Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

”لے کے پِنشن جاؤندا کیوں نئیں چاچا وردی لاؤندا کیوں نئیں؟ غیرت نوں اپناؤندا کیوں نئیں چاچا وردی لاؤندا کیوں نئیں؟“ سینئیر صحافیوں کے مطابق 2007 میں محسن نقوی نے اپنے اس وقت کے مائی باپ زرادری کے کہنے پر مشرف کی ڈکٹیٹرشپ پر یہ گانا بنوایا تھا، جو...

517,452 просмотров • 9 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

منی لانڈرنگ اسپیشلسٹ عاصم منیر کا سالا محسن نقوی اور شریف-زرداری-اسٹیبلشمنٹ کرپشن نیٹ ورک تحریر پڑھنے سے پہلے مندرجہ ذیل ویڈیو اور تصاویر ملاحظہ فرمائیں۔ گزشتہ دنوں آپ کو بتایا تھا کہ آئی ایس آئی کے معتبر ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ڈی جی ایکس میجر جنرل شہباز تبسم نے ڈی جی آئی جنرل ندیم انجم کو اطلاع دی ہے کہ آرمی چیف کے رائٹ ہینڈ مین، سابق نگراں وزیراعلیٰ پنجاب اور موجودہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان سے امریکہ 16 ارب روپے سے زائد کی رقم بھجوائی ہے۔ یہ رقم مبینہ طور پر ایک بلین ڈالر کی گندم کی درآمد سے کمیشن کے طور پر حاصل کی گئی۔ ڈی جی آئی نے یہ معلومات اپنے بہت سے قریبی دوستوں کے ساتھ شیئر کی تھیں لیکن عاصم منیر کو اپنی کرپشن چھپانے اور اپنی نوکری بچانے کے خدشات کے باعث مطلع کرنے سے کتراتا رہا۔ "کوئی بھی ایجنسی اس رپورٹ کی تحقیقات کر سکتی ہے۔ ثبوت موجود ہیں۔" ذرائع نے دعویٰ کیا۔ پی ایم ایل این کے سپریمو نواز شریف سے منسلک پاکستانی میڈیا بھی گندم سکینڈل کی رپورٹنگ کر رہا تھا۔ یہ گندم انوار الحق کاکڑ اور محسن نقوی وغیرہ کی پچھلی کٹھ پتلی حکومت میں درآمد کی گئی تھی جو موجودہ انتخابات میں دھاندلی سے پہلے فوجی جنتا نے لگائی تھی تاکہ عمران خان کو احتساب کے خوف سے اقتدار سے باہر رکھا جا سکے۔ یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ اس میگا کرپشن سکینڈل میں آرمی چیف عاصم منیر اور اسکا خاندان مکمل طور پر ملوث ہے۔ محسن نقوی بھی عاصم منیر کا سسرالی رشتہ دار ہے۔ نیچے دیکھی جاسکتی تصویر میں وحیدز کراچی پر بیٹھے محسن نقوی کے ساتھ دھاگا کباب انجوائے کرتے حکومت سندھ کا وزیر علی حسن زرداری بیٹھا ہے جو رپورٹس کیمطابق آصف زرداری کا سندھ میں فرنٹ مین ہے اور سندھ میں کرپشن کا سارا پیسہ اس کے پاس جمع ہوتا ہے۔ نیچے شامل ویڈیو میں سنا جاسکتا ہے کہ کیسے یہ پیسہ ڈالرز میں تبدیل ہوتا ہے، جسے کراچی بیٹھے ملک بوستان جیسے آئی ایس آئی ٹاوٹس منی چینجر ڈالرز میں تبدیل کرتے ہیں اور پھر جو پیسہ پہلے فشریز ڈیپارٹمنٹ کی لانچز میں دوبئی جاتا تھا اب وہی پیسہ جیٹ طیاروں میں بیرونی ممالک جاتا ہے کیونکہ اس کھیل میں اب طاقتور جرنیل اور ادارے بھی شامل ہیں۔ مگر ڈالرز دوبئی پہنچنے کے بعد پوری دنیا میں محفوظ طریقے سے چھپانے کے لئے محسن نقوی جیسے منی لانڈرنگ اسپیشلسٹ کی ضرورت تو پیش آتی ہی ہوگی نا۔۔۔ پانامہ پیپرز میں شریفوں کی منی لانڈرنگ پکڑے جانے کے بعد اسپیشلسٹ انٹرنیشنل وارداتیوں کی مزید ضرورت پڑی جو منی لانڈرنگ اسپیشلسٹ بھی ہوں اور مغربی انٹیلی جنس ایجنسیاں ان پر اعتبار بھی کرتی ہو تاکہ دہشتگردی کے قوانین کی زد میں نا آیا جاسکے۔ اس منی لانڈرنگ نیٹ ورک کا فائدہ پاکستان میں حرام کمانے والے تمام سیاستدان، افسران اور ادارے تک کررہے ہیں! شروع میں یہ کام غیر ملکیوں سے لیا گیا مگر ان کے ریٹ بے تحاشا ہیں اور نخرے الگ۔ اوپر سے وہ چھپائے گئے ڈالرز کے کنٹرول میں بھی ہوتے ہیں مگر ان پر پاکستانی حرامخوروں کا کنٹرول نہیں ہوتا۔ ایسا کام کرنے کے لئے محسن نقوی جیسے پرزے سے موزوں بھلا کون ہوسکتا ہے؟ محسن نقوی کی دنیا کے منی لانڈرنگ کیپیٹل کمبوڈیا کے اعزازی سفیر لگنے سے اس رپورٹ کا براہ راست تعلق بتایا جاتا ہے۔ سوال اٹھتا ہے کہ محسن نقوی جسے زرداری اپنا بیٹا کہتا ہے، عاصم منیر اپنا سالا اور متعدد جرنیل اپنا دوست، کیا اقتدار تک منی لانڈرنگ اسپیشلسٹ ہونے کی وجہ سے پہنچا؟ کیا پاکستان کرکٹ بورڈ کو محسن نقوی, زرداری، عاصم منیر اینڈ کمپنی کے لیے منی لانڈرنگ کے ذریعے کے طور پر استعمال کر رہا ہے؟ محسن نقوی اور ویٹیکن بینک کے درمیان کیا تعلق ہے؟ محسن نقوی نے آئرلینڈ میں کن فنانشل کمپنیوں سے ملاقات کی اور کیا ڈیجیٹل کرنسی میں سرمایہ لگایا؟ محسن نقوی پرائیویٹ جیٹ میں کیوں سفر کرتا ہے، اور اس کے طیارے میں سفارتی سامان کے بڑے بڑے بکسوں میں کیا سامان ہوتا ہے؟ ان سوالات کی تحقیق اور جواب میں سارا کرپشن کا کاروبار چھپا ہوا ہے جو چوری کا پیسہ ہے اور بقول اردھشیر کاوسجی "چور چوری کے بعد رسید نہیں چھوڑتا" مگر کھرا تو چھوڑتا ہے نا!

