Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

رجسٹرار سُپریم کورٹ کو میں نے فون کیا تھا، وہ فیسلیٹیشن سنٹر آئے، مجھ سے ملے، اُنہوں نے بتایا کہ آفس نے توہین عدالت کی درخواست پر اعتراض لگایا ہے، اعتراض یہ ہے کہ توہین کے مرتکب افراد کو الزامات کی لسٹ نہیں بھیجی گئی، ہم توہین عدالت درخواست...

81,525 görüntüleme • 7 gün önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

آج عدالت عظمی سے روشنی کی ایک کرن پھوٹی ہے عدالت نے ریاست کے تمام اداروں کو حکم دیا ہے کہ عمران خان صاحب کی صحت مقدم ہے۔ آج سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ دو دنوں میں عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے۔ ساتھ ہی ہم اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ یہ حکم ہوا جو ہم ایک سال سے مانگ رہے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ شفاء انٹرنیشنل ہسپتال میں ایک ماہر ڈاکٹرز کا بورڈ تشکیل دیا جائے جس میں تمام شعبوں کے سپیشلسٹ موجود ہونگے تاکہ یہ معلوم کیا جائے کہ عمران خان صاحب کو جو بلڈ پریشر کی بیماری بتائی جارہی ہے یہ کیوں لاحق ہوئی؟عمران خان کی آنکھ میں کلاٹ کیوں آیا؟وجہ کیا ہے؟ ان کے ساتھ جیل میں ایسا کیا سلوک کیا جارہا ہے؟ ساتھ ہی عدالت نے حکم دیا کہ اس تمام عمل کے دوران خان صاحب کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ جو ایک ایم بی بی ایس ہیں منسلک رہیں گی سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ شوکت خانم ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر فیصل سلطان جو عمران خان کے ذاتی معالج ہیں وہ بھی اس تمام عمل کا حصہ رہینگے ۔ salman akram raja

PTI

107,137 görüntüleme • 14 gün önce

🚨🚨 بریکینگ نیوز : حامد میر کے تہلکہ خیز انکشافات, اندر کی کہانی بتادی.!!!!🔥🔥🛑🛑🛑 جب محسن نقوی آٹھ دس دن پہلے بیرسٹر گوہر کی والدہ کی وفات پر ان سے تعزیت کیلئے ان کے گھر گئے تھے, تو وہاں پر بیرسٹر گوہر نے محسن نقوی سے یہ بات کی کہ عمران خان کی طبیعت کافی خراب ہے, تو کم از کم انہیں ہاسپٹل شفٹ کیا جائے ۔ تو محسن نقوی نے اس پر کہا کہ ٹھیک ہے, ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے, آپ عدالت کا راستہ اختیار کریں, ۔ عدالت اگر حکم دیدے گی ۔ تو ہم اس پر عمل کرینگے ۔اور پھر اس کے بعد پی ٹی آئی نے عدالت میں پٹیشن دائر کی, اور اس پر عدالت نے فیصلہ بھی دے دیا ۔ اس پر محسن نقوی بیرسٹر گوہر سے پورے رابطے میں تھے ۔ اور جس رات عمران خان کو شفاء کے بجائے پمز لایا گیا تھا, تو اس رات بھی محسن نقوی کا بیرسٹر سے رابطہ تھا ۔اور بیرسٹر گوہر کو آٹھ بجے ہی یہ اطلاع دیدی گئی تھی, کہ عمران خان کو شفاء میں ہی لایا جا رہا ہے ۔ لیکن پھر اس کے بعد مسلم لیگ نون کے ایک گروپ نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ ہماری جو ریویو پٹیشن ہے ۔ اس میں ہم نے کہا ہے کہ عمران خان کو پرائیوٹ ہسپتال نہیں لے جایا جاسکتا ۔ انکو سرکاری ہسپتال میں لے جایا جائے ۔اور پھر شفاء کے باہر کچھ لوگ اکٹھے ہوگئے, جس کو بہانہ بنا کر وہ عمران خان کو پمز لے گئے ۔تو اس پر میرا خیال ہے کہ محسن نقوی کا نام اس لئے شامل نہیں کیا گیا ۔ کیونکہ پی ٹی آئی کی لیڈرشپ یہ سمجھتی ہے کہ محسن نقوی نے ہماری درخواست پر عمران خان کو جیل سے ہاسپٹل لانے کا جو عمل تھا ۔ اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔ تو ہو سکتا ہے, آئیندہ بھی وہ رکاوٹ نہ ڈالیں تو اس لئے انکا نام توہین عدالت کی درخواست میں نہیں ڈالا گیا ۔ حامد میر 🔥🔥🚨

Anisha KHAN

241,879 görüntüleme • 10 gün önce