Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

سولر صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ کی جگہ نیٹ بلنگ، ال فی یونٹ بجلی کی قیمت پہلے سے کتنی تبدیل، فیصلے کے اثرات؟ دیکھیے چیئرمین پاکستان سولر ایسوسی ایشن وقاص موسی کی گفتگو #SamaaTV #RedLine #RedLineWithTalatHussain Syed Talat Hussain

14,913 Aufrufe • vor 7 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

پاکستان میں سولر کا سورج اچانک غروب کر دیا گیاہے اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ مہنگی بجلی، لوڈشیڈنگ اور ریاستی نااہلی سے جان چھڑانے والے لاکھوں سولر صارفین کے لیے حکومت نے ایک ہی فیصلے میں سب کچھ بدل دیا۔ نیٹ میٹرنگ تقریباً ختم، خریداری کی قیمت آدھی، معاہدے چھوٹے اور پابندیاں سخت — یوں لگتا ہے جیسے سولر استعمال کرنے والوں کے سکھ کا سوئچ آف کر دیا گیا ہو۔لیکن سوال یہ ہے: کیا حکومت واقعی مجبور تھی؟آج On My Radar میں معروف انرجی افیئرز ماہرین عمار ایچ خان اور عاصم اظہر میرے ساتھ موجود ہیں، جو ایک مختلف مگر چونکا دینے والا مؤقف پیش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا۔ آئی پی پیز کی بھاری capacity payments، بگڑتا ہوا گرڈ اور مالی دباؤ ایسا تھا کہ سولر مراعات کم کرنا ناگزیر ہو چکا تھا — چاہے اس کی قیمت عوام کو کیوں نہ چکانی پڑے۔یہ Vlog صرف سولر نہیں، پاکستان کے پاور سسٹم کی اصل کہانی بے نقاب کرتا ہے۔مکمل اور چشم کشا OMR vlog دیکھنے کے لیے یوٹیوب لنک پر ضرور کلک کریں

Kamran Khan

85,406 Aufrufe • vor 7 Monaten

یہ نیپرا کی ریگولیشنز ہیں پالیسی نہیں ہے، جن پر کلیریٹی ضروری ہے۔ آئین اور قانون کے مطابق ریگولیشنز میں تبدیلی ریگولیٹر کا کام ہے، اس سے میں پیچھے نہیں ہٹوں گا کہ چاہے حکومت کی اونرشپ ہو یا نہ ہو۔ حکومتِ پاکستان نے یہ معاملہ 10، 12 ماہ پہلے عوام، بزنس کمیونٹی، سولر ایسوسی ایشنز، انڈسٹری، کنزیومرز، پروزیومرز اور ریگولیٹر کے سامنے رکھ دیا تھا۔ اسی دوران سولر ایسوسی ایشنز اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ سیمینارز ہوئے، جن میں کنزیومرز بھی شامل تھے۔ جون میں معاملات طے کیے گئے۔ سولر ایسوسی ایشن آف پاکستان نے بھی واضح کیا کہ یہ اقدامات ضروری ہیں، کیونکہ اس کے بغیر عام عوام کا انٹرسٹ محفوظ نہیں رہ سکتا اور پاکستان کی 95 یا 98 فیصد آبادی کو مزید نقصان ہوگا۔ اس کے ساتھ یہ تجویز دی گئی کہ فوری عملدرآمد کے بجائے 5، 6 ماہ کی مہلت دے کر پراپر ٹرانزیشن کے تحت یہ تبدیلی کی جائے۔ نیپرا بطور ریگولیٹر صارفین کے مفاد کے تحفظ کا ذمہ دار ہے تاکہ کنزیومرز کو ناحق بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے بچایا جا سکے۔

Awais Leghari

21,529 Aufrufe • vor 7 Monaten

بجلی کی خرید یہ ہوتی ہے جب ایک پلانٹ بنا کر آپ کو بجلی دیتا ہے وہ ہماری بجلی کی خرید دن کے وقت ساڑھے 5 سے 6 روپے فی یونٹ بنتی ہے اور رات کے وقت زیادہ ہوتی ہے کیونکہ پلانٹ اس وقت مہنگے پلانٹ چل رہے ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر اس وقت میں اویس لغاری، سولر نیٹ میٹر کا مالک ہوں، گیارہ کلو واٹ کا سسٹم میرے گھر پر لگا ہوا ہے۔ میں بجلی اس وقت ساڑھے 5 سے 6 روپے فی یونٹ پر بنا رہا ہوں، اور ہر نیٹ میٹرنگ یوزر کو یہ بات معلوم ہے۔ اگر میں گریڈ کو 26 یا 27 روپے فی یونٹ دوں، تو باقی 3 کروڑ45 لاکھ لوگوں کے ساتھ انصاف ہوگا یا ظلم؟ یہ فیصلہ ہم نے نئے کنزیومرز کی لاگت پر نہیں کیا۔ اس وقت جو نیپرا نے ریٹ دیے ہیں، ان کے مطابق بھی اگر آپ ایک نئے نیٹ میٹر کنزیومر بنتے ہیں اور انرجی ریٹ کے مطابق پیسہ مل رہا ہے اور نیٹ بلنگ ہو رہی ہے، تو آپ 3 سال کے اندر اپنی انویسٹمنٹ پورا کر لیں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ کا ریٹ آف ریٹرن 28 فیصد سے زیادہ بنتا ہے۔ بینک اس وقت ساڑھے 8 سے 9 فیصد سے زیادہ نہیں دیتا، تو کیا یہ کاروبار پھر بھی اچھا رہے گا یا نہیں؟

Awais Leghari

102,599 Aufrufe • vor 7 Monaten