Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

سائیکل ایمبولینس کوئی نیا یا انوکھا تصور نہیں بلکہ دنیا کے کئی ممالک جیسے برطانیہ بھارت کینیا بنگلہ دیش اور نیدرلینڈز میں یہ برسوں سے ہنگامی طبی امداد کا حصہ ہے۔ تنگ گلیوں شدید ٹریفک اور دور دراز علاقوں میں کم لاگت کے ساتھ مریض تک فوری رسائی اس...

21,076 просмотров • 1 месяц назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

دیکھو اپنے فیورٹ فیملی وی لاگر کے کام ۔یہ رجب بٹ جیسے پاکستان کی فیملیزبہت شوق سے دیکھتی ہیں ۔۔۔ کیسے قرانی ایت کا مذاق اڑارہا ہے پہلے بھی اس پر اسطرح کے انزام ہیں مگر عوام ہر بار اس کو معاف کر دیتی ہے ۔۔۔ مگر اب تو قرانی ایت کا مذاق اڑا رہا ہے ۔۔ یہ ویڈیو اور یہ پوسٹ پڑھنے کے بعد فیصلہ اپ پر چھوڑتا ہوں ۔۔ کیا یہ شخص قابل معافی ہے ۔۔ یہ اللہ کا حکم سنیے اس بارے میں خدارا اس پر اواز اٹھایے ۔۔ سورۃ التوبہ، آیت 65–66 ترجمہ: “کیا تم اللہ، اس کی آیات اور اس کے رسول کا مذاق اُڑاتے تھے؟ بہانے نہ بناؤ، تم ایمان کے بعد کفر کر بیٹھے ہو۔ 2. سورۃ النساء، آیت 140 ترجمہ: “تم پر کتاب میں یہ حکم نازل کیا گیا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ کی آیات کا انکار کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اُڑایا جا رہا ہے تو اُن کے ساتھ مت بیٹھو، یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں۔ سورۃ الانعام، آیت 68 ترجمہ: “اور جب تم دیکھو کہ لوگ ہماری آیات کے بارے میں لغویات میں پڑ رہے ہیں (یعنی مذاق یا بحثِ باطل میں)، تو اُن سے منہ موڑ لو، یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں مشغول ہوں۔ سورۃ الزمر، آیت 56 ترجمہ: “کہیں کوئی جان یہ نہ کہے: افسوس ہے مجھ پر کہ میں نے اللہ کے حق میں کوتاہی کی، حالانکہ میں (اللہ کی آیات کے) مذاق اُڑانے والوں میں سے تھا ۔ سورۃ الجاثیہ، آیت 9 ترجمہ: “اور جب وہ ہماری آیات میں سے کچھ سنتا ہے تو انہیں مذاق بنا لیتا ہے۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔ سورۃ لقمان، آیت 6 ترجمہ: “اور لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو لغو باتیں خریدتے ہیں تاکہ اللہ کے راستے سے بہکائیں اور اسے مذاق بنائیں۔ ایسے لوگوں کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔ سورۃ الکہف، آیت 106 ترجمہ: “یہی ان کی جزا ہے — جہنم — اس سبب سے کہ انہوں نے میری آیات اور میرے رسولوں کو مذاق بنا لیا تھا۔

Saleem Speaks

54,770 просмотров • 10 месяцев назад

#JusticeForIqra سرگودھا کی معصوم گھریلو ملازمہ اقراء پر بد ترین تشدد، 43جنوبی میں کہرام مچ گیا والدہ پر غشی کے دورے ۔ نواحی علاقہ 43جنوبی کی اقرا کے والد نے بتایا کہ بچی راولپنڈی اسلام آباد کے ایک تاجر عبد الرشید کے گھر ملازمہ تھی دو سال پہلے سے وہاں کام کرنے والی 15سالہ بچی کو محض چاکلیٹ گم ہونے کا الزام لگا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اس کے سر ، بازوں ، ٹانگوں اور چہرے کو تیز دھار آلہ سے کاٹا گیا بازو ٹانگیں توڑی گئیں۔ باپ ثناء اللہ خود دو بچوں کے ساتھ منڈی بہت دن کے گاؤں میں ایک زمیندار کے گھر پر کام کرتا ہے غربت کے باعث اس نے اپنی بیٹی اقرا کو اسلام اباد میں ایک تاجر کے گھر پر چھوڑا لیکن ان ظالموں کی طرف سے اسے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے بچی جان کی بازی ہار گئی ثنا اللہ کا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلی پنجاب محترمہ مریم نواز معاملہ کا نوٹس لیتے ہوئے ان ظالموں کے خلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی عمل میں لائیں اور ان کی فوری گرفتاری بھی کی جائے غریب ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اسے معلوم نہیں تھا کہ اس طرح کا بہمانہ تشدد بھی کوئی انسان کر سکتا ہے اس کو بتانا تھا کہ بچی کو شدید اذیت دیتے ہوئے اس کے جسم پہ کٹ لگائے گئے جسے دیکھنا بھی اس کے لیے مشکل ہو رہا ہے اس کا بتانا تھا کہ پولیس کی طرف سے اسے راولپنڈی بلایا گیا جہاں پر ہسپتال میں اسی انکھوں کے سامنے اس کی لختہ جگر نے دم توڑ دیا لیکن یہ بے بس اور بیچارگی کے عالم میں اپنی بیٹی کی ڈیڈباڈی اٹھا کر سرگودھا اگیا ہے اس کا مطالبہ ہے کہ ملزمان کو گرفتار کیا جائے سرگودہ کے نواحی علاقہ 43 جنوبی میں بچی کی تدفین کا عمل جاری ہے

