Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

ماضی میں جب یہاں پر OIC کا اجلاس ہونا تھا تو اسوقت کی اپوزیشن جس میں بلاول اور شہبازشریف شامل تھے، وہ کہہ رہے تھے کہ ہم یہاں پر اجلاس نہیں ہونے دینگے۔ سیاستدان تو یہ کرتے رہتے ہیں مگر مجھے اُن سینئر صحافیوں پر حیرت ہو رہی ہے...

61,717 Aufrufe • vor 5 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

مان لیتے ہیں کہ ہم ہیں؛ جو حکمران نہیں رہے رعایا ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ، وزیرِ اعظم کا مجھے تو وہ فقرہ بڑا اچھا لگا اور یہ بالکل ٹھیک بات ہے کہ 'مشین نہیں لیپ ٹاپ ہے، اور مشن ہمارا لیپ ٹاپ ہے'۔ اچھا، جو ککڑ، مرغیاں اور انڈے دے رہے تھے نوجوانوں کے نام پر، کیا وہ ٹھیک تھا؟ اچھا، اس ملک میں نا چونکہ انہوں نے کچھ دیا نہیں سوائے بیانیے بنانے کے اور گپ شپ کرنے کے، تو اسی طرح ٹائم (Time) گزار لیا۔ لوگ تو فرشتوں سے بھی مطمئن نہیں ہوتے جو حکومت میں آ جائیں۔ اچھا، تو آپ کو اگر کچھ مل رہا ہے، کیا لیپ ٹاپ ایک ضائع مشین ہے؟ کیا وہ ٹیب (Tab) ایک خراب مشین ہے؟ میرٹ (Merit) پر بھرتی کی اگر بات کریں، جو اساتذہ پہلے سیاسی بنیادوں پر بھرتی ہوتے تھے اور خود انہوں نے ہی یہ سسٹم تبدیل کیا؛ یہاں تک کہ گریڈ 7 کا فوڈ انسپکٹر بھی پنجاب پبلک سروس کمیشن (PPSC) کے تھرو گیا۔ میں تو ایک پوری تاریخ کو دیکھتے ہوئے کہتا ہوں کہ پہلے تحصیلدار چٹ (Chit) پر بھرتی ہوتے تھے اور پلاٹس دیے جاتے تھے، جس میں عمران خان نے بھی لکھ کر دیا کہ 'میرے پاس پلاٹ نہیں ہے، مطلب میں خود مستفید ہونے والا ہوں'۔ ہمارے سارے بڑے اس میں شامل ہیں، ماشاء اللہ سے جی۔ تو اگر ارتقائی عمل میں چیزیں بہتر ہوتی چلی گئی ہیں اور پرائم منسٹر یہ کہتے ہیں کہ غلطیاں بھی ظاہر ہے ہوئی ہیں اور وہ اسے مان رہے ہیں، تو اس کے اوپر ہمیں مثبت بحث کرنی چاہیے۔ اگر ہم موازنہ کرنے لگ جائیں گے کہ 'جی یہ تو ہے ہی کچھ نہیں، یہ تو فراڈ ہے'، تو یہ غلط ہوگا۔ دیکھیں، جو لوگ پاکستان سے (جیسا کہ آپ نے بتایا) 29 لاکھ کا فگر (Figure) ہے کہ قانونی طور پر باہر گئے ہیں، وہ بھی تو ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں نا؛ وہ پاکستان کے لیے قیمتی زرِ مبادلہ کمائیں گے

Aamir Ilyas Rana

12,401 Aufrufe • vor 1 Monat

لارنس انتھونی دنیا سے رخصت ہوئے، کسی نے اس بارے میں ہاتھیوں کو نہیں بتایا۔ وہ جنوبی افریقہ کے جنگلوں میں میلوں دور تھے۔ کوئی سگنل نہیں، کوئی فون کال نہیں اور جاننے کا بھی کوئی طریقہ نہیں ۔ 12 گھنٹے بعد 20 جنگلی ہاتھی ان کے گھر پر نمودار ہوئے، لارنس نے انہیں برسوں پہلے مر نے سے بچایا تھا، کیونکہ خطرناک ہونے کی وجہ سے ان کو گو لی مار دیے جانے کے آرڈرز دئیے جا چکے تھے۔ لارنس ہر رات ان کی باڑ کے پاس بیٹھے اندھیرے میں ان سے باتیں کرتے تھے یہاں تک کہ ان ہاتھیوں نے لارنس پر پوری طرح سے بھروسہ کرنا شروع کر دیا۔ جب وہ 2012 میں دل کا دورہ پڑنے سے فوت ہوئے تو وہ سب رات بھر چلتے رہے۔ وہ 2 دن تک مکمل خاموشی سے ان کے گھر کے باہر کھڑے رہے۔ پھر وہ واپس چلے گئے۔ اور اب ہر سال ان کی برسی پر وہ لارنس کے گھر جا کر ان سے اپنی محبت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ کسی نے انہیں ایسا کرنے کو نہیں کہا۔ وہ بس ایسا ہی کرتے ہیں۔ لیکن شاید یہاں اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنی زندگی میں کسی سے ایسے پیار کرتے ہیں جیسے یہ ہاتھی اس آدمی سے پیار کرتے ہیں؟

