正在加载视频...

视频加载失败

سمی دین کا جھوٹ بے نقاب، کسی اور علاقے کی ویڈیو بنا کر ٹویٹ کردی، جبکہ پولیس نیچے معمول کے مطابق اپنا کام سرانجام دے رہی تھی، یہ ویڈیو سرجانی ٹاون کی ہے، جبکہ اسے سمی دین نے اپنے گھر ریڈ بنا کر پیش کردیا۔۔ جبکہ جو تصویریں لگائی...

14,907 次观看 • 2 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

لاپتہ شخص نے مچ حملے میں خود کو دھماکے سے اڑا لیا، عبدالودود کا نام اس کی بہن، ڈاکٹر مہرنگ اور بی وائی سی نے لاپتہ شخص کے طور پر تیار کیا۔ اس کی بہن گل زیدی بلوچ، جو اسلام آباد میں BYC مارچ میں مہرنگ کے ساتھ احتجاج کر رہی تھی، اپنے بھائی کی بازیابی کا مطالبہ کر رہی تھی۔ حیرت انگیز طور پر، اس کے بھائی ودود نے #Mach حملے میں خود کو دھماکے سے اڑا لیا یہ بات قابل ذکر ہے کہ تاریخی طور پر، بہت سے لاپتہ افراد سیکورٹی فورسز پر حملوں اور دہشتگردی میں ملوث پائے گئے ہیں، جن کی مثال بعد میں عبدالودود ستاکزئی نے دی۔ یہ صورتحال ایک بار پھر لاپتہ افراد کے نام نہاد ڈرامے کو بے نقاب کرتی ہے۔ مزید برآں، ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ گل زادی بلوچ کا مبینہ طور پر بی ایل اے دہشتگرد تنظیم سے تعلق ہے۔ منسلک ویڈیو اور تصاویر جہاں اس کی بہن اس کی بازیابی کے لیے احتجاج کر رہی ہے جبکہ حقیقت میں وہ B-L-A کا حصہ تھی۔ #Balochistan #Bolan #بلوچستان #بولان #مچھ

عمران خان

16,463 次观看 • 2 年前

یہ تحریر اور ویڈیو بھی وائرل ہے،کسی کو اصل حقائق معلوم ہیں تو کمنٹ کریں ، FIR بھی کہیں نظر نہیں آئی👇 مولانا ابوبکر معاویہ حفظہ اللہ گرفتار ہوئے، تھانے لائے گئے اور پھر ایک مقامی تھانے پولیس انچارج انہیں ہتھکڑیوں میں جکڑ کر پولیس کے پہرے میں بلا دلیل ذلیل کر رہا ہے اور انہین ڈر دھمکا کر خوفزدہ کر رہا ہے ۔۔۔۔۔۔ سوال یہ ہے کہ ان پر جو الزام اس نے لگایا، اس پر کہاں تفتیش ہوئی؟ اور اسے کس نے عدالت لگا کر فیصلہ سنانے اور پھر ویڈیو بنا کر اسے پھیلانے کی اجازت دی ؟ یہ کون سا قانون ہے ؟کون سی دفعہ کے تحت یہ سب درست ہے کہ ایک عام شہری تو کجا اتنے بڑے عالم دین کی ایک عام سا سپاہی یوں بے عزتی کرتا پھر رہا ہے ۔۔۔۔۔۔ یہ واقعہ کیا ہے؟ ، سن لیں گرفتاری اور تھانے میں لائے جانے سے پہلے مولانا ابوبکر معاویہ حفظہ اللہ نے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی تھی جس میں وہ بتا رہے تھے کہ ہم یہاں اس علاقے میں ڈاکوؤں کے نرغے میں ہیں اور پولیس ہماری مدد کے لیے نہیں آ رہی۔ جس جگہ سے ابوبکر معاویہ صاحب نے ویڈیو بنائی اس جگہ کا نام بھی وہ بتا رہے تھے حضرت مولانا ابوبکر معاویہ صاحب پولیس کو کال کرتے ہیں تو پولیس والے حسب عادت و روایت وہی پہلا جواب دیتے اور کہتے ہیں کہ یہ ہمارا علاقہ نہیں ہے ،دوسروں کو کال کی جاتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ابھی ہم آ رہے ہیں اور وہ نہین آتے، اسی دوران میں مولانا ابوبکر معاویہ صاحب ایک ویڈیو ریکارڈ کرکے اپلوڈ کرتے ہیں کہ ہم پولیس کو کہہ رہے ہیں اور یہ پہنچ نہیں رہے اور یہاں پر ڈاکوؤں نے سڑکوں پر قبضہ جما رکھا ہے ۔ ایک گاڑی میں بچے بھی ہیں۔ تھوڑی دیر میں مولانا ابوبکر معاویہ اپنی لائسنس یافتہ کارتوسی گن سے دو فائر کرتے ہیں جس سے ڈاکو راستہ چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں۔ ٹریفک کھل جاتی ہے اور وہ بھی گھر پہنچ جاتے ہیں۔ صبح ہوتے ہی اس جرم میں ان کو اسی لباس میں گرفتار کر لیا جاتا ہے اور پھر ان کی تھانے کے اندر ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جاتی ہے کہ انہوں نے بچے کے ساتھ بدفعلی کرنے کی کوشش کی ہے یا اس سے دبوا رہے تھے اور پھر پولیس والا ان سے انتہائی بدتمیزی کر رہا اور بدترین الزامات لگا رہا ہے ۔ اس عرصے میں نہ تو کسی بچے کو سامنے لایا گیا اور نہ جنہوں نے ایف ائی ار کروائی ہے وہ سامنے آئے، نہ ہی بچے کے ورثا تک سامنے آئے ہیں ۔صاف سیدھا نظر آ رہا کہ یہ سب صرف اور صرف پولیس نے اپنی پیشہ ورانہ اور ذمہ داری کی ناکامی چھپانے اور اس کے جواب میں علما کو ٹارگٹ کرنے کی کی کوشش ہے اور پولیس والا پہلی ویڈیو کی وجہ سے انتقام لے رہا ہے ۔ہماری سب اہل ایمان سے یہ گزارش ہے کہ وہ ایک جید و متحرک عالم دین کے لیے آواز اٹھائیں۔مولانا ابوبکر معاویہ کا جرم صرف یہ ہے کہ انہوں نے پولیس کے نہ آنے پر راستہ واگزار کیا اور ویڈیو اپلوڈ کی جسےعلاقے کی پولیس نے اپنی بدنامی تصور کرکے ان کے خلاف مذموم کارروائی کی اور پھر ان پر انتہائی گھٹیا اور قبیح ترین الزام عائد کر کے تھانے میں خود ہی عدالت لگا کر انہیں نشانہ بنا دیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر کسی کالج یونیورسٹی کا معاملہ ہو تو سارے لبرل سیکولر فوری اس کے دفاع میں آجاتے اور معاملہ دبا دیتے ہیں ، بہاولپور اسلامیہ یونیورسٹی کا واقعہ ایک مثال ہے تو پھر دینی طبقات جماعتیں علما اور شخصیات کہاں ہیں؟ وہ اس پر مکمل چپ سادھے بیٹھے ہیں ، آخر کیوں ؟ ( علی عمران شاہین)

Ammar Khan Yasir

83,355 次观看 • 2 年前