Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

صیہونی ریاست کی طرح "عرب صیہونی" (عرب امارات) بھی دنیا بھر میں ذلیل ہو رہا ہے! برطانیہ میں، اماراتی سفیر سوڈانیوں کے غضب سے خوفزدہ ہو کر بھاگ نکلا، اور اپنی قیمتی اور عالیشان گاڑی کو پیچھے چھوڑ گیا۔

52,488 görüntüleme • 10 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

ایرانی بے بس۔۔ سعودی عرب نے"آبنائے ہرمز اور باب المندب"کو بائی پاس کر کے ڈائریکٹ"بحیرہ عرب"پہنچنے کا منصوبہ مکمل کرنا شروع کر دیا سعودی عرب اور عمان کا بارڈر آپس میں جڑا ہوا ہے، اور سعودی عرب اب عمان کے ذریعے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) اور باب المندب کو بائی پاس کر کے جغرافیائی اور تزویراتی ایڈوانٹیج لے گا دونوں ممالک کے درمیان 741 کلومیٹر طویل مشترکہ سرحد واقع ہے، جو زیادہ تر مشہور صحرا"ربع الخالی"(The Empty Quarter) پر مشتمل ہے۔ دسمبر 2021 میں دونوں ممالک کے درمیان ربع الخالی کے ذریعے پہلی براہِ راست ہائی وے (سعودی-عمان ہائی وے) کھولی گئی۔ اس سے قبل دونوں ممالک کے درمیان زمینی سفر متحدہ عرب امارات (UAE) سے گزر کر ہوتا تھا، مگر اب یہ زمینی رابطہ بالکل براہِ راست ہو چکا ہے۔ عمان کی بندرگاہیں دقم (Duqm) اور صلالہ (Salalah) آبنائے ہرمز سے مکمل طور پر باہر، خلیجِ عمان اور بحیرہ عرب (انڈین اوشن) کے کھلے ساحلوں پر واقع ہیں۔ تیل اور لاجسٹکس کاریڈور کے لیے عمان اور سعودی عرب کے درمیان ایک مجوزہ ریلوے نیٹ ورک اور خام تیل کی پائپ لائنز بچھانے پر بات چیت اور معاہدے جاری ہیں۔ اگر سعودی عرب ربع الخالی کے راستے اپنی مشرقی آئل فیلڈز کو عمان کی بندرگاہ "دقم" (Duqm) سے پائپ لائن کے ذریعے جوڑ دیتا ہے، تو اس کا تیل آبنائے ہرمز میں داخل ہوئے بغیر براہِ راست عالمی منڈیوں میں جا سکے گا۔ موجودہ صورتحال میں فی الحال سعودی عرب آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے کے لیے اپنی ملکی ایسٹ-ویسٹ پائپ لائن (East-West Pipeline) کا استعمال کر رہا ہے، جس کے ذریعے تیل کو بحیرہ احمر (Red Sea) کی بندرگاہ "ینبع" (Yanbu) تک پہنچایا جاتا ہے۔ تاہم، بحیرہ احمر میں حوثی باغیوں کے خطرات کی وجہ سے عمان کا راستہ (بحیرہ عرب کی طرف) سعودی عرب کے لیے مستقبل کا سب سے محفوظ ترین لائف لائن متبادل بن کر ابھر رہا ہے۔ عمان اور سعودی عرب نے "محفوظ گرین لینڈ کوریڈور" پر کام شروع کیا ہے جو عمان کی صحار بندرگاہ کو سعودی عرب کے SPARK ڈرائی پورٹ سے خالی کوارٹر ہائی وے کے ذریعے جوڑتا ہے۔ سعودی حصے کی لمبائی تقریباً 564 کلومیٹر ہے اور اس کی تعمیر پر تقریباً 533 ملین ڈالر لاگت آئی ہے۔ اس زمینی راستے کا مقصد مال برداری کے اخراجات کم کرنا، سامان کی ترسیل تیز کرنا اور سمندری راستوں کی اہم رکاوٹوں کو نظرانداز کرنا ہے۔ اس منصوبے کے مکمل ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کی اہمیت کم ہو جائے گی۔ (اسد آر چوہدری)

Asad R Chaudhry

25,977 görüntüleme • 1 ay önce

میں نے جیل روڈ سے کینٹ میں داخل ہونے کے بعد شامی روڈ کی طرف گاڑی موڑی تو فورٹریس سائیڈ سے ایک تیز رفتار رکشہ سگنل توڑ کر یوں نکلا کہ سائیڈ لگتے لگتے رہ گئی۔ ایک لمحے کے لئے مجھے لگا کہ گاڑی کی لیفٹ سائیڈ تو گئی۔ مجھے حیرت ہوئی کہ یہ فور کور کی اہم ترین سڑک ہے اس سگنل پر تو کیمرے بھی اندھا دھند لگے ہوئے ہیں تو یہ جرات کیوں، کیسے؟ جیسے ہی اس کی پشت شریف کو دیکھا تو سمجھ آ گئی کہ یہ قانون شکنی اور بدمعاشی کیوں کی جا رہی ہے کیونکہ اس نے نمبر پلیٹ پر جھالریں لٹکا رکھی تھیں۔ مجھے ہنسی آ گئی کہ اگر اس کو روکا گیا، دو جھانپڑ لگا دئیے گئے یا پولیس کی طرف سے چالان کر دیا گیا تو مزدور اور غریب کی توہین ہو جائے گی۔ یہ ریاست کے ظلم پر اپنے رکشے کو آگ لگا دے گا اور سڑک پر لیٹ کے یوں ٹانگیں پسار روئے گا جیسے اس کی ماں مر گئی ہو۔ کیا ٹریفک پولیس کو ایسی تمام نمبر پلیٹوں کو چیک نہیں کرنا چاہیئے جن کو چھپایا جا رہا ہے کیونکہ موٹرسائیکل سے رکشے اور گاڑی تک یہ کم از کم ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی کے لئے بھی ہو سکتی ہے اور یہی ڈکیتی کے لئے بھی ۔۔۔ فرق امیر اور غریب کا نہیں ہوتا، فرق حاکم اور محکوم کا بھی نہیں ہوتا اصل فرق قانون پسند اور قانون شکن، ایماندار اور بے ایمان، اچھے اور برے کا ہوتا ہے چاہے وہ کسی بھی شعبے میں ہو، جج ہو، جرنیل ہو، بیوروکریٹ ہو، تاجر ہو یا صحافی ۔۔۔

Najam Wali Khan

12,999 görüntüleme • 5 ay önce