Shehr Bano Official

39,229 просмотров • 1 год назад

سوشل میڈیا: نئی نسل کا دوست یا دشمن؟ سویڈن نے سکولوں میں سکرین اور ڈیجیٹل طریقہ تعلیم پر پابندی لگا کر دوبارہ سے روایتی طریقہ تعلیم کو فروغ دیا ہے اس وقت دنیا بھر میں بالخصوص ترقی یافتہ ممالک میں سوشل میڈیا کے اثرات زیر بحث ہے کئی ممالک نے سولہ سال تک کے بچوں کو سوشل میڈیا تک رسائی ختم کر دی ہے کئی ممالک نے ختم نہیں کی محدود کر دی ہے تاہم ایک بات پر اتفاق ہے کہ سوشل میڈیا لوگوں کو کند ذہن بنا رہا ہے کیونکہ یہ انکو دماغی لحاظ سے سہل پسند اور غیر تنقیدی بنا رہا ہے اسکے سبب ذہنی یکسوئی ختم ہوتی جا رہی ہے صارفین کا کسی بھی نقطے پر سوچ کو مرتکز کرنا چند سیکنڈ تک محدود ہو گیا ہے اور یہ بحران بچوں کے معاملے میں اور خطرناک ثابت ہوتا ہے کیونکہ یہ انکی دماغی اور جسمانی نشوونما کی عمر ہوتی ہے وہ ذہنی طور پر پسماندہ ہو رہے ہیں کھیل کود کی بجائے سکرین پر زیادہ ٹائم گزار رہے ہیں جس سے وہ کئی ذہنی امراض کا شکار ہو رہے ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ ان میں بین الشخصی تعلق بنانے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے وہ ایک دوسرے سے بات کرنے کی بجائے سوشل میڈیا میں مصروف رہنے کو ترجیح دیتے ہیں ان میں emotional intelligence کا فقدان ہے سوال یہ ہے کہ آیا پاکستان میں اس بارے سوچ بچار پائی جاتی ہے جواب بدقسمتی سے نفی میں ہے حکومت تو دور کی بات والدین کو بھی اس بارے زیادہ آگاہی نہیں بلکہ وہ فون کو کھلونے کا درجہ دیتے ہیں کہ بچے کے ہاتھ میں دے دیں وہ اس فون پر لگا رہے اور یہ اپنے فون پر

Umar Cheema

13,621 просмотров • 4 месяцев назад

یہاں سے ثابت ہوتا ہے کہ جی عادل راجہ کے ذرائع کتنے سچے ہیں اور باوثوق ہیں صرف جھوٹ کا پلندہ ہے یہ شخص بھائی سب سے پہلے یہ تو بتائیے کہ کونسی اعلی قیادت کل سے ہسپتال عیادت کے لیے آئی یا فیملی کے پاس آئی ہو ؟ نام ضرور بتانا بھاگنا نہیں اب دوسرا یہ تھا وہ شاہانہ بند نما کمرہ جس میں صنم کو وارڈ میں علاج کے بعد شفٹ کیا گیا کبھی اس کی لائٹ بند تو کبھی پنکھا بند اور یہ ہے شاہانہ انداز میں ان کی فیملی کی ان سے پر سکون ملاقات ماں کیسے چیخ رہی ہے کسے چلارہی ہے کیوں کہ اس کی بیٹی کے دائیں ہاتھ سے شاہانہ انداز میں بہت خون بہہ رہا تھا اس واقعہ کے بعد ایم ایس صاحبہ اوپر آئی صنم کے ہاتھ پر مرہم کی اور جب باہر نکلی تو صنم کی والدہ نے درخواست کی کہ اس کو اپ وارڈ میں ہی شفٹ کردے کم از کم ادھر گرمی تو نہیں ہے لیکن انہوں نے صاف انکار کردیا اور کہا یہ اپ کا لیگل مسئلہ ہے ہم اس میں نہیں پڑے گے تم جیسے لوگ چند ویوز اور ڈالروں کے عوض اگلے کی ساری تکالیف اور قربانیوں کو متنازعہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں کچھ شرم کرو اور شاباش اس غیرت مند قیادت کا نام بتانا جو کل اس شاہانہ جگہ پر آیا ہو ؟ لازمی

