Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

سھیل آفریدی کے دورہ لاہور کے اثرات ابھی شاید کسی کو پوری طرح سمجھ نہ آئیں لیکن آفریدی نے نہ صرف ان خدشات کو غلط ثابت کیا کہ وہ گنڈاپور کی طرح محض بیان بازی کر رہے ہیں بلکہ پنجاب کی جمود کا شکار قیادت کو بھی اس دفاعی...

57,220 просмотров • 9 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

میں آج اس بات پر بہت افسوس کرتا ہوں کہ کل عمران خان کی بہن علیمہ خان کے گھر کی چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی کی گئی۔علیمہ خان کے بیٹے، جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، کو اغوا کیا گیا۔علیمہ خان کے بیٹے کی پی ٹی آئی کے کسی بھی ایونٹ میں کوئی تصویر تک نہیں ہے۔جس طرح اسے اغوا کیا گیا، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس ملک میں ریاست ماں کے جیسی نہیں ہے۔ظلم و جبر کا نظام ہے، اس ملک میں قانون کا کوئی احترام نہیں ہے۔عدالتوں میں وہ سکت نہیں رہی کہ شہریوں کو محفوظ رکھ سکیں۔آج علیمہ خان کے دوسرے بیٹے شیرشاہ کو اغوا کیا گیا۔میں مریم نواز سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جس طرح پنجاب پولیس کر رہی ہے یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔اتنا ظلم کریں، جتنا کل کو برداشت کر سکیں۔ہم نے تو ہمیشہ اصول کی سیاست کی ہے، ہم ہمیشہ قانون کے احترام کی بات کرتے ہیں۔اب تمام راستے اور حدود کراس کر دی گئی ہیں۔چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عدلیہ ہمیں میرٹ کے مطابق انصاف دے۔جو 8 دنوں کا ریمانڈ دیا گیا ہے، کس بنیاد پر دیا گیا ہے۔واضح ہو گیا ہے کہ یہ سب کچھ حکومت کی ایما پر ہو رہا ہے۔حکومت نے عدالت پر اثر انداز ہو کر سب کچھ کیا ہے۔پنجاب کی فاشسٹ حکومت کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔اسمبلی میں بھی آواز اٹھائیں گے، آپ کے حربوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ہم اپنی تحریک کو آگے بڑھائیں گے اور ظلم کی تاریک رات جلد ختم ہوگی۔

