Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

سالے بہنوئی نے ملکر ملک ڈبو دیا! سالا بلوچستان کو ایک ایس ایچ او کہ مار بولتا رہا اور بہنوئی نے پندرہ سو لوگ باغی بتائے۔۔۔ مگر حقیقت میں دونوں نے ہی جوتے کھائے۔ ہائبرڈ نظام پر چلنے والی ہارڈ اسٹیٹ کی خواہش ایک بیوقوفی اور ذہنی مریض کی...

81,115 просмотров • 8 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

اسلام آباد: 6 اپریل, 2026 اسلام آباد میں وزیراعظم محمد شہباز شریف سے وفاقی وزیر برائے ریلویز حنیف عباسی نے ملاقات کی، جس میں پاکستان ریلویز کی مجموعی کارکردگی، جاری اصلاحات اور مستقبل کے منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران وزیر ریلویز نے وزیراعظم کو پاکستان ریلویز کے آپریشنل امور پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ خلیج کی صورتحال میں عوامی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے ملک بھر میں چلنے والی تمام آپریشنل ٹرینوں کے کرایوں میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا جا رہا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات میں حکومت عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے سے گریز کر رہی ہے اور ریلوے کے نظام کو بہتر بنا کر آمدن میں اضافہ کرنے پر توجہ دی جائے۔ وزیراعظم نے اس موقع پر ہدایت کی کہ پاکستان ریلویز کو ایک جدید، محفوظ اور قابلِ اعتماد سفری نظام میں تبدیل کرنے کے لیے اصلاحاتی اقدامات کو تیز کیا جائے. وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت عوامی فلاح و بہبود کے ایجنڈے پر کاربند ہے اور تمام اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنا کر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے وزیر ریلویز کو ہدایت کی کہ ریلوے کے جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے اور عوام کو بہتر، محفوظ اور سستی سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔

Prime Minister's Office

12,798 просмотров • 6 месяцев назад

#AsimMunirOurPride دبئی ترکی مصر ملائشیا انڈونیشیا اور دیگر مسلم ممالک نے اپنے ملک میں انتہا پسندی کو ماڈلزم کے ذریعے سے قابل نہیں کیا ان ملکوں میں دہشت گردی اور امتحان بھی اس لیے نہیں ہے کہ ایک تو انہوں نے مولویوں کو مسجد تک محدود کیا صرف نماز پڑھانے تک اور دوسرا انہوں نے اپنے ملکوں میں اور دیگر چیزوں کو کھولا تاکہ عوام دہشت گردوں کو اور انتہا پسندوں کی طرف مت جائیں جہاں تک کہ سعودی کے محمد بن سلمان نے جو ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ اپنے نوجوانوں کو دہشت گردوں کے ہاتھوں میں نہیں جانے دیں گے اس لیے وہ جدید اور محرم سعودی عرب پر کام کر رہے ہیں پاکستان میں بھی اسی طرز کا سسٹم ہونا چاہیے ہمارے ہاں 70 فیصد لوگ انپڑھ ہوتے ہیں جو اسانی سے دہشت گرد ہیں اور مولویوں میں ا جاتے ہیں دہشت گردی کی طرف سے ہٹانے کا صرف ایک طریقہ ہے انٹرٹینمنٹ اور ماڈرنزم کو بھی ساتھ ساتھ لے کے چلا جائے اور مجھے خوشی ہے کہ پاکستان بدل رہا ہے اور تیزی کے ساتھ انٹرٹینمنٹ انڈسٹری بھی ترقی کر رہی ہے یہ پاکستان کی ایک ماڈل ہے اسلام اباد #اليوم_الوطني_السعودي_٩٦

