正在加载视频...

视频加载失败

شاوشے چساں چاو ہن ایکس ٹوئیٹر والوں 😝

22,605 次观看 • 6 个月前 •via X (Twitter)

8 条评论

viki viki 的头像
viki viki6 个月前

😅

وطن پرست 🇵🇰 的头像
وطن پرست 🇵🇰6 个月前

@javed7752 🤣

Tahir Waseem Chaudhary 的头像
Tahir Waseem Chaudhary6 个月前

😳😳😳

Awan 的头像
Awan6 个月前

😂😂

Fahim Aqil 的头像
Fahim Aqil6 个月前

😂😂😂😂😂😂😂😂😂😂😄😄

Sabir piracha 的头像
Sabir piracha6 个月前

😂😂😂😂

𝐁𝐞𝐩𝐞𝐞𝐫 🇵🇰 的头像
𝐁𝐞𝐩𝐞𝐞𝐫 🇵🇰6 个月前

😝

Rashid Malik 的头像
Rashid Malik6 个月前

😂

相关视频

نہ توشہ خانہ، نہ ۹ مئی، نہ فوج کے خلاف کوئی بیان ثابت ہوا، رسیدیں سوشل میڈیا سے ملی، کبھی رسیدوں کا فارنزک ہی نہیں کروایا گیا عمران خان پر کوئی الزام ثابت نہیں ہوا۔ یہ ہے پاک فوج کے جرنیلوں کی کُل اوقات اور قابلیت، ایف اے پاس بے شرم انسان ہیں جو اپنے مقابلے میں عمران خان کی طاقت دیکھ کر ایسے گھبرائے کہ دو سو جھوٹے مقدمے دائر کر دئیے اور پھ ہر پریس کانفرنس میں منہ سے جھاگ نکالتا اور اول فول جھوٹ بکتا ڈی جی آئی ایس پی آر، اس ٹولے کو واقعی کوئی شرم نہیں عمران خان چھ اور بشریٰ بی بی کی ایک کیس میں ضمانت منظور، پاک فوج کا جھوٹا بیانیہ سرعام رسوا ہو گیا نوٹ: نوکری کے لئے بوٹ چاٹنے والے پی ٹی اے کے چئیر مین اور اس کے نیچے کام کرنے والے بے شرم اہلکاروں کے نام: جاؤ اور اپنے آقاؤں کی ذلت کا پردہ چاک کرنے والوں کو اب ایک بار پھر ایکس کو رپورٹ کرو کہ یہ ٹوئیٹ صحیح نہیں ہے، امید ہے نوکری بنانے کا موقع مل جائے گا، مگر ہاں ایک دفعہ دیکھ لینا کہ باس کو ایک بار پھر ننگا کردیا ہے اس فیصلے نے

Maj (R) Asim

76,192 次观看 • 6 个月前

یہ پڑاہے تمھارا نام نہاد اسلامی جمہوریہ پاکستان ۔۔ اک لڑکی ملک کے بڑے شہر کے شاپنگ مال میں اک نوجوان لڑکے سے پوچھتی ہے ۔۔ تم یہاں کیا کرنے اے ۔۔ نوجوان فخر سے بتاتا ہے کہ اسے چھوٹے چھوٹے بچے پسند ہیں بچیوں میں اسے کوی دلچسبی نہی ہے اینکر پھر پوچھتی تمھیں آنٹیاں پسند ہیں ۔۔ لڑکا کہتا ہے نہی مجھے پسند نہی ہیں میرے دوست نے دبئی کی آنٹی پھنسا رکھی ہے ۔۔ یہ شوان ائیر بھی ہو جاتا ہے ۔۔ یہ ہے ہماری اخلاقیات کا جنازہ کچھ تو بھرم رکھو اس ملک کے ٹھیکداروں۔۔ سرعام بچے بازی اور آنٹی بازی کو پرموٹ کیا جارہا کیا کوی قانون حرکت میں اے گا ۔۔ دوسری طرف ٹک ٹاک کھولو تو جس ویڈیو پر کلک کرو اس کے بیک گراونڈ میں عمیری اور اس کی معشوق کی فحش ڈبنگ چل رہی ہے ۔۔ اپکو معلوم ہے اگر آپ پاکستان میں کسی بھی سوشل میڈیا پر رضوی برداران کی جماعت کا نام لکھیں تو آپکو فیس بک یوٹیوب ٹک ٹاک ایکس سے اک وارننگ نوٹس ا جاتا ہے ۔۔ اگر تین بار وارننگ ا جاے تو اکاؤنٹ سسپنڈ ہو جاتا ہے ۔۔ تو پھر یہ گندا مواد کیوں نہی ڈیلیٹ کرایا جا سکتا ایسے اکاونٹس کے خلاف کیوں نہی کاروائ ہوتی ۔۔ اگر ریاست پاکستان کو سوئیڈن بنانا ہے تو پھر اسلامی جمہوریہ کا نام ختم کر دیں پھر بدفعلی کرنے والوں کو ایوارڈ دیں ۔۔
1:45