Asad Qaiser

36,456 просмотров • 1 год назад

میں آج دل کی گہرائیوں سے لاہوریوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ جس طرح انہوں نے تمام تر فسطائیت، جبر اور ظلم کا مقابلہ کیا اور عمران خان صاحب سے اپنی محبت کا اظہار کیا، میں آپ سب کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔ آج لاہور میں جس طرح کا کرفیو نافذ کیا گیا، جب قبائلی اضلاع میں فوجی آپریشن شروع ہوئے تھے تو ہمارے قبائلی اضلاع نے بھی ایسا بدترین کرفیو نہیں دیکھا تھا، جیسا آج مریم صفدر کی جعلی حکومت میں لاہور میں لگایا گیا۔ نامعلوم افراد بھی سادہ لباس میں گھوم رہے تھے۔ ہمیں معلوم ہے کہ یہ نامعلوم افراد کون ہوتے ہیں اور کہاں سے آتے ہیں۔ انہوں نے آج لاہور کی خواتین، بچوں اور عام شہریوں کے ساتھ جس طرح کا رویہ اختیار کیا، وہ انتہائی افسوسناک ہے۔ لیکن مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ لاہوریوں نے خوف کی بت توڑ دیے ہیں۔ ان شاء اللہ تعالیٰ، آپ نے اپنے اس جذبے اور جنون کو 27 ستمبر تک، بلکہ اس کے بعد بھی برقرار رکھنا ہے۔ یہ جذبہ کسی صورت کم نہیں ہونا چاہیے۔ لاہوریوں کو بھی معلوم ہے کہ وہ کس کے ساتھ کھڑے ہیں، اور آج کرفیو لگانے والوں اور عوام کو روکنے والوں کو بھی اندازہ ہوگیا ہے کہ لاہور کس کے ساتھ ہے۔ لیکن سمجھ نہیں آتی کہ یہ لوگ کرفیو، پکڑ دھکڑ، چادر اور چار دیواری کی پامالی اور اس طرح کے ظلم و جبر کے ذریعے خود کو دھوکہ دے رہے ہیں یا کسی اور کو؟ پہلے میں کہا کرتا تھا کہ پنجاب کا ماحول دیکھتے ہوئے اگر ہمیں ایک دن پہلے بھی بتا دیا جائے کہ جلسے کی اجازت ہے اور کوئی پکڑ دھکڑ نہیں ہوگی، راستوں پر کرفیو نہیں ہوگا، تو ہم جلسہ کریں گے۔ لیکن آج جو حالات میں لاہور میں دیکھ رہا ہوں، اگر صرف تین گھنٹے کے لیے جلسے کی اجازت دے دی جائے، کوئی پکڑ دھکڑ نہ ہو اور راستے بند نہ کیے جائیں، تو صرف تین گھنٹوں میں لاہور کی اتنی عوام نکلے گی کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ یہی وہ آزادی ہے جو عمران خان صاحب اپنی قوم کو دے چکے ہیں، اور اسی آزادی کے جذبے کے تحت آج لاہور کے عوام نے خوف کی تمام زنجیریں توڑ دی ہیں۔ میں ایک بار پھر تمام لاہوریوں کا دل سے شکر گزار ہوں۔ ان شاء اللہ تعالیٰ، آج کی اسٹریٹ موومنٹ یہاں لاہور میں اختتام پذیر ہوتی ہے۔ اس کے بعد ہم ان شاء اللہ باقی روٹ کی جانب جائیں گے، ہمارے دو ہزار سے زائد ہمارے کارکنان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ کل جہاں ہمارے مہمانوں کے لیے کھانے کا انتظام تھا، وہاں پنجاب پولیس کی غیرت دیکھیے کہ انہوں نے ٹینٹ تک اکھاڑ دیے اور اپنے ساتھ لے گئے۔ یہاں تک کہ مہمانوں کے لیے رکھا گیا کھانا بھی پنجاب پولیس اپنے ساتھ لے گئی۔ بہرحال، غیرت نام کی کوئی چیز ان میں باقی نہیں رہی۔ پنجاب کے عوام نے انہیں مسترد کر دیا ہے۔ پنجاب کے عوام خود پنجاب پولیس کے رویے سے تنگ ہیں۔ پنجاب پولیس کو سوچنا چاہیے کہ وہ اپنے ہی ادارے کو کس طرف لے کر جا رہے ہیں۔ یہ لاوا ایک دن ضرور پھٹے گا، اور جب یہ پھٹے گا تو ان سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ اللہ نہ کرے کہ وہ دن آئے۔ اللہ کرے کہ اس دن سے پہلے انہیں کچھ عقل آ جائے اور وہ ظلم و جبر کا راستہ چھوڑ دیں۔ ان شاء اللہ تعالیٰ، کل ہمارا روٹ جہاں جہاں سے گزرے گا، وہاں کے عوام تیاری کریں۔ کل ان شاء اللہ آپ سے وہیں ملاقات ہوگی۔ شکریہ لاہور! وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی Sohail Afridi #مزاحمت_ہی_خان_کی_رہائی

PTI

28,869 просмотров • 10 дней назад

ہم نے بھی جان اللہ کو دینی ہے یمراج کو نہیں حقیقت یہ ہے کہ جب ہمیں انکے پنجاب انے کا پتا چلا تو اتفاق رائے سے ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ سہیل آفریدی کو پروٹوکول میں لاہور تک لے جایا جائے گا اور توقیر کے ساتھ پنجاب اسمبلی کے اندر لے کر جایا جائے گا ۔ ایک لسٹ انہوں نے دی تھی یہ لوگ جائیں گے لیکن اسمبلی میں اپنے ذاتی باڈی گارڈ لے جانے کی اجازت نہیں دی جاتی ۔ اگر وہاں یہ اسٹنٹس نہ مارے جاتے تو یہ باتیں میڈیا میں نہیں ہوتیں آج ۔ کون سا قلعہ فتح کیا ہے سہیل آفریدی نے وہاں جا کر ۔ جہاں انکی موومنٹ ہوئی ہے وہاں انہوں نے پنجاب حکومت کو آن لائن نہیں لیا ۔ اگر ان پر پنجاب کی حدود میں کوئی حملہ کرتا تو یہ وبال کھڑا کر دیتے کہ پنجاب حکومت نے کے پی کے وزیرِ اعلیٰ پر حملہ کروا دیا ۔ وہ انہیں کھانا کھلاتے پھول پیش کرتے انہوں نے موقع ہی نہیں دیا الٹا وہاں پہنچ کر پنجاب حکومت کو گالیاں نکالیں ۔ اختیار ولی - کوآرڈینیٹر وزیرِاعظم