Saad dogar

102,646 просмотров • 3 месяцев назад

"خون کی فطرت میں جم جانا ہے ' دھلنا نہی " آج سٹوڈنٹس میں سکالر شپ کی تقسیم کی اس تقریب میں چشم تخیل کی طاقت سے میں بھی موجود تھا - جب مریم نواز صاحبہ Maryam Nawaz Sharif نے یہ والا بھاشن شروع کیا تو میں نے ہاتھ کھڑا کیا اور پوچھا کہ " میڈم ! طلباء کو بھی شوق نہیں ہے کہ وہ یونیورسٹی کی جگہ ڈی چوک میں احتجاج کیلئے جائیں لیکن جب ان کا ووٹ چوری کرنے والا جیل کی بجاے سی ایم ہاؤس پہنچ جاتا ہے ' اس چوری کو روکنے کیلئے زمہ دار الیکشن کمیشن خود ہی سہولت کار بن جاتا ہے ' اس چوری پر بازپرس کرنے والی عدلیہ خود بیکار بن جاتی ہے ' اس چوری کو آشکار کرنے والا میڈیا خود ساہوکار بن جاتا ہے ' اس پر آواز اٹھانے والا صحافی ' سٹوڈنٹ اور ایکٹوسٹ مغوی اور پاسبان ہی اس کا اغواکار بن جاتا ہے ' --- تو پھر طلباء کو اپنے حق کی اس چوری پر جواب مانگنے کیلئے خود ہی یونیورسٹی چھوڑ کر ڈی چوک میں بھی بیٹھنا پڑتا ہے- آپ کا بیٹا جنید اس لئے آرام سے گریجویٹ کرگیا کیوں کہ وہ سارق (چور ) کا بیٹا تھا ' مسروق کا نہیں---اگر طلباء یونیورسٹی میں اچھے لگتے ہیں ڈی چوک پر نہیں ' تو طلباء کے حق کی چوری کرنے والے جیل میں اچھے لگتے ہیں ' سی ایم ہاؤس میں نہیں " - یہ سٹوڈنٹس وہاں موجود پنجاب پولیس کے جلادوں کے ہاتھ مجبور ہونگے ورنہ بہت سے نوجوان ذہنوں میں یہ بھاشن سن کر یہی سوال ابھرے ہونگے جو میں نے پوچھے - اس ملک کی قسمت چیک کریں کہ پہلے جن لوگوں کا حق کھایا جاتا ہے اور پھر انہی کے سامنے کھڑا ہو کر بھاشن بھی دیا جاتا ہے - سی ایم صاحبہ کے لہجے میں جو اعتماد ہے وہ ایسے ہی نہیں آتا - ڈھٹائی اور بےشرمی کی نجانے کتنی بوتلیں لگوانی پڑتی ہیں ' معصوموں کے خون کے کتنے پیالے پینے پڑتے ہیں ' تب جاکر لہجے میں یہ والا اعتماد آتا ہے کہ آپ مسروق (جس کی چوری ہوئی ہو ) کے سامنے اس کو منع کریں کہ پڑھائی پر توجہ دو اور اپنے سامان مسروقہ کی برآمدگی کا مطالبہ نہ کرو - پچھلی کچھ تقریروں میں جتنا گند اور غلاظت مریم نے اسلام آباد احتجاج کے شرکا کے خلاف اگلا ہے اس سے ایسا لگتا ہے کہ "پٹھان " ہونا اس ملک میں جرم ہی بن گیا ہے اور کی پی کے ڈیورنڈ لائن کے اسطرف واقع ہے - اس ملک کی دوتہائی سے زائد آبادی تیس سال سے نیچے کے نوجوان ہیں جس میں سے اکثریت جس کو سپورٹ کرتی ہے آپ اس کو "دہشت گرد اور انتشاری" کہتی ہیں - آج وہ بیشک آپ کے پریشر اور آپ کے زہر کے خوف سے آپ کے سامنے تالیاں بجائیں ' لیکن یہی وہ یوتھ ہے جو آپ کو اور آپ کے سہولت کاروں کو اپنے حق انتخاب اور آج ملک میں جاری فسطائیئت کا زمہ دار سمجھتی ہے - آپ کیلئے اس یوتھ کی یہ تالیاں منہ پر ہویے اسی رنگ روغن کی طرح ہیں جو پانی کا ایک چھینٹا پڑتے ہی جب اترتا ہے تو اندر سے زہر سے بھرا ہوا نفرت انگیز چہرہ سامنے آتا ہے - اس تقریر میں نہ چاہتے ہویے بھی مریم کے منہ سے یہ نکل ہی گیا کہ "اسلام آباد میں نہتے لوگ ..." . پھر خود کو ٹوکا اور بولا "نہتے پولیس والے " اگر ایک- کے 47 اور سنایپرگنوں سے لیس وہ پولیس والے ' رینجرز اور فوجی نہتے تھے تو پھر مریم کی نظر میں اسلحہ سے لیس اسی پولیس افسر کو کہا جائیگا جو نیوکلیر بمب کی ڈیوائس اور آر ڈی ایس کی جیکٹ ساتھ لے کر گھوم رہا ہو - خون میں قدرت نے ایک خاصیت رکھی ہے - یہ جب بہتا ہے تو جم جاتا ہے اور اس کے نشان نہیں جاتے کیوں کہ اس کی فطرت میں جمنا ہے ' دھلنا نہیں - اس حکومت اور اس کی سہولت کار ریاست کے چہرے پر بھی یہ خون اب جم گیا ہے جو بچوں کو یوں لارا لپا لگانے اور "میں پنجاب کی ماں " والی کہانیاں سنانے سے نہیں دھلے گا اور بار بار پوچھتا رہیگا کہ #گولی_کیوں_چلائی ؟ #IslamabadMassacre --------------------------------------------------------- Moeed Pirzada Imran Afzal Raja

