Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

■ ملک میں اس وقت سب سے بڑا چیلنج اسٹیبلشمنٹ ہے، جس کی وجہ سے عالمی ادارے بھی الیکشن کی شفافیت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ■ پیسوں پر الیکشن بیچے گئے ہیں، جبکہ ہم نے پارلیمانی سیاست کے لئے کئی جانیں قربان کی ہیں، آج بھی ہم آزادی...

30,075 görüntüleme • 2 yıl önce •via X (Twitter)

10 Yorum

Abdul Waheed profil fotoğrafı
Abdul Waheed2 yıl önce

ملک اور عوام کی بقا کی حقیقی جنگ لڑنے والا گریٹ لیڈر

سید فضل الرحمن 🏁🏁🏁🏁🏁🏁🏁🏁🏁🏁🏁 profil fotoğrafı
سید فضل الرحمن 🏁🏁🏁🏁🏁🏁🏁🏁🏁🏁🏁2 yıl önce

لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے قربان جاؤں قائد محترم

FTWL profil fotoğrafı
FTWL2 yıl önce

الجہاد الجہاد قائدہ رہبر و رہنما

Muhammad Tayyab khirkhwa 🇵🇰 profil fotoğrafı
Muhammad Tayyab khirkhwa 🇵🇰2 yıl önce

لیڈر ایسا ہونا چاہئے

Ibrahim Muhammad profil fotoğrafı
Ibrahim Muhammad2 yıl önce

سر! یقین کرے بنیادی وجہ 16ماہ کی ناکام اور عوام کیلئے عذاب حکومت اور کے پی میں گورنر غلام علی کے ذریعے جو کھیل کھیلی گئی اور پھر ٹکٹوں کی تقسیم میں جب ترجیح صرف خاندان والوں کو دی گئی اس کے بعد یہ نتائج بالکل بھی خیران کن نہیں

Sardar Ali profil fotoğrafı
Sardar Ali2 yıl önce

ھم آپ کے ساتھ ہے شانہ بشانہ

HAMDAN MASHWANI profil fotoğrafı
HAMDAN MASHWANI2 yıl önce

یہودیوں کے کتے بدبودار نیازی کو تو مولانا صاحب نے لگام ڈالا ھے لیکِن 27 سالوں میں کتے نیازی نے بہت سارے پلے پیدا کئے ہیں

Shehzadi پی ٹی آئی  profil fotoğrafı
Shehzadi پی ٹی آئی 2 yıl önce

@Iam_Rakiti

Najib Dawar profil fotoğrafı
Najib Dawar2 yıl önce

We will fight on every field!!!

Asghar Ali profil fotoğrafı
Asghar Ali2 yıl önce

#ایوان_نہیں_میدان

Benzer Videolar

08 فروری 2024 کے عام انتخابات کے اسٹیبلشمنٹ نے کرپشن کے ستر سالہ ریکارڈ توڑ دئے ہیں، براہ راست مداخلت کر کے ایک ایک حلقے سے اپنی مرضی کے نمائندوں کو سلیکٹ کیا، اس طرح کے انتخابات سے آنے والے اراکین کو عوام کا نمائندہ نہیں کہا جاسکتا، ایسی صورت میں پھر پارلیمنٹ کے اہمیت ختم ہوجاتی ہے،وہاں بیٹھے ہوئے اراکین پر انگلیاں اٹھتی رہیں گی، دفاعی قوت جب سیاسی قوت بن جائے تو پھر ہم بھی میدان میں آئیں گے۔ ہم نے آئین اور جمہوریت کے لئے قربانیاں دی ہیں، آئین پر ہمارے اکابرین کے دستخط ہیں، اس لئے آئین کا تحفظ اپنی ذمہ داری تصور کرتے ہیں، لیکن آئین صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے، اس کی کوئی حیثیت نہیں رہی، جمہوریت اپنا مقدمہ ہار رہی ہے، وہ جمہوریت جو آئین کے ماتحت قرآن و سنت کے تابع ہے، اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ ہوگی،پارلیمنٹ کی اکثریت بھی قرآن و سنت کے خلاف فیصلہ نہیں کر سکے گی، لیکن یہاں تو پارلیمنٹ کی بھی حاکمیت نہیں ہے، یہاں تو ملازمین کا تسلط قائم ہے، ہم ایسے نظام کے ساتھ کس طرح چلیں گے؟ ہمیں آگے چلنا ہے،یہ ملک کسی کی جاگیر نہیں ہے،وردی میں عزت نہیں ہے بلکہ عزت اس کردار میں ہے جو ملک کے آئین اور عوام کی فلاح ہو بھبود کے لئے ہو، جب عوام کی بھلائی کے بارے تشکیل کردہ پارلیمان میں عوام کی نمائندگی نہ ہو، جب عوام کی نمائندگی ملازمین کی رحم و کرم پر ہو تو پھر ہمیں بھی فیصلہ کرنا ہوگا، اس لئے ہم غیر پارلیمانی سیاست کرنے پر سوچ رہے ہیں، مرکزی جنرل کونسل اس کا فیصلہ کرے گی،ہم عوام میں جائیں گے،اور پھر فیصلے ایوان میں نہیں میدان میں ہوں گے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

