Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

مزمل سہروردی صاحب نے کہا کہا سپرنٹنڈنٹ کی مرضی وہ ملاقات کروائے یا نہ کروائے۔۔۔ مجھ ناچیز نے مزمل سہروردی کی بات کی مزید تشریح کر دی۔۔۔ ملک میں اس وقت مرضیوں کا قانون نافز ہے۔ مزمل صاحب نے درست کہا کہ سپرنٹنڈٹ قانون پر نہیں مرضیوں پر چل...

93,791 görüntüleme • 8 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

یہ کیسی جہالت ہے! آئین کے تحفظ کی تحریک کے جلسے میں جانا ہے مگر عمران خان کے نعرے لگاتے ہوئے ملکی قانون کو روندنا ہے۔۔۔ عمران خان جو بات بات پر rule of law اور مغربی جمہوریتوں کی بات کرتے ہیں؛ خود پاکستان میں ان کے اندھے مقلد نہ آئین کی پرواہ کرتے ہیں نہ قانون کی۔ کسی مغربی ملک میں لگے پولیس ناکے کو ایسے توڑ کر دکھائیں فوراً گولی مار دی جاتی ہے کیونکہ کوئی دہشتگرد بھی ہو سکتا ہے۔ اس طرح عمران خان کے نعرے مارتے ہوئے قانون روندتے ہوئے کوئی نکل جائے اور خدانخواستہ اگر جلسے میں کچھ ہو جائے تو یہی لوگ کہیں گے کہ فوج / اسٹیبلشمنٹ نے کروایا ہے۔ اگر سیکورٹی کے لئے ناکے لگائے ہیں کہ چیکینگ کی جا سکے تو توڑ کر گزرنے پر فخر محسوس کر رہے ہیں۔ اگر کوئی جوان اس بات پر گولی مار دے تو پھر آپ کہیں گے کہ انقلاب چاہئے اس ظلم کے خلاف۔ خدارا اس ملک کو احمقوں کی آماجگاہ یا جنگلی معاشرہ نہ بنائیں۔ قانون کا احترام کریں صرف لفّاظی میں نہیں اپنے عمل سے۔

Gharidah Farooqi (T.I.)

137,224 görüntüleme • 2 yıl önce

کے پی حکومت کے نئے قانون میں ہاتھ یہ ہوا ہے کہ رکن اسمبلی کو یہ استحقاق حاصل ہے کہ اگر اسے عدالت نے بلایا تو اسے استثنیٰ حاصل ہوگا، کہ وہ اس دن عدالت میں پیش نہ ہو۔ اس میں لفظ کوٹ پروسیڈنگ استعمال ہوا، مطلب کہ مجسٹریٹ سے لے کر سپریم کورٹ کی عدالت تک استثنیٰ حاصل ہوگا۔ یہ وہ جماعت ہے جب ان کی حکومت میں لوگ چیختے تھے کہ پروڈکشن آرڈر جاری کریں تو وہ کہتے تھے کہ قانون سب کے لئے برابر ہے، ایک ملک میں دو قانون نہیں ہو سکتے، ہم جیسے دیوانے اس وقت سمجھاتے تھے کہ پوری دنیا میں منتخب رکن کو یہ استحقاق حاصل ہے کہ وہ فلور پر جائے۔ لیکن ہمارے ہاں صحافیوں کی اکثریت نے عشق میں مبتلا ہو کر کہا کہ ان کی بات ٹھیک ہے کہ قانون برابر ہونا چاہیے، اگر ایک شخص کو منی لانڈرنگ کے کیس میں پکڑا ہوا ہو تو وہ بے شک قائد حزب اختلاف ہی کیوں نہ ہو تو وہ عدالت میں پیش ہو۔ رانا ثنا اللّٰہ پر منشیات کا مقدمہ تھا، کہتے رہے کہ جب تک عدالت سے ثابت نہیں ہوتا تب تک یہ جھوٹا ہے، لیکن جب تحریک انصاف کی اپنی باری آتی ہے تو نیا قانون پاس کر دیتے ہیں۔ سینئر صحافی و تجزیہ کار نصرت جاوید کی گفتگو Nusrat Javeed Adnan Haider (عدنان حیدر) अदनान हैदर

Public News

17,338 görüntüleme • 1 ay önce