Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

مجھے فیلڈ مارشل نے بتایا کہ فوج میں اتنا ڈسپلن ہے، کہ اگر کسی گدھے کو بھی آرمی چیف بنا دیا جائے، تو فوج اُسے سلیوٹ کرتی ہے۔۔۔!!! سہیل وڑائچ۔۔۔کا وڑائچ طیارے پر بیٹھ کر نیا اعلان اور FM سے بدلہ۔۔🤣😂

130,879 views • 1 year ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

شکر، صد شکر کہ فیض حمید جیسا کوئی سابق DG ISI اور طاقتور ترین جرنیل سیاسی مداخلت جیسے الزامات کی فرد جُرم کا سامنا کر رہا ہے، فیض حمید کی فرد جُرم کا مطلب ہے کہ انہوں نے حلف توڑا اور آئین سے غداری کی لہذا اس پر آرٹیکل 6 بھی لگانا چاہیے۔ میں تو کہوں گا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی جنرل پاشا اور جنرل ظہیر الاسلام پر بھی سیاست میں مداخلت کا الزام لگاتی رہی ہیں، ن لیگ کو اب تو ہمت کرتے ہوئے ان دونوں جرنیلوں کا بھی احتساب شروع کر دینا چاہیے۔ اگر کوئی کسی اور سابق جج یا جرنیل کا احتساب کروانا چاہتا ہے تو میں اسکے ساتھ بھی غیر مشروط کھڑا ہوں اب آ جائیں کہانی کے دوسرے رخ کی طرف: جنرل باجوہ نے بطور آرمی چیف قوم کے سامنے اعتراف کیا کہ انکے دور سمیت 70 سال تک فوج سیاست میں مداخلت کرتی رہی، باجوہ کے دور میں ہی فیض حمید ISI میں ایک اعلیٰ عہدہ پر فائز تھا اور پھر باجوہ دور میں ہی DG ISI بنا، کیا باجوہ فیض حمید کے سیاسی جرائم سے بری الذمہ ہو سکتا ہے؟ اسوقت سپریم کورٹ کا آئینی بنچ جنرل اسلم بیگ اور مرحوم حمید گُل جیسے جرنیلوں کی بنائی ہوئی IJI کا کیس بھی سن رہا ہے جس میں فوج نے سیاستدانوں میں پیسے بانٹے۔ جو فیض حمید کے ہم پلہ جرم تھا، لہذا کیا ہی کمال ہو جائے کہ IJI بنانے والے جرنیلوں کا بھی احتساب ہونے دیا جائے۔ تیسری اور آخری بات، پرویز مشرف کو بھی پھانسی دینے کی سزا پشاور ہائیکورٹ کے جج نے سنائی تھی لیکن کوئی مائی کا لال مشرف کو ہاتھ نہیں لگا سکا خلاصہ: اگر ریاست واقعی احتساب کی دلداہ ہے تو پھر باجوہ سے لیکر اسلم بیگ تک کا بھی احتساب کیا جائے ورنہ مورخ یہی کہے گا کہ فیض حمید بہانہ تھا عمران خان نشانہ تھا

Ameer Abbas

81,422 views • 1 year ago