95,920 görüntüleme • 2 yıl önce

تین گھنٹوں پر مشتمل افواج پاکستان کے نمائندے کی پریس کانفرنس کا خلاصہ میری باتوں کا جواب تھا،آج میں دس لاکھ بندوں کے ساتھ میدان میں کھڑا ہوں تو کسی دلیل کے ساتھ کھڑا ہوں ، کہا کہ الیکشن کے حوالے سے فوج کا کوئی کردار نہیں ہے، یہی بات ہم بھی کہتے ہیں کہ پاکستان کے آئین اور قانون کے میں فوج کے سیاست میں مداخلت پر کوئی رولز نہیں ہیں ، لیکن سارا رولا ہی سیاست میں مداخلت کا ہے۔ پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا کہ فوج پر تنقید بغاوت ہے ، لیکن آپ جب سیاست میں مداخلت کر کے آرٹیکل کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو پھر آپ بھی فوجی نہیں رہتے ، اس لئے ہم بھی آپ پر تنقید کرتے ہیں ، ہم نے اندھی سیاست نہیں کی ہے، میں افواج پاکستان کے آرمی چیف اور دیگر سربراہان کو جانتا ہوں ، میرا دعویٰ یہی کہ فوج سیاست میں مداخلت کرتی ہے، جب آپ سیاسی بنیں گے تو پھر مجھ پر آپ کا احترام لازم نہیں ہے، اپنے معاملات درست کریں، ہم آپ کا احترام کریں گے۔ پاکستان کے قیام میں فوج کا کوئی رول نہیں ہے ،پاکستان کا جھنڈا ہم نے لہرایا ہے ، لیکن فوج کا کردار پاکستان کو توڑنے میں ہے ، سن 1971 میں 90 ہزار فوج ایک ہندو کے سامنے سرنگون ہوئی ، جس سے پوری قوم کا سر جھک گیا ، تم اگر وردی پہن کر رعب جمانا چاہتے ہیں تو پھر آپ سب مل کر میرے جسم کو چھو نہیں سکتے۔ میں قو م کی تائید سے یہ بات واضح کرتا ہوں کہ اب قبائل سے فوج کو واپس جانا چاہئے ، آپریشن کے نام پر قبائل پر ظلم ڈالے گئے، قبائل کے اونچے شملے نیچے کردئے گئے، اور 2010 سےیہ آپریشن چل رہا ہے ، ہم نے اس وقت بھی قبائل کا جرگہ بنا کر مؤقف دیا تھاکہ یہ آپریشن درست نہیں ہے، آج ہمارا مؤقف درست نکلا ، اگر ہمارا مؤقف درست نہیں تھا تو پھر آج دہشت گردی ختم کیوں نہیں ہوئی؟

Maulana Fazl-ur-Rehman

135,821 görüntüleme • 2 yıl önce

اگر جنرل صاحب کہتے ہیں آپ مجھے بھی کچھ نہ کہیں میں جو کچھ کروں میری مرضی ہے نہ میری عقل کسی کی پابند ہے نہ میری محنت کسی کی پابند ہے میرے خیال میں یہ درست نہیں ہے اگر ہم سیاسی جماعتوں پر تنقید کر سکتے ہیں ہم صدر اور وزیراعظم پر تنقید کر سکتے ہیں یا تو پھر یہ کہیں کہ ہمارا ادارہ جو ہے وہ سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور جنرل آ کر ٹی وی پر کبھی کہتے بھی ہیں کہ ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں لیکن اگر واقعتا ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے الیکشن میں کوئی دھاندلی نہیں کرتے الیکشن میں ان کا کوئی کردار نہیں ہوتا تو پھر تو ہم بھی کہیں گے کہ ہم نے غلط کیا لیکن اگر وہ الیکشن میں بھی اپنی دھاندلیاں کرتے رہے یعنی عجیب بات یہ ہے کہ اس 24 کے الیکشن میری معلومات کے مطابق 70 ارب روپیہ ایک صوبے سے انہوں نے نکالا کہتے ہیں کہ کس طرح ہم ان کو کہیں ابھی کہتے ہیں کہ اپ حافظ جی یا نابینہ کو نابینا نہ کہیں وہ بتائیں کہ اگر نابینے کو نابینا نہیں دیں گے تو کیا کہیں گے۔ مولانا عطاء الرحمن صاحب #سلیکشن_مافیا_نامنظور #آئین_شکن_مقدس_گائے #معافی_مائی_فٹ #لشکر_نہیں_خود_لڑو #شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ #پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو

Sadaqat Khan

19,578 görüntüleme • 2 ay önce

میرے خیال میں اب صورت حال وہ نہیں ہے اب امریکہ سپر طاقت نہیں رہا ہے، وہ اپنا ایک بھرم رکھنے کے لئے یہ سارا کچھ کر رہا ہے، بلکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید ٹرمپ اپنے ذاتی دفاع کیلئے یہ سب کچھ کر رہا ہے، امریکہ کی دفاع کیلئے بھی نہیں کر رہا اور وہاں پر اس وقت امریکہ کی عوامی تائید بھی اس وقت حاصل نہیں ہے، بڑا سوال یہ ہے کہ جس شخص نے الیکشن لڑا کہ دنیا سے جنگ ختم کروں گا اس نے اقتدار میں آ کر دنیا پر جنگ مسلط کر دی ہے یہ خود امریکیوں کے اور امریکی عوام کے نظر میں بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ سو اس وقت پوری دنیا ازسر نو سوچ رہی ہے اور ظاہر ہے سوویت یونین کی ٹوٹنے کے بعد ہم پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ عالمی تبدیلی اور تغیرات آئیں گی سو اس وقت پوری دنیا امریکہ سے لے کر روس تک اور چین تک یہ عالمی تغیرات کی زد میں ہیں اور ہمیں خود بیٹھ کر خود اعتمادی کے ساتھ اپنے مستقبل کو خود تراشنا ہوگا۔ ہمیں یہی سوال ہے کہ اس وقت ثالثی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں کیا پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ ثالثی کر سکے اور شہباز شریف جیسے حکمران کے ٹویٹ پر ٹرمپ کا ٹویٹ آنا خود ٹرمپ کی کمزوری اور امریکی پالیسی کی کمزوری کی عکاس ہے۔ سو اس حوالے سے ہمیں سوچنا چاہیے۔ صحافی: کیا ہماری طاقت عکاس نہیں ہے؟ نہیں پاکستان بہرحال محاصرے میں ہے اور سوائے ثالثی کے کردار کے ہمارے پاس اور کون سا راستہ ہے؟ جب تک ہمارے دماغ سے یہ کیڑا نہیں نکلے گا کہ ہم نے افغانستان کو زیر نگیں رکھنا ہے اور افغانستان میں کوئی حکومت وہ ہماری مرضی کے بغیر نہیں چلے گی اس وقت تک معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے، ہمیں ایک آزاد افغانستان ایک صاحب استقلال افغانستان ایک خودمختار افغانستان اس پر توجہ رکھنی چاہیے اور ماضی کے جو ہمارے اس حوالے سے قربانیاں ہیں ان کو کسی ایک کامیاب نتائج تک ہمیں پہنچانا چاہیے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں سفارتی جو ہماری ستتر یا اٹھتر سالہ کوششیں ہیں وہ اب تک کیوں ناکام ہیں یہ مستقل ایک سوال ہے، یہ کافی نہیں ہے ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے اور ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے، مسئلہ یہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیوں نہیں مانتے، کیا ساری غلطیاں ستتر سال سے انہی کی طرف ہیں اور کیا ہمارے طرف بلکل کوئی غلطی نہیں ہے، یہ بھی ہمیں قومی سطح پر سوچنا چاہیے، افغانستان صرف حکومت کا نام نہیں ہے، افغانستان صرف وہاں امارت اسلامیہ کا نام نہیں ہے، افغانستان وہاں کے عوام کا بھی نام ہے، افغان قوم کا نام ہے، افغان قوم کے ہمارے ساتھ رشتے ہیں، ہمارے ساتھ ان کے تعلقات ہیں، ہمارے ساتھ ان کی برادریاں شریک ہیں اور ہمارے ساتھ ان کی معاشرت شریک ہے، ان تمام رشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں افغانستان کے حوالے سے سوچنا چاہیے، یہ ہر وقت رجیم چینج اور رجیم چینج کے باتیں یہ شاید نہ ختم ہونے والا سلسلہ بنے، ہم نے ظاہر شاہ کے خلاف انقلاب کی حمایت کی، پھر اس کے بعد کمیونسٹ انقلاب آیا پھر ہم نے ان کے خلاف جہاد اس وقت ہم امریکہ جب آیا تو ہم بھی شامل ہو گئے، پھر وہی امریکہ تھا اس نے طرف تبدیل کر دیا تو مشرف کے زمانے میں ہم پھر امریکہ کی جنگ لڑ رہے تھے، آج ہم پھر ایک دفعہ امریکہ کی خواہشات کی مطابق، یہ کیسا امریکہ ہے کہ پاکستان کی اگر انڈیا سے لڑائی ہو تو کریڈٹ لیتا ہے کہ میں نے جنگ بند کرا دی اور اگر افغانستان کے ساتھ لڑائی ہو جائے تو کہتے ہیں پاکستان ٹھیک جا رہا ہے اس کو اور کرنا چاہیے۔ تو یہ چیزیں ان کی بدنیتی پر دلالت کرتی ہے اور ہمیں کسی کے ٹریپ میں نہیں آنا چاہیے وہ اب خود ٹریپ میں آ چکے ہیں، پھنسے ہوئے ہیں، مشکلات کے شکار ہیں اور وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر پا رہے ہیں، پاکستان کو ہر قدم احتیاط سے اٹھانا چاہیے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ دیکھیے سفارت کاریاں حکومتوں کا کام ہے، ریاستوں کا کام ہے، پارٹیوں کا کام نہیں ہوتا ہے، ہم پبلک ٹو پبلک ریلیشنز جو ہیں اس میں مدد دے سکتے ہیں، ہم سب مسلمان ہیں ہم سب بھائی بھائی ہیں ہم ایک دوسرے پر ڈیپنڈ کر رہے ہیں، لیکن عوام کی ضرورتوں اور خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے ریاستیں فیصلہ کریں، بین الاقوامی قوتوں کے تابع فیصلہ نہ کریں، اپنے ملک کے عوام کے خواہشات اور ان کی ضرورتوں کے تابع فیصلے کریں۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی ڈیرہ اسماعیل خان میں گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,445 görüntüleme • 6 ay önce

