正在加载视频...

视频加载失败

شرمیلا فاروقی نے کہا کراچی میں رہنا پیرس جیسا ہے: اینکر مجھے نہیں پتا پیرس کیسا ہے میں کبھی وہاں گیا نہیں مجھے نہیں پتا وہاں بھی پانی کے ٹینکرز آتے ہیں، گھروں کے سامنے پانی کھڑا ہوتا، وہاں بھی ایسی ہی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے اور سڑکیں بھی ایسی...

17,247 次观看 • 5 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

بلوچستان میں فیکٹریاں نہیں ہیں صرف حب کے اندر کچھ فیکٹریز ہیں وہاں بھی کراچی کے لوگ آکے کام کرتے ہیں، بلوچستان میں پانی کی شدید قلت ہے زیر زمین پانی تیزی سے نیچے جا رہا ہے ریسورسز نہیں ہیں وہاں پر زراعت کوئی نہیں ہے صرف جعفر آباد نصیر آباد بیلٹ میں گندم ہوتی ہے باقی پورے بلوچستان میں خشک سالی ہے، بلوچستان میں یا تو سرکاری ملازمتیں ہیں یا پھر افغان بارڈر سے جو کاروبار ہوتا ہے، عاصم منیر رجیم نے جنگی حالات کر دیئے ہیں افغانستان کے ساتھ انہوں نے بگاڑ پیدا کیا ہوا ہے اس بارڈر سے بھی چیزیں نہیں آ رہی ہیں، چیزیں آتی ہیں تو چیک پوسٹوں پر بیٹھے ہوئے فوجیوں کی رضا مندی سے، وہ پیسے کھاتے ہیں اور جو بھی چیزیں آتی ہیں وہ ان کے ذریعے پاکستان میں آتی ہیں، اسی طرح جو ڈیزل آ رہا تھا وہ روزگار کا کچھ ذریعہ تھا بلوچ بیلٹ کے اندر اور وہ ڈیزل بھی فوج کے مدد ہی سے وہاں آتا ہے، بلوچستان میں جن سے بات ہوتی ہے کاروبار بلکل تباہ ہو گیا ہے وہاں پہ لوگوں کے پاس کھانے کے پیسے نہیں ہیں بجلی کے بل نہیں دے سکتے ہیں ایک عام آدمی بھی اب غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہو گیا ہے، بلوچستان میں بہت زیادہ لوٹ مار شروع ہو چکی ہے روڈوں پر مال سے بھرے ہوئے ٹرک لوٹ لیے جاتے ہیں، کوئٹہ شہر سے باہر اگر نکل جائیں تو آپ کی جان اور مال کا کوئی ذمہ دار نہیں ہے اور خوف کا ایک عالم ہے، مسافر سفر نہیں کر سکتے ہیں، روزانہ کی بنیاد پر خبریں آتی ہیں کہ مسافروں کو لوٹ لیا گیا ٹرک ڈرائیورز اور ان کے جو سامان سے لدے ٹرک لوٹ لیے جاتے ہیں، گاڑیوں کو لوٹ لیا جاتا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، اے سی، ڈی سی تک کو اغوا کر لیا جاتا ہے یونیورسٹیز کے چانسلرز، پرو چانسلرز اغوا کر لیے جاتے ہیں، 15،16 ڈسٹرکٹ میں حکومتی رٹ ہی نہیں ہے۔ #PakistanUnderMartialLaw