Asad Malik

17,974 Aufrufe • vor 4 Monaten

اگر جنرل صاحب کہتے ہیں آپ مجھے بھی کچھ نہ کہیں میں جو کچھ کروں میری مرضی ہے نہ میری عقل کسی کی پابند ہے نہ میری محنت کسی کی پابند ہے میرے خیال میں یہ درست نہیں ہے اگر ہم سیاسی جماعتوں پر تنقید کر سکتے ہیں ہم صدر اور وزیراعظم پر تنقید کر سکتے ہیں یا تو پھر یہ کہیں کہ ہمارا ادارہ جو ہے وہ سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور جنرل آ کر ٹی وی پر کبھی کہتے بھی ہیں کہ ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں لیکن اگر واقعتا ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے الیکشن میں کوئی دھاندلی نہیں کرتے الیکشن میں ان کا کوئی کردار نہیں ہوتا تو پھر تو ہم بھی کہیں گے کہ ہم نے غلط کیا لیکن اگر وہ الیکشن میں بھی اپنی دھاندلیاں کرتے رہے یعنی عجیب بات یہ ہے کہ اس 24 کے الیکشن میری معلومات کے مطابق 70 ارب روپیہ ایک صوبے سے انہوں نے نکالا کہتے ہیں کہ کس طرح ہم ان کو کہیں ابھی کہتے ہیں کہ اپ حافظ جی یا نابینہ کو نابینا نہ کہیں وہ بتائیں کہ اگر نابینے کو نابینا نہیں دیں گے تو کیا کہیں گے۔ مولانا عطاء الرحمن صاحب #سلیکشن_مافیا_نامنظور #آئین_شکن_مقدس_گائے #معافی_مائی_فٹ #لشکر_نہیں_خود_لڑو #شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ #پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو

Sadaqat Khan

19,578 Aufrufe • vor 2 Monaten

🚨🚨 گورنر سندھ کا دنیا کو واضح پیغام (ویسے آخری 30 سیکنڈز میں انہوں نے دنیا کو جو پیغام دیا ہے وہ میں سمجھ نہیں سکا مکمل طور پر،آپ میں سے کسی کو ٹھیک سمجھ آئی ہو تو ضرور بتائے اور اس جملے کا بھی بتائیے گا کہ ہم نہیں تو پاکستان نہیں۔۔اس کا کیا مطلب تھا) ایران امریکہ جنگ کے بعد ہم پریشان تھے کہ تجارت ہوگی کیسے؟ انہوں نے کہا کہ آپ پریشان نہ ہوں ہم ہیں ناں، ہم پریشان تھے کہ بم پھٹ رہے ہیں، ہمارے بچے مررہے ہیں، ہماری مساجد کو بھی نہیں چھوڑا جارہا، ہمارے سپاہیوں کو جلایا جارہا ہے، ہماری بستیوں اور دیہاتوں پر حملے کیے جارہے ہیں، ہم پریشان تھے،اللہ جانتا ہے کہ بہت پریشان تھے، کہ ہمارے ریڑھی والے،ٹھیلے والے ، مارکیٹ میں شاپنگ کرنے کے لیے جانے والی ہماری بہنیں، ان کی حفاظت کیسے ہوگی؟ پھر ہم کہتے تھے کہ اللہ ہی مالک ہے، پھر ہم نے سوچا کہ ہمیں بھی کچھ کرنا ہے، میں نام تو نہیں لوں گا مگر سپریم کمانڈر فیلڈ مارشل سی ڈی ایف سید عاصم منیر ،ان کی ٹیم اور شاہینوں نے بمباروں کو ایسا پھوڑا ہے ،ایسا پھوڑا ہے، ورنہ وہ چوبیس گھنٹوں میں لینا چاہتے تھے ہمیں، ہم نے یقینی بنایا ہے کہ جواب میں کسی سویلین ،کسی بہن،کسی بیٹی اور کوئی سکول نشانہ نہ بنے، لیکن واضح کردوں کہ مجھے بھی ان کی ایک بات اچھی لگتی ہے، کوئی بھی بدمعاش ہو، بھارت،اسرائیل یا پڑوسی،سب کے لیے پیغام واضح ہے، میں نے ایک سال پہلے کہا تھا، ناصر صاحب بھی بیٹھے تھے، ہم FM بھی کہتے ہیں،فیلڈ مارشل، فیلڈ مارشل نے کہا تھا کہ ایک پاکستانی پر بھی آنچ نہیں آنے دیں گے، پیغام واضح ہے کہ ہم نہیں تو پاکستان نہیں، پاکستان نہیں تو ہمارے لیے دنیا نہیں، اگر آپ رہنا چاہتے ہیں تو جیو اور جینے دو، گورنر سندھ نہال ہاشمی

Siddique Jan

53,526 Aufrufe • vor 6 Monaten