جو کچھ اسلام آباد میں ہوا گزشتہ روز مجھے کسی پارٹی کے فیصلے سے کوئی غرض نہیں ہے وہ اپنے فیصلے کے خود ذمہ دار ہیں صحیح فیصلہ کرتے ہیں غلط فیصلہ کرتے ہیں ہاں اگر ہم سے مشورہ لیں گے تو دیانت کے ساتھ مشورہ دیں گے، المُستَشارُ مؤتَمَن، لیکن جب پورے ایک صوبے سے قافلے آرہے ہیں اس وقت تو آپ ان کے لیے راستے چھوڑ رہے ہیں پیچھے ہٹ رہے ہیں پھر احسان جتلاتے ہیں کہ ہم گولی نہیں چلانا چاہتے تھے پھر جب وہ ڈی چوک پہنچ گئے پھر گولی کیوں چلائی؟ سیاسی کارکن تھے دو چار روز بیٹھے رہتے تو بیٹھے رہتے، ہم اس حوالے سے بھی حکمرانوں کے اس پر تشدد رویے کی مذمت کرتے ہیں ہر پارٹی کو جلسہ کرنے مظاہرہ کرنے کا حق حاصل ہے، مجھے بھی حاصل ہے میرے مخالف کو بھی حاصل ہے لیکن جس صوبے سے آپ کو شکایت ہے کہ وہاں سے یلغار ہوتی ہے کوئی کہے نہ کہے میں بڑے واضح الفاظ میں کہتا ہوں کہ اس صوبے کی حکومت بھی تو تم نے بنوائی تھی وہ دھاندلی بھی تو آپ نے کرائی تھی جب نا اہلوں کو آپ حکمرانی دیں گے تو پھر یہی نتائج اس کے سامنے آئیں گے، تم نے جمعیۃ علماء اسلام کے ساتھ زیادتی کی تم نے جمیعۃ علماء کا مینڈیٹ چرایا اور اب حالات بھی قابو نہیں کر سکتے، کوئی حکومتی رٹ نہیں ہے، مسلح گروہ علاقوں پہ قابض ہوتے جا رہے ہیں حکومت کی کوئی رٹ موجود نہیں، بلوچستان کی یہی صورتحال ہے کہ وہاں پر امن و امان کی صورتحال وہ وہاں کے حکمرانوں کے بس کی بات نہیں رہی، ہمارے امن قائم کرنے والے ادارے وہ کس چیز کی تنخواہیں لے رہے ہیں؟ سیاسی لوگوں کے کارکن شہید ہوتے ہیں وہ بھی جنازے اٹھاتے ہیں وہ بھی کہتے ہیں ہمارے کارکن شہید ہو گئے اصول کے لیے شہید ہو گئے نظریے کے لیے شہید ہو گئے، آپ کی بھی دو چار شہداء آجاتے ہیں آپ بھی کندھوں پر اپنے شہداء اٹھائے پھرتے ہیں آپ بھی کہتے ہیں ہمارے جوان شہید ہو گئے بتاؤ عام لوگوں میں اور آپ کے فرائض میں کوئی فرق بھی ہے یا نہیں ہے! ملک کو سنبھالنا ہے یہ ملک ہمارا ملک ہے یہ ہم سب کا ملک ہے ہم اس ملک کے اندر رہتے ہوئے اور اس ملک کو مستحکم کرنے کی جدوجہد کرتے ہوئے اس کے اندر اپنے حقوق کی جنگ لڑیں گے، تو پاکستان زندہ باد پاکستان رہے گا ان شاءاللہ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان کا سکھر میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

