Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

شاوشے چساں چاو ہن ایکس ٹوئیٹر والوں 😝

22,538 views • 4 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

نہ توشہ خانہ، نہ ۹ مئی، نہ فوج کے خلاف کوئی بیان ثابت ہوا، رسیدیں سوشل میڈیا سے ملی، کبھی رسیدوں کا فارنزک ہی نہیں کروایا گیا عمران خان پر کوئی الزام ثابت نہیں ہوا۔ یہ ہے پاک فوج کے جرنیلوں کی کُل اوقات اور قابلیت، ایف اے پاس بے شرم انسان ہیں جو اپنے مقابلے میں عمران خان کی طاقت دیکھ کر ایسے گھبرائے کہ دو سو جھوٹے مقدمے دائر کر دئیے اور پھ ہر پریس کانفرنس میں منہ سے جھاگ نکالتا اور اول فول جھوٹ بکتا ڈی جی آئی ایس پی آر، اس ٹولے کو واقعی کوئی شرم نہیں عمران خان چھ اور بشریٰ بی بی کی ایک کیس میں ضمانت منظور، پاک فوج کا جھوٹا بیانیہ سرعام رسوا ہو گیا نوٹ: نوکری کے لئے بوٹ چاٹنے والے پی ٹی اے کے چئیر مین اور اس کے نیچے کام کرنے والے بے شرم اہلکاروں کے نام: جاؤ اور اپنے آقاؤں کی ذلت کا پردہ چاک کرنے والوں کو اب ایک بار پھر ایکس کو رپورٹ کرو کہ یہ ٹوئیٹ صحیح نہیں ہے، امید ہے نوکری بنانے کا موقع مل جائے گا، مگر ہاں ایک دفعہ دیکھ لینا کہ باس کو ایک بار پھر ننگا کردیا ہے اس فیصلے نے

Maj (R) Asim

76,192 views • 4 months ago

یہ پڑاہے تمھارا نام نہاد اسلامی جمہوریہ پاکستان ۔۔ اک لڑکی ملک کے بڑے شہر کے شاپنگ مال میں اک نوجوان لڑکے سے پوچھتی ہے ۔۔ تم یہاں کیا کرنے اے ۔۔ نوجوان فخر سے بتاتا ہے کہ اسے چھوٹے چھوٹے بچے پسند ہیں بچیوں میں اسے کوی دلچسبی نہی ہے اینکر پھر پوچھتی تمھیں آنٹیاں پسند ہیں ۔۔ لڑکا کہتا ہے نہی مجھے پسند نہی ہیں میرے دوست نے دبئی کی آنٹی پھنسا رکھی ہے ۔۔ یہ شوان ائیر بھی ہو جاتا ہے ۔۔ یہ ہے ہماری اخلاقیات کا جنازہ کچھ تو بھرم رکھو اس ملک کے ٹھیکداروں۔۔ سرعام بچے بازی اور آنٹی بازی کو پرموٹ کیا جارہا کیا کوی قانون حرکت میں اے گا ۔۔ دوسری طرف ٹک ٹاک کھولو تو جس ویڈیو پر کلک کرو اس کے بیک گراونڈ میں عمیری اور اس کی معشوق کی فحش ڈبنگ چل رہی ہے ۔۔ اپکو معلوم ہے اگر آپ پاکستان میں کسی بھی سوشل میڈیا پر رضوی برداران کی جماعت کا نام لکھیں تو آپکو فیس بک یوٹیوب ٹک ٹاک ایکس سے اک وارننگ نوٹس ا جاتا ہے ۔۔ اگر تین بار وارننگ ا جاے تو اکاؤنٹ سسپنڈ ہو جاتا ہے ۔۔ تو پھر یہ گندا مواد کیوں نہی ڈیلیٹ کرایا جا سکتا ایسے اکاونٹس کے خلاف کیوں نہی کاروائ ہوتی ۔۔ اگر ریاست پاکستان کو سوئیڈن بنانا ہے تو پھر اسلامی جمہوریہ کا نام ختم کر دیں پھر بدفعلی کرنے والوں کو ایوارڈ دیں ۔۔
1:45

