Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

ظلموں جواب دو خون کا حساب دو

23,913 просмотров • 1 год назад •via X (Twitter)

Комментарии: 10

Фото профиля Solar Heavy
Solar Heavy1 год назад

where space meets sound

Фото профиля saeed khan
saeed khan1 год назад

بس تم اور شیر افضل مروت صاحب ہی تو ہوں خان ببر شیر 🦁

Фото профиля PTI KOHISTAN ⁱᴾⁱᵃⁿ
PTI KOHISTAN ⁱᴾⁱᵃⁿ1 год назад

موسم بدلنے والا ہے خزاں ختم شد بہار کی جلد آ مد

Фото профиля Ibaad Ik 804
Ibaad Ik 8041 год назад

Ya Bata Jegar 🪽💞🥰💕

Фото профиля تیمور العباسی
تیمور العباسی1 год назад

Great work 👍

Фото профиля shoaibbaloch
shoaibbaloch1 год назад

بہت خوب

Фото профиля Umar
Umar1 год назад

Tun kay rakho shahid

Фото профиля Sana khan
Sana khan1 год назад

زبردست ❤️

Фото профиля iPianسیدذادی
iPianسیدذادی1 год назад

شاہد بھائی پاکستان کی آخری امید بجلی میٹر لے بھاگ گئی زرا اس کیلئے بھی اسمبلی فلور پہ احتجاج کریں۔ @jawadahmadone

Фото профиля 𝑰𝒔𝒉𝒒_𝑨𝒂𝒕𝒊𝒔𝒉🕊️❣️
𝑰𝒔𝒉𝒒_𝑨𝒂𝒕𝒊𝒔𝒉🕊️❣️1 год назад

بہترین بلکل

Похожие видео

بتاؤ! کس کا حکم ہے کہ تم ہمیں عذاب دو، جواب دو ہمارے ایک ایک زخم کا ہمیں حساب دو، جواب دو #گولی_کیوں_چلائی جب قوم انقلاب کی طرف گامزن ہوتی ہے تو اُس کے ادیب، شعرا اور موسیقار، بُلند افکار سے ایک سحر نو کا جادو بڑی خوبصورتی سے ہوا میں بکھیرتے ہیں جسکی خوشبو ہر دل میں اتر جاتی ہے۔ میں نے عمران خان کی تحریک میں یہ دیکھا کہ سب سے پہلے موسیقاروں نے گیت گائے، ادیبوں نے لکھنا شروع کیا، اور معروف مزاح نگاروں کی تخالیق سامنے آئی ہیں۔ فنون لطیفہ میں ایک نئی سیاسی جہد کی بنیاد پڑ گئی ہے۔ انور مقصود صاحب اپنے طنز اور مزاح سے پاکستان کے ظالمانہ غمگین ماحول میں تبسم بکھیرتے رہے ہیں، ان پر بھی جبر کیا گیا۔ اگر بس چلتا تو معین اختر کو قبر میں نوٹس دے دیا جاتا۔ انقلابی شاعر احمد فرحاد پر بھی ظلم و ستم ہوا، اور اب ابھرتے ہوئے شاعر افکار علوی سے بھی زباں بندی کے افیڈیوٹ پر دستخط لے لیئے گئے ہیں۔ مگرم اِس نوجوان کیا کہ دیا جو آگ لگ گئی؟ بتاؤ! کس کا حکم ہے کہ تم ہمیں عذاب دو، جواب دو ہمارے ایک ایک زخم کا ہمیں حساب دو، جواب دو جو لاپتہ کیے، جیتے ہیں یا مر گئے، کہاں کیئے، جواب دو بہت بڑی قطار ہے، پکار ہے، جواب دو جواب دو ہمارے دیس میں علوم دینے کے اصول کس نے طئے کیئے کہ اِس طرف تو اصلحہ اور اُس طرف کتاب دو، جواب دو حریف دیس کا غلام کون ہے نمک حرام کون ہے ہمار صبر ختم ہے مزید مت سراب دو، جواب دو ہمیں بھی ٹھن گئی تو پھر، ہماری چیخ دھاڑ بن گئی تو پھر سو بہتری اِس ہی میں ہے کہ تشنہ لب کو آب دو، جواب دو لہو لہو تو ہو چکے ہو، سرخ رو تو ہو مرو، سو لڑ پڑو حریف کو بھلے جو تم بصورتِ حباب دو، جواب دو (افکار علوی) 👇پوری نظم سنیں اور پھر زباں بندی کا حلف نامہ ملاختہ ہو۔ شرم و حیا سے عاری، حکومتِ جاری۔

Dr. Arif Alvi

183,611 просмотров • 1 год назад