18,240 görüntüleme • 1 yıl önce

آج بھی میگا پروجیکٹس پاکستان کے اندر معطل ہیں،گزرے کئی سالوں سے ملٹی نیشنل کمپنیاں درجنوں کے حساب سے ملک سے باہر جا چکی ہیں، سرمایہ یہاں سے منتقل کر دیا ہے،پاکستانی اپنا سرمایہ منتقل کر رہے ہیں اور کوئی باہر کی کمپنیاں پاکستان کے اندر سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ افغانستان کی سرحدات ہوں یا انڈیا کی سرحدات ہوں، شرق و غرب ہم نے اپنے اوپر بند کر دیے ہیں۔ تجارت نہیں ہے، کاروبار نہیں ہے، لوگوں کا آنا جانا مشکل ہو گیا ہے۔ چین کا ہم اعتماد کھو چکے ہیں، وہ پاکستان کے اندر سرمایہ کاری میں دلچسپی بھی نہیں لے رہا۔ تو پاکستان نے محصور ریاست کی شکل اختیار کر لی ہے۔ بدامنی میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پولیس اور فوجی جوانوں پر حملے ہو رہے ہیں اور ریاستی قوت دفاعی پوزیشن میں آ گئی ہے۔ کتنی بری بات ہے یہ! ہم ماضی کے معاملات اور مشکلات، اس سے تو ہم نمٹ نہیں پا رہے۔ گھر میں آگ لگی ہوئی ہے، نئے نئے مسائل ہم پیدا کر رہے ہیں۔ کبھی صوبوں کے سوال چھیڑ دیتے ہیں، کبھی این ایف سی ایوارڈ کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں، کبھی معدنی ذخائر کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں۔ اور پہلے جو ملک جس مشکل میں گھرا ہوا ہے اور جو ہمارے سروں پر مشکلات ہیں، موت ہمارے سروں پر منڈلا رہی ہے، آگ برس رہی ہے، بارود جو ہے، ہم ڈھیر پر بیٹھے ہوئے ہیں، اور ان حالات میں نئے نئے مسائل کھڑے کرنا، اس سے بڑھ کر غیر سنجیدگی اور نہیں ہو سکتی۔ مسائل ڈسکس کیے جائیں، پارلیمنٹ میں لائے جائیں اور حکومت کا ایک حصہ وہ صوبوں کی بات کر رہا ہے، صوبوں کو ٹکڑے کرنے کی بات کر رہا ہے۔ حکومت اور حکومت میں شامل جماعتیں خاموش ہیں، اس کا ایک فرد بول رہا ہے، وہ ہوتا کون ہے؟ ملک کے اندر اس کی حیثیت کیا ہے، اس کی پہچان کیا ہے؟ وہ جس کے گھر کا نوکر ہے، اس کی نوکری کرے، ان کے برتن دھوئے، کپڑے دھوئے، ان کی یہی ڈیوٹی ہے۔ ملک کے مسائل سے اس کا کوئی سروکار نہیں۔ اتنے بے بس ہم بھی نہیں ہیں کہ آپ ملک کے ساتھ کھیلتے رہیں اور ہم تماشا دیکھتے رہیں۔ اگر حالات نہیں ہیں، نئے مسائل اور ایشوز کا پاکستان متحمل نہیں ہے، تو پھر ہم بھی پاکستانی ہیں۔ ہم آپ کو پاکستان کا مالک تصور نہیں کرتے۔ حد سے آگے بڑھیں گے تو پھر اور لوگ بھی حد سے آگے بڑھیں گے۔ شکر کرو کہ ابھی ملک آپ کے ساتھ ہے، عوام پاکستان کے ساتھ ہیں، مذہبی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں، سیاسی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں۔ ہم نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا، ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا، لیکن قوم کو نتائج تو بتائے جائیں ناں کہ اس کردار کا کیا نتیجہ نکلا؟ آج سعودی عرب پر گولے برسائے جا رہے ہیں، حرمین شریفین کی طرف راکٹوں کے رخ کر دیئے گئے ہیں، اور کچھ پتہ نہیں کہ یہ جو ثالثی کا کردار تھا، خطے میں قیامِ امن کے لیے ایک کوشش تھی، اصولی طور پر ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا۔ لیکن قوم کو بتایا تو جائے، اور میں نے کئی بار اس بات کا ذکر کیا ہے کہ پارلیمنٹ کا اِن کیمرہ اجلاس بلا کر قوم کے نمائندوں کو بتایا جائے کہ ملک کہاں کھڑا ہے۔ کوئی جواب نہیں دیا جا رہا۔ پارلیمانی لیڈرز کا ایک بند کمرے کا اجلاس، میرے خیال میں، وہ کافی نہیں ہے اور اس میں اپوزیشن دلچسپی بھی نہیں لے رہی۔ تو اس اعتبار سے یہ ساری چیزیں ایسی ہیں کہ اس وقت قوم تشویش میں ہے۔ سعودی عرب پر حملہ، معاہدہ ہو چکا ہے ہمارا ان کے ساتھ۔ گو کہ وہ جنگی معاہدہ نہیں ہے، وہ دفاعی معاہدہ ہے، لیکن جب اس کے ساتھ یہ لفظ وابستہ کیا گیا کہ کسی بھی ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا تو اس میں کچھ ذمہ داریاں آ جاتی ہیں، ہمارے اوپر بھی آتی ہیں۔ اب ترکی بھی اس میں شامل ہو گیا۔ اس کو آگے بڑھنا چاہیے تھا، اس میں مصر کو شامل ہونا چاہیے تھا، اس میں ایران کو شامل ہونا چاہیے تھا، لیکن عالمی قوتوں نے ایسے حالات پیدا کر دیے کہ وہ جو اسلامی اتحاد کے عمل کا ایک تسلسل تھا، وہ فلحال رک گیا ۔ قوم کو تو بتایا جائے کہ وہ کیا کر رہے ہیں، پارلیمنٹ کو تو بتایا جائے،اس ساری صورتحال سے قوم کو بے خبر رکھا جا رہا ہے،اور ملک کے اندر تشویش بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اور پھر پیسہ نہیں آئے گا ملک کے اندر، پھر اسلحہ ملک کے اندر آئے گا۔ ملک کے اندر اسلحہ کے راستے بنائے جا رہے ہیں، اور حالات آپ کے رویوں کی وجہ سے بنتے چلے جا رہے ہیں۔ پھر شکایت کس سے؟ ہم نے ٹی ٹی پی سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے بی ایل اے سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے اتحاد المجاہدین سے امن کی درخواست نہیں کرنی۔ ہم نے امن کا مطالبہ حکومت سے کرنا ہے، ہم نے امن کا مطالبہ اپنے اداروں سے کرنا ہے، جو ہمارے قیامِ امن اور ہماری جان، مال و عزت و آبرو کے محافظ ہیں، اور یہ ان کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ ہم نے ان سے مطالبہ کرنا ہے کہ آپ ہمیں کیا امن دے رہے ہیں؟
6:46

