Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

طاہر خلیل سندھو صاحب آپ عمر ایوب صاحب والے فیصلے کی ڈیٹ پڑھ کر بتا دو جو ججمنٹ کے اوپر لکھی ہے ۔شفقت عباس اعوان اور اینکر اجمل جامی کے بار بار پوچھنے پر بھی طاہر خلیل سندھو صاحب تاریخ پڑھنے سے گریز کرتے رہے۔

12,088 просмотров • 7 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

ہمارے پشاور کے کچھ یوٹیوبرز کو شاید بہت مسئلہ ہے، بلکہ لگتا ہے کہ وہ فرمائشی یوٹیوب چلاتے ہیں، اسی لیے بار بار یہی سوال اٹھاتے ہیں۔ میں اس حوالے سے بات واضح کر دیتا ہوں۔ جب مجھے صوبائی صدر بنایا گیا تو عمران خان صاحب نے مجھے یہ ذمہ داری دی کہ صوبے میں تحریک کو دوبارہ فعال کروں۔ آپ سب کو یاد ہوگا کہ 26 نومبر کے بعد حالات انتہائی خراب تھے، ہم نے اپنے کارکنوں کی لاشیں اٹھائی تھیں اور پارٹی احتجاج کی پوزیشن میں نہیں تھی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پارٹی دوبارہ کھڑی کے۔ اس کے بعد تقریباً دو ماہ تک میری عمران خان صاحب سے نہ ملاقات ہو سکی اور نہ ہی رابطہ ہو سکا۔ اس دوران عمران خان صاحب نے عمر ایوب صاحب کو یہ ذمہ داری سونپی۔ چند دن بعد جب علی امین گنڈاپور صاحب کی عمران خان صاحب سے ملاقات ہوئی تو یہ ذمہ داری دوبارہ انہیں دے دی گئی۔ علی امین صاحب نے اس حوالے سے باہر آ کر پریس کانفرنس بھی کی، اور میں نے بھی اس کی مکمل تائید کی۔ اس کے بعد سہیل آفریدی صاحب آئے، لیکن انہیں بھی یہ ہدایت کی گئی کہ جو بھی سیاسی سرگرمی یا لائحۂ عمل اختیار کرنا ہے، وہ محمود خان اچکزئی صاحب کے مشورے سے کرنا ہے، کیونکہ عمران خان صاحب نے اس حوالے سے انہیں ذمہ داری دی ہے۔ لہٰذا، جیسے ہی عمران خان صاحب سے دوبارہ ملاقات ہوگی اور جو بھی ہدایات موصول ہوں گی، ان شاء اللہ ہم ان پر من و عن عمل کریں گے۔ نہ ہم نے پہلے کبھی عمران خان صاحب کو مایوس کیا، نہ آئندہ کریں گے۔ میں آج بھی اپنے کی ایک ایک بات پر پہلے کی طرح قائم ہوں۔ صوبائی صدر پی ٹی آئی خیبرپختونخوا جنید اکبر خان کی پشاور میں پریس کانفرنس۔

Junaid Akbar

26,741 просмотров • 1 месяц назад

🚨🚨 بریکینگ نیوز : خان صاحب کے دل دہلا دینے والے الفاظ.!!!😭😭😭 ایک چیز ڈاکٹرز خان صاحب کو بار بار کہہ رہے تھے کہ یہ آپ نہ بولیں, ۔ اس سے آپکا بلڈ پریشر بڑھتا ہے ۔ یہ لائن عظمیٰ خان صاحبہ پریس کانفرنس میں بتاتے ہوئے خود بھی آبدیدہ ہوگئی تھیں ۔ خان صاحب کے وہ الفاظ یہ تھے کہ " میرے ساتھ ظلم ہو رہا ہے, یہ مجھ ٹارچر کر رہے ہیں ۔ یہ مجھے قید تنہائی میں رکھ کر اذیت دے ریے ہیں, یہ انسان نہیں ہے ۔ایسا کوئی سلوک انسانوں کیساتھ نہیں کیا جاتا ۔ یہ انسان نہیں ہے, باہر بتاؤ لوگوں کو ۔ قوم کو بتاؤ کہ میرے ساتھ ظلم ہو رہا ہے ۔ مجھے اذیت میں رکھا جا رہا ہے ۔ اس اذیت کیوجہ سے سٹریس بڑھتا ہے, اور سٹریس کیوجہ سے بلڈ پریشر بڑھتا ہے ۔ یہ باہر جاکر لوگوں کو بتاؤ ۔ اور خان صاحب وہاں پر بار بار مرسی کے بارے میں بتاتے رہے کہ, ۔ مرسی کو بھی ایسے ہی مارا گیا تھا ۔ اسکو بھی پراپر پلان کرکے مارا گیا تھا, خان صاحب نے کئی بار وہاں پر مرسی کا ذکر کیا ۔ اور آخری وقت بھی بار بار خان صاحب یہ کہتے رہے کہ مجھے قید تنہائی میں رکھا گیا ہے, بہت اذیت دی جا رہی ہے ۔ میں بہت تکلیف میں ہوں۔" یہ وہ الفاظ تھے, جو خان صاحب بار بار عظمیٰ خان کیساتھ دوہراتے رہے ۔ اور عظمیٰ خان صاحبہ انکو دلاسہ دیتی رہی کہ آپ بے فکر ہو جائیں۔ ہم آپکو شفاء ہسپتال لیکر جارہے ہیں ۔ وہاں آپکا علاج ہوگا, سید ذیشان عزیز 💔💔😭😭

Anisha KHAN

59,863 просмотров • 5 дней назад