Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

مجھے ائیرپورٹ پر جب روکا گیا تو میری فیملی ہمراہ تھی، آج تو جسے اٹھایا نہیں جاتا اس شک کی نگاہ سے دیکھنا شروع ہوجاتا ہے، آج صحافی بول نہیں سکتا، اس جبر کے دور میں جو بول رہا ہے اس کی ہمت بنیں، فرخ شہباز وڑائچ

54,489 views • 8 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

"خون کی فطرت میں جم جانا ہے ' دھلنا نہی " آج سٹوڈنٹس میں سکالر شپ کی تقسیم کی اس تقریب میں چشم تخیل کی طاقت سے میں بھی موجود تھا - جب مریم نواز صاحبہ Maryam Nawaz Sharif نے یہ والا بھاشن شروع کیا تو میں نے ہاتھ کھڑا کیا اور پوچھا کہ " میڈم ! طلباء کو بھی شوق نہیں ہے کہ وہ یونیورسٹی کی جگہ ڈی چوک میں احتجاج کیلئے جائیں لیکن جب ان کا ووٹ چوری کرنے والا جیل کی بجاے سی ایم ہاؤس پہنچ جاتا ہے ' اس چوری کو روکنے کیلئے زمہ دار الیکشن کمیشن خود ہی سہولت کار بن جاتا ہے ' اس چوری پر بازپرس کرنے والی عدلیہ خود بیکار بن جاتی ہے ' اس چوری کو آشکار کرنے والا میڈیا خود ساہوکار بن جاتا ہے ' اس پر آواز اٹھانے والا صحافی ' سٹوڈنٹ اور ایکٹوسٹ مغوی اور پاسبان ہی اس کا اغواکار بن جاتا ہے ' --- تو پھر طلباء کو اپنے حق کی اس چوری پر جواب مانگنے کیلئے خود ہی یونیورسٹی چھوڑ کر ڈی چوک میں بھی بیٹھنا پڑتا ہے- آپ کا بیٹا جنید اس لئے آرام سے گریجویٹ کرگیا کیوں کہ وہ سارق (چور ) کا بیٹا تھا ' مسروق کا نہیں---اگر طلباء یونیورسٹی میں اچھے لگتے ہیں ڈی چوک پر نہیں ' تو طلباء کے حق کی چوری کرنے والے جیل میں اچھے لگتے ہیں ' سی ایم ہاؤس میں نہیں " - یہ سٹوڈنٹس وہاں موجود پنجاب پولیس کے جلادوں کے ہاتھ مجبور ہونگے ورنہ بہت سے نوجوان ذہنوں میں یہ بھاشن سن کر یہی سوال ابھرے ہونگے جو میں نے پوچھے - اس ملک کی قسمت چیک کریں کہ پہلے جن لوگوں کا حق کھایا جاتا ہے اور پھر انہی کے سامنے کھڑا ہو کر بھاشن بھی دیا جاتا ہے - سی ایم صاحبہ کے لہجے میں جو اعتماد ہے وہ ایسے ہی نہیں آتا - ڈھٹائی اور بےشرمی کی نجانے کتنی بوتلیں لگوانی پڑتی ہیں ' معصوموں کے خون کے کتنے پیالے پینے پڑتے ہیں ' تب جاکر لہجے میں یہ والا اعتماد آتا ہے کہ آپ مسروق (جس کی چوری ہوئی ہو ) کے سامنے اس کو منع کریں کہ پڑھائی پر توجہ دو اور اپنے سامان مسروقہ کی برآمدگی کا مطالبہ نہ کرو - پچھلی کچھ تقریروں میں جتنا گند اور غلاظت مریم نے اسلام آباد احتجاج کے شرکا کے خلاف اگلا ہے اس سے ایسا لگتا ہے کہ "پٹھان " ہونا اس ملک میں جرم ہی بن گیا ہے اور کی پی کے ڈیورنڈ لائن کے اسطرف واقع ہے - اس ملک کی دوتہائی سے زائد آبادی تیس سال سے نیچے کے نوجوان ہیں جس میں سے اکثریت جس کو سپورٹ کرتی ہے آپ اس کو "دہشت گرد اور انتشاری" کہتی ہیں - آج وہ بیشک آپ کے پریشر اور آپ کے زہر کے خوف سے آپ کے سامنے تالیاں بجائیں ' لیکن یہی وہ یوتھ ہے جو آپ کو اور آپ کے سہولت کاروں کو اپنے حق انتخاب اور آج ملک میں جاری فسطائیئت کا زمہ دار سمجھتی ہے - آپ کیلئے اس یوتھ کی یہ تالیاں منہ پر ہویے اسی رنگ روغن کی طرح ہیں جو پانی کا ایک چھینٹا پڑتے ہی جب اترتا ہے تو اندر سے زہر سے بھرا ہوا نفرت انگیز چہرہ سامنے آتا ہے - اس تقریر میں نہ چاہتے ہویے بھی مریم کے منہ سے یہ نکل ہی گیا کہ "اسلام آباد میں نہتے لوگ ..." . پھر خود کو ٹوکا اور بولا "نہتے پولیس والے " اگر ایک- کے 47 اور سنایپرگنوں سے لیس وہ پولیس والے ' رینجرز اور فوجی نہتے تھے تو پھر مریم کی نظر میں اسلحہ سے لیس اسی پولیس افسر کو کہا جائیگا جو نیوکلیر بمب کی ڈیوائس اور آر ڈی ایس کی جیکٹ ساتھ لے کر گھوم رہا ہو - خون میں قدرت نے ایک خاصیت رکھی ہے - یہ جب بہتا ہے تو جم جاتا ہے اور اس کے نشان نہیں جاتے کیوں کہ اس کی فطرت میں جمنا ہے ' دھلنا نہیں - اس حکومت اور اس کی سہولت کار ریاست کے چہرے پر بھی یہ خون اب جم گیا ہے جو بچوں کو یوں لارا لپا لگانے اور "میں پنجاب کی ماں " والی کہانیاں سنانے سے نہیں دھلے گا اور بار بار پوچھتا رہیگا کہ #گولی_کیوں_چلائی ؟ #IslamabadMassacre --------------------------------------------------------- Moeed Pirzada Imran Afzal Raja

