正在加载视频...

视频加载失败

مجھے رات 8 بجے کے قریب بلایا گیا اور مجھے ایک گاڑی میں لے جایا گیا میرے پاس موبائل فون نہیں تھا اور نہ ہی کوئی گھڑی وغیرہ تھی مجھے لے کر شفا انٹرنیشنل اسپتال جایا گیا میں بار بار پوچھتا رہا کہ خان صاحب کب آئیں گے لیکن...

70,790 次观看 • 10 天前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

جب ہمیں پمز پہنچایا گیا تو میں نے پوچھا کہ سپریم کورٹ کا آرڈر تو شفا انٹرنیشنل کا تھا ، تو مجھے کہا گیا کہ عمران خان کا فالو اپ چیک اپ ہونا تھا ، اس لیے یہاں لائے، مکمل اندھیرا تھا ، ہمارے پاس موبائل نہیں تھا کیونکہ جیل میں موبائل لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی ، پندرہ منٹ گاڑی میں مجھے بٹھائے رکھا ، پھر کہا کہ ڈاکٹر صاحبہ آپ آجائیں، مکمل اندھیرا تھا ، موبائل ٹارچ پر راستہ دکھاتے ہوئے او پی ڈی کے راستے مجھے ایک آفس لے جایا گیا اور وہاں بٹھایا گیا۔ اس کے بعد مجھے اوپر ایک کمرے میں لے گئے ، عمران خان بھی حیران تھے ، عمران خان مجھے ملے پیار کیا اور کہا کہ میں دس ماہ بعد اپنی بہن سے مل رہا ہوں، میں نے عمران خان کو بتایا کہ یہاں فالو اپ چیک اپ کے بعد ہم شفا انٹرنیشنل جائیں گے، وہاں آپ کے مکمل ٹیسٹ ہوں گے ، پھر ہمیں ایک دفتر لے گئے ، جہاں ڈاکٹر عارف نے عمران خان کی آنکھ کا معائنہ کیا ، آفس میں چیک اپ کیا ، آئی ڈراپس کا پوچھا کہ کونسی ڈال رہے ہیں؟ عمران خان نے کہا مجھے نام یاد نہیں، میں نے ڈاکٹرز سے کہا کہ آپ کو نام نہیں معلوم کہ آپ نے کونسے لکھ کے دیے ہیں؟ پریسکپن نہیں ہے آپ کے پاس ؟ ڈاکٹر ایک دوسرے کو دیکھتے رہے ، ڈاکٹر عظمیٰ خان

PTI

186,684 次观看 • 10 天前