Dr Waqas Nawaz

12,319 просмотров • 1 год назад

یہ ابراہیم ہے، اسما نواز شریف کا بیٹا اور مریم نواز کا بھانجا، ایک سپیشل بچہ مگر سب سے بڑھ کر ایک مکمل انسان، جنید صفدر کی شادی کی تقریب میں اگر کوئی ایک منظر دل کو چھو گیا تو وہ اسی معصوم بچے کا تھا جو موسیقی کی دھن پر بے ساختہ خوشی سے جھوم رہا تھا، افسوس اس بات کا ہے کہ سوشل میڈیا پر اس معصوم بچے کی ویڈیو پر کچھ لوگوں نے منفی تبصرے کیے اور اسے والدین کے گناہوں کی سزا قرار دیا، حالانکہ سپیشل بچے گناہ اور سزا نہیں ہوتے بلکہ خدا کا تحفہ ہوتے ہیں، معذوری، آزمائش، صحت اور بیماری غریبی بیماری ان سب میں اللہ کی رحمت پوشیدہ ہوتی ہے جسے ہم دوسروں کی سزا سمجھ رہے ہوتے ہیں، بنانے والی ذات اللہ کی ہے اور وہ جسے جیسا بناتا ہے حکمت کے ساتھ بناتا ہے، گناہ تو وہ سوچ ہے جو خدا کی تخلیق کا مذاق اڑاتی ہے، مریم نواز خود کئی مواقع پر ابراہیم کا ذکر کر چکی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ بچہ توجہ اور احترام کا حقدار ہے، جنید صفدر کی شادی میں اس سپیشل بچے کی موجودگی اور اسے دی جانے والی محبت ایک مثبت مثال ہے کہ سپیشل بچوں کو الگ نہیں بلکہ ساتھ لے کر چلنا چاہیے، ضرورت اس امر کی ہے کہ سپیشل بچوں پر خصوصی توجہ دی جائے، انہیں پورا وقت دیا جائے کیونکہ کمی ان میں نہیں بلکہ ہماری سوچ میں ہے، اللہ نے ہر انسان کو خوبصورت بنایا ہے اور خدارا سپیشل افراد کا مذاق نہ اڑائیں اور نہ ہی ان پر تنقید کریں کیونکہ یہ معاشرے کا بوجھ نہیں بلکہ معاشرے کا امتحان ہوتے ہیں۔