Adil Raja

186,413 просмотров • 2 лет назад

🚨🚨 بریکینگ نیوز : حامد میر کے تہلکہ خیز انکشافات, اندر کی کہانی بتادی.!!!!🔥🔥🛑🛑🛑 جب محسن نقوی آٹھ دس دن پہلے بیرسٹر گوہر کی والدہ کی وفات پر ان سے تعزیت کیلئے ان کے گھر گئے تھے, تو وہاں پر بیرسٹر گوہر نے محسن نقوی سے یہ بات کی کہ عمران خان کی طبیعت کافی خراب ہے, تو کم از کم انہیں ہاسپٹل شفٹ کیا جائے ۔ تو محسن نقوی نے اس پر کہا کہ ٹھیک ہے, ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے, آپ عدالت کا راستہ اختیار کریں, ۔ عدالت اگر حکم دیدے گی ۔ تو ہم اس پر عمل کرینگے ۔اور پھر اس کے بعد پی ٹی آئی نے عدالت میں پٹیشن دائر کی, اور اس پر عدالت نے فیصلہ بھی دے دیا ۔ اس پر محسن نقوی بیرسٹر گوہر سے پورے رابطے میں تھے ۔ اور جس رات عمران خان کو شفاء کے بجائے پمز لایا گیا تھا, تو اس رات بھی محسن نقوی کا بیرسٹر سے رابطہ تھا ۔اور بیرسٹر گوہر کو آٹھ بجے ہی یہ اطلاع دیدی گئی تھی, کہ عمران خان کو شفاء میں ہی لایا جا رہا ہے ۔ لیکن پھر اس کے بعد مسلم لیگ نون کے ایک گروپ نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ ہماری جو ریویو پٹیشن ہے ۔ اس میں ہم نے کہا ہے کہ عمران خان کو پرائیوٹ ہسپتال نہیں لے جایا جاسکتا ۔ انکو سرکاری ہسپتال میں لے جایا جائے ۔اور پھر شفاء کے باہر کچھ لوگ اکٹھے ہوگئے, جس کو بہانہ بنا کر وہ عمران خان کو پمز لے گئے ۔تو اس پر میرا خیال ہے کہ محسن نقوی کا نام اس لئے شامل نہیں کیا گیا ۔ کیونکہ پی ٹی آئی کی لیڈرشپ یہ سمجھتی ہے کہ محسن نقوی نے ہماری درخواست پر عمران خان کو جیل سے ہاسپٹل لانے کا جو عمل تھا ۔ اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔ تو ہو سکتا ہے, آئیندہ بھی وہ رکاوٹ نہ ڈالیں تو اس لئے انکا نام توہین عدالت کی درخواست میں نہیں ڈالا گیا ۔ حامد میر 🔥🔥🚨

Anisha KHAN

241,879 просмотров • 9 дней назад