Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

شال دھرنے پر ایک مرتبہ پھر کریک ڈاؤن کیا گیا۔ دونوں لاشوں کو پولیس نے اپنی تحویل میں لیا، شہدا کے والدین کو سمیت ڈاکٹر ماہرنگ اور دیگر ساتھیوں کو گمشدہ کرلیا

21,364 просмотров • 1 год назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

لاہور میں گزشتہ پانچ دنوں سے جاری کریک ڈاؤن، گھروں پر ریڈز اور گرفتاریوں کے باوجود ہمارے حوصلے نہیں ٹوٹے۔ والدہ کو زخمی کیا گیا، ان کے گھر میں توڑ پھوڑ کی گئی اور میرے بھائی کو مسلسل ہراساں کیا گیا ۔ میرے شوہر میاں اکرم عثمان کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے باوجود ہم نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ،ان کی کیبینٹ اور تمام وفد کو اپنے گھر ویلکم کیااور ٹھہرایا۔بھرپور میزبانی اور مہمان نوازی کی ۔ پولیس نے گھر کو چاروں طرف سے گھیر لیا، کیٹرنگ ، لائٹوں ،کرسیوں اور کھانا لانے والوں تک کو گرفتار کیا گیااور سارا سامان تک اپنی تحویل میں لے لیا گیا ۔ کیا ایسے ظلم اور بربریت کی مثال کہیں ملتی ہے ؟ میں نے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو جرات ،بہادری اور لاہور میں کامیاب ترین موبیلائزیشن پر زبردست خیراج تحسین پیش کیا وزیر اعلیٰ کی لاہور میں سٹریٹ موبیلائزیشن پر عوامی نمائندے اور کارکن اپنے مؤقف پر ڈٹے رہےاور تمام ریکارڈ توڑ دیئے ۔ یہ ہمارے خاندان کی قربانی ضرور ہے، لیکن لاہور کی عوام کی بھرپور ثابت قدمی بھی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کے لاہوریوں نے خوف کے بت توڑ دیئے ۔اور تاریخ رقم کی ۔ ظلم، گرفتاریوں اور دباؤ کے باوجود لاہور پیچھے نہیں ہٹا۔یہ جدوجہد صرف ایک خاندان کی نہیں، عوام کے حق اور جمہوری مینڈیٹ کی جدوجہد ہے۔ عمران خان زندہ باد! پاکستان پائندہ باد ! Sohailafridiofficial salman akram raja

Maryam Kulsoom Akram

49,271 просмотров • 10 дней назад

گزشتہ روز کراچی کے فقیر کالونی میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی کال پر احتجاج ہوا۔ احتجاج کے فوراً بعد جب مظاہرین بس کے ذریعے واپس ملیر جا رہے تھے، تو کراچی پولیس نے فقیر کالونی کے قریب بس کو روک کر تمام مظاہرین کو بس سمیت اپنی تحویل میں لے لیا۔ وقار احمد ایڈووکیٹ سمیت دیگر وکلا، بی وائی سی کے مظاہرین کی رہائی کے لیے محمود آباد تھانے پہنچے۔ ابتدا میں پولیس نے مظاہرین کے خلاف ایف آئی آر دینے سے انکار کر دیا اور بعد میں کہا کہ رات بارہ بجے آئیں، تب ایف آئی آر دی جائے گی۔ جب رات بارہ بجے وقار احمد ایڈووکیٹ سمیت چھ وکلا تھانے پہنچے تو پولیس نے انہیں اندر بند کر کے ایک ایک کر کے بدترین تشدد اور گالم گلوچ کا نشانہ بنایا۔ ان پر انسانیت سوز سلوک کیا گیا اور کئی گھنٹوں تک مسلسل جسمانی تشدد کیا گیا۔ کئی گھنٹوں کے تشدد کے بعد، وکلا کو ایک ایک کر کے رہا کر دیا گیا۔ یہ صرف اسی ملک میں ممکن ہے جہاں وکلا، جو اپنے مؤکلوں کے قانونی حقوق کے بارے میں پوچھنے آتے ہیں، خود پولیس کی تحویل میں لے کر بدترین تشدد کا نشانہ بنائے جاتے ہیں۔ ریاست اپنی عقل و شعور کھو چکی ہے اور صحیح و غلط، انصاف و ناانصافی کا فرق مٹ چکا ہے۔

Sammi Deen Baloch

36,511 просмотров • 1 год назад