عباس خٹک

104,545 просмотров • 7 месяцев назад

ایک پُرامن انسانی حقوق کے کارکن کو، جو اپنے گھر میں موجود ہے اور روزانہ کراچی کی سڑکوں پر کھلے عام آ جا رہی ہے، اسے گرفتار کرنے کے لیے بائیس گاڑیوں میں تقریباً ستر پولیس اہلکار، لیڈی کانسٹیبلز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کا اس انداز میں آنا، جیسے کسی خطرناک دہشت گرد کو پکڑنے کے لیے کارروائی کی جا رہی ہو۔ رات کی تاریکی میں میرے گھر پر دھاوا بولنا، دروازے توڑنا اور گھر سے قیمتی سامان اور کتابیں چوری کرنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ مجھے گرفتار نہیں کر سکتے تھے، بلکہ اس کا اصل مقصد مجھے اُس سوسائٹی کی نظر میں ایک مجرم یا دہشت گرد کے طور پر پیش کرنا، میری زندگی کو مزید مشکل بنانا اور میرے خاندان کو نقصان پہنچانا ہے۔ اگر مجھے گرفتار کرنا ہے تو آئیں اور مجھے گرفتار کریں۔ میں پہلے بھی کئی مرتبہ جیل جا چکی ہوں اور آج بھی جیل جانے کے لیے تیار ہوں۔ مگر مسئلہ گرفتاری نہیں، بلکہ اپنی طاقت اور اختیار کا زور اور گھمنڈ دکھانا ہے وہ بھی اُن لوگوں کے سامنے کرنا ہے جو پہلے ہی ظلم اور ناانصافی کا شکار ہیں۔

Sammi Deen Baloch

45,291 просмотров • 2 месяцев назад

ایک بار پھر اڈیالہ جیل کے باہر کل رات ظلم کیا گیا لیکن کوئی نہیں پانی ہی تھا کیا ہوا لیکن جو ظلم ہماری خواتین کے ساتھ کیا گیا ان کو الفاظ میں بیان کرنا میرے لیئے نہ ممکن ہے جس دلیری کے ساتھ اب سب نے ان نامردوں کا مقابلہ کیا میں سب کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔۔ میری ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ جتنے بھی ہمارے ورکرز موقع پر موجود ہوتے ہیں آخری وقت تک ان سب کا دفاع کروں اور خیریت سے گھروں کو پہنچاوں یہ ہم سب مل کر روز اول سے کر رہے ہیں جب سے انہوں نے اڈیالہ کے باہر ہم پہ ظلم کرنا شروع کیا ہے۔ ہر ہفتے منگل کے دن جس طرح اڈیالہ جیل ہماری خواتین سمیت ورکرز کے ساتھ ظلم کیا جاتا ہے اس کے بعد میں یہ ضروری سمجھتا ہونکہ پاکستان تحریک انصاف کے ورکرز، ٹکٹ ہولڈرز اور پارلیمینٹیرنز اور وکلاء کو پیغام دینا چاہتا ہونکہ کم از کم ایسی صورتحال میں میدان نہ چھوڑا کریں ہم نہیں کہتے کہ آپ ان سے لڑیں کیونکہ ہم سب نہتے لوگ ہیں ہمارا ان سے کوئی مقابلہ ہی نہیں بنتا اور نہ ہم ہم گولی کا مقابلہ کر سکتے ہیں لیکن ہم سب مل کر مزاحمت ضرور کر سکتے ہیں جس طرح رات ظلم کیا گیا اگر ہم 100 یا 200 کی تعداد میں ہوتے تو کم از کم ہم میدان میں کھڑے ہوکر بہترین مزاحمت کر سکتے تھے اور اپنی خواتین کو باحفاظت وہاں سے نکال سکتے تھے جس طرح اس بھائی نے واٹر کینین کا راستہ روکا حلانکہ میں ان کو جانتا بھی نہیں تھا بس اڈیالہ دیکھتا ہوں اور آخری میں ان کو میں زبردستی وہاں سے گھسیٹ کر لایا ورنہ یہ ابھی بھی آنےکو تیار نہیں تھے اس ویڈیو کو لگانے کا مقصد ہرگز اپنی تشہیر کرنا نہیں ہے بلکہ یہ بتانا ہے کہ اڈیالہ جیل کے باہر ہر رات کو کیا ہوتا ہے اسی طرح ہم بے بس ہوتے ہیں اور میری بے بسی کا اندازہ آپ اس ویڈیو سے لگا سکتے ہیں کہ ایک طرف خواتین تھی اور دوسری جانب یہ نواجون تھا سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ کس طرف جایا جائے اور کس کو بچایا جائے میں کر کچھ نہیں سکتا تھا لیکن کوشش کر سکتا تھا جو میں نے کی اور سب کو گاڑیوں تک پہنچایا بتانے کا مقصد صرف اتنا تھا کہ اگر ہم اگھٹے مل مزاحمت سے ان کا راستہ روکیں تو تو یہ مشکل نہیں کیونکہ انسان اپنی طرف سے کوشش کرتا ہے کامیابی اللہ دیتا یے۔۔ ہم اس وقت فسطائیت کے ندترین دور سے گزر رہے ہیں اور جتنا جلدی ہوسکے ہم اپنا یہ دماغ بنا لیں کہ مل کر اس کا مقابلہ کریں گے تو کامیابی ملی گی ورنہ یہ لوگ ہمیں ایسے ہی اکیلا اکیلا کر کہ ماریں گے اور اس میں ایک دن سب کی باری آئی گی اس لیئے سوچیں کہ زیادہ سے زیادہ یہ ہمیں ماریں گے یا جیل بھیج دیں گے اور آخری میں جان ہی رہ جاتی ہے انسان کے پاس لیکن یاد رکھیں حق اور سچ کے ساتھ دیتے ہوئے اگر آپ کی موت بھی آگئی تو اللہ کے ہاں سرخرو ہونگے۔ آخر میں یہ بتاتا چلو کہ عمران احمد خان نیازی کے خاندان کی حفاظت کرنا ہم سب کا فرض ہے ان کی تضلیل ہماری تضلیل ہے میری بات اگر کسی کو بری لگی تو میں معزرت خواہ ہوں اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ 🙏

