Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

سنتا جا شرماتا جا کیا فائدہ اتنی دولت کا جب غزہ کےلئے آواز نہ اٹھاسکو کیا فائدہ اتنی دولت کا جب اپنےہی ملک کی حفاظت کے لئے کسی اور ملک کی منت سماجت کرناپڑے۔ یہی پیسہ اگر اپنے دفاع پر لگایا ہوتا تو آج عزت سے سر اٹھا کر...

19,339 Aufrufe • vor 4 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

میں اپنے ملک کے اندر بات کر رہا ہوتا ہوں۔ اگر میرے بیانیے پر غلط الزام لگایا جاتا ہے، مجھے ایک ابتلا میں مبتلا کرنے کے بعد جب میں نے اس کا دفاع کیا، تو اب میرے دفاع کو کاؤنٹر کیا جا رہا ہے کہ ہندوستان میں یہ چل رہا ہے، ہندوستان میں یہ ہو رہا ہے۔ جب بنگال میں آپ سرنڈر کر رہے تھے، اُس وقت انڈیا پر کیا اثر تھا؟ اُس وقت ہندوستان کیا پیغام دے رہا تھا؟ ان کو ایسی باتوں پر شرم نہیں آتی؟ خود کو ٹھیک کرو، اور جب آپ ٹھیک ہوں گے تو قوم آپ کو مبارک باد دے گی۔ انڈیا نے ہم پر حملہ کیا، اور سب سے پہلے فضل الرحمٰن کھڑا ہو گیا اپنی فوج کو سپورٹ کرنے میں۔ اور جب آپ نے بہادری دکھائی، تو میں آپ کے شانہ بشانہ کھڑا تھا۔ میں نے آپ کو تنہا تو نہیں چھوڑا۔ ہم ملک میں آئین کی بھی جنگ لڑ رہے ہیں، ہم ملک کے اندر انصاف کی بھی جنگ لڑ رہے ہیں، اور اُس میں ملک کے رکھوالے اپنے ہی قوم اور اپنے ہی شہریوں کی نیتوں پر شبہ کرتے ہیں، اور ہمارے ملک کے رکھوالے اپنے ہی شہریوں کی کردار کشی کرتے ہیں۔ ملک کے ساتھ ہمدردی رکھنے والے، اخلاص رکھنے والے، اُس کے لیے قربانیاں دینے والوں پر جب ہمارے ملک کے رکھوالے شک کی نگاہ سے دیکھیں گے، تو پھر بحث چھڑے گی۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کی صحافی آصف نثار سے گفتگو #فخر_ملت_مولانا #سرکاری_چمچے_فلاپ #بارڈر_یا_بیرکس #معدنیات_فروش_ٹولہ #مہنگائی_کا_جواب_دو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

12,151 Aufrufe • vor 1 Monat

فرقہ واریت کی بنیاد پر لوگوں کا کتنا خون کیا گیا، مجھے بھی اپنے ساتھیوں نے رابطے کیے کہ جی ہمیں قتل کیا جا رہا ہے ہمیں بندوق کی اجازت دے دو، ہم نے کہا نہیں یہ جمعیۃ کا روش نہیں ہے، کہنے لگے پھر ہم سیٹ ہار جائیں گے میں نے کہا ہار جائیں کوئی مسئلہ نہیں، ایک سیٹ ہارنے سے کچھ نہیں بنے گا جی اپنے منہج کو تبدیل نہیں کرنا، اشتعال میں نہیں آنا، تحمل اور برداشت سے کام لینا ہے، آج اگر مدارس پاکستان سے وابستہ ہے، آج اگر علماء پاکستان سے وابستہ ہیں، آئین سے وابستہ ہیں، قانون سے وابستہ ہیں، ملک کے ساتھ وفاداری کا اظہار کر رہے ہیں، پھر سزا کس چیز کی ان کو دی جا رہی ہے؟ تمام تر وفاداریوں کے باوجود اگر اس طبقے کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے تو پھر مان لو کہ نہ مولوی دہشت گرد ہے نہ مدرسہ دہشت گرد ہے نہ یہ دہشت گردوں کے مراکز ہیں لیکن الزام چسپاں کر دو تاکہ اس الزام کے سہارے پر تم ان کو دیوار سے لگاؤ اور دنیا کو تسلی دو کہ ہم تو پاکستان میں دہشت گردی سے جنگ لڑ رہے ہیں اور پھر اس عنوان سے ڈالر کماتے رہو، ہمارے خون پر ڈالر کماتے ہو تمہیں شرم نہیں آتی! قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا پشاور میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

11,255 Aufrufe • vor 1 Jahr