Khurram Khan

74,911 просмотров • 18 дней назад

دلجیت دوسانج نہ اتنا بڑا اداکار ہے کہ اس جیسا کوئی اور اداکار ساؤتھ ایشیاء میں موجود نہ ہو اور گلوکار تو خیر وہ بہت ہی ایوریج سا ہے مگر اس میں کیا ایسی بات ہے کہ اس نے اس قدر پزیرائی حاصل کی ہے؟ میرے نزدیک اسکی مقبولیت کی بڑی وجہ اسکا خود کو ایک اچھے اور بڑے انسان کے طور پر پیش کرنا ہے۔ اس سے فرق ہی کوئی نہیں پڑتا کہ آپ لمبی لمبی چھوڑنے کی بجائے اپنی کمزوریوں کا اعتراف کھلے عام کریں۔ یہ کام اس سے پہلے عطااللہ خان عیسیٰ خیلوی کر چکا ہے۔ وہ جب بھی بات کرتا ہے تو اعتراف کرتا ہے کہ میں کوئی گلوکار نہیں میں صرف دل سے گانے والا ایک عام آدمی ہوں جس نے کسی قسم کی کلاسیکل موسیقی کی تعلیم حاصل نہ کی،مگر کیا اسکے ان اعترافات سے لوگوں نے اسے سننا چھوڑ دیا؟ عطااللہ جیسا عروج شاید اس خطے کے فنکاروں کی خواہش ہوتی ہے۔ یہ کام دلجیت دوسانج بھی کر رہا ہے کبھی لمبی لمبی نہیں چھوڑتا کبھی بڑے فنکاروں سے اپنا موازنہ نہیں کرتا بلکہ انکا ذکر نہایت ادب سے کرتا ہے۔ کبھی کسی کے جزبات کو مجروح کرنے والی بات نہیں کرتا۔۔۔ اور عروج دیکھیں کہ آج ساؤتھ اشیاء کے کسی دوسرے ملک میں سب سے بڑے شو کا اعزاز اس کے نام ہوا۔ بڑا فنکار ہونا ایک چیز ہے مگر بڑا انسان ہونا الگ بات۔ دلجیت دوسانج نے ابھی تک خود کو بڑا انسان ثابت کیا ہے جسے میں اسکے عروج کی بڑی وجہ سمجھتا ہوں ورنہ اس جیسے اداکار اور گلوکار تو سینکڑوں اس خطے میں موجود ہیں۔ (منقول)

Asad R Chaudhry

33,274 просмотров • 24 дней назад

ابھی ابھی آغا شیخ سرور سے بات ہوئی، وہ کوریج میں مصروف تھا اور لوگوں کی کوریج کرنے کے لیے قافلے کی مرکزی گاڑیوں سے الگ ہو کر ایک موٹر سائیکل سوار سے لفٹ لے کر لوگوں کے درمیان کوریج کر رہا تھا، ویڈیوز بنا رہا تھا، اپنی کمنٹری کر رہا تھا کہ اچانک ایک ڈالہ اس بائیک کے آگے آیا اور ڈالے میں سوار لوگ اترے اور وہاں سے امین اللہ نام کا شخص اترا اور پھر انہوں نے آغا شیخ سرور کو مارنا شروع کر دیا۔ آغا شیخ سرور کو مارتے ہوئے وہ یہ بھی کہہ رہا تھا اپنے گارڈز سے کہ اس کو گولی مار دو۔ آغا شیخ سرور نے بتایا کہ اس کے ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے اور جبڑے ڈسلوکیٹ ہوئے ہیں زبان پہ کٹ لگے ہیں اور وہ بری طرح سے زخمی ہے۔ صرف آغا شیخ سرور کو نہیں زعیم لغاری اور ان کے ساتھ ساتھ شاکر اعوان کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ وہ کہتے ہیں اگر مینا خان آفریدی بیچ میں آ کر نہ بچاتے تو مجھے گولی ماری جا سکتی تھی۔ آغا شیخ سرور نے یہ بھی کہا کہ اس کو کارکنوں نے بھی بہت سپورٹ کیا اور مارنے والوں سے بچانے میں مدد کی۔ میں نے پوچھا کہ یہ امین اللہ نام کا شخص کیوں تشدد کروا رہا تھا، کیوں آپ کی جان کے پیچھے پڑ گیا؟ تو اس نے کہا مجھے کسی نے یہ بتایا کہ امین اللہ ہی ٹی آئی حیدر آباد کا کوئی عہدیدار ہے اور اسے اس بات پر غصہ تھا کہ لیاری کی کوریج کے موقع پر آغا شیخ سرور نے جب ایک جگہ کوریج کی تو امین اللہ کے کسی مخالف کو کوریج ملی تھی اور امین اللہ کو اس بات کا شدید رنج تھا۔ اب یہ تینوں صحافی اس کوریج کا بائیکاٹ کرنے ارادہ رکھتے ہیں

Tariq Mateen

72,391 просмотров • 1 месяц назад