاہیے تھا، اس میں ایران کو شامل ہونا چاہیے تھا، لیکن عالمی قوتوں نے ایسے حالات پیدا کر دیے کہ وہ جو اسلامی اتحاد کے عمل کا ایک تسلسل تھا، وہ فلحال رک گیا ۔ قوم کو تو بتایا جائے کہ وہ کیا کر رہے ہیں، پارلیمنٹ کو تو بتایا جائے،اس ساری صورتحال سے قوم کو بے خبر رکھا جا رہا ہے،اور ملک کے اندر تشویش بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اور پھر پیسہ نہیں آئے گا ملک کے اندر، پھر اسلحہ ملک کے اندر آئے گا۔ ملک کے اندر اسلحہ کے راستے بنائے جا رہے ہیں، اور حالات آپ کے رویوں کی وجہ سے بنتے چلے جا رہے ہیں۔ پھر شکایت کس سے؟ ہم نے ٹی ٹی پی سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے بی ایل اے سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے اتحاد المجاہدین سے امن کی درخواست نہیں کرنی۔ ہم نے امن کا مطالبہ حکومت سے کرنا ہے، ہم نے امن کا مطالبہ اپنے اداروں سے کرنا ہے، جو ہمارے قیامِ امن اور ہماری جان، مال و عزت و آبرو کے محافظ ہیں، اور یہ ان کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ ہم نے ان سے مطالبہ کرنا ہے کہ آپ ہمیں کیا امن دے رہے ہیں؟

Maulana Fazl-ur-Rehman

24,742 次观看 • 14 天前

امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کی اسلام آباد میں پریس کانفرنس حکومت اور حکومت میں شامل جماعتیں خاموش ہیں، اس کا ایک فرد بول رہا ہے، وہ ہوتا کون ہے؟ ملک کے اندر اس کی حیثیت کیا ہے، اس کی پہچان کیا ہے؟ وہ جس کے گھر کا نوکر ہے، اس کی نوکری کرے، ان کے برتن دھوئے، کپڑے دھوئے، ان کی یہی ڈیوٹی ہے۔ ملک کے مسائل سے اس کا کوئی سروکار نہیں۔ اتنے بے بس ہم بھی نہیں ہیں کہ آپ ملک کے ساتھ کھیلتے رہیں اور ہم تماشا دیکھتے رہیں۔ اگر حالات نہیں ہیں، نئے مسائل اور ایشوز کا پاکستان متحمل نہیں ہے، تو پھر ہم بھی پاکستانی ہیں۔ ہم آپ کو پاکستان کا مالک تصور نہیں کرتے۔ حد سے آگے بڑھیں گے تو پھر اور لوگ بھی حد سے آگے بڑھیں گے۔ شکر کرو کہ ابھی ملک آپ کے ساتھ ہے، عوام پاکستان کے ساتھ ہیں، مذہبی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں، سیاسی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں۔ ہم نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا، ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا، لیکن قوم کو نتائج تو بتائے جائیں ناں کہ اس کردار کا کیا نتیجہ نکلا؟ آج سعودی عرب پر گولے برسائے جا رہے ہیں، حرمین شریفین کی طرف راکٹوں کے رخ کر دیئے گئے ہیں، اور کچھ پتہ نہیں کہ یہ جو ثالثی کا کردار تھا، خطے میں قیامِ امن کے لیے ایک کوشش تھی، اصولی طور پر ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا۔ لیکن قوم کو بتایا تو جائے، اور میں نے کئی بار اس بات کا ذکر کیا ہے کہ پارلیمنٹ کا اِن کیمرہ اجلاس بلا کر قوم کے نمائندوں کو بتایا جائے کہ ملک کہاں کھڑا ہے۔ کوئی جواب نہیں دیا جا رہا۔مولانا فضل الرحمن