Sensitive content

آج بھی میگا پروجیکٹس پاکستان کے اندر معطل ہیں،گزرے کئی سالوں سے ملٹی نیشنل کمپنیاں درجنوں کے حساب سے ملک سے باہر جا چکی ہیں، سرمایہ یہاں سے منتقل کر دیا ہے،پاکستانی اپنا سرمایہ منتقل کر رہے ہیں اور کوئی باہر کی کمپنیاں پاکستان کے اندر سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ افغانستان کی سرحدات ہوں یا انڈیا کی سرحدات ہوں، شرق و غرب ہم نے اپنے اوپر بند کر دیے ہیں۔ تجارت نہیں ہے، کاروبار نہیں ہے، لوگوں کا آنا جانا مشکل ہو گیا ہے۔ چین کا ہم اعتماد کھو چکے ہیں، وہ پاکستان کے اندر سرمایہ کاری میں دلچسپی بھی نہیں لے رہا۔ تو پاکستان نے محصور ریاست کی شکل اختیار کر لی ہے۔ بدامنی میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پولیس اور فوجی جوانوں پر حملے ہو رہے ہیں اور ریاستی قوت دفاعی پوزیشن میں آ گئی ہے۔ کتنی بری بات ہے یہ! ہم ماضی کے معاملات اور مشکلات، اس سے تو ہم نمٹ نہیں پا رہے۔ گھر میں آگ لگی ہوئی ہے، نئے نئے مسائل ہم پیدا کر رہے ہیں۔ کبھی صوبوں کے سوال چھیڑ دیتے ہیں، کبھی این ایف سی ایوارڈ کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں، کبھی معدنی ذخائر کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں۔ اور پہلے جو ملک جس مشکل میں گھرا ہوا ہے اور جو ہمارے سروں پر مشکلات ہیں، موت ہمارے سروں پر منڈلا رہی ہے، آگ برس رہی ہے، بارود جو ہے، ہم ڈھیر پر بیٹھے ہوئے ہیں، اور ان حالات میں نئے نئے مسائل کھڑے کرنا، اس سے بڑھ کر غیر سنجیدگی اور نہیں ہو سکتی۔ مسائل ڈسکس کیے جائیں، پارلیمنٹ میں لائے جائیں اور حکومت کا ایک حصہ وہ صوبوں کی بات کر رہا ہے، صوبوں کو ٹکڑے کرنے کی بات کر رہا ہے۔ حکومت اور حکومت میں شامل جماعتیں خاموش ہیں، اس کا ایک فرد بول رہا ہے، وہ ہوتا کون ہے؟ ملک کے اندر اس کی حیثیت کیا ہے، اس کی پہچان کیا ہے؟ وہ جس کے گھر کا نوکر ہے، اس کی نوکری کرے، ان کے برتن دھوئے، کپڑے دھوئے، ان کی یہی ڈیوٹی ہے۔ ملک کے مسائل سے اس کا کوئی سروکار نہیں۔ اتنے بے بس ہم بھی نہیں ہیں کہ آپ ملک کے ساتھ کھیلتے رہیں اور ہم تماشا دیکھتے رہیں۔ اگر حالات نہیں ہیں، نئے مسائل اور ایشوز کا پاکستان متحمل نہیں ہے، تو پھر ہم بھی پاکستانی ہیں۔ ہم آپ کو پاکستان کا مالک تصور نہیں کرتے۔ حد سے آگے بڑھیں گے تو پھر اور لوگ بھی حد سے آگے بڑھیں گے۔ شکر کرو کہ ابھی ملک آپ کے ساتھ ہے، عوام پاکستان کے ساتھ ہیں، مذہبی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں، سیاسی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں۔ ہم نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا، ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا، لیکن قوم کو نتائج تو بتائے جائیں ناں کہ اس کردار کا کیا نتیجہ نکلا؟ آج سعودی عرب پر گولے برسائے جا رہے ہیں، حرمین شریفین کی طرف راکٹوں کے رخ کر دیئے گئے ہیں، اور کچھ پتہ نہیں کہ یہ جو ثالثی کا کردار تھا، خطے میں قیامِ امن کے لیے ایک کوشش تھی، اصولی طور پر ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا۔ لیکن قوم کو بتایا تو جائے، اور میں نے کئی بار اس بات کا ذکر کیا ہے کہ پارلیمنٹ کا اِن کیمرہ اجلاس بلا کر قوم کے نمائندوں کو بتایا جائے کہ ملک کہاں کھڑا ہے۔ کوئی جواب نہیں دیا جا رہا۔ پارلیمانی لیڈرز کا ایک بند کمرے کا اجلاس، میرے خیال میں، وہ کافی نہیں ہے اور اس میں اپوزیشن دلچسپی بھی نہیں لے رہی۔ تو اس اعتبار سے یہ ساری چیزیں ایسی ہیں کہ اس وقت قوم تشویش میں ہے۔ سعودی عرب پر حملہ، معاہدہ ہو چکا ہے ہمارا ان کے ساتھ۔ گو کہ وہ جنگی معاہدہ نہیں ہے، وہ دفاعی معاہدہ ہے، لیکن جب اس کے ساتھ یہ لفظ وابستہ کیا گیا کہ کسی بھی ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا تو اس میں کچھ ذمہ داریاں آ جاتی ہیں، ہمارے اوپر بھی آتی ہیں۔ اب ترکی بھی اس میں شامل ہو گیا۔ اس کو آگے بڑھنا چاہیے تھا، اس میں مصر کو شامل ہونا چاہیے تھا، اس میں ایران کو شامل ہونا چاہیے تھا، لیکن عالمی قوتوں نے ایسے حالات پیدا کر دیے کہ وہ جو اسلامی اتحاد کے عمل کا ایک تسلسل تھا، وہ فلحال رک گیا ۔ قوم کو تو بتایا جائے کہ وہ کیا کر رہے ہیں، پارلیمنٹ کو تو بتایا جائے،اس ساری صورتحال سے قوم کو بے خبر رکھا جا رہا ہے،اور ملک کے اندر تشویش بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اور پھر پیسہ نہیں آئے گا ملک کے اندر، پھر اسلحہ ملک کے اندر آئے گا۔ ملک کے اندر اسلحہ کے راستے بنائے جا رہے ہیں، اور حالات آپ کے رویوں کی وجہ سے بنتے چلے جا رہے ہیں۔ پھر شکایت کس سے؟ ہم نے ٹی ٹی پی سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے بی ایل اے سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے اتحاد المجاہدین سے امن کی درخواست نہیں کرنی۔ ہم نے امن کا مطالبہ حکومت سے کرنا ہے، ہم نے امن کا مطالبہ اپنے اداروں سے کرنا ہے، جو ہمارے قیامِ امن اور ہماری جان، مال و عزت و آبرو کے محافظ ہیں، اور یہ ان کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ ہم نے ان سے مطالبہ کرنا ہے کہ آپ ہمیں کیا امن دے رہے ہیں؟