Qasim Khan Suri

36,278 次观看 • 4 个月前

پاکستان چھوڑکر بھارت منتقل کیوں ہوئی؟ میں کبھی پاکستانی شہری نہیں رہی، سلمیٰ آغا آپ نے پاکستان کے بجائے بھارت کا انتخاب کیوں کیا؟اس سوال کے جواب میں سلمیٰ آغا نے کہا کہ یہ اچھا سوال ہے کیونکہ میں کبھی پاکستانی شہری نہیں رہی، میرا خاندان برطانیہ منتقل ہو گیا تھا اور سب کے پاس برطانوی پاسپورٹ ہیں جبکہ میری والدہ اور نانی دونوں کا تعلق امرتسر بھارت سے تھا۔ معروف اداکارہ نے بتایا کہ میں نے پاکستان میں صرف کام کیا اور وہاں گزارا ہوا وقت میری زندگی کا یادگار حصہ ہے،پاکستان میں میرے بہت سے دوست تھے اور مجھے وہاں کے ٹیکنیشنز، فنکاروں اور ڈراموں سے بھی بے حد محبت ہے، بھارت میں بھی پاکستانی ڈرامے پسند کیے جاتے ہیں اور میرے نزدیک فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ سلمیٰ آغانے واضح کیا کہ میرے پاس بھارتی شہریت بھی نہیں بلکہ میرے پاس بھارتی کارڈ اور برطانوی پاسپورٹ ہے، جس کے ذریعے مجھے بھارت میں رہنے کی اجازت حاصل ہے۔

24 News HD

98,081 次观看 • 1 个月前

میں آج آپ سے کچھ شکایات کرنے آیا ہوں۔ سیاست میں ایسا ہوتا ہے پریس کے لوگ باتیں کرتے ہیں ان کا حق ہے اور پریس کی آزادی ہونی چاہیے۔ لیکن اونٹ پٹانگ قسم کی باتیں بے بنیاد باتیں اور بغیر ثبوت کے باتیں (مناسب نہیں)۔ ​میں گاؤں گیا ہوا تھا وہاں میں سن رہا تھا کہ میڈیا پر آ رہا ہے کہ 'لیڈر آف دی اپوزیشن' صاحب نے پتا نہیں اپنے خاندان کے لوگوں کو کہاں کہاں لگایا ہے بہت بڑی مراعات کا مطالبہ کیا ہے اور اسپیکر کو پتا نہیں کیا کیا خطوط لکھے ہیں۔ ​میں چاہتا تو اس پر 'پریولج موشن' (تحریکِ استحقاق) لا سکتا تھا، لیکن میں ان باتوں میں پڑتا نہیں۔ آج میں نے مختصر بات کی جو ان حالات میں ضروری باتیں تھیں، میں نے اس کا (مراعات کا) ذکر نہیں کیا۔ ​صرف وضاحت کے لیے عرض ہے کہ جب سے میں اپوزیشن لیڈر بنا ہوں، شاید میرا صرف ایک خط گیا ہو اسپیکر کے پاس اور وہ بھی بہت معمولی بات کے لیے تھا۔ ​لیڈر آف دی اپوزیشن کے لیے وہی مراعات ہوتی ہیں جو ایک وفاقی وزیر (Federal Minister) کی ہوتی ہیں۔ لیڈر آف دی اپوزیشن کو رہنے کے لیے گھر دیا جاتا ہے، پتا نہیں کتنی گاڑیاں دی جاتی ہیں۔ میں جب سے اپوزیشن لیڈر بنا ہوں، میں نے اپنے پولیس اسکاٹ (محافظ دستے) کو بھی کہہ دیا ہے کہ میرے ساتھ مت جاؤ۔ ​ مجھے تو جو گھر سرکاری ملا ہوا ہے وہ گھر پر تو رانا ثنا اللہ خان رہتا ہے میں نے تو اس کو بھی وہاں سے جانے کو نہیں کہا میں کرائے پہ بھی حکومت پاکستان کی طرف سے گھر لے سکتا تھا میں نے وہ بھی نہیں لیا. نہ ہی میں نے کوئی ذاتی لوگوں کو قومی اسمبلی میں بھرتی کروایا ہے نہ ہی ایسا ہو سکتا ہے دوسرا نہ ہی میں نے کوئی مرات لی ہے نہ ہی مجھے ضرورت ہے قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کا کچھ صحافیوں کی جانب سے کیے جانے والے نامناسب پروپیگنڈے پر جواب

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

34,798 次观看 • 5 个月前