Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

شاہد عارفی نے ایسا نعتیہ کلام پڑھا کہ مولانا فضل الرحمٰن سمیت سب کو رلا دیا یہ قاری محمد طیب صاحب رحمہ اللہ علیہ کا وہ کلام کہ جب وہ دارالعلوم دیوبند سے کچھ اعذار کی وجہ سے ناراض ھوئے تھے اور مادر علمی کو چھوڑا تھا اور روضہ...

82,774 görüntüleme • 2 yıl önce •via X (Twitter)

10 Yorum

محمد الخوازمي profil fotoğrafı
محمد الخوازمي2 yıl önce

کافی عرصہ ہوگیا اس کلام کو سنے ہوئے، سننے والوں میں قائد کے ساتھ ہمارے عظیم استاد، مفتی اعظم پاکستان حضرت مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب رحمہ اللہ بھی ہیں، جو کہ اب اس دنیا میں نہیں ہے، اور بھی بڑی ہستیاں ہیں. شاہد عارفی کا انداز اور قاری صاحب کا کلام دونوں لاجواب ہے.

خزاں علی گڑھی profil fotoğrafı
خزاں علی گڑھی2 yıl önce

آپ نے ایک جملہ غلط لکھا ہے کہ قاری طیب صاحب دارالعلوم دیوبند سے ناراض ہوئے جبکہ قاری طیب صاحب دارالعلوم دیوبند سے ناراض نہیں ہوئے بلکہ مدنی خاندان کی کمینگی نے انکو ناراض کیا اور دارالعلوم دیوبند سے نکل کر وقف دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی

دیار شوق مرا profil fotoğrafı
دیار شوق مرا2 yıl önce

قاری طیب صاحب کا یہ کلام نہیں ہے تحقیق کرلیں پھر کچھ لکھیں

Azim Usmani profil fotoğrafı
Azim Usmani2 yıl önce

حضرت نے دارالعلوم کو خود سے نہیں چھوڑا تھا بلکہ حضرت کے خلاف ایک منظم سازش کی گئ تھی۔ پچاس سال سے بھی زائد عرصہ تک آپ کے اہتمام میں دارالعلوم نے بے مثال ترقی کی۔ ان حادثات سے غمزدہ حضرت نے یہ نعتیہ کلام کہا تھا۔

Cricket Lovers 🏏 profil fotoğrafı
Cricket Lovers 🏏2 yıl önce

درد بھرا نعتیہ کلام 💝

Mr X2 profil fotoğrafı
Mr X22 yıl önce

یہی نعت اگر کوئی شیعہ یا بریلوی پڑھے تو وہ مشرک کیوں ہو جاتا ہے؟

AbuRaihan profil fotoğrafı
AbuRaihan2 yıl önce

After many years, I finally found some good Naat with beautiful phrases

Shehzad Nawaz Unique profil fotoğrafı
Shehzad Nawaz Unique2 yıl önce

صلی اللّٰہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم

Muhammad Imran profil fotoğrafı
Muhammad Imran2 yıl önce

جن کی آنکھ آج غزہ کی عورتوں اور بچوں کے لیے نم نہیں وہ کس منہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے دعوے کرتے ہیں ۔

Cricket Lovers 🏏 profil fotoğrafı
Cricket Lovers 🏏2 yıl önce

ماشاءاللہ

Benzer Videolar

عمران خان کی تصویر کو خانہ کعبہ میں لہرانا مطلب اللہ کے گھر میں دوبارہ بت پرستی کا آغاز کرنا۔ یہ علاماتِ قیامت میں سے ہے۔👇👇 حدیث نمبر: 1601 صحيح بخاری۔ ابومعمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ایوب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کیا، آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب (فتح مکہ کے دن) تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے اندر جانے سے اس لیے انکار فرمایا کہ اس میں بت رکھے ہوئے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور وہ نکالے گئے، لوگوں نے ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کے بت بھی نکالے۔ ان کے ہاتھوں میں فال نکالنے کے تیر دے رکھے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ ان مشرکوں کو غارت کرے، اللہ کی قسم انہیں اچھی طرح معلوم تھا کہ ان بزرگوں نے تیر سے فال کبھی نہیں نکالی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے اندر تشریف لے گئے اور چاروں طرف تکبیر کہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر نماز نہیں پڑھی۔ جزیرۃ العرب میں شرک اور بت پرستی کا دور دورہ تھا، مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو توفیق دی اور اپنے لشکروں سے ان کی مدد کی حتیٰ کہ انہوں نے تمام بتوں کا خاتمہ کردیا اور اللہ تعالیٰ کی توحید کا علم بلند کردیا۔ لیکن قیامت کے قریب لوگوں کے دین سے دور اور علم سے بے نیاز ہونے کی وجہ سے ایک گروہ دوبارہ بتوں کی پوجا شروع کردے گا اور یہ علاماتِ قیامت میں سے ہے۔

