Sensitive content

This media may contain sensitive content.

Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

ملک سے غداری کرکے بڑکیں مارنے والا اب ٹوائلٹ میں گرتا پھرتا ہے سمجھنے والوں کیلیے اس میں بہت نشانیاں ہیں پھر بھی سمجھ نا آئے بستر پر لیٹے ہوئے اٹامک لونڈے کو دیکھ لیں ڈالر پلاٹ جزیرے ادھر ہی رہ جانے😑

82,217 просмотров • 6 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

"یہ دماغ ہیں ' کپاس یا سوتر نہی " ذہین دماغوں کو جب آپ "کپاس' پنک سالٹ اور سوتر" سمجھ کر باہر ایکسپورٹ کرنے میں فخر محسوس کریں گے تو پھر پیچھے ایسے بچے کچھے دماغ ہی دیکھنے کو ملیں گے جو باقی دماغوں پر حکومت کریں گے ' اس برین ڈرین کے گوبر کو بھی گجریلا ثابت کریں گے اور اس پر فخر محسوس کریں گے - ویسے تو ان کا لٹریچر اور ریسرچ سے کوئی لینا دینا نہی پر پھر بھی ریفرینس کیلئے میں "برین گین " کی آفیشل ڈیفینیشن یہاں تصویر میں لگا رہا ہوں -پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں ذہین دماغوں کو " ایکسپورٹ " اور ان کے ملک سے جانے کی وجہ سے ہونے والے "برین ڈرین" کو "برین گین" کہا جاتا ہے - دنیا کی کوئی بھی کتاب اٹھالیں ' آپ کو "برین ڈرین" کی یہ ڈیفینیشن اور کہی نہی ملے گی بلکہ ہر جگہ یہ لکھا ملے گا کہ "جس ملک سے لوگ جاتے ہیں وہاں "برین ڈرین " ہوتا ہے اور جس ملک کی طرف وہ جاتے ہیں وہاں " برین گین " ہوتا ہے - لیکن چونکہ آرمی چیف صاحب ملک کے اس برین ڈرین کو "برین گین " کہ چکے ہیں سو اب کتاب میں "بلغم " بھی لکھا ہو تو یہ ذہنی غلام اس کو "جیلی " اور مقیت شہد " ثابت کرتے رہیں گے - ملک سے ذہین دماغوں کی اس ایکسپورٹ میں پاکستان ویسے ہی بہت خود کفیل ہو چکا ہے کیوں یہ پچھلے تین سال میں ہماری سب سے بڑی تجارت ہے کیوں کہ ان سالوں میں اس ملک سے سالانہ آٹھ لاکھ لوگ باہر "ایکسپورٹ " ہویے ہیں جو پچھلے ستر سالوں کی شرح کے مقابلے میں آٹھ گنا ہے - یہ لمحۂ فکریہ نہی بلکہ لمحۂ جہالت ' لمحۂ ذلالت ہے -

Dr Waqas Nawaz

40,326 просмотров • 6 месяцев назад

میں ایک صحافی ہونے کے ناطے چند گزارشات رکھنا چاہتی ہوں۔ آپ سب اس تحریر کو پڑھ کر اپنی رائے ضرور دیں میری تمام ویڈیوز اور تصاویر میں میں نے ہمیشہ حجاب اور شلوار قمیض پہنی ہے، کبھی بھی غیر مہذب لباس استعمال نہیں کیا۔ پھر بھی کچھ لوگوں کو مجھ سے اعتراض ہے تو میں ان سے سوال کرتی ہوں: کیا یہی لباس آپ کی بہن یا بیٹی نہیں پہنتی؟ اگر وہ بھی شلوار قمیض ہی پہنتی ہیں تو پھر میرا قصور کیا ہے؟ یہ حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا پر بہت سے لوگ بڑے نیک اور مولوی بننے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن حقیقت ان کے رویے اور کمنٹس میں نظر آ جاتی ہے۔ میں صرف اتنا کہتی ہوں کہ دوسروں پر تنقید کرنے سے پہلے خود کو بھی دیکھ لینا چاہیے۔ جہاں تک یہ بات ہے کہ میں فیک ہوں یا ریئل، تو ان شاءاللہ میں اپنا ثبوت ضرور دوں گی کہ میں ایک لڑکی ہوں۔ لیکن جنہوں نے مجھے فیک کہا، اگر میں نے اپنی سچائی ثابت کر دی تو کیا ان پر بھی کوئی جرمانہ ہوگا؟ یہ سوال باقی سب کے لیے چھوڑتی ہوں۔ تحریر: نادیہ ملک، صحافی