Sensitive content

یہ پڑاہے تمھارا نام نہاد اسلامی جمہوریہ پاکستان ۔۔ اک لڑکی ملک کے بڑے شہر کے شاپنگ مال میں اک نوجوان لڑکے سے پوچھتی ہے ۔۔ تم یہاں کیا کرنے اے ۔۔ نوجوان فخر سے بتاتا ہے کہ اسے چھوٹے چھوٹے بچے پسند ہیں بچیوں میں اسے کوی دلچسبی نہی ہے اینکر پھر پوچھتی تمھیں آنٹیاں پسند ہیں ۔۔ لڑکا کہتا ہے نہی مجھے پسند نہی ہیں میرے دوست نے دبئی کی آنٹی پھنسا رکھی ہے ۔۔ یہ شوان ائیر بھی ہو جاتا ہے ۔۔ یہ ہے ہماری اخلاقیات کا جنازہ کچھ تو بھرم رکھو اس ملک کے ٹھیکداروں۔۔ سرعام بچے بازی اور آنٹی بازی کو پرموٹ کیا جارہا کیا کوی قانون حرکت میں اے گا ۔۔ دوسری طرف ٹک ٹاک کھولو تو جس ویڈیو پر کلک کرو اس کے بیک گراونڈ میں عمیری اور اس کی معشوق کی فحش ڈبنگ چل رہی ہے ۔۔ اپکو معلوم ہے اگر آپ پاکستان میں کسی بھی سوشل میڈیا پر رضوی برداران کی جماعت کا نام لکھیں تو آپکو فیس بک یوٹیوب ٹک ٹاک ایکس سے اک وارننگ نوٹس ا جاتا ہے ۔۔ اگر تین بار وارننگ ا جاے تو اکاؤنٹ سسپنڈ ہو جاتا ہے ۔۔ تو پھر یہ گندا مواد کیوں نہی ڈیلیٹ کرایا جا سکتا ایسے اکاونٹس کے خلاف کیوں نہی کاروائ ہوتی ۔۔ اگر ریاست پاکستان کو سوئیڈن بنانا ہے تو پھر اسلامی جمہوریہ کا نام ختم کر دیں پھر بدفعلی کرنے والوں کو ایوارڈ دیں ۔۔

Saleem Speaks

71,466 views • 6 months ago

میرپوریو۔برمنگھم، مانچسٹر، انگلینڈ والو! تیسرے نمبر پے سب سے زیادہ پیسہ آپ پاکستان بھیجتے ہو۔ 16 لاکھ ہو آپ۔ ہر مہینے 225 ملین ڈالربھیجتے ہو۔ عمران خان نے نئے سال میں آپ سے ڈائریکٹ مدد مانگی ہے۔ جنوری میں کم پیسے بھیجنے کا آپ کو کہا ہے۔ کتنے کم؟ میں نمبر بتائوں گا۔ یہ بھی بتائوں گا کہ ہمیں پتہ کیسے چلے گا کہ جنوری کے آخر میں کامیاب ہوئے یا ناکام؟ 🔴 شروع بزنس کرنے والوں سے، کیونکہ جو کماتا زیادہ ہے لیڈ اسی کی بنتی ہے۔ 🔴 چیٹ جی پی ٹی مجھے بتاتا ہے کہ آپ تقریبا 800 پونڈ بھیجتے ہیں گھر ہر مہینے۔ آپ نے ہر مہینے 80 پونڈ کم بھیجنے ہیں گھر۔ کرلیں گے؟ 🔶 دیکھیں۔ جیب پے پریشر ڈالنا ہے حکومت کے۔ 1 یا 2 بلین ڈالر کم آئیں گے، آئی ایم ایف چیخے گا، یہ بھاگ کہ خان صاحب کے پاس جائیں گے۔ یہ سوچ کے عمران خان نے کال دی ہے۔ سمجھ رہے ہیں آپ؟ 🔴 ڈاکٹر، وکیل، آئی ٹی اسپیشلسٹ۔ بھائی، بہنیں۔ چیٹ جی پی ٹی مجھے بتاتا ہے کہ آپ تقریبا 1000 پونڈ بھیجتے ہیں واپس گھر۔ آپ نے بھیجنے ہیں100 پونڈ کم۔ 10 فیصد کم۔ 🔶کیا بولیں گے گھر والوں کو؟ کہ عمران خان کے لیے کررہا ہوں یہ؟ مذاق اڑائینگے سب۔ کیا جواب دیں گے؟ سوچا ہے؟ ابھی سوچیں۔ تاکہ ان کے سامنے کنفیوز ہوکے اپنا فیصلہ نہ بدلیں۔ 🔴الیکٹریشن،پلمبر،کارپینٹر بھائی۔ آپ تقریبا1600 پونڈ بھیجتے ہیں۔ آپ نے بھیجنے ہیں160 پونڈ کم۔ 🔶 یہ جو بھائی ہیں نہ ہمارے، یہ بیشک بزنس کرنے والوں سے کم کماتے ہیں، لیکن گھر زیادہ بھیجتے ہیں۔ بڑے بزنس کرنے والے اپنی کمائی کا 20 فیصد بھیجتے ہیں، یہ 50 فیصد۔ 🔴 تو ایک طرح سے، جو جتنا کم کماتا ہے، اس سے زیادہ بڑی قربانی مانگی جارہی ہے۔ 🔶 ایسا ہی ہوتا ہے۔ آزادی کی جنگ فئیر نہیں ہوتی۔ لیکن کوئی آپ کو مجبور نہیں کررہا۔ آپ کا فیصلہ ہے۔ سوچ کے خود لیں۔تاکہ بعد میں دوسروں کو نہ کوسیں۔ 🔴 ٹیکسی ڈرائیور، دوکاندا، ویٹر، ٹرک درائیور بھائی۔ آپ تقریبا 1000 پونڈ بھیجتے ہو مہینے کا گھر۔ آپ نے بھیجنے ہیں 100 پونڈ کم۔ 🔶ایک مشکل بات سنیں۔ ہوسکتا ہے میرے نمبر سہی نہ ہوں۔ چیٹ جی پی ٹی سے لیے ہیں، شاید نہ سہی ہوں۔ آپ نے کرنا یہ ہے کہ جتنے بھی گھر بھیجتے ہو، اس میں سے دس فیصد کم کردو۔ اگر 100 بھیجتے ہو، تو 90 بھیجو۔ یہ کرلو، تو کوئی ٹینشن نہیں۔ 🔴 بیسکلی یہ جو 225 ملین ڈالر کا نمبر ہے نہ مہینے کا، اسے 200 پے لے کے آنا ہے۔ جنوری کے اینڈ پے ہم چیک کریں گے۔ اگر دس فیصد کم کردیا، تو ان پے اثر پڑے گا۔ یہ ہمارا گول ہے۔ یہ ہم چیک کریں گے۔ اس دفعہ لڑائی پراپر طریقے سے لڑیں گے۔ 🔶 کبھی سوچا تھا عمران خان نیا سال جیل میں گزارے گا؟ میں نے سوچا تھا۔ کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ جب فیصلہ کرلے نا کہ کسی کو اوپر لے کے جانا ہے، تو پھر وہ اسے نیچے لے کے جاتا ہے۔ 🔶پریشر سے گزر کے سونا بنتا ہے۔ اور جتنی چمک زیادہ، اتنا پریشر زیادہ۔ 🔶عمران خان نے کہا تھا اللّٰہ کے بعد آپ کا میرا انتظار کرے گا۔ ٹائم آگیا ہے۔ ضرورت سے زیادہ پریشر بھی اچھا نہیں ہوتا۔ 🔴یہ مسیج پھیلاسکتے ہیں؟ وٹس ایپ گروپس میں؟ دیکھیں۔ وٹس ایپ گروپ میں مسیج چلتا ہے تو گھر گھر پہنچتا ہے۔ ہر کوئی ٹک ٹاک نہیں دیکھتا۔ ایکس توپاکستان میں صرف وہ لوگ دیکھتے ہیں جن کا سیاست کے علاوہ اور کوئی کام نہیں۔ 🔴یوکے کو ہر پاکستانی جڑے گا تو بات بنے گی۔ بنائیں بات۔ بسم اللّٰہ کریں۔ ایاک نعبد و ایاک نستعین اللّٰہ تجھ سے ڈرتے ہیں اور کسی سے نہیں

