Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

سوال محيرني الحجاب صار موضه والا حشمه !؟

56,762 Aufrufe • vor 2 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

ڈیفنس فیز 6، اتحاد کمرشل پر جو کچھ ہوا وہ ایک حادثہ نہیں، بلکہ کراچی کے طاقتور طبقے کی اخلاقی اور سماجی پستی کا عکاس ہے۔ ایک نجی اشتہاری کمپنی Bionic Films کے مبینہ مالک سلمان فاروقی، جن کے پاس نہ کوئی برداشت تھی، نہ اخلاق، اپنی مرسیڈیز سے ایک موٹر بائیک والے کو ٹکر مار بیٹھے۔ لیکن حادثے سے بڑی ضرب تو اُس غریب لڑکے کی عزتِ نفس پر لگی، جسے صرف اس لیے سرِ عام مارا پیٹا گیا کیونکہ سامنے والا "سی ای او" تھا، اور خود کو "سرکاری افسر" ظاہر کر رہا تھا۔ بات ٹکر کی نہیں، طاقت کے نشے کی ہے۔ معافی مانگتی بہنیں ہاتھ جوڑ رہی تھیں، لیکن "شہر کے شرفاء" کو رحم کہاں آتا ہے؟ یہ وہی شہر ہے جہاں عزت بھی طبقاتی بن چکی ہے — جس کے پاس گاڑی ہے، سرکاری عہدہ ہے، میڈیا پاور ہے، وہ چاہے تو مارے، دھمکائے، عزت پامال کرے اور پھر کیمرے بند کر کے قانون سے بھی بچ جائے۔ سوال یہ ہے: سلمان فاروقی جیسے لوگ کس کی چھتری تلے خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں؟ کب تک کراچی میں طاقتور کا قانون چلے گا؟ کیا اس شہر میں غریب کی کوئی عزت نہیں؟ کیا بائیک پر بیٹھا ہر شخص بےوقوف ہے، جس کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے؟ اگر آج اس نوجوان کے پاس بھی اپنی حفاظت کے لیے لائسنس یافتہ اسلحہ ہوتا، تو شاید وہ اور اس کی بہنیں یوں سڑک پر بے بس نہ ہوتیں۔ سوال صرف سلمان فاروقی پر نہیں، نظام پر ہے۔ یہ نظام کب بدلے گا؟ کیا میڈیا انڈسٹری کے "مائی باپ" قانون سے بڑے ہیں؟ یا پھر ہم سب نے اس ظلم کے سامنے خاموش رہنے کا حلف اٹھا رکھا ہے؟ @@KarachiPolice_@SouthDig

Fahmidah Yousfi

123,710 Aufrufe • vor 1 Jahr

آج شہر بھر میں 480 ٹھیلے اور تھڑے گرائے گئے۔ تجربے کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ آج گرائے گئے یہ ٹھیلے اور تھڑے چند دنوں بعد پھر سے اپنی جگہوں پر بنے ہوں گے عام طور پر انتظامیہ پر یہ الزام آتا ہے کہ اہلکار ملی بھگت سے یہ کام کرواتے ہیں۔ مگر گلی محلوں میں موجود یہ ٹھیلے اور تھڑے جو عوام اور راہ گیروں کی حق تلفی ہے ایک عمومی رویہ ہے جس کا فائدہ کای کو نہیں مگر نقصان سب کو ہوتا ہے اگر چند انچ کی جگہ پر قبضہ نہ بھی کیا جائے تو کیا کاروبار نہیں ہو سکتا؟ کیا ان چند انچوں پر تھڑے بنانے سے کاروبار میں اضافہ ہوتا ہے؟ کیا لوگوں کی حق تلفی کر کے کیا جانے والا کاروبار اور اس سے کمائی جانے والی روزی داغدار نہیں ہوتی؟ بہت سے سوال ہیں جو ہم سب کو بحیثت شہری خود سے اور اپنے آس پاس کے لوگوں سے پوچھنے ہیں۔ کیا ہو اگر ہم تجاوزات بڑھانے، ٹھیلے تھڑے بنانے والوں کے کاروبار کا بائیکاٹ کریں اور ان سے خریداری ہی بند کر دیں؟ کیا اس سے فرق پڑے گا؟ اخلاقی دباؤ سے انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے؟ #Lahore #Encroachment #Operation #Law #Legal #Action #Rights #Appeal Chief Secretary Punjab Commissioner Lahore Division Metropolitan Corporation Lahore

