Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

فوج میں جب کوئی سیکنڈ لیفٹیننٹ آتا ہے تو اس کے میڈیکل اور سائیکلوجیکل ٹیسٹ ہوتے ہیں ہمارے سیاسی اکابرین جو ڈائریکٹ پارلیمنٹ میں پہنچ جاتے ہیں کیا ان کا کبھی کسی نے سائیکلوجیکل ٹیسٹ لیا ؟ جنرل طارق ۔۔ فوج میں اگر سائیکلوجیکل ٹیسٹ ہوتے تو عاصم منیر...

78,529 views • 7 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

کہا جاتا ہے کہ ہم سیاست نہیں کرنا چاہتے، اور ہم سیاست میں نہیں ہیں۔ لیکن یہاں روزانہ جو فیصلے ہوتے ہیں، وہ جب تک جی ایچ کیو سے منظور نہیں ہوتے، جب تک جرنیل اُس کے لیے “ہاں” نہیں کرتے، ہم پارلیمنٹ میں بھی اُن فیصلوں پر عمل نہیں کر پاتے۔ یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ اصل بااختیار ادارہ کون ہے — پارلیمنٹ یا ہماری ملٹری اسٹیبلشمنٹ؟ اگر واقعی پارلیمنٹ بااختیار ہے، تو پھر میں حیران ہوں کہ آنے والی ستائیسویں آئینی ترمیم کا مسودہ نہ پارلیمنٹ کے سامنے لایا گیا، نہ ہمیں بتایا گیا، اور نہ ہی کسی دوسری سیاسی قیادت کو اعتماد میں لیا گیا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ اس مسودے پر عام بحث ہوتی، سیاسی قائدین کو بٹھایا جاتا، ان سے مشورہ کیا جاتا، اور پھر پارلیمنٹ میں اس پر کھلی بحث کے بعد فیصلہ کیا جاتا۔ تب ہم سمجھتے کہ واقعی پارلیمنٹ بااختیار ہے — چاہے وہ اپنی رائے سے اس میں ترامیم کرتی، یا اس مسودے کو منظور یا نامنظور کرتی۔ لیکن بدقسمتی سے آج ہم جس پارلیمنٹ میں بیٹھے ہیں، وہ خود بااختیار نہیں۔ ہمارے فیصلے پہلے کہیں اور ہوتے ہیں، اور بعد میں پارلیمنٹ میں لائے جاتے ہیں۔ لہٰذا آج کے اس موجودہ اجلاس میں، جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے میں یہ بات واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ ہم ستائیسویں آئینی ترمیم کے معاملے میں اپنا مؤقف صاف رکھتے ہیں۔ ہم اس آئینی ترمیم کے مسودے کو مستر کرتے ہیں جے یو آئی کسی ترمیم کا حصہ نہیں بنے گی۔ سنیٹر مولانا عطاء الرحمان

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

18,207 views • 9 months ago