Maulana Fazl-ur-Rehman

21,843 görüntüleme • 2 gün önce

جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلس عمومی کا اجلاس کراچی میں طے تھا لیکن بلوچستان کے لوگ بدامنی اور غیر محفوظ راستوں کی وجہ سے کراچی نہیں پہنچ سکتے تھے،یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ بدامنی کی وجہ سے ہم نے اپنا اجلاس ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں منتقل کیا ہے،اس سے ملک کے داخلی امن و امان کی صورتحال کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ ہم بار بار کہہ چکے ہیں کہ دو صوبوں میں عملا کوئی حکومتی نظام نہیں ہے،عوام پر دہشتگرد گروہ مسلط ہیں،سندھ بھی ڈاکو راج اور اسٹریٹ کرائم کی لپیٹ میں ہے، بلوچستان میں دن دہاڑے بینک لوٹے جارہے ہیں اور بیچ سڑک پر وہ پیسے تقسیم کئے جارہے ہیں،کوئی نظام نہیں ہے کہ اپنے ملک کے شہریوں اور بینکوں کو تحفظ فراہم کر سکے۔ ہمارے صوبے میں وزراء کی گاڑیوں پر فائرنگ کر کے ان کو روکا جاتا ہے،اٹھایا جاتا ہے۔ ہمارے ایک سینیٹر شکور خان جو سینیٹ میں پریولیج کمیٹی کے چئیرمین بھی ہیں کو ائیر پورٹ پر روک دیا گیا،چین میں ایک طے شدہ پروگرام کے لئے سفر کرنے سے روک دیا گیا۔ اس تمام صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت کہیں پر بھی موجود نہیں ہے،طاقتور ادارے حکومت کر رہے ہیں،جہاں جس کے ساتھ جو رویہ اختیار کریں،وہ کسی آئین،قانون اور اخلاق کے پابند نہیں ہیں۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

23,227 görüntüleme • 2 gün önce

ہم نے چالیس سال میں کونسی جنگ لڑی ہے؟ہم نے اپنی فوج اور ریاست کو جنگوں میں دھکیلا ہے، دنیا کے ہر جنگجو کےپاؤں کے نشان پاکستان کی سرزمین سے ہوکر گذرتے تھے اور دنیا کہتی تھی کہ پاکستان دہشت گردی کا مرکز ہے ، کیا ہم اس محاذ سے نکل چکے ہیں ؟ لڑائی میں کوئی افغانی مر جاتا ہے تو ہم افغانستان پر سارا غصہ نکال دیتے ہیں،تاکہ قوم ہماری غلطیوں پر بات نہ کرسکے اور پڑوسی ملک کو مجرم سمجھتی رہے۔ ہمیں اپنا احتساب بھی کرنا چاہئے، جنرل مشرف کے دور میں امریکی صدر کلنٹن انڈیا آرہا تھاتوپاکستان کی سر زمین پر پاؤں رکھنے کے لئے تیار نہیں تھا اور کہا تھا کہ پاکستان میں ڈکٹیٹر کی حکومت ہے، اسے تملے کئے گئے اور دو گھنٹے کے لئے اس شرط پر آئے کہ ڈکٹیٹر کے ساتھ کوئی تصویر نہیں بنوائیں گے، پھر جب نائن الیون ہوا تو امریکہ کے لئے پاکستان کی سرزمین بچھا دی گئی، فوجی اڈے امریکہ کے حوالے کئے گئے اور نام نہاد اتحاد کے حامی بن گئے، کیا کبھی طالبان نے ہمیں کہا کہ آپ کے اڈوں سے امریکی جہازہماری فضاؤں میں کیوں اڑ رہے ہیں؟ آج ہم نے اپنے تجربہ اور ذمہ دار ریاست کے طورپر ان کو چلانا ہے، الیکشن سے پہلے میں ریاست کو اعتماد میں لے کر مشاورت کا ساتھ ایک ایجنڈا لے کر طالبان کی دعوت پر افغانستان گیا اور ایجنڈے کے ہر نقطے پر ان کو قائل کیا، پھر کس نے اس سب پر پانی پھیرا ؟ میں ذاتی حیثیت میں وہاں گیا تھا اس کے بعد اسٹیٹ ٹو اسٹیٹ بات چیت ہونی تھی، لیکن یہ سب کیوں نہیں ہوا ؟ ہم نے ستر سالسے کشمیر کی سرحد پر انڈیا کے ساتھ نبرد آزما ہیں، اب ایک اور سرحد ہم کھو رہے ہیں، ہم نے ریاست کی مٹی کے ساتھ وفاداری کرتے ہوئے اسکے تحفظ کے لئے اپنا کردار ادا کیا لیکن ہماری ریاست کے کرتا دہرتا اتنے نا اہل ثابت ہوئے کہ کئے کرائے کو بھی نہیں سنبھال سکے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

