正在加载视频...

视频加载失败

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے ایک اسپتال میں مریضوں کو قدرتی آکسیجن فراہم کرنے کے لیے عمارت سے باہر لٹایا گیا ہے۔ تاہم، اس ویڈیو کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی، اس...

49,416 次观看 • 2 个月前 •via X (Twitter)

3 条评论

Muhammad Toqeer khan 的头像
Muhammad Toqeer khan2 个月前

Yai dera ismael khan hai bro

M riaz afridi afridi 的头像
M riaz afridi afridi2 个月前

Kl

Azan baba 的头像
Azan baba2 个月前

جو فنڈ مل رہا ہے اس فنڈ کو 804 کے لیے اڑایا جارہا ہے

相关视频

خزینہ بانڈہ حملے کی مبینہ ویڈیو منظرعام پر، پولیس کی استعداد کار اور سیکیورٹی تیاریوں پر سوالات ضلع ہنگو کے علاقے خزینہ بانڈہ میں پولیس چیک پوسٹ اور بیک اپ پارٹی پر ہونے والے حملے سے منسوب ایک تفصیلی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے، جسے کالعدم ٹی ٹی پی سے منسوب کیا جا رہا ہے۔ ویڈیو کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم اس نے خیبرپختونخوا میں پولیس کی استعداد اور سیکیورٹی تیاریوں پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ویڈیو میں جدید ڈرونز، جدید اسلحہ اور حملہ آوروں کی مربوط جنگی حکمتِ عملی کا استعمال دیکھایا گیا ہے، جبکہ پولیس اہلکار محدود وسائل میں غیر پیشہ وارانہ انداز میں اپنی پوزیشنوں کا دفاع کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے بعد سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ پولیس کو گزشتہ برسوں میں بڑے پیمانے پر وسائل اور فنڈز فراہم کیے جانے کے باوجود انسدادِ ڈرون ٹیکنالوجی، جدید حفاظتی آلات اور ضروری جنگی سازوسامان کیوں میسر نہیں آ سکے۔ دوسری جانب ایک اور ویڈیو بھی گردش کر رہی ہے، جس میں مبینہ طور پر حملے کے دوران اغوا ہونے والے پولیس اہلکاروں کی رہائی کا منظر دکھایا گیا ۔ اس ویڈیو کی بھی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ اس حوالے سے خیبرپختونخوا پولیس یا دیگر متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف بھی سامنے نہیں آیا۔ دفاعی و سیکیورٹی امور پر نظر رکھنے والے بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ پولیس بنیادی طور پر سماجی جرائم کو کنٹرول اور معاشرے کو ریگولیٹ کرنے والی سوشل فورس ہے، جبکہ جدید ٹیکنالوجی اور عسکری مہارت سے لیس شدت پسند گروہوں کا مقابلہ کرنے کے لیے خصوصی فوجی تربیت، جدید سازوسامان اور مؤثر انٹیلی جنس اور فضائی معاونت درکار ہوتی ہے۔ ان کے مطابق اگر پولیس کو درپیش خطرات کی نوعیت کے مطابق اگر وسائل، تربیت اور ٹیکنالوجی فراہم کر بھی دی جائے تو بھی پولیس فورس ایسے حملوں سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت نہیں پا سکتی۔ حالیہ ویڈیوز اور ان پر ہونے والی بحث نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال سامنے لا کھڑا کیا ہے کہ آیا خیبرپختونخوا پولیس موجودہ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے قابل ہے ؟ یا پھر خیبر پختون خوا پولیس مکمل انہدام کی طرف بڑھ رہی ہے ؟؟؟

Aslam Awan

18,570 次观看 • 2 个月前

عمران خان کا ویژن ہے کہ "برے وقت میں گھر میں اگر کوئی بیمار ہو تو اس کے پاس یہ اس کو فکر نہ ہو کہ میں، میرے گھر میں ماں باپ یا میرے بچوں کا علاج اس لیے نہیں ہو سکتا کہ ہمارے پاس پیسہ نہیں" عمران خان کی اس وزن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے وزیراعلی علی امین گنڈاپور کی قیادت میں صحت کے شعبے میں انقلابی اقدامات کی تاکہ دور دراز علاقوں میں بھی صحت کی جدید سہولیات میسر ہو اس مقصد کے لیے مفتی محمود ہسپتال ڈیرہ اسماعیل خان میں جدید برن یونٹ کے قیام سے صحت کی سہولیات میں نمایاں بہتری آئی ہے، جہاں اب تک 7700 او پی ڈی مریضوں کو علاج فراہم کیا جا چکا ہے۔ 40 بیڈز پر مشتمل اس ماڈرن یونٹ میں نہ صرف 2556 مریضوں کو داخل کر کے انڈور علاج دیا گیا بلکہ 3169 کامیاب آپریشنز بھی کیے گئے۔ غریب اور مستحق مریضوں کے لیے 1438 کیسز میں بالکل مفت علاج کی سہولت فراہم کی گئی، جو اس ادارے کی انسانیت دوست پالیسی کا مظہر ہے۔ یہ یونٹ علاقے میں جدید طبی سہولیات کا ایک مثالی مرکز بن چکا ہے۔

Faisal Amin Khan

15,691 次观看 • 1 年前