Nadia Malik

67,265 просмотров • 9 месяцев назад

"خون کی فطرت میں جم جانا ہے ' دھلنا نہی " آج سٹوڈنٹس میں سکالر شپ کی تقسیم کی اس تقریب میں چشم تخیل کی طاقت سے میں بھی موجود تھا - جب مریم نواز صاحبہ Maryam Nawaz Sharif نے یہ والا بھاشن شروع کیا تو میں نے ہاتھ کھڑا کیا اور پوچھا کہ " میڈم ! طلباء کو بھی شوق نہیں ہے کہ وہ یونیورسٹی کی جگہ ڈی چوک میں احتجاج کیلئے جائیں لیکن جب ان کا ووٹ چوری کرنے والا جیل کی بجاے سی ایم ہاؤس پہنچ جاتا ہے ' اس چوری کو روکنے کیلئے زمہ دار الیکشن کمیشن خود ہی سہولت کار بن جاتا ہے ' اس چوری پر بازپرس کرنے والی عدلیہ خود بیکار بن جاتی ہے ' اس چوری کو آشکار کرنے والا میڈیا خود ساہوکار بن جاتا ہے ' اس پر آواز اٹھانے والا صحافی ' سٹوڈنٹ اور ایکٹوسٹ مغوی اور پاسبان ہی اس کا اغواکار بن جاتا ہے ' --- تو پھر طلباء کو اپنے حق کی اس چوری پر جواب مانگنے کیلئے خود ہی یونیورسٹی چھوڑ کر ڈی چوک میں بھی بیٹھنا پڑتا ہے- آپ کا بیٹا جنید اس لئے آرام سے گریجویٹ کرگیا کیوں کہ وہ سارق (چور ) کا بیٹا تھا ' مسروق کا نہیں---اگر طلباء یونیورسٹی میں اچھے لگتے ہیں ڈی چوک پر نہیں ' تو طلباء کے حق کی چوری کرنے والے جیل میں اچھے لگتے ہیں ' سی ایم ہاؤس میں نہیں " - یہ سٹوڈنٹس وہاں موجود پنجاب پولیس کے جلادوں کے ہاتھ مجبور ہونگے ورنہ بہت سے نوجوان ذہنوں میں یہ بھاشن سن کر یہی سوال ابھرے ہونگے جو میں نے پوچھے - اس ملک کی قسمت چیک کریں کہ پہلے جن لوگوں کا حق کھایا جاتا ہے اور پھر انہی کے سامنے کھڑا ہو کر بھاشن بھی دیا جاتا ہے - سی ایم صاحبہ کے لہجے میں جو اعتماد ہے وہ ایسے ہی نہیں آتا - ڈھٹائی اور بےشرمی کی نجانے کتنی بوتلیں لگوانی پڑتی ہیں ' معصوموں کے خون کے کتنے پیالے پینے پڑتے ہیں ' تب جاکر لہجے میں یہ والا اعتماد آتا ہے کہ آپ مسروق (جس کی چوری ہوئی ہو ) کے سامنے اس کو منع کریں کہ پڑھائی پر توجہ دو اور اپنے سامان مسروقہ کی برآمدگی کا مطالبہ نہ کرو - پچھلی کچھ تقریروں میں جتنا گند اور غلاظت مریم نے اسلام آباد احتجاج کے شرکا کے خلاف اگلا ہے اس سے ایسا لگتا ہے کہ "پٹھان " ہونا اس ملک میں جرم ہی بن گیا ہے اور کی پی کے ڈیورنڈ لائن کے اسطرف واقع ہے - اس ملک کی دوتہائی سے زائد آبادی تیس سال سے نیچے کے نوجوان ہیں جس میں سے اکثریت جس کو سپورٹ کرتی ہے آپ اس کو "دہشت گرد اور انتشاری" کہتی ہیں - آج وہ بیشک آپ کے پریشر اور آپ کے زہر کے خوف سے آپ کے سامنے تالیاں بجائیں ' لیکن یہی وہ یوتھ ہے جو آپ کو اور آپ کے سہولت کاروں کو اپنے حق انتخاب اور آج ملک میں جاری فسطائیئت کا زمہ دار سمجھتی ہے - آپ کیلئے اس یوتھ کی یہ تالیاں منہ پر ہویے اسی رنگ روغن کی طرح ہیں جو پانی کا ایک چھینٹا پڑتے ہی جب اترتا ہے تو اندر سے زہر سے بھرا ہوا نفرت انگیز چہرہ سامنے آتا ہے - اس تقریر میں نہ چاہتے ہویے بھی مریم کے منہ سے یہ نکل ہی گیا کہ "اسلام آباد میں نہتے لوگ ..." . پھر خود کو ٹوکا اور بولا "نہتے پولیس والے " اگر ایک- کے 47 اور سنایپرگنوں سے لیس وہ پولیس والے ' رینجرز اور فوجی نہتے تھے تو پھر مریم کی نظر میں اسلحہ سے لیس اسی پولیس افسر کو کہا جائیگا جو نیوکلیر بمب کی ڈیوائس اور آر ڈی ایس کی جیکٹ ساتھ لے کر گھوم رہا ہو - خون میں قدرت نے ایک خاصیت رکھی ہے - یہ جب بہتا ہے تو جم جاتا ہے اور اس کے نشان نہیں جاتے کیوں کہ اس کی فطرت میں جمنا ہے ' دھلنا نہیں - اس حکومت اور اس کی سہولت کار ریاست کے چہرے پر بھی یہ خون اب جم گیا ہے جو بچوں کو یوں لارا لپا لگانے اور "میں پنجاب کی ماں " والی کہانیاں سنانے سے نہیں دھلے گا اور بار بار پوچھتا رہیگا کہ #گولی_کیوں_چلائی ؟ #IslamabadMassacre --------------------------------------------------------- Moeed Pirzada Imran Afzal Raja