Ikhtiar Wali

16,543 просмотров • 8 месяцев назад

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کا ویڈیو پیغام میں آج بھی لاہور میں ہوں، ان شاء اللہ پانچ بجے دوبارہ اسٹریٹ موومنٹ کے لیے نکلیں گے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کل لاہور میں ہم نے کوئی کال نہیں دی تھی، اس کے باوجود لاہور کے عوام بڑی تعداد میں خود سڑکوں پر نکلے، وزیراعلیٰ ہم نے کسی کو نہیں بتایا تھا کہ ہم کہاں جا رہے ہیں، لاہور کے عوام خود نکلے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پنجاب پولیس نے ہمارے راستوں میں رکاوٹیں کھڑی کرکے تمام راستے بند کیے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی جہاں جہاں ہم جا رہے تھے وہاں کی لائٹس بند کی گئیں، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پیٹرول پمپس بند کرائے گئے اور مالکان کو ہماری گاڑیوں کو پیٹرول دینے سے روکا گیا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ہمارے قیام کی جگہ سے ٹینٹ اکھاڑ دیے گئے اور آنے والے کارکنان کو گرفتار کیا گیا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اشتیاق احمد میلاد عاشق رسول تھے اور میلاد کی تیاریوں میں مصروف تھے، انہیں گرم تیل کی کڑھائی میں پھینک کر شہید کیا گیا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اشتیاق احمد میلاد کے بہیمانہ قتل پر میڈیا نے خاموشی اختیار کی، صحافت کا تقاضا ہے کہ حق کو حق اور سچ کو سچ کہا جائے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ارشد شریف شہید کو حق اور سچ کی آواز بلند کرنے پر قتل کیا گیا، آج بھی قوم انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھتی ہے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پنجاب پولیس نے کل کارکنان کو گرفتار کرکے پریزن وین میں بٹھا دیا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی میں احتجاجاً پولیس وین پر کھڑا رہا، مگر پنجاب پولیس کے اہلکاروں میں کسی کو شرم و حیا نہیں آئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پھر کہا گیا کہ بات کرتے ہیں اور کارکنان کو چھوڑتے ہیں، تاہم انہیں رہا نہیں کیا گیا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی میں احتجاجاً پولیس وین میں بیٹھا تو انہوں نے مجھے اغوا کرکے گاڑی بھگا دی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی مجھے بغیر سیکیورٹی کے 15 منٹ لاہور کی سڑکوں پر گھمایا گیا اور بیچ راستے میں چھوڑ دیا گیا، یہ بہت بڑا سیکیورٹی رسک تھا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی یہ سب سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہو رہا ہے، پنجاب کی جعلی وزیر اعلیٰ نے چند دن پہلے کہا تھا کہ انہیں بھارت سے نہیں بلکہ پاکستان کے باقی تین صوبوں سے خطرہ ہے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی یہ مسلط شدہ کرپٹ ٹولہ پاکستان کو توڑنا چاہتا ہے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی میں کل بھی کہہ چکا ہوں، مجھے سیکیورٹی تھریٹ نہیں، سیکیورٹی سے ہی خطرہ ہے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پنجاب پولیس کو سیاسی بنا کر اتنا زہریلا کر دیا گیا ہے کہ ان میں شرم اور تمیز باقی نہیں رہی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پنجاب کے جعلی حکمرانوں اور ان کی درباری پولیس کے ہاتھوں پر پہلے ہی خون لگا ہوا ہے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اگر سمجھتے ہیں کہ اوچھے ہتھکنڈوں سے ہمیں روک لیں گے تو یہ ان کی بھول ہے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی لاہور کے عوام کل بغیر کسی کال کے بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلے، لاہور کے عوام آج بھی نکلیں گے، ان شاء اللہ، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی پنجاب کی جعلی حکومت اور پولیس ہوش کے ناخن لے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی آج بھی رویہ تبدیل نہ ہوا تو خیبرپختونخوا میں جاری اجلاس کے بعد سخت ردعمل آئے گا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی

PTI

60,596 просмотров • 10 дней назад

27 ستمبر کی کال دیے ہوئے 2 دن ہوئے ہیں۔۔۔۔ انتظامیہ کی تیاری پہلے سے مکمل تھی۔۔۔ اسلام اباد میں چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا جا رہا ہے۔۔۔۔ ورکرز کو گرفتار کیا جا رہا ہے یہ سب کچھ سہیل آفریدی کی سہولت کاری کی بدولت ہو رہا ہے تاریخ اٹھا کر دیکھیں کبھی کسی کو اتنے غدار نہیں ملے ہوں گے جتنے عمران احمد خان نیازی کو ملے ہیں خان صاحب نے جن کو کچرے سے اٹھا کر عہدہ دیا وہی خان صاحب کے ساتھ غداری کر رہے ہیں شفیع جان نے مجھے کہا کہ جو بھی احتجاج کا ہوگا وہ علامہ راجہ ناصر اور محمود خان اچکزئی کریں گے اور نو سے دس مہینے اس ٹرک کے بتی کے پیچھے ہمیں لگائے رکھا لیکن اب جو کال دی ہے اس میں ان کا ذکر تک نہیں تھا سہیل افریدی کی گینگ مجھے کہتی ہے کہ میں فلانے کا نام لوں کیا صوبے کا چیف ایگزیکٹو جس کے پاس عہدہ ہے پاور ہے اس نے فرد واحد کا نام لیا ہے. ؟ ڈرون حملوں کے حوالے سے ان کا موقف اپ کے سامنے ہے نہ انہوں نے پنجاب کی قیادت کا نام لیا ہے جو قید میں ہے خان صاحب کو ہسپتال منتقل کرنے کے حوالے سے بھی کوئی ذکر نہیں کیا گیا خان صاحب پر بھی مزید سختیاں بڑھا دی گئی ہوں گی ان کو 13 14 اگست کی تاریخ دینی چاہیے تھی اس بات کا فائدہ اٹھا کر وہ ورکرز کو پکڑ رہے ہیں میں بھی کسی جگہ پر ہوں مشکل وقت ہے گزر جائے گا خان صاحب کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے تھے کھڑے ہیں کھڑے رہیں گے ان سے میں نے سوالات کیے اسی وجہ سے مجھے پہلے بھی گرفتار کیا میں ابھی بھی حلفاً کہتا ہوں کہ 27 تاریخ کی کال کامیاب نہیں ہونے والی۔۔۔۔ کچھ نہیں ہونے والا۔۔۔۔ ہو سکتا ہے کال ملتوی ہو جائے جو کرنا ہے اسی مہینے کرنا ہے نہیں تو اپ بھول جائیں خان صاحب کی رہائی کو......

Haider Saeed

17,457 просмотров • 1 месяц назад

پنجاب پولیس نے ایک سنگین کیس میں ایف آئی آر درج کی ہے، جس میں الزام ہے کہ ایک لڑکے نے محبت کے بہانے ایک لڑکی کو استعمال کیا، شادی کا وعدہ کر کے بعد میں انکار کر دیا، اور پھر اس کی ذاتی ویڈیوز بنا کر لڑکی کو بلیک میل کیا۔ متاثرہ لڑکی کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کیا گیا، یہاں تک کہ ویڈیو کال کے دوران اسے اپنے سامنے خودکشی کرنے پر مجبور کیا گیا۔تاہم، ایف آئی آر کے مطابق، پولیس نے مقدمہ درج کرنے میں تاخیر کی اور مقدمہ بھی کمزور درج کیا گیا، جو متاثرہ لڑکی کی حفاظت اور فوری انصاف کی فراہمی کے لیے ناکافی ہے۔یہ معاملہ نہ صرف متاثرہ لڑکی کے لیے بلکہ ہمارے معاشرتی نظام کے لیے ایک تشویشناک انتباہ ہے۔ حکومت اور متعلقہ ادارے فوری کارروائی کریں اور اس درندے کو گرفتار کریں تاکہ وہ مزید کسی کی زندگی برباد نہ کرے۔ساتھ ہی، والدین کی بھی کوتاہی واضح ہے کہ بچوں کے اوپر مناسب نگرانی اور چیک اینڈ بیلنس نہیں تھا، اور نہ ہی وہ ان کے رویے کو پڑھ کر خطرات کا بروقت اندازہ لگا سکے۔ والدین کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کی زندگی میں اس طرح کے خطرات سے بچاؤ کے لیے فعال کردار ادا کریں۔ Government of Punjab Punjab Police Official

