Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

مجھ سے آج کسی نے ڈان اخبار میں جنوری 1985 میں ڈاکٹر محبوب الحق کا چھپا ایک بیان شیئر کیا جس کے مطابق 1986 میں لوڈ شیڈنگ ختم ہونے کی نوید سنائی گئی ٹھیک 40 سال بعد آپ مجھ سے پوچھ رہی ہیں کہ لوڈ شیڈنگ کب ختم ہو...

27,080 просмотров • 5 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

زندگی میں قدر کر لو، موت کے بعد کیا شکوہ۔ کراچی احسن آباد میں اپنی اہلیہ اور تین بچوں کو قتل کرنے کے بعد مبینہ طور پر خودکشی کرنے والے ڈاکٹر عمر کے حوالے سے افسوسناک اور چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ڈاکٹر عمر کراچی کے ایک نجی اسپتال میں کام کرتے تھے اور ان کا تعلق پنجاب کے علاقے بہاولنگر سے تھا۔ دوسروں کا علاج کرنے والے ڈاکٹر عمر کو اچانک معلوم ہوا کہ وہ جگر کے کینسر میں مبتلا ہیں، جس کے بعد ان کی زندگی تیزی سے بدل گئی اور وہ گھر کا سامان تک فروخت کرنے پر مجبور ہوگئے۔ ڈاکٹر کے ایک پڑوسی کے مطابق، ایک روز ڈاکٹر عمر گھر کا اون لے کر ان کے پاس آئے اور کہا کہ وہ اسے فروخت کرنا چاہتے ہیں اور 10 ہزار روپے میں خرید لیں۔ پڑوسی نے بتایا کہ انہوں نے اون 10 ہزار روپے میں نہیں خریدا، تاہم ڈاکٹر عمر کی 2 ہزار روپے مالی مدد کی۔ اس واقعے کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ڈاکٹر عمر زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھے، لیکن ان کے بھائی بھی ان سے رابطے میں نہیں تھے۔ ڈاکٹر عمر کے بھائی ابوبکر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹر عمر کے ساتھ خاندانی مسائل تھے، جس کے باعث ان سے رابطہ نہیں رہتا تھا۔ انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ آخری بار ان کی اپنے بھائی سے کب بات ہوئی تھی۔ یہاں تک کہ ڈاکٹر عمر کے بھائی ان کی میت کو آبائی علاقے پنجاب لے جانے کے لیے بھی تیار نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پنجاب میت لے جانے میں کافی وقت لگے گا اور لاشیں کمروں میں بند ہونے کے باعث خراب ہوچکی ہیں، اس لیے تدفین کراچی میں ہی کی جائے گی۔ پولیس کے مطابق ابتدائی طور پر واقعہ خودکشی کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے، تاہم مزید حقائق پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد سامنے آئیں گے۔

𝗗𝗿 𝗡𝗮𝗲𝗲𝗺 𝗠𝗲𝗼 𝗢𝗳𝗳𝗶𝗰𝗶𝗮𝗹

48,665 просмотров • 7 дней назад