Bilal Ansar Khan

35,978 views • 1 year ago

ایک آدمی جس کے پاس آلات یا کوئی مشنری نہیں تھی ہمت حوصلے اور جذبے کی بنیاد پر گل پلازہ آتشزدگی کے دوران پھنسے کئی شہریوں کو ریسکیو کیا اور آج جوڈیشل کمیشن کے سامنے کے ایم سی، ریسکیو 1122 سمیت کئی اداروں کے دعووں کو کھلا ایکسپوز کردیا ہوا کچھ یوں کہ جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں قائم جوڈیشل کمیشن کے سامنے دانش نامی نوجوان نے بیان ریکارڈ کروایا اور کمیشن کے سوالات کا کھل کر جواب دیا جس کے بعد ریسیکیو کے نام تماشا لگانے والوں کی کھٹیا کھڑی ہوتی نظر آرہی ہے محمد دانش نے واقعہ کے دوران لوگوں کو ریسکیو کیا اور بیان میں کہا کہ نجی شعبہ میں فائر سیفٹی کے کورسز کئے ہوئے ہیں ،،دس بجکر بیس سے پچیس منٹ پر ناز پلازہ سے ڈیوٹی ختم کرنے نکلاتو گل پلازہ سے دھواں نکلتا دیکھا،لوگ اپنا سامان نکال رہے تھے میں نے کہا کہ اگر میں تربیت یافتہ ہوں مجھے کچھ سامان نکالنے میں مدد کرنی چاہیئےمجھے فائر بیریگیڈ اہلکاروں سے دو سیڑیاں ملیں کوشش کی فائر مین ایکس اور لاک کٹر نہیں ملے،،رسیکو والوں نے بتایا کہ ہمارے پاس صرف سیڑیاں ہی موجود ہیں، میں سیڑھی لگا کر عمارت کی پہلی منزل پر گیا، وہاں سے سیڑھی اے سی آؤٹر میں پھنسا کر دوسری منزل پر گیا، ایدھی اہلکار نے نیچے سے سیڑھی کو سپورٹ دی ، پھنسے ہوئے لوگوں سے کہا کہ جو زیادہ خراب حالت میں ہیں انکو پہلے اترنے دیا جائے اس دوران لوگوں کو کہا کہ اپنا سر نیچے رکھیں تاکہ دھویں کے اثرات کم کئے جاسکیں اس دوران چھ سے سات لوگوں کو ریسکیو کیا آخری لوگ بے ہوش ہوچکے تھے اگر میں اہنے منہ پر رومال نا رکھتا تو میرے لئے بھی ریسکیو ممکن نہین تھا، گیس ماسک کے بغیر ریسکیو ناممکن تھا جسٹس فیصل نے سوال کیا کہ فائر اہلکاروں کے پاس ماسک تھے؟ دانش کے جواب نے کمرے میں موجود سب کو ہکا بکا کردیا نوجوان نے انکشاف کیا کہ وہ ریسکیو والے صرف عمارت پر پانی مار رہے تھے ماسک نہیں تھے انکے پاس ، کمیشن نے پھر سوال کیا کہ کیا لوگوں کو ریسکیو کیا جاسکتا تھا؟ نوجوان نے آگ اوپر کے فلور پر نہیں تھی اگر ریسکیو کیا جاتا تو لوگوں کو بچایا جاسکتا تھاکھڑکیوں کے بلاک توڑ دیئے جاتے تو لوگوں کو وہاں سے بھی ریسکیو کیا جاسکتا تھا، معزز جج نے پھر سوال کیا کہ آپ نے بیان میں کہا کہ فائر اہلکار تربیت یافتہ یا پروفیشنلی کام نہیں کررہے تھے؟ جس پر نوجوان نے بتایا کہ عمارت کے ریمپ کے ساتھ فائر ٹینڈر کھڑا تھا اوپر سے. ساننے پھنسا ہوا شہری اشارہ کررہا تھا بچالو تو اس کو رسیکو اہلکاروں نے بولا کہ اوپر چلے جاؤ اہلکار چاہتے تو سیڑھی لگا کر اسکو بچا سکتے تھے۔۔۔۔۔۔ نوجوان نے کہا رمپا پلازہ کے فائر ہائیڈرنٹ سسٹم سے آگ بجھانے کی کوشش کی گیارہ بجے کے قریب رمپا پلازہ سے گل پلازہ کی چھت پر گیا کمیشن نے پوچھا کہ چھت پرُکیسے گئے؟ تو دانش نے جواب دیا کہرمپا پلازہ والوں نے سیڑھی لگائی ہوئی تھی چھت پر دھواں تھا جنریٹر میں آگ لگی تھی کمیشن نے پوچھا کہ چھت کا فرش بہت گرم تھا؟ دانش کے مطابق گل پلازہ کی بہت گرم نہیں تھی ، چھت پر چار لوگ ایک کونے میں بیٹھے تھے جنکو راستہ نہیں ملا تھا جب پہلی بار اندر گئے تب آگ اتنی نہیں تھی دھواں تھا،آدھے گھنٹے تک عمارت میں رسائی ممکن تھی اس دوران جسٹس آغا فیصل نے کہا آپ کے بیان میں فائر اور ریسکیو کی کارگردگی پر سوالات اٹھے ہیں ہمیں انکو موقع دینا ہوگا کہ دانش کے بیان پر جرح کرسکیں اور کمیشن نے اجلاس ملتوی کردیا