173,427 görüntüleme • 1 yıl önce

اس وقت ملکی سالمیت کا مسئلہ درپیش ہے جس پر ہم بار بار بات کر رہے ہیں،جس پر ہمارا مشاہدہ یہ ہے کہ ملکی سالمیت کی پالیسیاں ایوان اور حکومتی حلقوں میں نہیں بلکہ ماوراء سیاست و پارلیمنٹ بند کمروں میں بنائی جارہی ہیں، ہمیں ملکی سالمیت پر بات کرنے اور تجویز دینے کی اجازت بھی نہیں ہے۔ اس وقت دو صوبوں میں کوئی حکومتی رٹ نہیں ہے، وزیر اعظم صاحب کو اگر بتایا جائے قبائل یا اس سے متصل اضلاع اور بلوچستان میں کیا ہورہا ہے، تو شاید وہ یہی کہیں گے کہ ان کو علم نہیں ہے،پھر کون فیصلہ کرتا ہے ؟ کل اسکا ذمہ دار پاکستان ہوگا ،عوام کی نظر میں اس سب کے ذمہ دارپارلیمان اور ہم ہیں،اس وقت ملک میں کوئی سویلین اتھارٹی اور نظریاتی سیاست موجود نہیں ہے، پاکستان میں مکمل طور پر ایک خاص اسٹیبلشمنٹ بند کمروں میں فیصلہ کرتی ہےاور حکومت صرف ان پر مہر لگاتی ہے۔ کے پی کے اور بلوچستان میں امن و مان کی بدترین صورتحال ہے، میرے ضلع میں کئی علاقے پولیس جس کو کئی عرصہ پہلے خالی کرچکی ہے،حال ہی میں فوج نے بھی وہ علاقے خالی کردئے ہیں، تو بتایا جائے کہ وہ علاقہ کس کے قبضہ میں ہیں ؟ درد دل اور افسوس سے یہ بات کہنی پڑ رہے ہے کہ اگر بلوچستان میں پانچ یاسات اضلاع مل کر آج آزادی کا اعلان کردیں تواگلے دن اقوام متحدہ میں ان کی درخواست کو قبول کرلیا جائے گا اور پاکستان کو تقسیم تصور کیا جائے گا، یہ جذباتی باتیں نہیں ہیں،لیکن حقائق تک پارلیمینٹ کو پہنچنا ہوگا۔ آج اگر کوئی بقاءکا سوال کرتا ہے، چیخ و پکار کرتا ہے تو اس پر برا بنایا منایا جاتا ہے،چیخ و پکار کو اللہ تعالیٰ بھی پسند نہیں کرتے لیکن مظلوم کی چیخ و پکار اللہ تعالیٰ بھی سنتے ہیں۔ پارلیمان میں قانون سازی کی جارہی ہے لیکن پہلے ریاستی رٹ کو تو مضبوط کیا جائے،ملک مضبوط ہوگا تو قانون نافذ العمل ہوگا، اگر ملک مضبوط نہیں ہے تو پھر قانون کس کے لئے بنایا جارہا ہے،صوبوں میں اسمبلیاں موجود ہیں لیکن کہیں بغاوت ہوتی ہے اورعوام باہر نکلتی ہے تو کوئی بھی پارلیمانی نمائندہ یا منسٹر عوام کا سامنا نہیں کرسکتا کیوں کہ عوام اسکو اپنا نمائندہ تسلیم نہیں کرتے،نظریات اور اتھارٹی کی جنگ جاری ہے، نظریات کی جنگ نظریات سے ہونی چاہئےلیکن یہاں دوسری جانب سے اتھارٹی کی سیاست کی جارہی ہے، جیسی تیسی بس اتھارٹی مل جائے، ہماری اس گفتگو کو سنجیدہ نہیں لیا جارہا ہے، کہیں پر بھی اسکا نوٹس نہیں لیا جارہا لیکن نتیجہ کیا نکلے گا کہ کل بنگال الگ ہوا تھا آج کہیں ہم سے ایک اور بازوٹو ٹ جائے، ہمیں اس کی فکر کرنی چاہئے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

46,608 görüntüleme • 1 yıl önce