Ch Awais Younas Adv

18,446 просмотров • 8 месяцев назад

یومِ تکبیر کی رات تقریباً ساڑھے بارہ بجے پمز ھسپتال میں دل کے امراض کی ایمرجنسی وارڈ میں ایک قریبی عزیز کی عیادت کے لئیے اپنے دوست صحافیوں کے ساتھ جانے کا اتفاق ہواا، ہم وارڈ سے تقریباً200 گز دور سڑک پر چہل قدمی کر رہے تھے کہ اچانک ہی فضا سڑک پر رگڑ کھاتے لوہے کے سٹریچر کے کمزور اور ٹوٹے پہیوں کی آواز سے گونجنا شروع ہو گئی، ہم سب نے پیچھے مُڑ کر دیکھا تو ایک خاتون سٹریچر کے اگلے دائیں سائڈ کے ٹوٹے پہئیے والے کونے کو ہاتھوں سے ہوا میں رکھنے کی کوشش کر رہی تھی اور ساتھ میں دو مرد حضرات سٹریچر پر پڑے ایک تقریباً سولہ سترہ سال کے بچے کو جلدی میں کھینچ رہے تھے، بظاہر انہیں پمز کی تقریباً مزید تین سو گز دور حادثاتی ایمرجنسی سے گاڑی یا ایمبولنس کی بجائے ٹوٹے سٹریچر پر ہی لواحقین کے حوالے کر کہ ایک سمت میں دھکیل دیا گیا تھا، پھولتی سانسوں کیساتھ پریشان خاتون (جو بظاہر ماں لگ رہی تھی) نے پوچھا یہ دل کا وارڈ کہاں ہے، میں تو اس صورت حال سے پریشانی کے عالم میں کبھی اُس ماں اور سٹریچر پر پڑے اُسکے بچے کو دیکھتا اور کبھی اُن لوگوں کے ہی پیچھےاُس طویل اندھیری سڑک کو جس پر وہ یہ ٹوٹا ہوا سٹریچر کھینچ کر لا رہے تھے، ایسے میںُ ہمارے ایک ساتھی صحافی افضل باجوہ نے ٹوٹے پہئیے والے سٹریچر کے کونے کو سنبھال لیا- بظاہر پمز کی حادثاتی ایمرجنسی میں کوئی ایسا ڈاکٹر نہ تھا جو اُس بچے کو ٹوٹے سٹریچر اور پریشان حال ماں باپ کو سڑک پر دھکیلنے سے پہلے کم سے کم ابتدائی طبی امداد دے سکتا اور پھر ھسپتال کے پچھواڑے میں قائم دل کی ایمرجنسی میں بذریعہ ایمبولنس بھیج دیتا، جہاں دل کی ایک دھڑکن اور ایک سیکنڈ کے فرق سے زندگی اور موت کا سفر طے ہوتا ہے وہاں ایک بچے کو ٹوٹے سٹریچر پر ڈال لر یوں سڑک پر دھکیل دینا کونسی انسانیت ہے؟ ایٹمی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دارالخلافہ کے سب سے بڑے ھسپتال کی دل کی ایمرجنسی ھسپتال کے مرکزی داخلی دروازے پر نہیں بلکہ اسکے پچھواڑے میں ہے جہاں پہنچتے پہنچتے سٹریچر کے پہئیے جواب دے جاتے ہیں اور مائیں راستہ پوچھتی رہ جاتی ہیں، کیا وجہ ہے کہ باہر سے آنے والے دل کے مریضوں کا دل کی ایمرجنسی کے قریب الگ داخلی راستہ نہیں؟ عام لوگ دل کے مریضوں کو مرکزی داخلی راستے پر قائم حادثاتی ایمرجنسی میں ہی لے کر جاتے ہیں تو کیا وہاں پر ہارٹ اٹیک کا شکار مریضوں کو فوری اور ابتدائی ہنگامی امداد نہیں ملنی چاہئیے؟ کیا حادثاتی ایمرجنسی میں آنے والے دل کے مریضوں کے لئیے کوئی خصوصی راہنمائی والا عملہ یا شٹل سروس ایمبولنس نہیں ہونی چاہئیے جو ہارٹ اٹیک کا شکار مریضوں کو حادثاتی ایمرجنسی سے فوری طور پر دل کی ایمرجنسی میں منتقل کر دے؟ منسلک ویڈیو صورت حال کی ایک جھلک ہے۔ سٹریچر اور اُس پر پڑا بچہ آخر ایمرجنسی پہنچ تو گیا مگر کتنے نقصان کے بعد؟ یہ تو ڈاکٹر ہی بتا سکتے ہیں۔