Harmeet Singh

184,823 просмотров • 7 месяцев назад

شوہد کے مطابق، سہیل آفریدی ملٹری جرنلز کو دیے جانے والے بجٹ اور صوبوں سے نکالے جانے والے اربوں روپے کے معاملے پر عمران خان سے ملاقات کے خواہشمند تھے۔ مزمل اسلم نے انہیں مشورہ دیا کہ وفاقی حکومت ہر صورت یہ پیسے لے گی، اس لیے ہاں کرنے میں ہی عافیت ہے۔ سہیل آفریدی نے بعد میں اعتراف کیا کہ انہیں غلط گائیڈ کیا گیا، ورنہ وہ یہ سودا نہ کرتے۔ خیبر پختونخوا (KP) میں عمران خان کی پہلی پسند تیمور سلیم جھگڑا تھے، جو کہ ایک انتہائی قابل اور تجربہ کار شخصیت ہیں۔ علی امین گنڈاپور کو لانے کا فیصلہ اس وقت کی احتجاجی تحریک کی ضرورت کو مدنظر رکھ کر کیا گیا تھا۔ کابینہ کی تشکیل کے وقت گنڈاپور نے خود تسلیم کیا کہ انہوں نے تیمور جھگڑا کو وزیرِ خزانہ بنانے سے انکار کیا۔ عمران خان کی مرضی کے برعکس، مزمل اسلم کو کے پی کے کے فنانس کے معاملات سونپے گئے جو کہ گنڈاپور کی پسند تھے۔ یہ تمام حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ پسِ پردہ کس طرح کے سیاسی فیصلے اور سمجھوتے کیے جا رہے ہیں۔

Naureen Ruftaj Khan

64,628 просмотров • 3 месяцев назад

حکومت نے جو 900 افراد کی جانب سے 198 ملاقاتوں کے اعداد و شمار دیے ہیں وہ مکمل طور پر گمراہ کن ہیں۔ 2023، 2024 اور 2025 کے ابتدائی حصے کے دوران، ہاں، مقدمات کی سماعتیں ہو رہی تھیں۔ مثال کے طور پر، 9 مئی 2023 کے واقعات سے متعلق ایک مقدمے کی سماعت اڈیالہ جیل میں ہو رہی تھی۔ ان سماعتوں کے دوران 50، 60 یا 70 شریک ملزمان آتے تھے اور ہاں، مسٹر خان ان سے ملاقات کر سکتے تھے۔ لیکن اس مقدمے کی نوعیت بھی اس کے بعد سے یکسر تبدیل کر دی گئی ہے۔ اور عمران خان کو دیگر تمام شریک ملزمان سے الگ کر دیا گیا ہے اور ان کا مقدمہ اکیلے ویڈیو لنک پر چلایا جاتا۔ وہ جیل کی کوٹھڑی میں اکیلے بیٹھتے ان کے سامنے ایک موبائل فون، ایک سیلولر فون رکھ دیا جاتا ہے۔ کئی میل دور موجود متعلقہ جج کو ویڈیو کال کی جاتی ہے، اور عدالت میں جج محض اس موبائل فون کو اپنے سامنے رکھتا، جس کی اسکرین پر عمران خان کو جیل کی کوٹھڑی میں بیٹھا ہوا دیکھا جا سکتا تھا، اور پھر ان کی حاضری لگا دی جاتی ہے کہ وہ عدالت میں موجود ہیں۔ یہ اس طریقۂ کار کی مضحکہ خیزی ہے جس کے تحت یہ مقدمہ چلایا جاتا رہا۔ چنانچہ عمران خان وہاں مکمل تنہائی میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ وہ نہ اپنے وکلاء سے رابطہ کر سکتے ہیں، نہ یہ سن سکتے کہ ان کے خلاف گواہ کیا بیان دے رہے ہیں، اور نہ ہی وہ گواہوں کے بیانات کے حوالے سے اپنے وکلاء کو ہدایات دے سکتے ہیں کہ جرح کس طرح کی جائے۔ اس کے خلاف ہم نے لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ کے سامنے آئینی درخواستیں دائر کی ہیں۔ میں نے ایک درخواست دائر کی ہے اور مسٹر قاسم نے بھی ایک درخواست دائر کی ہے۔ لیکن ان درخواستوں میں بھی کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی۔ لہٰذا جس انداز میں عمران خان کا ٹرائل کیا گیا وہ منصفانہ قانونی عمل کے بنیادی تصور ہی کی نفی ہے۔ ایک شخص جیل کی کوٹھڑی میں اکیلا بیٹھا ہے، اس کے سامنے ایک موبائل فون رکھا ہوا ہے۔ وہ اپنے وکلاء سے بات نہیں کر سکتا، اسے معلوم نہیں کہ اس کے خلاف کیا گواہی دی جا رہی ہے، اور پھر آپ کہتے ہیں کہ یہ ٹرائل ہے؟ کیا اسے ٹرائل کہا جا سکتا ہے؟ سلمان اکرم راجہ