Dr Waqas Nawaz

12,319 просмотров • 1 год назад

سانحہ ڈی چوک 26 نومبر سے لاپتہ ہونے والے ،محمد راشد ولد شبیر، جو صادقہ آباد کی ایک کالونی کے رہائشی تھے، 26 نومبر کے بعد سے لاپتہ تھے ۔ ان کے گھر والوں کو ایک نا معلوم نمبر سے کال موصول ہوتی ہے، اور پولیس کی طرف سے بتایا جاتا ہے کہ ان کے لخت جگر کی موت ایک کار حادثے میں ہو گئی ہے۔ جب وُرثاء ہسپتال پوہنچتے ہیں، تو میت سَرد خانے سے نکال کے دیکھائی جاتی ہے۔ میت پر گولی کے واضح نشان تھے، جیسے کے وڈیو میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس قدر ظلم و جبر، زیادتی، لاشیں تک چُھپا دی گئی؟ حق کے لیے نکلنے والوں کو سِر عام مار کر ان کی لاشوں سے بھی ان کے اہل خانہ کو محروم کر دینا، یہ نا کبھی سُنا تھا نا ہوا ہے ہماری معاشرہ اس قدر تنزلی اور degradation کا شکار ہو چکا ہے۔ 26 نومبر کے بعد سے، ہمارے بہت سے کارکن مسنگ ہیں ہمیں اور ان کے بارے میں بہت سیریس خدشات ہیں۔ سَرد خانے میں اور لاشیں ہونے کی بھی خبریں ہیں۔ حکومت کو اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے ملک کو کس نہج پہ پوہنچا دیا گیا ہے؟ یاد رکھیے وقت سدا ایک سا نہیں رہتا اج اگر یہ ہمارے ورکرز ہیں تو کل اپ کے بھی ہو سکتے ہیں۔

Sher Afzal Khan Marwat

31,934 просмотров • 1 год назад

گوگل کے ذریعے آپ اپنے گمشدہ یا چوری ہونے والے موبائل کو ڈھونڈ سکتے ہیں۔ صرف یہی نہیں اگر آپ نے مطلوبہ موبائل میں پاسورڈ نہیں لگایا تھا اور موبائل کہیں گم ہو گیا ۔ اب آپ کو ڈر ہے کہ کہیں اس کا کوئی اس میں سے ڈیٹا نہ نکال لے تو آپ گوگل کی مدد سے اس موبائل کو لاک لگا سکتے ہیں چاہے وہ آپ کے پاس نہیں ہے۔ اس سہولت سے کو استعمال کرنے کے لیے آپ نے پہ جائیں اپنا جی میل اکاؤنٹ لگائیں جو اس موبائل میں لگا ہے ۔ یہاں آپ اپنے موبائل کی لوکیشن دیکھ سکتے ہیں اس علاوہ اپنے موبائل کی بیٹری 🔋 بھی دیکھ سکتے ہیں۔ اگر آپ موبائل کہیں رکھ کر بھول گئے ہیں اور موبائل پہ Silent لگا ہے تو آپ "Play Sound" پہ کلک کریں آپ کے موبائل کی رنگ بجے گی۔ دوسرا اس میں Secure Device " کا فیچر ملتا ہے اس پر جا کر آپ اپنے موبائل کو لاک لگا سکتے ہیں ۔ اور اس سے آپ اس موبائل میں کوئی میسج وغیرہ بھی بھیج سکتے ہیں کنٹیکٹ ڈیٹیلز وغیرہ ۔ اگر موبائل ملنے کے چانسز ختم ہو جائیں تو اس صورت میں "Factory Reset Device" کا فیچر بھی ملتا ہے اس سے آپ اس موبائل کو مکمل ری سیٹ کرسکتے ہیں اس میں موجود ہر چیز ڈیلیٹ ہو جائے گی۔ معلومات اچھی لگیں تو اسے ریٹویٹ کرکے دوسروں سے شیئر کیجئے ۔ مذید ایسی معلومات کے لیے فالو کیجئے ۔ جزاک اللّہ خیرا 🥀 #Google

𝗕𝗶𝗹𝗮𝗹 𝗛𝘂𝘀𝘀𝗮𝗶𝗻

665,492 просмотров • 2 лет назад