Sensitive content

یہ پڑاہے تمھارا نام نہاد اسلامی جمہوریہ پاکستان ۔۔ اک لڑکی ملک کے بڑے شہر کے شاپنگ مال میں اک نوجوان لڑکے سے پوچھتی ہے ۔۔ تم یہاں کیا کرنے اے ۔۔ نوجوان فخر سے بتاتا ہے کہ اسے چھوٹے چھوٹے بچے پسند ہیں بچیوں میں اسے کوی دلچسبی نہی ہے اینکر پھر پوچھتی تمھیں آنٹیاں پسند ہیں ۔۔ لڑکا کہتا ہے نہی مجھے پسند نہی ہیں میرے دوست نے دبئی کی آنٹی پھنسا رکھی ہے ۔۔ یہ شوان ائیر بھی ہو جاتا ہے ۔۔ یہ ہے ہماری اخلاقیات کا جنازہ کچھ تو بھرم رکھو اس ملک کے ٹھیکداروں۔۔ سرعام بچے بازی اور آنٹی بازی کو پرموٹ کیا جارہا کیا کوی قانون حرکت میں اے گا ۔۔ دوسری طرف ٹک ٹاک کھولو تو جس ویڈیو پر کلک کرو اس کے بیک گراونڈ میں عمیری اور اس کی معشوق کی فحش ڈبنگ چل رہی ہے ۔۔ اپکو معلوم ہے اگر آپ پاکستان میں کسی بھی سوشل میڈیا پر رضوی برداران کی جماعت کا نام لکھیں تو آپکو فیس بک یوٹیوب ٹک ٹاک ایکس سے اک وارننگ نوٹس ا جاتا ہے ۔۔ اگر تین بار وارننگ ا جاے تو اکاؤنٹ سسپنڈ ہو جاتا ہے ۔۔ تو پھر یہ گندا مواد کیوں نہی ڈیلیٹ کرایا جا سکتا ایسے اکاونٹس کے خلاف کیوں نہی کاروائ ہوتی ۔۔ اگر ریاست پاکستان کو سوئیڈن بنانا ہے تو پھر اسلامی جمہوریہ کا نام ختم کر دیں پھر بدفعلی کرنے والوں کو ایوارڈ دیں ۔۔