Shahid Hussain

24,681 views • 4 months ago

لاہور آدمی کو بوڑھا نہیں ہونے دیتا کرشن چندر کسی شہر میں رہنا اور کسی شہر میں بسنا دو مختلف کیفیات ہیں لاہور میں رہنا نہیں بسنا پڑتا ہے پھر لاہور آپکے دل میں بس جاتا ہے اور ایسا بستا ہے کہ پھر کوئی اور اس دل میں بس نہیں سکتا مہرالنساء لاہور میں نور جہاں بن کر آسودۂ خاک ہوئیں لاہور سے انہیں بڑی محبت تھی جس کا اظہار اس لازوال شعر کی صورت میں کیا لاہور را بہ جان برابر خریدہ ایم جاں دادہ ایم و جنتِ دیگر خریدہ ایم (لاہور کو ہم نے جان کے برابر قیمت پر حاصل کیا ہے۔ ہم نے جان قربان کر کے نئی جنت خرید لی ہے) پطرس بخاری نے کہا تھا کہ لاہور کے کاٹے کا علاج نہیں کرشن چندر نے لکھا کہ لاہور آدمی کو بوڑھا نہیں ہونے دیتا مشہور افسانہ نگار کرشن چندر لاہور میں رہے ایف سی کالج میں تعلیم پائی وہ اس شہر سے بے پناہ محبت کرتے تھے آزادی کے وقت ہندوستان جانے کے بعد بھی اپنی روح لاہور ہی میں چھوڑ گئے اس شہر کا تذکرہ وہ کسی بچھڑے ہوئے محبوب کی طرح رقت آمیز لہجے میں کیا کرتے تھے وہ لاہور سے آنے والوں کو بڑی حسرت سے دیکھتے اور اپنے محبوب شہر کی گلی کوچوں، بازاروں، عمارتوں، باغوں کا تفصیل سے حال پوچھتے کرشن چندر نے احمد ندیم قاسمی کے نام اپنے خط میں لکھا کہ لاہور کا ذکر تو کجا، اس شہر کے بارے میں سوچتا بھی ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں راجندر سنگھ بیدی جنہوں نے اپنے ادبی سفر کا آغاز محسن لاہوری کے قلمی نام سے کیا تھا مرتے دم تک لاہور کے عشق میں گرفتار رہے لاہور کی باتیں کرتے ہوئے ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ جاتی ایک مرتبہ ٹی وی پر انٹرویو کے دوران لاہور کا ذکر آیا تو پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اے حمید برما میں قیام کے دوران اپنی جنم بھومی امرتسر کی بجائے لاہور کو یاد کیا کرتے تھے وہ کہا کرتے تھے کہ لاہور کا نام زبان پر آتے ہی طلسم و اسرار کی الف لیلہ کا ایک باب کھل جاتا ہے لاہور ایک شہر ہی نہیں، یہ ایک کیفیت کا نام ہے سید احمد شاہ پطرس بخاری کا شمار بھی لاہور کے سچے عاشقوں میں ہوتا تھا نیویارک میں قیام کے دوران انہوں نے صوفی تبسم کے نام ایک خط میں پوچھا، "کیا راوی اب بھی مغلوں کی یاد میں آہیں بھرتا ہے؟" گویا یہ شہر اپنے عاشقوں کے اعصاب پر ایسا سوار ہوتا ہے کہ وہ کبھی کسی دوسری جگہ پر سکون نہیں پا سکتے جمنا داس اختر، گوپال متل، پران نوائل، اور ان جیسے کئی قلمکار آزادی کے بعد لاہور سے کوچ کر گئے، لیکن ان کا دل لاہور ہی میں اٹکا رہا معروف شاعرہ شبنم شکیل لاہور کے ہجر میں غزلیں کہتی رہیں بھارتی فلمی اداکار پران، اوم پرکاش، دیو آنند، یش چوپڑا، اور ناول نگار بپسی سدھوا جیسے مشاہیر لاہور کی بزم سے اٹھ جانے کے باوجود اس کی طرف بار بار مڑ کر دیکھتے رہے اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ لاہور ایک کیف و مستی کا نام ہے ایک نشہ ہے جو طاری ہوجائے تو اترنے کا نام نہیں لیتا پیدا ہونے کے لئے لاہور کے درشن کرنا بھی ضروری ہے کجھ روز گزار کے جنت وچ سب درشن کر لئے حوراں دے جدوں پی لئے جام انگوراں دے اک بابے غم نال آہ بھری نالے بات کہی اک صاف کھری ایتھے ٹشن بڑی نالے ٹور وی اے جو لبھنے ساں او دور وی اے پر میریا مولا دس مینوں کوئی جنت تیری ہور وی اے؟ جتھے وسدے نے سب دل والے جتھے دسدا شہر لاہور وی اے۔۔! #لاہور_لاہور_اے❤️ 👆یہ تحریر مجھے واٹس ایپ پر موصول ہوئی لکھنے والے کا نام معلوم نہیں جنہوں نے بھیجی کم از کم اُنہوں نے تو نہیں لکھی😝 مگر تحریر خوبصورت اور زندگی کا احساس لئیے ہوۓ ہے اسلئیے میں آپکے ساتھ شئیر کر رہا ہوں میں دنیا کے 70 سے زیادہ مختلف شہر دیکھنے کے بعد شاید اس تحریر سے زیادہ خوبصورت احساس اپنے شہر لاہور کے لئیے رکھتا ہوں مگر میرے پاس الفاظ کا فقدان ہے اتنا ضرور لکھوں گا کہ لاہور شہر کے حسن اور طلسم جیسا دنیا میں کوئی دوسرا شہر میں نہیں لاہور دنیا میں ایک ہی ہے❤️ لاہور سے سڑنے والے اس پوسٹ سے دور رہیں ورنہ میں تُہانو پورا ساڑ دینا 😝😝😝

