正在加载视频...
视频加载失败
"مجھے پولیس کی اسپیشل برانچ نے اٹھایا، مرد اہلکاروں نے اُلٹا لیٹا کر تشدد کیا، مجھے کرنٹ لگایا اور نازیبہ سوالات پوچھے، مجھے انصاف نہ دیا گیا تو میں خود اپنی جان لے لونگی" یہ کہانی ہے ایک کاٹن ملز کے مالک کی بیوی کی، جس کو صرف اسلئے... show more
245,906 次观看 • 2 年前 •via X (Twitter)
6 条评论

قیادت کو سب سے پہلے عورتوں کی رہائی ممکن بنائی جائے ۔ایک سال ہونے کو ہے صنم جاوید، یاسمین راشد اور عالیہ حمزہ زیر حراست ہیں ۔ان کے بچے اور خاندان ان کے منتظر ہیں

مجھے نہیں لگتا کوئی پولیس والے نے مانگے ہونگے کیوںکہ وہ تو چابی والے بندر ہیں یہ کام بی کسی بڑے بھائی کا ہو گا

اگر آپ اس ملک کے ساتھ مخلص ہیں تو اس ظلم کے نظام کا تختہ الٹنے کے لئے آپ کو اٹھنا ہوگا ورنہ یہی کچھ ہوتا رہے گا اور ہم جیسے نوجوان اس ملک سے مایوسی جا شکار ہوتے رہیں گے

جیسے بے غیرت بے شرم پاکستان کے عوام ہیں ایسی بے شرم عوام کسی ملک کی نہیں اب ایک ہی ہل بچا ہے اغواء کاروں اور ظالموں کے خلاف بندوق اٹھاؤ اور انہیں مارنا شروع کر دو تب رکیں گے

@MashwaniAzhar عدالتوں انصاف دو یا پھر اپنے جنازے لے کر دفعہ ہو جاؤ ہم اپنی عورتوں کی عزت کی حفاظت خود کر لیں گے تمھاری عدالتوں کی ضرورت نہی

@MashwaniAzhar یہ واقعہ بہت افسوسناک ہے اور اس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستانیوں کی حفاظت کے لئے مزید اقدامات ضروری ہیں۔ انصاف کے لئے جدوجہد کرنا ہماری ذمہ داری ہے، اور آئین اور قانون کی پاسداری کو ہمیشہ سے مضبوط بنانا ہمارا فرض ہے۔