Deputy Commissioner Lahore

170,705 Aufrufe • vor 2 Jahren

"خون کی فطرت میں جم جانا ہے ' دھلنا نہی " آج سٹوڈنٹس میں سکالر شپ کی تقسیم کی اس تقریب میں چشم تخیل کی طاقت سے میں بھی موجود تھا - جب مریم نواز صاحبہ Maryam Nawaz Sharif نے یہ والا بھاشن شروع کیا تو میں نے ہاتھ کھڑا کیا اور پوچھا کہ " میڈم ! طلباء کو بھی شوق نہیں ہے کہ وہ یونیورسٹی کی جگہ ڈی چوک میں احتجاج کیلئے جائیں لیکن جب ان کا ووٹ چوری کرنے والا جیل کی بجاے سی ایم ہاؤس پہنچ جاتا ہے ' اس چوری کو روکنے کیلئے زمہ دار الیکشن کمیشن خود ہی سہولت کار بن جاتا ہے ' اس چوری پر بازپرس کرنے والی عدلیہ خود بیکار بن جاتی ہے ' اس چوری کو آشکار کرنے والا میڈیا خود ساہوکار بن جاتا ہے ' اس پر آواز اٹھانے والا صحافی ' سٹوڈنٹ اور ایکٹوسٹ مغوی اور پاسبان ہی اس کا اغواکار بن جاتا ہے ' --- تو پھر طلباء کو اپنے حق کی اس چوری پر جواب مانگنے کیلئے خود ہی یونیورسٹی چھوڑ کر ڈی چوک میں بھی بیٹھنا پڑتا ہے- آپ کا بیٹا جنید اس لئے آرام سے گریجویٹ کرگیا کیوں کہ وہ سارق (چور ) کا بیٹا تھا ' مسروق کا نہیں---اگر طلباء یونیورسٹی میں اچھے لگتے ہیں ڈی چوک پر نہیں ' تو طلباء کے حق کی چوری کرنے والے جیل میں اچھے لگتے ہیں ' سی ایم ہاؤس میں نہیں " - یہ سٹوڈنٹس وہاں موجود پنجاب پولیس کے جلادوں کے ہاتھ مجبور ہونگے ورنہ بہت سے نوجوان ذہنوں میں یہ بھاشن سن کر یہی سوال ابھرے ہونگے جو میں نے پوچھے - اس ملک کی قسمت چیک کریں کہ پہلے جن لوگوں کا حق کھایا جاتا ہے اور پھر انہی کے سامنے کھڑا ہو کر بھاشن بھی دیا جاتا ہے - سی ایم صاحبہ کے لہجے میں جو اعتماد ہے وہ ایسے ہی نہیں آتا - ڈھٹائی اور بےشرمی کی نجانے کتنی بوتلیں لگوانی پڑتی ہیں ' معصوموں کے خون کے کتنے پیالے پینے پڑتے ہیں ' تب جاکر لہجے میں یہ والا اعتماد آتا ہے کہ آپ مسروق (جس کی چوری ہوئی ہو ) کے سامنے اس کو منع کریں کہ پڑھائی پر توجہ دو اور اپنے سامان مسروقہ کی برآمدگی کا مطالبہ نہ کرو - پچھلی کچھ تقریروں میں جتنا گند اور غلاظت مریم نے اسلام آباد احتجاج کے شرکا کے خلاف اگلا ہے اس سے ایسا لگتا ہے کہ "پٹھان " ہونا اس ملک میں جرم ہی بن گیا ہے اور کی پی کے ڈیورنڈ لائن کے اسطرف واقع ہے - اس ملک کی دوتہائی سے زائد آبادی تیس سال سے نیچے کے نوجوان ہیں جس میں سے اکثریت جس کو سپورٹ کرتی ہے آپ اس کو "دہشت گرد اور انتشاری" کہتی ہیں - آج وہ بیشک آپ کے پریشر اور آپ کے زہر کے خوف سے آپ کے سامنے تالیاں بجائیں ' لیکن یہی وہ یوتھ ہے جو آپ کو اور آپ کے سہولت کاروں کو اپنے حق انتخاب اور آج ملک میں جاری فسطائیئت کا زمہ دار سمجھتی ہے - آپ کیلئے اس یوتھ کی یہ تالیاں منہ پر ہویے اسی رنگ روغن کی طرح ہیں جو پانی کا ایک چھینٹا پڑتے ہی جب اترتا ہے تو اندر سے زہر سے بھرا ہوا نفرت انگیز چہرہ سامنے آتا ہے - اس تقریر میں نہ چاہتے ہویے بھی مریم کے منہ سے یہ نکل ہی گیا کہ "اسلام آباد میں نہتے لوگ ..." . پھر خود کو ٹوکا اور بولا "نہتے پولیس والے " اگر ایک- کے 47 اور سنایپرگنوں سے لیس وہ پولیس والے ' رینجرز اور فوجی نہتے تھے تو پھر مریم کی نظر میں اسلحہ سے لیس اسی پولیس افسر کو کہا جائیگا جو نیوکلیر بمب کی ڈیوائس اور آر ڈی ایس کی جیکٹ ساتھ لے کر گھوم رہا ہو - خون میں قدرت نے ایک خاصیت رکھی ہے - یہ جب بہتا ہے تو جم جاتا ہے اور اس کے نشان نہیں جاتے کیوں کہ اس کی فطرت میں جمنا ہے ' دھلنا نہیں - اس حکومت اور اس کی سہولت کار ریاست کے چہرے پر بھی یہ خون اب جم گیا ہے جو بچوں کو یوں لارا لپا لگانے اور "میں پنجاب کی ماں " والی کہانیاں سنانے سے نہیں دھلے گا اور بار بار پوچھتا رہیگا کہ #گولی_کیوں_چلائی ؟ #IslamabadMassacre --------------------------------------------------------- Moeed Pirzada Imran Afzal Raja

