Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

ساوتھ ایشیا کا سیویئر” کا خطاب بھی دے دیا گیا۔ خارجہ پالیسی ہے یا خوشامد پالیسی؟ کیا پاکستان کی خارجہ پالیسی اصولوں پر ہوگی یا ذاتی تعلقات پر؟ فلسطین کے بغیر “بورڈ آف پیس” کیسا امن؟ پارلیمنٹ میں بحث نہیں، قومی اتفاقِ رائے نہیں اور فیصلے ہو رہے ہیں۔...

14,757 просмотров • 7 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

سہیل آفریدی کا افغانستان کا بیان: اصل میں ہر روز مینسٹریم میڈیا نے یا سہیل آفریدی کا بیان اٹھانا ہیں یا شفیع جان کا کوئی بیان اٹھانا ہے یا ایسا کوئی اور بیان اٹھانا ہے کیونکہ مجبوری ہے - اصل سوال سہیل افریدی یا کسی ایک فرد کا نہیں، بلکہ افغانستان پالیسی پر قومی سطح کی ڈیبیٹ کا ہے۔ کیا یہ سوال اٹھانا غلط ہے؟ کیا یہ غلط مطالبہ ہے کہ 40 سے 50 سالہ افغان پالیسی کے نتائج پر کھل کر بحث کی جائے؟ تاریخ بتاتی ہے کہ ہم خود کئی پالیسیوں کو برسوں بعد غلط تسلیم کرتے آئے ہیں۔ جو لوگ یہ تنقید کرتے ہیں وفاقی حکومت میں کیونکہ دل میں پختونخوا کے لوگوں کے لیے اتنی فکر ہے کبھی یہاں اتے کیوں نہیں؟ جب یہاں دہشت گردی کی اتنی فکر ہے ان لوگوں کو تو یہ پختونخوا کو مالی حق کیوں نہیں دیتے؟ اتنی فکر ہے تو جو امن جرگہ کے سفارشات ہیں اس پر عمل کیوں نہیں کرتے؟ غیر ذمہ دار بیانات اور دھمکی آمیز زبان اینٹی پشتون عناصر کو تقویت دیتی ہے، جو قومی یکجہتی کے لیے نقصان دہ ہے۔

Taimur Saleem Khan Jhagra

12,816 просмотров • 8 месяцев назад

عجیب بات ہے جرم بھی کرتے ہیں اور چونچ بھی اونچی رکھتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے اوپر تنقید نہ کرو تم پاک ہو تو ہم آپ کو پاک کہیں گے۔ ہندوستان نے حملہ کیا، آپ نے جواب دیا، ہم نے آپ کو سراہا ہے، اگر آپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی ہے ہم نے آپ کو سپورٹ کیا ہے ،ہم اپنے خطے میں جنگ نہیں چاہتے، لیکن یہ سوال ضرور اٹھاتے ہیں کہ ہماری پالیسیاں کون بناتے ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کون ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کیا پالیسیاں بنا رہے ہیں؟ یہ ہماری عقل ہے، یہ پاکستان کا مفاد ہے کہ ہندوستان کا بارڈر مکمل بند، افغانستان کا بارڈر مکمل بند، مغرب کی طرف بھی آپ تجارت نہیں کرسکتے، کاروبار نہیں کرسکتے، مشرق کی طرف بھی آپ کاروبار نہیں کرسکتے اور ایک چین کا چھوٹا سا کوریڈور ہے وہ بھی آپ نے بند کر رکھا ہوا ہے، اس پر بھی کوئی فعالیت ادھر نہیں آرہی، ایران جن حالات میں ہے وہ آپ کے نہ اچھے کا نہ برے کا، ہر طرف آپ نے پاکستان کو غیر محفوظ بنا دیا ہے، محصور کر دیا ہے، یہ کون سی عقل کی پالیسی ہے کہ آج پاکستان ایک محصور مملکت کی شکل اختیار کر گیا ہے؟ یہ کون سی سیاست ہے؟ یہ کون سی پالیسی ہے دہشتگردی کی خلاف ہم جنگ لڑ رہے ہیں تو دہشتگردی تو بڑھ رہی ہے، تو دہشتگردی کی خلاف تو تین چار دہائیوں سے آپ لڑ رہے ہیں، آپ نے سوات سے لے کر پورے خیبر پختونخوا میں کتنے آپریشنز کیے اور ہر آپریشنز کے نتیجے میں آپ ملک کے لئے لڑ رہے ہیں اور ہم شاید ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں، مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی، کس کس بات کو روئے ہم آپ کے؟ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا پشین میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,439 просмотров • 3 месяцев назад

حکومت کہیں سو رہی ہے پاکستان کا سب سے اہم کارپوریٹ اور کیپیٹل مارکیٹ ریگولیٹر، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP)، اس وقت شدید انتظامی بحران کا شکار ہے۔ تین کمشنرز کی آسامیاں جن میں چیئرمین کا عہدہ بھی شامل ہے کئی ہفتوں سے خالی پڑی ہیں، جس کے باعث ادارہ عملی طور پر پالیسی مفلوج ہو چکا ہے۔یہ وہ ادارہ ہے جو اسٹاک مارکیٹ، انشورنس، کارپوریٹ گورننس اور سرمایہ کاروں کے تحفظ کا نگران ہے، مگر آج خود نگرانی کے بغیر ہے۔ پالیسی فیصلے رکے ہوئے ہیں، ریگولیٹری اصلاحات التوا کا شکار ہیں، اور سرمایہ کاروں میں بے یقینی بڑھ رہی ہے۔آج کے On My Radar میں میرے ساتھ موجود ہیں اسد علی شاہ معروف کارپوریٹ امور کے ماہر اور SECP پالیسی بورڈ کے سابق رکن جو اس خطرناک خلا کے اثرات اور حکومتی ناکامیوں پر کھل کر بات کرتے ہیں۔یہ صرف ایک ادارے کا مسئلہ نہیں، یہ پاکستان کی معیشت اور مارکیٹ کے مستقبل کا سوال ہے۔مکمل اور تفصیلی گفتگو دیکھنے کے لیے OMR کا YouTube link کلک کریں

Kamran Khan

13,103 просмотров • 9 месяцев назад