正在加载视频...

视频加载失败

”سپریم کورٹ آج بھی توہین عدالت کا کیس سن سکتی ہے کیونکہ جو سپریم کورٹ سے فیصلہ دیا گیا تھا اس پر عمل نہیں ہوا۔ سپریم کورٹ یہ سوال پوچھ سکتی ہے کہ 18 اگست کو جو حکم دہا گیا اس پر 27 دن گزر جانے کے باوجود کوئی...

47,689 次观看 • 6 天前 •via X (Twitter)

3 条评论

𝑨𝒍𝒊 𝑹𝒂𝒋𝒑𝒐𝒐𝒕 的头像
𝑨𝒍𝒊 𝑹𝒂𝒋𝒑𝒐𝒐𝒕6 天前

عدالتیں ہمیشہ عوام کی بجائے طاقتور کا ساتھ دیا ہے لیکن اب بس کر دینی چاہیے

ملک Malik 的头像
ملک Malik6 天前

youthia is contradicting himself as it is question of fundamental rights and that needs to be decided by the constitutional court not supreme court and when SC court has not charged with contempt, how can it proceed with it? Youthia is misleading youthi clan

Syed Tanveer Ipian 的头像
Syed Tanveer Ipian6 天前

سپریم چکلہ کچھ نہی پوچھے گا نہ ہی کرے گا

相关视频

شاید فیصلہ یہ ہوا ہے کہ عمران خان کو فی الحال وہ کوئی مراعات نہیں ملنی چاہئیں جو سپریم کورٹ کے اس معاملہ پر فیصلے میں سپریم احکامات میں جاری ہوئی تھیں مگر اس سے پہلے کہ ان پر عمل پتا خان صاحب کو دوبارہ اڈیالہ جیل کی قید تنہائی میں دھکیل دیا گیا تھا آج عمران خان کی شفاء اسپتال منتقلی کا معاملہ شدید غیر یقینی صورت حال کا شکار ہوگیا اور یہ کیس آج اچانک سپریم کورٹ سے نکل کر وفاقی آئینی عدالت کے دروازے پر پہنچ گیا ہے اور یہ پیش رفت اُس وقت ہوئی جب سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت صرف ایک دن بعد، 16 ستمبر کو طے تھی۔وفاقی آئینی عدالت نے عمران خان کی نجی اسپتال منتقلی سے متعلق سپریم کورٹ کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے، جس میں توہینِ عدالت کی درخواست اور حکومت کی نظرثانی اپیل بھی شامل ہیں۔ چیف جسٹس امین الدین کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سپریم کورٹ کے 18 اگست کے حکم پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔ عدالت میں یہ نکتہ سامنے آیا کہ جیل رولز کے تحت قیدی کو سرکاری اسپتال منتقل کیا جا سکتا ہے تو عمران خان کے لیے نجی اسپتال کا حکم کیوں دیا گیا؟اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ 16 ستمبر کو سپریم کورٹ میں طے شدہ سماعت ہوگی بھی یا نہیں؟آئینی و قانونی ماہر بیرسٹر اسد رحیم سے اس اہم عدالتی موڑ کی مکمل تشریح سننے کے لیے OMR یوٹیوب لنک پر کلک کریں اور پورا پروگرام دیکھیں۔

Kamran Khan

91,074 次观看 • 7 天前

اب یہ صرف عمران خان کی شفا اسپتال منتقلی کا معاملہ نہیں، یہ سوال اب براہِ راست حکومت اور سپریم کورٹ کے حکم کے درمیان کھڑا ہے۔پاکستان کے چوٹی کے قانون دانوں اور آئینی ماہرین کی بڑی تعداد اس نکتے پر متفق دکھائی دیتی ہے کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کو علاج کے لیے شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا واضح حکم دیا تھا۔ مگر حکومت نے انہیں شفاء منتقل کرنے کے بجائے پمز اسپتال پہنچایا اور پھر واپس اڈیالہ جیل بھیج کر سپریم کورٹ کے لئے کوئی راستہ نہیں چھوڑا کہ وہ اپنے احکامات پر من وعن عمل کروائے اسی لئے وزیر اعظم شہباز شریف کو کلیدی قانونی ماہرین مشورہ دے رہے ہیں کہ عمران خان کو 16 ستمبر سے پہلے ہی شفا منتقل کردیا جائے کیونکہ یہ معاملہ اب صرف سیاسی نہیں رہا، بلکہ عدالتی حکم کی عملداری اور ریاستی اداروں کی آئینی حدود کا امتحان بن چکا ہے۔تمام نظریں اب 16 ستمبر پر ہیں، جب سپریم کورٹ دوبارہ اس کیس کو سنے گی۔ بڑا سوال یہی ہے: کیا عدالت اپنے حکم پر مکمل عملدرآمد کرائے گی، اور اگر حکم عدولی ثابت ہوئی تو ذمہ دار کون ہوگا؟

Kamran Khan

116,296 次观看 • 22 天前