Matiullah Jan

255,843 просмотров • 2 лет назад

یہ 12 سیکنڈ کی ویڈیو ہے جس میں ایک بوڑھی ماں کا اپنے سپیشل بیٹے سے 15 سال کی دوری کا درد چھپا ہے۔ یہ ابراہیم نامی سپیشل شخص 2010 میں گمشدگی کے بعد اپنی والدہ کے پاس لوٹنے اور ملاقات کا منظر ہے- ابراہیم 2010 میں اپنے گھر اوکاڑہ سے نکلے اور واپس گھر نہ لوٹے۔ والد صاحب انتظار کرتے کرتے دنیا سے رخصت ہوگئے، جبکہ والدہ نے برسوں اپنے بیٹے کی راہ تکتے ہوئے اپنی امید کو زندہ رکھا، مگر ابراہیم کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔ پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کی میرا پیارا ٹیم نے لاہور سے کراچی کا سفر کیا اور کراچی ایدھی ہوم میں موجود بے سہارا اور لاوارث افراد کے انٹرویوز ریکارڈ کیے۔ انہی میں سے ایک ابراہیم صاحب بھی تھے، جو اپنے بارے میں بس اتنا بتا سکے کہ ہمارا گھر اوکاڑہ میں دریا کے کنارے پر ہے- انہیں گاؤں کا نام بھی یاد نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ کے خاص کرم سے جب ابراہیم کا انٹرویو میرا پیارا کے فیس بک پیج پر شیئر ہوا تو ان کے گاؤں کے ایک نوجوان نے انہیں پہچان لیا اور فوراً ہماری ٹیم سے رابطہ کیا۔ تصدیقی عمل مکمل ہونے کے بعد پندرہ سال بعد یہ بیٹا اپنی ماں سے مل گیا۔ماشااللہ لا قوۃ الا باللہ پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کی میرا پیارا ٹیم کا مشن یہی ہے کہ پاکستان بھر میں کوئی بھی بچہ، کوئی بھی بزرگ یا کوئی بھی خصوصی فرد اپنے پیاروں سے جدا نہ رہے, انشااللہ۔ واللہ المستعان Mera Pyara Safe City

Punjab Police Official

39,605 просмотров • 9 месяцев назад

ذرائع کا دعویٰ ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ وادوز (Vaduz) کا دورہ کیا تاکہ اپنے بیٹے کی شادی کی تاریخ طے کی جا سکے- سوشل میڈیا پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ممکنہ شادی کی خبریں گردش کر رہی ہیں، جس سے ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں قیاس آرائیاں جنم لے رہی ہیں- ذرائع کا دعویٰ ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے اپنے بیٹے کی شادی کی تاریخ طے کرنے اور اس پر بات چیت کے لیئے خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ لیختنسٹائن کا سفر کیا- رپورٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ بلاول کی شادی رواں سال کے آخر میں ہو سکتی ہے، جبکہ ان کی مبینہ منگیتر کا تعلق لیختنسٹائن (Liechtenstein) کے دارالحکومت وادوز سے بتایا جاتا ہے- تاہم، پیپلز پارٹی نے ان دعووں کی تردید کی ہے- کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب، جو بلاول کے ترجمان بھی ہیں، نے سوشل میڈیا پر کہا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین کی منگنی یا شادی کے بارے میں خبریں "غلط اور بے بنیاد" ہیں- بلاول یا ان کے اہل خانہ کی جانب سے منگنی کی تصدیق کے لیئے کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، جس کا مطلب ہے کہ یہ خبر ابھی تک غیر مصدقہ ہے- لیختنسٹائن مغربی یورپ میں واقع ایک چھوٹی خودمختار ریاست ہے جو سوئٹزرلینڈ اور آسٹریا کے درمیان واقع ہے- اس کا دارالحکومت وادوز ملک کا سیاسی اور انتظامی مرکز ہے- بلاول اس سے قبل بھی شادی کے بارے میں عوامی سطح پر بات کر چکے ہیں لیکن انہوں نے ممکنہ شریکِ حیات یا شادی کی تاریخ کے بارے میں تفصیلات ظاہر نہیں کیں- سن 2022 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس کے دوران، ایک صحافی نے بلاول سے ان کی شادی کے منصوبوں کے بارے میں پوچھا- مسکراتے ہوئے، اس وقت کے وزیر خارجہ نے جواب دیا، "یقیناً، شادی کا ارادہ رکھتا ہوں،" لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کب شادی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں- بلاول نے 2016 میں بھی اس موضوع پر بات کی تھی اور کہا تھا کہ ان کی ہونے والی دلہن کو سب سے پہلے ان کی بہنوں کے "دل جیتنے" ہوں گے- انہوں نے کہا تھا، "مناسب امیدوار کو سب سے پہلے میری بہنوں کے دل جیتنے ہوں گے- مجھے انہیں اعتماد میں لینا ہوگا اور کسی بھی لڑکی کے لیے میری بہنوں کے دل جیتنا بہت مشکل کام ہے۔" (رپورٹ: وقار ستی - جیو نیوز)

