Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

عاصمہ شیرازی کی جنرلز کے خلاف بغاوت

180,945 Aufrufe • vor 8 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

کاشف عباسی کی یہ گفتگو سنی تو میرا ذہن ماضی میں چلا گیا۔ جولائی 2018 میں جب آج ٹی وی کی انتظامیہ نے عاصمہ شیرازی کو فون کر کے کہا کہ نواز شریف اور مریم نواز لندن سے گرفتاری دینے پاکستان آ رہے ہیں آپ کا ویزا لگا ہوا ہے کسی اور کے پاس نہیں آپ فوری لندن چلی جائیں کیونکہ سارا میڈیا اسی جہاز پر واپس آ رہا ہے، عاصمہ شیرازی نے لندن پہنچ کر نواز شریف اور مریم نواز کے انٹرویوز کیے جو چینل کے لیے ایکسکلوسیو تھے، چینل پر پروموشن چلتے ہی جنرل فیض نے مالکان کو فون کر کے کہا یہ انٹرویوز چلے تو اس کے بعد چینل نہیں چلے گا۔ انٹرویوز روک دیے گئے۔ ساری فلائیٹ اینکرز اور صحافیوںں سے فُل تھی مگر جب عاصمہ شیرازی واپس پہنچیں تو ان کے لینڈ کرنے سے پہلے "صرف ان کے" خلاف سوشل میڈیا پر کمپین کا طوفان آ چکا تھا، جیسے باقی میڈیا صحافتی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے ٹھیک کر رہا تھا صرف عاصمہ شیرازی نے غلط کیا تھا۔ واپسی کے چند روز بعد عاصمہ شیرازی کو رابطہ کر کے بتایا گیا کہ آپ کے نام پر ادارے نے کراس لگا دیا ہے۔ اب آپ نہیں بچیں گی۔ الیکشن کے بعد عمران خان صاحب کی حکومت آئی تو بنک سے کال آئی کہ آپ کے بنک اکاؤنٹ اسٹیٹمنس نکلوائی گئی ہیں۔ عاصمہ شیرازی کا مکمل ٹیکس آڈٹ ہوا، ان کی والدہ، بہن بھائیوں کے اکاؤنٹس کے آڈٹ ہوئے۔ عاصمہ شیرازی کے ایک قریبی دوست کے دوست ایسٹ ریکوری یونٹ میں تھے، انہوں نے بتایا کہ ہم نے احکامات کے مطابق عاصمہ شیرازی کے خلاف پورا یورپ، یوکے، امریکا چھان مارا مگر ہمیں کچھ نہیں ملا۔ اسی دوران عاصمہ شیرازی کے گھر میں دو بار نامعلوم افراد گھسے، ایک شخص کی ساتھ والے گھر سے ریکی کرنے کی نشاندہی ہوئی، پولیس نے عاصمہ شیرازی اور محلے کے معتبر لوگوں کو جمع کیا اور کہا آپ کو معلوم ہے یہ کون لوگ تھے، ہم ان کا کچھ نہیں کر سکتے۔ سوشل میڈیا پر آئے روز کمپین کے بعد ایک کالم کو بے بنیاد بنیاد بنا کر نیشنل براڈ کاسٹ پر عاصمہ شیرازی کے خلاف پریس کانفرنسیں کی گئیں، پروگرام ہوئے، سوشل میڈیا پر حجاب میں لپٹی طوائف سات روز تک ٹرینڈ کرتا رہا۔ ایک وفاقی حکومت کی پوری وفاقی کابینہ نے عاصمہ شیرازی کی کردار کشی مہم میں فخریہ حصہ لیا۔ اس سے پہلے غداری کا ٹرینڈ حامد اور عاصمہ شیرازی کے خلاف چلا۔ اسد طور معاملے پر پریس کلب کے باہر تقریر کرنے پر عاصمہ شیرازی اور حامد میر کے خلاف بغاوت کے مقدمات۔ تضحیک، تذلیل، گالم گلوچ اور پتا نہیں کیا کیا اس دوران ہوا۔ یہاں تک کے بچوں کو بھی نہیں بخشا گیا۔ مگر تب سب ٹھیک تھا، کئی صحافی دوستوں کے گھر پی ٹی آئی کے راہنما بیٹھ کر پلاننگ کرتے تھے عاصمہ شیرازی کی کردار کشی کیسے کرنی ہے، الزام کیا لگانا ہے، ٹرینڈ کیا ہونا چاہیے۔ اسی دوران کئی صحافی دوستوں نے پی ٹی آئی کی قربت میں عاصمہ شیرازی کا سوشل بائیکاٹ شروع کر دیا۔ بات سمیٹتے ہوئے: جو آج غلط ہے تب بھی غلط تھا۔ مگر تب کئی دوستوں کی دوستیاں ان کی اخلاقیات کی راہ میں رکاوٹ تھیں، سب اچھا لگ رہا تھا، آج سب برا لگ رہا ہے مگر ہے تو وہی صورتحال۔ موجودہ صورتحال میں میری ہمدردیاں اور دعائیں کاشف عباسی اور ان کے فیملی کے ساتھ ہیں۔ ان پر پابندی اور سختیوں کا کوئی جواز نہیں۔

Mudassar Saeed

68,416 Aufrufe • vor 6 Monaten