Saleem Speaks

71,466 次观看 • 8 个月前

ایک آدمی جس کے پاس آلات یا کوئی مشنری نہیں تھی ہمت حوصلے اور جذبے کی بنیاد پر گل پلازہ آتشزدگی کے دوران پھنسے کئی شہریوں کو ریسکیو کیا اور آج جوڈیشل کمیشن کے سامنے کے ایم سی، ریسکیو 1122 سمیت کئی اداروں کے دعووں کو کھلا ایکسپوز کردیا ہوا کچھ یوں کہ جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں قائم جوڈیشل کمیشن کے سامنے دانش نامی نوجوان نے بیان ریکارڈ کروایا اور کمیشن کے سوالات کا کھل کر جواب دیا جس کے بعد ریسیکیو کے نام تماشا لگانے والوں کی کھٹیا کھڑی ہوتی نظر آرہی ہے محمد دانش نے واقعہ کے دوران لوگوں کو ریسکیو کیا اور بیان میں کہا کہ نجی شعبہ میں فائر سیفٹی کے کورسز کئے ہوئے ہیں ،،دس بجکر بیس سے پچیس منٹ پر ناز پلازہ سے ڈیوٹی ختم کرنے نکلاتو گل پلازہ سے دھواں نکلتا دیکھا،لوگ اپنا سامان نکال رہے تھے میں نے کہا کہ اگر میں تربیت یافتہ ہوں مجھے کچھ سامان نکالنے میں مدد کرنی چاہیئےمجھے فائر بیریگیڈ اہلکاروں سے دو سیڑیاں ملیں کوشش کی فائر مین ایکس اور لاک کٹر نہیں ملے،،رسیکو والوں نے بتایا کہ ہمارے پاس صرف سیڑیاں ہی موجود ہیں، میں سیڑھی لگا کر عمارت کی پہلی منزل پر گیا، وہاں سے سیڑھی اے سی آؤٹر میں پھنسا کر دوسری منزل پر گیا، ایدھی اہلکار نے نیچے سے سیڑھی کو سپورٹ دی ، پھنسے ہوئے لوگوں سے کہا کہ جو زیادہ خراب حالت میں ہیں انکو پہلے اترنے دیا جائے اس دوران لوگوں کو کہا کہ اپنا سر نیچے رکھیں تاکہ دھویں کے اثرات کم کئے جاسکیں اس دوران چھ سے سات لوگوں کو ریسکیو کیا آخری لوگ بے ہوش ہوچکے تھے اگر میں اہنے منہ پر رومال نا رکھتا تو میرے لئے بھی ریسکیو ممکن نہین تھا، گیس ماسک کے بغیر ریسکیو ناممکن تھا جسٹس فیصل نے سوال کیا کہ فائر اہلکاروں کے پاس ماسک تھے؟ دانش کے جواب نے کمرے میں موجود سب کو ہکا بکا کردیا نوجوان نے انکشاف کیا کہ وہ ریسکیو والے صرف عمارت پر پانی مار رہے تھے ماسک نہیں تھے انکے پاس ، کمیشن نے پھر سوال کیا کہ کیا لوگوں کو ریسکیو کیا جاسکتا تھا؟ نوجوان نے آگ اوپر کے فلور پر نہیں تھی اگر ریسکیو کیا جاتا تو لوگوں کو بچایا جاسکتا تھاکھڑکیوں کے بلاک توڑ دیئے جاتے تو لوگوں کو وہاں سے بھی ریسکیو کیا جاسکتا تھا، معزز جج نے پھر سوال کیا کہ آپ نے بیان میں کہا کہ فائر اہلکار تربیت یافتہ یا پروفیشنلی کام نہیں کررہے تھے؟ جس پر نوجوان نے بتایا کہ عمارت کے ریمپ کے ساتھ فائر ٹینڈر کھڑا تھا اوپر سے. ساننے پھنسا ہوا شہری اشارہ کررہا تھا بچالو تو اس کو رسیکو اہلکاروں نے بولا کہ اوپر چلے جاؤ اہلکار چاہتے تو سیڑھی لگا کر اسکو بچا سکتے تھے۔۔۔۔۔۔ نوجوان نے کہا رمپا پلازہ کے فائر ہائیڈرنٹ سسٹم سے آگ بجھانے کی کوشش کی گیارہ بجے کے قریب رمپا پلازہ سے گل پلازہ کی چھت پر گیا کمیشن نے پوچھا کہ چھت پرُکیسے گئے؟ تو دانش نے جواب دیا کہرمپا پلازہ والوں نے سیڑھی لگائی ہوئی تھی چھت پر دھواں تھا جنریٹر میں آگ لگی تھی کمیشن نے پوچھا کہ چھت کا فرش بہت گرم تھا؟ دانش کے مطابق گل پلازہ کی بہت گرم نہیں تھی ، چھت پر چار لوگ ایک کونے میں بیٹھے تھے جنکو راستہ نہیں ملا تھا جب پہلی بار اندر گئے تب آگ اتنی نہیں تھی دھواں تھا،آدھے گھنٹے تک عمارت میں رسائی ممکن تھی اس دوران جسٹس آغا فیصل نے کہا آپ کے بیان میں فائر اور ریسکیو کی کارگردگی پر سوالات اٹھے ہیں ہمیں انکو موقع دینا ہوگا کہ دانش کے بیان پر جرح کرسکیں اور کمیشن نے اجلاس ملتوی کردیا