PTI

36,019 просмотров • 25 дней назад

پنجاب پولیس عوام کے لئے فائیو سٹار ہوٹل سے زیادہ سہولیات اور خوبصورت ماحول دینے کے وعدے پر عمل پیرا ہے۔ لاہور کے علاقے شادمان میں نیا تعمیر ہونے والا ڈرائیونگ سینٹر (آبشار) جو کہ جدید سیمولیڑر سے آراستہ ایک کلاس روم کی حثیت رکھتا ہے، اسی وعدے کی ایک کڑی ہے۔ بقیہ خدمت مراکز کی طرح یہاں پر بھی 14 سہولیات میسر ہوں گی اور عوامی خدمت کے اس خوبصورت شاہکار کی خاص بات یہ ہے کہ پنجاب پولیس نے اسے تمام تر اپنی آمدنی اور وسائل سے قائم کیا ہے۔ اس ڈرائیونگ سینٹر کو اس قدر خوبصورت اور سہولیات سے آراستہ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ یہاں آئیں، ماحول سے لطف اندوز بھی ہوں مگر جو بات اہم ہے وہ یہ کہ ڈرائیونگ لائسنس ضرور بنوائیں کیونکہ پنجاب پولیس کی جانب سے فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ اب بغیر ڈرائیونگ لائسنس گاڑی/موٹرسائیکل چلانے پر کریک ڈائون ہو گا اور سخت ہوگا۔ پنجاب بھر میں 1300 کے قریب مقامات پر ڈرائیونگ لائسنس بنا کر عوام کو دئیے جا رہے ہیں، ڈوپلیکیٹ اور رینیول جیسی سہولیات کو آن لائن کر دیا گیا ہے اس کے باوجود بھی آپ بغیر لائسنس کے ڈرائیونگ کرتے ہیں تو اس میں پنجاب پولیس کا کوئی قصور نہ ہو گا۔ ڈرائیونگ لائسنس اور شادمان ڈرائیونگ سینٹر سے متعلق مزید جانئے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کے اس و یڈیو میں:

Punjab Police Official

17,801 просмотров • 2 лет назад

"میں سب سے پہلے اپنے وزیراعلی سے ایک شکوہ ضرور کروں گا کہ وہ کل میرے علاقے دیر تشریف لائے حالانکہ سوات میں ان کا کوئی معمولی سا دورہ تھا جس کے لیے وہ گئے تھے لیکن پھر شاید کوئی یہ بات ان کے علم میں لایا ہو گا کہ دیر میں اس طرح کا واقعہ ہوا ہے۔ ہم مہمان نواز لوگ ہیں، ہماری دہلیز پر اگر کوئی دشمن بھی چل کر آئے تو ہم اسے خوش آمدید کہتے ہیں، یہ تو ہمارے اپنے وزیراعلیٰ ہیں۔ لیکن جس طریقے سے وہ آئے اور جس طریقے سے وہ گئے، میرے خیال میں یہ دیر کے ان غیرت مند لوگوں کی ایک قسم کی توہین ہے۔ اور توہین اس بنیاد پر ہے کہ اس وقت ہسپتالوں میں تین شہداء اور دیگر لوگ پڑے تھے۔ میڈیا نے بھی دیکھا، کچھ لوگوں اور ان پولیس والوں نے جو وزیراعلیٰ سے فریاد اور شکایتیں کر رہے تھے، آپ نے بھی سنا ہو گا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ چونکہ وہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔ آپ دیر آ رہے ہیں، سیکیورٹی کی اتنی بڑی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ آپ کور کمانڈر کو، آئی جی خیبر پختونخوا کو، یہاں کے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تمام متعلقہ انتظامیہ کو بلاتے اور میٹنگ کرتے۔ میٹنگ میں دیر کے عمائدین کو بلاتے، سیاسی پارٹیوں کو بلاتے، اور سوال کرتے، کسی کو جوابدہ بناتے۔ یہ کس طرح کا دورہ تھا کہ آپ آئے اور واپس چلے گئے اور نہ کسی سے سوال ہوا نہ کسی سے جواب طلب کیا گیا؟ کیا دیر کی ماؤں نے بیٹے اس لیے جنم دیئے ہیں کہ وہ اس طرح کی ایک سنسان جنگ میں مارے جائیں گے اور کوئی اس پر سوال بھی نہیں اٹھائے گا، کوئی اعتراض بھی نہیں کرے گا؟ اور مجھے تحریک انصاف کے اپنے کارکنوں سے بھی گلہ ہے کہ وزیراعلیٰ کا جس طرح انہوں نے استقبال کیا اور ہسپتال کے اندر نعرے بازی کر رہے تھے، کیا وہ ادھر کوئی فتح کا جشن منانے آئے تھے؟ ہمیں ان رویوں کو تبدیل کرنا ہو گا۔ دیر ہمارا وطن ہے، یہ سیاست پیچھے ہے، دیر کی غیرت اور ناموس آگے ہے۔ ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

