Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

فیصل راٹھور، جسے آئی ایس آئی نے 'آزاد جموں و کشمیر' کا نیا وزیر اعظم بنایا، نے 2013 میں مظفرآباد کے ایک ہوٹل میں ایک طالب علم کے ساتھ زیادتی کی۔ شیطان کی فوج نے پاکستان سے لے کر کشمیر تک ملک پر صرف ریپیسٹ اور چور ہی مسلط...

30,595 views • 9 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

دلچسپ۔۔۔۔۔۔ راولپنڈی کے حلقہ PP-19 سے منتخب پاکستان تحریکِ انصاف کے رکنِ پنجاب اسمبلی تنویر اسلم راجہ کا تعلق باغ، آزاد کشمیر سے ہے۔ وہ مہاجرِ کشمیری نہیں بلکہ آزاد کشمیر کے مستقل رہائشی ہیں اور ان کے پاس آزاد کشمیر اور پاکستان، دونوں کی شہریت موجود ہے، پنجاب اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران انہوں نے خود بتایا کہ ان کا ووٹ پنجاب میں بھی ہے اور آزاد کشمیر میں بھی، وہ پنجاب سے الیکشن لڑ کر رکنِ اسمبلی منتخب ہوئے۔ اب سوال یہ ہے اگر آزاد کشمیر کا ایک رہائشی پاکستان میں ووٹ ڈال سکتا ہے، الیکشن لڑ سکتا ہے اور صوبائی اسمبلی کا رکن منتخب ہو سکتا ہے، جس پر پنجاب کے لوگوں کو کوئی اعتراض نہیں تو پھر پاکستان میں مقیم مہاجرینِ کشمیر کو آزاد کشمیر کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے حق پر اعتراض کیوں کیا جاتا ہے؟ نوٹ: تنویر اسلم راجہ نے پنجاب اسمبلی میں اپنی تقریر کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا مسلہ ووٹ کا نہیں بلکہ ووٹوں کے کم تناسب پر پاکستان سے منتخب ہوکر آزاد کشمیر اسمبلی کا ممبر منتخب ہونا ہے، پنجاب کی کوئی نشست آزاد کشمیر میں نہیں اسی طرح آزاد کشمیر اسمبلی کی کسی نشست پر پاکستان میں کیسے ووٹنگ ہوسکتی ہے۔

Shabbir Dar

21,505 views • 2 months ago

آج کشمیر، میرپور اور کوٹلی سے وفد آیا۔ وفد نے مجھے کشمیر کی صورتِ حال پر بریف کیا۔ بہت افسوس ہے کہ کشمیر میں جانی نقصان ہوا ہے اور وہاں بحران ہے۔ میری وفد سے جتنی بات ہوئی، اس سے معلوم ہوا کہ کشمیری پاکستان سے بہت محبت رکھتے ہیں۔ پاکستان ہم سب کا ملک ہے۔ کشمیر ایک حساس علاقہ ہے، وہاں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام مسائل افہام و تفہیم اور مذاکرات کے ذریعے حل ہوں۔ جو معاہدہ ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہوا تھا، اس پر عمل کیا جائے۔ موجودہ صورتِ حال سے متعلق معاملات مفاہمت، مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنے چاہییں۔ کشمیری ہم سے بھی زیادہ اچھے پاکستانی ہیں اور وہ ہم سے زیادہ پاکستان کے لیے درد رکھتے ہیں۔ پی ٹی آئی اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ اسمبلی میں، میں نے اور اپوزیشن لیڈر نے کشمیر کی صورتِ حال پر بات کی۔ ہم کشمیر کا دورہ بھی کریں گے۔ ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کیا جائے۔

Asad Qaiser

30,936 views • 2 months ago

جے کے ایل ایف کا امان کہتا ہے تمہارے پاس صرف ایک آپشن ہے ہمارے قدموں میں سرنڈر کرو۔ پھر کہتا ہے "وطن یا کفن"۔ سرنڈر کی بات پھر کسی دن رکھ چھوڑتے ہیں آج "وطن یا کفن" پر بات کر لیتے ہیں۔ جموں و کشمیر کے چھوٹے سے ٹکڑے کو 24 اکتوبر 1947 کو آزادی ملی جسے آج آزاد کشمیر کہا جاتا ہے۔ 24 اکتوبر 1947 سے لیکر آج تک پاکستان اور بھارت کشمیر کو لیکر آپس میں پانچ جنگیں لڑ چکے لیکن پاکستان نے آج تک بھارت کو آزاد کشمیر کا ایک انچ نہیں لینے دیا۔ آج حیرانگی اس بات کی ہے کہ "وطن یا کفن" کی باتیں وہ کر رہے جن کا جدوجہد آزادیِ جموں و کشمیر سے چٹکی بھر سندور جتنا تعلق بھی نہیں۔ پاکستان تو اقوام متحدہ کی قرارداد پر آج بھی کار بند ہے کہ خطہ کشمیر کا فیصلہ کشمیریوں کی امنگوں کیمطابق ہو گا۔ اگر مقبوضہ کشمیر کے ڈیڑھ کروڑ اور آزاد کشمیر کے 22 لاکھ کشمیری خود مختار کشمیر چاہتے ہیں تو پاکستان کو کوئی انکار نہیں بلکہ پاکستان نے تو اسی لئے آج تک آزاد کشمیر کی حیثیت الگ ریاست کے طور پر برقرار رکھی ہوئی ہے جس کا اپنا صدر، اپنا وزیراعظم، اپنی اسمبلی، اپنی کابینہ اپنی ہائیکورٹ و سپریم کورٹ ہے۔ لیکن کیا "وطن یا کفن" کا فیصلہ صرف JKLF کے سرخے کریں گے؟ کیا "وطن یا کفن" کا فیصلہ صرف کالعدم عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی والے کریں گے؟ نہیں جناب یہ فیصلہ ڈیڑھ کروڑ آبادی والا مقبوضہ کشمیر بھی کرے گا جو بقول کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور JKLF سرخے مہاجر ہیں اور ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر JKLF کے سرخوں کو اتنا ہی زور سے "وطن یا کفن" آیا ہوا ہے تو یہ مقبوضہ کشمیر میں جا کر وہاں "وطن یا کفن" خود مختار کشمیر کا راگ کیوں نہیں الاپتے؟ کیونکہ جب تک مقبوضہ کشمیر نہیں چاہے گا تب تک تو JKLF کے سرخے ٹانگیں اوپر کر کے ہاتھوں کے بل بھی چلنا شروع کر دیں تب بھی آزاد کشمیر کی خود مختار وطن کے نام کی باگ ڈور تو انکے ہاتھوں نہیں تھمائی جا سکتی۔ ہاں مجھے اتنا ضرور یقین ہے کہ JKLF کے سرخے اس خود مختار چورن کو لیکر مقبوضہ کشمیر میں جا کر "وطن یا کفن" کی آواز لگائیں تو "کفن" ضرور ملے گا یا وہ بھی پتہ نہیں نصیب ہوگا یا نہیں۔

Political Prism

14,113 views • 2 months ago