Shahid Hussain

24,681 次观看 • 6 个月前

لاہور آدمی کو بوڑھا نہیں ہونے دیتا کرشن چندر کسی شہر میں رہنا اور کسی شہر میں بسنا دو مختلف کیفیات ہیں لاہور میں رہنا نہیں بسنا پڑتا ہے پھر لاہور آپکے دل میں بس جاتا ہے اور ایسا بستا ہے کہ پھر کوئی اور اس دل میں بس نہیں سکتا مہرالنساء لاہور میں نور جہاں بن کر آسودۂ خاک ہوئیں لاہور سے انہیں بڑی محبت تھی جس کا اظہار اس لازوال شعر کی صورت میں کیا لاہور را بہ جان برابر خریدہ ایم جاں دادہ ایم و جنتِ دیگر خریدہ ایم (لاہور کو ہم نے جان کے برابر قیمت پر حاصل کیا ہے۔ ہم نے جان قربان کر کے نئی جنت خرید لی ہے) پطرس بخاری نے کہا تھا کہ لاہور کے کاٹے کا علاج نہیں کرشن چندر نے لکھا کہ لاہور آدمی کو بوڑھا نہیں ہونے دیتا مشہور افسانہ نگار کرشن چندر لاہور میں رہے ایف سی کالج میں تعلیم پائی وہ اس شہر سے بے پناہ محبت کرتے تھے آزادی کے وقت ہندوستان جانے کے بعد بھی اپنی روح لاہور ہی میں چھوڑ گئے اس شہر کا تذکرہ وہ کسی بچھڑے ہوئے محبوب کی طرح رقت آمیز لہجے میں کیا کرتے تھے وہ لاہور سے آنے والوں کو بڑی حسرت سے دیکھتے اور اپنے محبوب شہر کی گلی کوچوں، بازاروں، عمارتوں، باغوں کا تفصیل سے حال پوچھتے کرشن چندر نے احمد ندیم قاسمی کے نام اپنے خط میں لکھا کہ لاہور کا ذکر تو کجا، اس شہر کے بارے میں سوچتا بھی ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں راجندر سنگھ بیدی جنہوں نے اپنے ادبی سفر کا آغاز محسن لاہوری کے قلمی نام سے کیا تھا مرتے دم تک لاہور کے عشق میں گرفتار رہے لاہور کی باتیں کرتے ہوئے ان کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ جاتی ایک مرتبہ ٹی وی پر انٹرویو کے دوران لاہور کا ذکر آیا تو پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اے حمید برما میں قیام کے دوران اپنی جنم بھومی امرتسر کی بجائے لاہور کو یاد کیا کرتے تھے وہ کہا کرتے تھے کہ لاہور کا نام زبان پر آتے ہی طلسم و اسرار کی الف لیلہ کا ایک باب کھل جاتا ہے لاہور ایک شہر ہی نہیں، یہ ایک کیفیت کا نام ہے سید احمد شاہ پطرس بخاری کا شمار بھی لاہور کے سچے عاشقوں میں ہوتا تھا نیویارک میں قیام کے دوران انہوں نے صوفی تبسم کے نام ایک خط میں پوچھا، "کیا راوی اب بھی مغلوں کی یاد میں آہیں بھرتا ہے؟" گویا یہ شہر اپنے عاشقوں کے اعصاب پر ایسا سوار ہوتا ہے کہ وہ کبھی کسی دوسری جگہ پر سکون نہیں پا سکتے جمنا داس اختر، گوپال متل، پران نوائل، اور ان جیسے کئی قلمکار آزادی کے بعد لاہور سے کوچ کر گئے، لیکن ان کا دل لاہور ہی میں اٹکا رہا معروف شاعرہ شبنم شکیل لاہور کے ہجر میں غزلیں کہتی رہیں بھارتی فلمی اداکار پران، اوم پرکاش، دیو آنند، یش چوپڑا، اور ناول نگار بپسی سدھوا جیسے مشاہیر لاہور کی بزم سے اٹھ جانے کے باوجود اس کی طرف بار بار مڑ کر دیکھتے رہے اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ لاہور ایک کیف و مستی کا نام ہے ایک نشہ ہے جو طاری ہوجائے تو اترنے کا نام نہیں لیتا پیدا ہونے کے لئے لاہور کے درشن کرنا بھی ضروری ہے کجھ روز گزار کے جنت وچ سب درشن کر لئے حوراں دے جدوں پی لئے جام انگوراں دے اک بابے غم نال آہ بھری نالے بات کہی اک صاف کھری ایتھے ٹشن بڑی نالے ٹور وی اے جو لبھنے ساں او دور وی اے پر میریا مولا دس مینوں کوئی جنت تیری ہور وی اے؟ جتھے وسدے نے سب دل والے جتھے دسدا شہر لاہور وی اے۔۔! #لاہور_لاہور_اے❤️ 👆یہ تحریر مجھے واٹس ایپ پر موصول ہوئی لکھنے والے کا نام معلوم نہیں جنہوں نے بھیجی کم از کم اُنہوں نے تو نہیں لکھی😝 مگر تحریر خوبصورت اور زندگی کا احساس لئیے ہوۓ ہے اسلئیے میں آپکے ساتھ شئیر کر رہا ہوں میں دنیا کے 70 سے زیادہ مختلف شہر دیکھنے کے بعد شاید اس تحریر سے زیادہ خوبصورت احساس اپنے شہر لاہور کے لئیے رکھتا ہوں مگر میرے پاس الفاظ کا فقدان ہے اتنا ضرور لکھوں گا کہ لاہور شہر کے حسن اور طلسم جیسا دنیا میں کوئی دوسرا شہر میں نہیں لاہور دنیا میں ایک ہی ہے❤️ لاہور سے سڑنے والے اس پوسٹ سے دور رہیں ورنہ میں تُہانو پورا ساڑ دینا 😝😝😝

کاشف چوہدری

31,886 次观看 • 2 年前