سید عدنان بادشاہ 🇵🇰

34,827 görüntüleme • 2 yıl önce

سہیل وڑائچ کے فیلڈ مارشل کے انٹرویو پر قاری زاور بہادر صاحب کا تبصرہ، قاری صاحب نے انٹرویو میں کیے گئے بڑے بڑے دعوؤں پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے، قاری زاور بہادر صاحب نے انٹرویو میں کیے گئے اس موازنے کی شدید مذمت کی ہے کہ جس نے معافی نہیں مانگی وہ شیطان ہے اور جس نے مانگ لی وہ فرشتہ، قاری صاحب نے وضاحت کی ہے کہ شیطان نے اللہ کے سجدے کے حکم کی نافرمانی کی تھی جس پر اسے مردود کیا گیا، جبکہ فرشتوں نے اللہ کے حکم پر عمل کیا، یہ معافی مانگنا اور معاف کرنا صرف اللہ کا اختیار ہے کوئی شخص خود کو خدا کی جگہ پر فائز نہیں کر سکتا اور معافی کا اختیار صرف اللہ رب العالمین کے پاس ہے۔ قاری زاور بہادر صاحب نے تکبر کو ایک بڑا گناہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بڑے بڑے متکبر لوگ انجام کو پہنچے ہیں اور نصیحت کی ہے کہ معافی صرف اللہ کی ذات سے مانگنی چاہیے جو سب سے زیادہ معاف فرمانے والا ہے، قاری صاحب نےحضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان بیان فرمایا ہے کہ کسی کو مصیبت میں دیکھ کر خوشی کا اظہار نہ کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ تم خود اس مصیبت میں گرفتار ہو جاؤ۔

Qasim Khan Suri

23,134 görüntüleme • 1 yıl önce

جے یوآئی کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان کی سوئیڈن میں قرآن کریم کی بیحرمتی کیخلاف احتجاج کی کال جے یوآئی میڈیا سیل سندھ نے مولانا فضل الرحمٰن کا خصوصی پیغام ریکارڈ کیا سوئیڈن میں مسلسل قرآن کی بےحرمتی کی جارہی ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن اس عمل سے امت مسلمہ کے ہر فرد کے دل کو دکھ پہنچ رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن یہ قرآن کریم سے امت مسلمہ کے تعلق کی فطری علامت ہے ۔ مولانا فضل الرحمان امت مسلمہ تورات انجیل سمیت تمام آسمانی کتابوں کا احترام کرتی ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن مغربی دنیا تنگ نظری کا مظاہرہ کیوں کررہی ہے ۔ مولانا فضل الرحمٰن عدم برداشت ، تنگ نظری اور تحمل کا جذبہ ختم ہونے کو مغرب اظہار رائے کی آزادی کا نام دے رہا ہے ۔ مولانا فضل الرحمٰن ہم نے ایسی اظہار رائے کو مسترد کرکے قوم سے احتجاج کی اپیل کی ہے ۔ مولانا فضل الرحمٰن اتوار کے روز پورے ملک میں سوئیڈن کے روئیے کیخلاف احتجاجی مظاہرے ہوں گے۔ مولانا فضل الرحمٰن اتوار 23 جولائی کو کراچی میں سب بڑا احتجاجی مظاہرہ ہوگا ۔ مولانا فضل الرحمٰن سوئیڈن کیخلاف کراچی کے مظاہرے میں بذات خود شریک ہوں گا ۔ ان شاءاللہ ، مولانا فضل الرحمٰن پوری قوم سڑکوں پر آکر سوئیڈن کیخلاف احتجاجی مظاہرے کرے ۔ مولانا فضل الرحمٰن تمام مسلمانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ان احتجاجی مظاہروں میں شریک ہوں۔ مولانا فضل الرحمٰن پوری قوم قرآن اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیدت اور عشق کا اظہار کرے۔ مولانا فضل الرحمٰن مغربی دنیا کو پیغام دینا ہے کہ مسلمان قرآن کی حرمت پر جان تو دے سکتا ہے اس کی توہین کی کسی کو اجازت ہرگز نہیں دے سکتا ۔ مولانا فضل الرحمٰن مغرب کے اس رویئے کیخلاف ہم اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔ مولانا فضل الرحمٰن میں نے وزیر اعظم سے بھی ٹیلی فونک رابطہ کرکے مطالبہ کیا ہے کہ سوئیڈن سے پاکستانی سفیر کو فوری واپس بلایا جائے ۔ مولانا فضل الرحمٰن او آئی سی تنظیم سے کہا جائے کہ تمام اسلامی ممالک سوئیڈن سے اپنی سفرا واپس بلائیں ۔ مولانا فضل الرحمٰن تاکہ مغربی دنیا کے سامنے امت مسلمہ کا اجتماعی احتجاج ریکارڈ کیا جاسکے ۔ مولانا فضل الرحمٰن مغرب کو پیغام دینا ہے کہ امت مسلمہ اپنے قرآن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت پر آنچ آنے کی کسی کو اجازت نہیں دے گی۔ مولانا فضل الرحمٰن

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

19,886 görüntüleme • 3 yıl önce