Sensitive content

This media may contain sensitive content.

Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

صحت مند پشت🍑والی خواتین🫦کا بستر پر عموما غلبہ رہتا ہے جن خواتین کے چوتڑ🍑صحت مند اور چوڑے ہوتے ہیں انکے اندرونی عضلات🍒دبلے جسم کے مقابلے میں زیادہ چست اور تنگ ہوتے ہیں جب ایسی عورت مرد کے اوپر آ کر تشریف فرما ہوتی ہے تو وہ اپنی بھاری تپش...

30,204 Aufrufe • vor 23 Tagen •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

جب کوئی سامنے سے آتی بال کو جج نہ کر سکے اور چال میں لچک بھی ہو تو اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں سے پہلی ڈسپریکسیا (Dyspraxia) ہے ​یہ اعصابی مسئلہ ہے جو عضلاتی کوآرڈینیشن کو متاثر کرتا ہے۔ ڈسپریکسیا کا شکار افراد کے چلنے کا انداز دیکھنے والوں کو عجیب، غیر متوازن، یا بہت زیادہ لچکدار لگ سکتا ہے کیونکہ ان کا دماغ جسم کے توازن کو صحیح طرح سنبھال نہیں پاتا۔ سامنے سے آتی بال کو جج نہ کر پانا اور ہاتھ پیر کا بروقت نہ ہلنا ڈسپریکسیا کی سب سے کلاسک علامت ہے۔ ​اس کی دوسری وجہ Klinefelter Syndrome - XXY ہو سکتی ہے مردوں میں عام طور پر XY کروموسوم ہوتے ہیں، اس جینیاتی کیفیت میں ایک اضافی X کروموسوم (XXY) آ جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے جسم میں ٹیسٹوسٹیرون (مردانہ ہارمون) کی کمی ہو سکتی ہے، جس سے مسلز کی طاقت کم ہوتی ہے جس سے جسم کی بناوٹ اور ہڈیوں کا ڈھانچہ تھوڑا نزاکت مائل ہو سکتا ہے، اور موٹر سکلز (چیزوں کو پکڑنا، توازن برقرار رکھنا) کمزور ہو جاتی ہیں۔ ​اس کی تیسری وجہ (Visual Processing Disorder) ہو سکتی ہے ​اس میں بال تو نظر آ رہی ہوتی ہے لیکن دماغ کا وہ حصہ جو اس منظر کو دیکھ کر جسم کو حرکت دینے کا حکم دیتا ہے وہ سست ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ فاصلے کا درست حساب نہیں لگا پاتا۔ چوتھی وجہ ہائپوٹونیا یعنی "مسلز کا ڈھیلا پن" ہو سکتی ہے ۔ اگر کسی کے پٹھے پیدائشی یا اعصابی طور پر زیادہ لچکدار اور نرم ہوں، تو اس کے جوڑ مستحکم نہیں ہوتے۔ ایسے افراد جب چلتے ہیں تو ان کی چال میں ایک خاص قسم کا لچکدار پن یا لہر ہوتی ہے اور ان کے reflexes بھی بہت سست ہوتے ہیں۔

Shafqat Ch

124,969 Aufrufe • vor 4 Monaten

احمد رضا ڈار پر آپ نے ریپ کا کیس نہیں ڈالا، اسے بچا لیا گیا ہے، اور اسے ریپ کے الزام سے بچایا گیا ہے؟ میری تمام انویسٹیگیٹو جرنلسٹس سے گزارش ہے کہ ہمارے پاس ان خواتین کے رابطہ نمبرز موجود ہیں۔ آپ ان خواتین سے بھی بات کر سکتے ہیں اور ان کے والدین سے بھی بات کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کو پاکستان کے اداروں پر یقین نہیں ہے، تو شاید آپ کو بیرونِ ملک موجود ان افراد کی بات پر زیادہ یقین ہو۔ آپ ان سے بھی بات کر لیں۔ہم نے ان خواتین کو ایک ایک ملزم کی تصویر دکھائی تھی، اور انہوں نے جو بیان جج کے سامنے دیا، اس میں ایک خاتون کا چار صفحات پر مشتمل بیان ہے جبکہ دوسری خاتون کا بیان تین صفحات پر مشتمل ہے۔ 164 کا بیان اور میڈیکل کسی کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ جب جج 164 کے تحت بیان ریکارڈ کر رہا ہوتا ہے تو وہ بار بار یہ پوچھتا ہے اور سرٹیفکیٹ پر دستخط بھی کرواتا ہے کہ آپ جو بیان دے رہے ہیں، وہ بعد میں آپ کے خلاف بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ Muzamal Suharwardy Lahore Police Official

Muzamal Suharwardy Team

28,871 Aufrufe • vor 2 Monaten