کاشف چوہدری

31,854 views • 2 years ago

کیا عمران ریاض کی روپوشی کا موازنہ مراد سعید کی روپوشی سے کیا جا سکتا ہے؟ عمران ریاض پریگیڈیئر کے خلاف گواہی دینے سے بھاگ چکے، یہ والا باب بند ہوا، چنانچہ میں اس حوالے سے لکھنا نہیں چاہتا تھا، لیکن ان کے پرستار ہیں کہ بار بار مراد سعید کی رو پوشی سے ان کا موازنہ کرتے ہیں، چنانچہ سوچا کہ اس حوالے سے بھی کچھ لکھ ہی دوں۔ کیا اج کی تاریخ میں روپوش ہوا جا سکتا ہے؟ جواب ہے ہاں۔ اگر اپ Jack Reacher Mode پر چلے جائیں۔ اپ اے ٹی ایم کارڈ استعمال کریں نہ ٹیلی فون۔ آپ اکیلے ہوں، اپ کے پاس کیش ہو، اپ کسی جگہ پر چھپ کر بیٹھ جائیں جہاں اپ کی ضروریات زندگی پوری ہوتی رہیں، تو اپ روپوش رہ سکتے ہیں۔ ملا عمر کافی عرصہ اسی طرح روپوش رہے۔ لیکن عمران ریاض کا کیس بہت مختلف ہے۔ بہت ہی زیادہ۔ اس حوالے سے ان کا ثمینہ پاشا کو دیا ہوا انٹرویو، بہت ساری چیزیں واضح کر دیتا ہے۔ اس کے کچھ حصے نیچے والی ویڈیو میں موجود ہیں۔ آئیے ان کا جائزہ لیتے ہیں۔ عمران ریاض کہتے ہیں کہ جب وہ خیبر پختون خواہ میں تھے تو ان کے ساتھ 10 لوگ ہوا کرتے تھے۔ اتنے زیادہ لوگ بڑی آسانی سے ٹریس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی گاڑی کے ساتھ ٹریکر لگا ہوا ملا۔ دوسرے الفاظ میں، عمران ریاض خود مانتے ہیں کہ وہ مسلسل نگاہوں میں تھے۔ پھر عمران ریاض کہتے ہیں کہ بعد میں ان کے ساتھ صرف ایک ہی بندہ رہا۔ مان لیا۔ پھر اگے وہ یہ کہتے ہیں کہ ایجنسیاں اتنی نکمی ہیں کہ وہ پورا پاکستان گھومتے رہے، خیبر پختون خواہ سے بلوچستان گئے تو سندھ بھی۔ اور تو اور، شاید کسی شادی پر بھی گئے۔ ہسپتال میں بھی گئے جہاں میلہ لگ گیا۔ سوال پھر یہی پیدا ہوتا ہے کہ کیا ائی بی، ائی ایس ائی، ایم ائی، اور سپیشل برانچ اتنی نکمی ہیں کہ ان کو ان حرکات کی خبر تک نہ ہو سکی؟ کوٹلیہ چانکیہ کے دور میں جاسوسی کا فن اس کمال پر تھا کہ کہا جاتا ہے کہ سکندر اعظم بھی اس سے خائف رہا۔ اکاؤنٹنگ کی طرح، اس شعبے میں بھی کم ازکم ڈبل چیک تو ضرور ہوتا ہے، مخبر کے پیچھے بھی کوئی مخبر ہوتا ہے، تہہ در تہہ ایک پیچیدہ نظام، جو خاموشی سے بہت کچھ دیکھ رہا ہوتا ہے۔ لیکن، ٹارزن بھیا ہیں کہ اس سارے نظام کو واڑتے ہوئے پورے پاکستان میں پھر رہے ہیں۔ چلیے ان کی یہ بات مان لیتے ہیں۔ یہ ایجنسیاں واقعی اتنی ہی نکمی ہیں۔ مگر جب یہ عمان پہنچتے ہیں، تو دوسرے تیسرے دن، بقول عمران ریاض کے، ایجنسیوں کو خبر ہو جاتی ہے اور یہ عمان سے بھی بھاگ نکلتے ہیں۔ خود کہتے ہیں کہ تین ملکوں کا ویزہ تھا میرے پاس، لیکن بھاگتے بھاگتے یہ سات ملکوں کی سیر کر جاتے ہیں۔ یہ پاکستان میں تو ہر جگہ گھومے، کسی کو خبر تک نہ ہوئی، لیکن جونہی عمان پہنچے، ایجنسیوں کے کن ٹٹے طمنچہ لیے ان کے پیچھے پیچھے تھے۔ یہ جس جگہ بھی جاتے، انہیں دو تین دن میں وہ جگہ چھوڑنی پڑتی۔ بقول انہی کے، ان کی فیملی سال بھر پہلے، اس ملک میں منتقل ہوئی۔ انہوں نے ویزہ لیا، ایئرپورٹ سے سفر کیا ہو گا، ایجنسیاں اتنی نکمی تھیں کہ انہیں پھر بھی پتہ نہ چل سکا کہ وہ کس ملک میں گئے ہیں ! لیکن جب عادل راجہ نے پوسٹ کر کے بتایا کہ اپ کے ویزے کا انتظام ہو گیا ہے، تو انہوں نے دہائی ڈال دی کہ میری فیملی کی لوکیشن یعنی موجودہ ملک بتا کر ان کی جان خطرہ میں ڈالی۔ اس کے بعد یہ لٹھ لے کر چڑھ دوڑے، نتھنے پھول گئے اور سانسیں چڑھ گئیں۔ اگر ایجنسیوں کو پہلے ہی پتہ چل چکا تھا کہ عمران ریاض کہاں پہنچ چکے ہیں، ان کی فیملی کہاں ہے، تو پھر عادل راجہ پر غصہ کس لیے؟ سلمان احمد سے شکایتیں کیوں؟ انہوں نے تو بہت بعد میں یہ پوسٹ کی ! اگر صرف عمان کا نام لینے سے ہی آپ کی فیملی کی جان خطرہ میں پڑتی ہے، تو اپنی فیملی کی جان تو آپ نے خود خطرہ میں ڈالی۔ آپ عمان پہنچے، دوسرے تیسرے دن نکمی ایجنسی کو پتہ چل گیا کہ آپ کہاں ہیں۔ اور جب آپ کی فیملی کی جان خطرہ میں آئی تو آپ نے کیا کیا؟؟ بہت ہی بہادری کا کام۔ آپ نے دم دبائی اور اپنی فیملی کو اللہ کے حوالے کر کے بھاگ نکلے ! آپ نے ایک لمحہ کے لیے نہیں سوچا کہ ایجنسی کے کن ٹٹے آپ کی فیملی کے ساتھ کیا کیا کر سکتے ہیں۔ آپ کو صرف اپنی جان کی پڑی تھی، آپ نے اپنے بچوں کو چھوڑا، بیوی کی پروا نہیں کی، والدین کا نہیں سوچا، بس بھاگ نکلے۔ سوری، یہ میں الزام نہیں لگا رہا، آپ بلواسطہ کہہ رہے ہیں، جب آپ کہتے ہیں کہ جب مجھے کچھ اشارے ملے تو میں بھاگ گیا۔ آپ نے کبھی کہیں نہیں کہا کہ آپ اپنی فیملی کی حفاظت کے لیے کچھ کر کے گئے !! سوال پھر وہی کہ فیملی کو ایکسپوز آپ نے خود کیا، ان کی جان آپ نے خود خطرہ میں ڈالی، اور پھر بھاگے بھی خود، تو عادل راجہ اور سلمان احمد پر غصہ کیوں؟ ان کے خلاف مہم کیوں چلائی؟ عمران ریاض کہتے ہیں کہ افغانستان پہنچے تو ان کے پاسپورٹ پر اینٹری کی مہر نہ تھی۔ مان لیا۔ پھر کہتے ہیں کہ میرے زخموں میں انفیکشن ہو گیا تھا ان سے خون بہتا تھا۔ یہ بھی مان لیا۔ پھر کہتے ہیں کہ میں انٹری کی مہر لگوانے کے لیے کسی کو پاسپورٹ نہیں دیتا تھا، یہ بھی مان لیا۔ اب یہ بات سمجھ نہیں اتی کہ کیا ایجنسی کو پتہ نہیں چلا کہ عمران ریاض کہاں ہیں؟ عمان پہنچے تو دوسرے تیسرے دن پتہ چل گیا، پڑوس میں افغانستان ہے، آپ اس کے کسی سرحدی مقام پر ہی ہوں گے، سرحدی علاقوں میں عام طور پر ایجنسیوں اور مخبروں کا بہت مضبوط نیٹ ورک ہوتا ہے، آئی ایس آئی تو 45 سال سے مسلسل ایکٹو ہے افغانستان میں، وہاں تو پنجابی ٹرک ڈرائیور کو بھی ایجنسی کا ایجنٹ سمجھ لیا جاتا یے، لیکن ایجنسی اتنی نکمی تھی کہ اس کو خبر ہی نہ ہو سکی۔ مقامی لوگوں نے بھی نوٹ نہیں کیا۔ نہ مخبروں کو پتہ چل سکا۔ لیکن جونہی عمران ریاض عمان پہنچتے ہیں، پاکستان کی ایجنسیاں اچانک بہت پروفیشنل ہو جاتی ہیں۔ کون سی بات مانیں اور کون سی نہیں؟ آپ ہی بتا دیں۔ عمران ریاض ایک جگہ پر کہتے ہیں کہ میرے دوستوں نے موبائل پر ایسی سیٹنگ کر کے دی ہوئی ہے کہ ایجنسیاں ٹریس ہی نہیں کر سکتیں۔ مان لیا۔ مگر دوسری جگہ پر کہتے ہیں کہ اگر میں نے یہ بتایا کہ میں نے کہاں سے بارڈر کراس کیا، تو فون ریکارڈز سے ایجنسیاں ان لوگوں تک پہنچ سکتی ہیں جن سے میں رابطے میں تھا۔ اگر پہلی بات مان لیں تو یہ کیسے مان لیں؟ اپ کا تو فون ٹریس ہی نہیں ہو سکتا تھا !! ثمینہ پاشاہ کے انٹرویو میں اپ کہتے ہیں کہ بارڈر کراس کرتے ہوئے اپ کو چوٹ لگی۔ دو زخم ائے۔ آفتاب اقبال کے پروگرام میں مگر آپ کہتے ہیں کہ بھیڑیے نے حملہ کیا تھا۔ کہیں اپ یہ شکوہ کرتے ہیں کہ اپ کا کاروبار تباہ ہو گیا۔ دوسری طرف اپ یہ کہتے ہیں کہ میں صحافی ہوں میرا کوئی کاروبار نہیں۔ پھر وہی سوال، کہ کون سی بات ماننی ہے؟ اپ کہتے ہیں کہ میرے پاس 9 واٹس ایپ نمبرز ہیں۔ اپ کو ایک بندہ ہر دفعہ نئے نمبر سے کال کر کے بتاتا ہے کہ اب ریڈ ہونے والی ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ اس کی کال کے سات منٹ بعد ریڈ ہوگئی۔ کوئی منہ اٹھا کر فون کر دیتا ہے کہ کشتی میں ڈنکی لگواتا ہوں، دوسری طرف جنرل فیض جب چیف تھے، تو وہ بیچارے صحافیوں کے ترلے کرتے پھرتے تھے کہ خدا کے لیے، میری عمران ریاض سے بات کروا دو، لیکن ان کی بات نہ ہو پائی۔ ابھی اگلے روز ہی طارق متین نے پوسٹ کی ہوئی تھی کہ میں نے عمران ریاض سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ہو نہیں پایا۔ دوسری طرف اپ کا مخبر ہر بار نئے نمبر سے کال کرتا یے، جسے آپ اٹینڈ بھی کرتے ہیں۔ کون سی سائنس ہے یہ ؟ میری عمران ریاض سے گزارش ہے کہ ائندہ کبھی ایسی کوئی کہانی بنانی ہو تو بہتر ہے کہ Frederick Forsyth کے کچھ ناول پڑھ لیں، تاکہ آپ کی کہانی کچھ قابلِ یقین لگے، Pierce Brosnan کی فلم November Man کی طرح۔ صاحب بات یہ ہے کہ جناب کے انٹرویو میں اتنے زیادہ تضادات ہیں کہ ایک چھوٹی سی کتاب لکھی جا سکتی ہے ان پر۔ مجھے سچ میں اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ اتنا زیادہ ڈرامہ کیوں؟ عمران ریاض کی کہانی پر فلم بنائی جائے، تو یقین مانیے فلم بنانے کے بعد ہی پتہ چلے گا کہ یہ کامیڈی فلم بن گئی یا تھرلر، رونا ہے یا ہنسنا ہے۔ حد ہوتی ہے چھوڑنے کی۔ ادھر عمران ریاض اپنی درد بھری کہانی سناتے ہیں، ادھر پاکستانی مسلم خواتین مصلے پر گر کر دعاؤں میں لگ جاتی ہیں، بچے رونے لگ جاتے ہیں، مردوں کے چہرے لٹک جاتے ہیں کہ شائد اب وطن دشمن عمران ریاض کو نہ چھوڑیں گے، بعد میں خواتین ایکس پر کہہ رہی ہوتی ہیں کہ عمران ریاض سے سوال نہ پوچھیے ، انہوں نے بہت کچھ سہا ہے۔ مرد یاد کرواتے رہتے ہیں کہ مراد سعید بھی غائب ہے۔ اعتماد عمران ریاض کا بھی دیکھیے۔ بے دھڑک چھوڑے چلے جاتے ہیں۔ وہ اس جھنجھٹ میں نہیں پڑتے کہ کہانی میں کوئی منطق ہے یا نہیں، کیونکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ پاکستانی قوم پھدو بننے کو ہر وقت تیار رہتی ہے، بلکہ پھدو بنانے والوں کا سواگت پھولوں کی پتیوں سے کرتی ہے، اور انہیں اپنے سر پر بٹھاتی ہے۔ وگرنہ ایسی بے سر و پا رام لیلا سنانے کی ہمت وہ کبھی نہ کرتے۔ خیر موضوع کی طرف واپس اتے ہیں، مراد سعید اور عمران ریاض، دونوں کی کہانی اور حالات مکمل مختلف ہیں۔ عمران ریاض نے مگر کمال ہوشیاری سے اپنے آپ کو مراد سعید کے پہلو میں کھڑا کر دیا۔ باریک واردات کسے کہتے ہیں؟ اسے ہی کہتے ہیں !!

Kashif Aslam

140,092 views • 8 months ago