Amir H. Qureshi

62,237 просмотров • 1 день назад

اس وقت پوری پاکستان تحریک انصاف کا صدر سینٹرل پنجاب Mohammed Ahmed Chattha کے ساتھ ہونے والے جبر پر آواز اُٹھانا فرض ہے۔ ان کے لاہور میں واقعہ گھر میں ۷ فروری کو پولیس اور سول بدمعاش داخل ہوئے، ان کی ۱۱ سالہ بیٹی کا دروازہ بندوق کی بٹ سے تباہ کیا، ان کی بھتیجی اور اہلیہ کے کمروں میں زبردستی داخل ہوئے، اور کہا ابھی ہم بدتمیزی نہیں کر رہے، آپ کو پتہ نہیں ہماری بدتمیزی کیا ہوتی ہے۔ اُس کے بعد جس گاؤں میں ریلی نکالی گئی، وہاں اب تک ۲۰ سے زائد گھر تباہ کیے جا چکے ہیں۔ ایک بزرگ خاتون کے سامنے اُس کے پوتوں پر تشدد کیا گیا، جو اُس کے بعد ہارٹ اٹیک سے وفات پا گئیں۔ Hamid Mir حامد میر اُس بستی کا چکر لگائیں اور یہ باتیں کنفرم کریں۔ اور اپنی آواز بلند کریں۔ یہ کس قسم کے جانور ہیں، یہ کیسی ریاست ہے، یہ میری سمجھ سے باہر ہے۔ لیکن مجھے یقین ہے کے ایسے عمل کرنے والوں کو انشاءاللہ اللّٰہ کی ذات اس دنیا میں اور آخرت میں عبرت کا نشان بنائے گی۔

Usama Mela

97,605 просмотров • 1 год назад

سیالکوٹ علاقہ بجوات میں ان دنوں گندم کی کٹائی کا کام پورے زور و شور سے جاری ہے ہمارے کسان بھائی اپنی سال بھر کی محنت سمیٹنے میں مصروف ہیں۔ جہاں یہ وقت خوشی اور برکت کا ہے، وہیں آج صبح ایک تشویشناک خبر موصول ہوئی ہے جس پر توجہ دینا انتہائی ضروری ہے۔ اطلاع کے مطابق، بجوات کے گاؤں چک بھارت کے نواحی کھیتوں سے گندم کی کٹائی کے دوران ایک نہایت خطرناک اور زہریلا بھارتی کوبرا سانپ نکلا ہے۔ چونکہ کٹائی کے دوران زمین کی ہلچل سے ایسے موذی جانور باہر نکلتے ہیں، اس لیے تمام زمینداروں، کسانوں اور مزدوروں سے گزارش ہے کہ: کھیتوں میں کام کرتے وقت اونچی آواز نکالیں یا لاٹھی کا استعمال کریں تاکہ چھپے ہوئے جانور دور ہو جائیں۔ کٹائی کے دوران لمبے بوٹ اور موزوں کا استعمال یقینی بنائیں۔ احتیاط کے طور پر کٹائی کے مقام پر ایک میڈیکل کٹ (جس میں پٹی، جراثیم کش دوا اور ابتدائی طبی امداد کا سامان ہو) لازمی اپنے پاس رکھیں۔ اللہ پاک تمام کسان بھائیوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور آپ کی فصل میں برکت عطا فرمائے۔ منجانب: اہلیانِ بجوات و سوشل میڈیا ٹیم (چک بھارت اور گردونواح)

چوہدری قاسم

33,901 просмотров • 4 месяцев назад