12,370 просмотров • 2 месяцев назад

نئے صوبوں سے متعلق سوال پر امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا جواب: ایک بات میں پہلے آپ صحافیوں سے کرنا چاہوں گا جی، ذرا مہربانی کریں، آپ میڈیا کی دنیا میں حمایت اور مخالفت کی لکیر نہ کھینچیں۔ یہ ایک ڈیبیٹیبل ایشو ہے اور اس پر مختلف پہلوؤں سے بات ہو سکتی ہے۔ اصولی طور پر ایک مسئلے کی پوزیشن اور ہوتی ہے، عملی طور پر جب آپ آتے ہیں تو پھر اس کی صورت اور ہوتی ہے۔ اصولی طور پر آپ کو حق ہے کہ آپ اپنا گھر بنائیں، لیکن کیا آپ کے پاس وسائل ہیں کہ آپ بنا سکیں؟ وسائل نہیں ہیں، جیب خالی ہے اور آپ جا کر وہاں اینٹیں رکھنا شروع کر دیں تو لوگ کہیں گے کہ یہ کیا کر رہا ہے؟ تو وہ ایک خامخواہ ضائع ہونے والی بات ہو جاتی ہے۔ میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ اصولی طور پر تو ہم یونٹس کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم نے اس سے پہلے بہاولپور صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے سرائیکی صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے ہزارہ صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے خود فاٹا کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم سندھ ذرا اس سے مختلف تھا کہ سندھ کے عوام صوبے کی تقسیم کے لیے آمادہ نہیں تھے، اس وقت بھی نہیں تھے اور اب بھی نہیں ہیں۔ لیکن جو میری معلومات ہیں، جب اس وقت صوبہ، صوبہ ہو رہا تھا تو اسٹیبلشمنٹ بھی اس کی مخالف تھی۔ چنانچہ ان عناصر کی حوصلہ شکنی کی گئی جو صوبہ، صوبہ کر رہے تھے اور حکومتوں اور اسمبلیوں میں وہ لوگ نہیں آ سکے، کمزور پوزیشن میں آئے اور بالآخر ان کو وہ ایشوز چھوڑنے پڑ گئے۔ آج پھر کون سی ایسی وحی آ گئی ہے ان کے اوپر کہ آؤ، ان کو پتا نہیں کتنے اور کوئی نقشہ بھی نہیں ہے۔ کبھی آپ سولہ یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی آپ بتیس یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی ہر ڈویژن کو صوبے کا درجہ دے رہے ہیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ نقشہ کیا ہے۔ تو ایک بات کہہ دینا اور پھر لوگوں کو چھوڑ دینا کہ وہ اس پر بحث کرتے رہیں، میرے خیال میں ملک کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ ایشو پھینکا گیا ہے۔ اس میں کوئی سنجیدگی ہے، نہ اس کے لیے اس وقت کوئی ماحول موجود ہے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی تیاری موجود ہے۔ جب ماحول بھی نہیں ہے، اس وقت تیاری بھی نہیں ہے، تو خامخواہ ایک غیر سنجیدہ گفتگو، جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہمارے حکمران اس وقت باہر کی دنیا کے ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہیں اور ان کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ پاکستان کی سرزمین جو خون سے سرخ ہے، اس کو بھی تو ہمیں سنبھالنا ہے۔ تو جہاں خون بہہ رہا ہو، جہاں ملکی زمین جو ہے وہ خون سے سرخ ہو اور آپ باہر دنیا میں جا کر وہاں پر ریڈ کارپٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہوں، تو ذرا گھر کو تو ٹھیک کریں۔ ہم نہیں کہتے کہ آپ باہر کی دنیا سے اچھے تعلقات نہ رکھیں۔ ہم نے تو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کو سپورٹ کیا ہے۔ ہم نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کو سپورٹ کیا ہے۔ ترکی کی شمولیت کو ہم نے سپورٹ کیا ہے۔ مصر اس میں آتا ہے، ایران اس میں آتا ہے۔ خیر، مقدم کریں گے ایک اسلامی بلاک کے قیام کا۔ یہ خود جمعیت علماء اسلام کے منشور کا حصہ ہے۔ تو جو چیزیں دنیا میں ہمارے اپنے فکر اور ہمارے نظریے کے مطابق آگے بڑھیں گی، ہم اس کو سپورٹ کریں گے۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

11,368 просмотров • 1 месяц назад

ملک میں جو خود کو ووٹ کو عزت دو کا سب سے بڑا چیمپئن سمجھتا ہے، اس کی حکومت ہے۔ پنجاب میں ان کی بیٹی کی حکومت ہے۔ آج صبح پنجاب میں ہمارا اپوزیشن لیڈر بات کر رہا تھا کہ اس وقت بھی میرے گھر کے سامنے پولیس کھڑی ہے۔ پنجاب میں اگر آپ کا تعلق اپوزیشن سے ہے تو آپ اپنے گھر میں بھی رہائش نہیں رکھ سکتے۔اس وقت نہ کوئی قانون ہے اور نہ ہی آئین، صرف ظلم اور جبر ہے۔ اور جب ظلم حد سے بڑھ جائے تو جہاد لازم ہو جاتا ہے۔ جہاد صرف تلوار اٹھانے کا نام نہیں، جدوجہد سے بھی کیا جاتا ہے، اور یہی جدوجہد ہم پر اس وقت لازم ہے۔عمران خان اس وقت جرأت اور ہمت کے ساتھ اپنا مقدمہ لڑ رہا ہے۔ جب 1992 کا ورلڈ کپ ہو رہا تھا تو وہ ایک کمزور ٹیم تھی، لیکن اللہ نے عمران خان کو عزت دینی تھی۔ پھر جب شوکت خانم ہسپتال بن رہا تھا تو میں خود اس مہم کا حصہ تھا۔ ہم نے پوسٹر لگائے، چندہ اکٹھا کیا۔ ہمیں بھی یہ ناممکن نظر آتا تھا، لیکن اللہ نے عمران خان کے خواب کو پورا کیا۔

Asad Qaiser

15,982 просмотров • 9 месяцев назад