Dr Waqas Nawaz

12,319 Aufrufe • vor 1 Jahr

📢 ایک اور ناقابلِ تردید ثبوت — حسن معاویہ کی قانون شکنی بے نقاب! 🚨 آج ایک اور CCTV فوٹیج آپکے سامنے لا رہی ہوں ہے جس میں مولانا طاہر اشرفی کے بھائی حسن معاویہ کو صاف طور پر ایک نوجوان کو غیرقانونی طور پر گرفتار کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ 🙎‍♂️یہ لڑکا قصور سے اغواء کیا گیا تھا اور اس ویڈیو میں طاہر اشرفی کا بھائی حسن معاویہ صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ ایف آئی اے سے مل کر بچوں کو گرفتار کرتے ہیں ۔۔۔ دائیں جانب لڑکے کو ہتھکڑی لگانے والا نوید اسلم سب انسپکٹر ایف آئی اے لاہور ہے۔۔۔ اس ویڈیو میں حسن معاویہ کے ساتھ موجود ہے ایف آئی اے کا تفتیشی افسر نوید اسلم — وہی نوید اسلم جو درجنوں جھوٹے بلاسفیمی مقدمات اور ملزمان پر تشدد کے الزامات کی زد میں ہے۔ ❗ سوال یہ ہے: 🔹 حسن معاویہ کس قانونی حیثیت سے نوجوانوں کو گرفتار کر رہا ہے؟ 🔹 کیا ایف آئی اے جیسے ریاستی ادارے طاہر اشرفی کے بھائی کے آڈر پر کام کر رہے ہیں؟ 🔹 ریاستی اداروں کو مذہبی کاروبار چلانے والے افراد کے ذاتی ایجنڈے پر استعمال کیا جا رہا ہے؟ 📌 یہ ویڈیو صرف ایک لمحہ ہے اس پورے مکروہ نیٹ ورک کی جو معصوم شہریوں کو بلاسفیمی کے نام پر پھنساتا ہے، جھوٹی ایف آئی آرز کٹواتا ہے، اور پھر “مذہبی غیظ و غضب” کے نام پر ان کی زندگی برباد کرتا ہے۔ ⚖️ مزید کتنے ثبوت درکار ہیں قانون کو، اس گینگ کی گردن پکڑنے کے لیے؟ 📢 یہ ویڈیو عدالتوں میں پیش ہونی چاہیے۔ یہ گینگ — جسے “بلاسفیمی بزنس نیٹ ورک” کہا جاتا ہے — اب خاموشی سے مزید انسانوں کی زندگی تباہ نہ کر سکے —— از قلم سونیا خان خٹک Government of Pakistan Human Rights Council of Pakistan Prime Minister's Office UN Human Rights UN Human Rights Council TahirMahmoodAshrafi حافظ محمد طاهراشرفى

Sonia Khan khattak(SK)

42,623 Aufrufe • vor 1 Jahr