Fahim Akhtar Malik

11,304 次观看 • 14 天前

پلندری کا یہ بندر آج سے کچھ سال پہلے دبئی ٹرک چلانے گیا لیکن وہاں یہ را کے ہتھے چڑھ گیا۔ را نے اس کو مینڈیٹ دیا کہ واپس جاؤ اور کشمیر میں آگ لگاؤ۔ اس نے عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج میں جان بھوج کر پاکستان مخالف نعرے لگائے۔ اس کے نعروں میں پاکستان بھر میں بہت تشویش ہے لیکن پاکستانی سمجھدار قوم ہیں وہ جانتے ہیں کہ اس جیسے چند بندروں کا کشمیر سے بھی کوئی تعلق نہیں، یہ ڈالروں کے لیے ماں بیچ چکے، اسلیے جس کسی نے بھی مذمت کی اس کی کی مگر پورے کشمیر کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا۔ اس نے اپنا پلان چوپٹ ہوتا دیکھ دوبارہ سے بکواس شروع کر دی ہے تاکہ پاکستان میں کشمیریوں کے ساتھ کچھ برا ہو جس کو یہ اور اس کے ہندو باپ بیچ کر کھا سکیں۔ او پلندری کی کچی کھسری جو بکواس کرنی ہے کر تیرے دلے کے بہکاوے میں کسی نے نہیں آنا، پر ایک بات تہہ ہے اب ساری زندگی ادھر ہی سڑ۔ اب تم دبئی نہیں جا سکتے کیونکہ اس کا راستہ اسلام آباد سے ہو کر جاتا ہے۔

سید عدنان بادشاہ 🇵🇰

17,793 次观看 • 1 年前

"آپ یقین کریں میں آج نہیں آنا چاہتا تھا اپنی بیماری کی وجہ سے یہاں دوست ہیں دوستوں نے اصرار کیا میں آیا۔ دوستوں! یہ گھر میں بیٹھنے کے دن نہیں ہیں، آرام کے دن نہیں ہیں۔ آپ ایک ایسی ملت ہیں اب شیعہ سنی سارے اکٹھے ہیں، آپ ایک ایسی ملت ہیں جس کے کندھوں پر ذمہ داری ہے، رسالت ہے، ایک پیغام ہے پیغام۔ اس پاک وطن کو پاک بنانا ہے۔ ایک قوم بننا ہے۔ مخالفت کرنے والی قوم، عزت والی قوم، باوقار قوم، بابصیرت قوم، دشمن شناس قوم۔ مایوسیوں کے اندھیروں کو ختم کرنا ہے۔ چراغِ امید جلانے ہیں ہم نے۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے۔ یہ ہم کر سکتے ہیں۔ اس وقت جو شیعہ سنی میں وحدت اور یونٹی اور بیداری ہے پاکستان کی تاریخ میں بلکہ پوری دنیا کے اندر دنیا کی تاریخ میں بے مثال ہے۔ دشمن کا اربوں ڈالر کا، ٹریلین ڈالر کا جو خرچہ ہوا ہے انویسٹمنٹ ساری تباہ و برباد ہو گئی ہے اس پاک خون کی وجہ سے۔ مجھے کہا ٹائم ختم ہو گیا میرا۔ میں نے کہا تھا میں پانچ دس منٹ گفتگو کروں گا، زیادہ ہو گئی ہے۔ دیکھیں۔ محرم آنے والا ہے۔ آپ سارے بااثر لوگ ہیں۔ بس۔ میں ایک بات کر کے ختم کر رہا ہوں۔ محرم آنے والا ہے۔ میں تمام بانیانِ مجالس، تمام خطباء، تمام واعظین، تمام بااثر لوگوں سے گزارش کرتا ہوں اس محرم میں دشمن ہماری شیعہ سنی وحدت پر حملہ کرے گا۔ کوشش کریں سارے مل کر تفرقہ نہیں پھیلانے دیں گے، نفرت نہیں پھیلانے دیں گے۔ اس دفعہ کا محرم، ایامِ محرم، وحدت کا محرم ہو گا۔ وحدت کا پیغام جائے گا۔ حسینیت کے پرچم تلے اکٹھے ہونے کا پیغام جائے گا۔ ظلم کے مقابلے کے لیے اکٹھے ہونے کا پیغام جائے گا۔ یہ پیغام جائے ہم سارے ایک ہیں، ہم اکٹھے ہیں، مولا حسینؑ ہم سب کا ہے، کوئی کسی ایک کا نہیں ہے الگ سے۔ لہٰذا ہم سب کی ذمہ داری ہے قائد حزب اختلاف سینٹ سینٹر علامہ راجہ ناصر عباس

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

16,496 次观看 • 3 个月前