Dr Waqas Nawaz

12,319 views • 1 year ago

یہاں سے ثابت ہوتا ہے کہ جی عادل راجہ کے ذرائع کتنے سچے ہیں اور باوثوق ہیں صرف جھوٹ کا پلندہ ہے یہ شخص بھائی سب سے پہلے یہ تو بتائیے کہ کونسی اعلی قیادت کل سے ہسپتال عیادت کے لیے آئی یا فیملی کے پاس آئی ہو ؟ نام ضرور بتانا بھاگنا نہیں اب دوسرا یہ تھا وہ شاہانہ بند نما کمرہ جس میں صنم کو وارڈ میں علاج کے بعد شفٹ کیا گیا کبھی اس کی لائٹ بند تو کبھی پنکھا بند اور یہ ہے شاہانہ انداز میں ان کی فیملی کی ان سے پر سکون ملاقات ماں کیسے چیخ رہی ہے کسے چلارہی ہے کیوں کہ اس کی بیٹی کے دائیں ہاتھ سے شاہانہ انداز میں بہت خون بہہ رہا تھا اس واقعہ کے بعد ایم ایس صاحبہ اوپر آئی صنم کے ہاتھ پر مرہم کی اور جب باہر نکلی تو صنم کی والدہ نے درخواست کی کہ اس کو اپ وارڈ میں ہی شفٹ کردے کم از کم ادھر گرمی تو نہیں ہے لیکن انہوں نے صاف انکار کردیا اور کہا یہ اپ کا لیگل مسئلہ ہے ہم اس میں نہیں پڑے گے تم جیسے لوگ چند ویوز اور ڈالروں کے عوض اگلے کی ساری تکالیف اور قربانیوں کو متنازعہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں کچھ شرم کرو اور شاباش اس غیرت مند قیادت کا نام بتانا جو کل اس شاہانہ جگہ پر آیا ہو ؟ لازمی

Saad dogar

102,646 views • 3 months ago