Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

ملک میں دہشت گردی اور حکومت کو صرف عمرانوفوبیا۔۔۔

150,899 görüntüleme • 1 yıl önce •via X (Twitter)

10 Yorum

PTI GOJRA profil fotoğrafı
PTI GOJRA1 yıl önce

بلوچستان میں ایک قیامت برپا ہے. روزانہ معصوم جانیں جا رہی ہیں. محسن نقوی کے مطابق دہشت گرد ایک SHO کی مار ہیں لیکن تمام SHOs کو تو تحریک انصاف کے پیچھے لگایا ہوا ہے. ایک آدھے بندے کو اپنا کام کرنے دیں تاکہ پاکستانیوں کی جانیں بچائی جا سکیں.

اسعد profil fotoğrafı
اسعد1 yıl önce

یہ بیچارے ذہنی مریض۔ ان کے روزے بھی خان کے نام سے ٹوٹتے ہیں اللہ کا قہر نازل ہو ان پر

IK-804-UK profil fotoğrafı
IK-804-UK1 yıl önce

یہ کیا کہہ رہی ہے؟

Ali Aoun ( کھوکھر صاحب ) profil fotoğrafı
Ali Aoun ( کھوکھر صاحب )1 yıl önce

یہ جس بندے کے نام پر اچھلتا ہے سب سے بڑا فراڈیہ تھا ذوالفقار بھٹو الیکشن چوری کیا , فاطمہ جناح کو غدار ثابت کروایا , بنگالیوں کا حق چھینا , بنگلہ دیش علیحدہ کر دیا اور تو اور ایوب خان کو ڈیڈی کہتا تھا 🖐

khanzada profil fotoğrafı
khanzada1 yıl önce

سن جے ووٹرز ہے کہاں ؟ اب تو یہ ووٹ سے سیدھے بوٹ پر اگئے ہے

Amjad Ali jutt profil fotoğrafı
Amjad Ali jutt1 yıl önce

اب ایسی عورتیں بھی ہمیں باتیں سناۓ گی

Mohibullah Khan profil fotoğrafı
Mohibullah Khan1 yıl önce

بیچارہ 😂

Muhammad Haidar Ali profil fotoğrafı
Muhammad Haidar Ali1 yıl önce

They are beneficiaries of Terrorism Corrupt Mafia

Shah Nasir profil fotoğrafı
Shah Nasir1 yıl önce

Height of Imranophobia

𝑴𝒂𝒏𝒛𝒐𝒐𝒓 𝑩𝒂𝒍𝒐𝒔𝒉𝒊 🇴🇲 profil fotoğrafı
𝑴𝒂𝒏𝒛𝒐𝒐𝒓 𝑩𝒂𝒍𝒐𝒔𝒉𝒊 🇴🇲1 yıl önce

عاصم منیر نے شترنج کی چال چلی ہے اپنے سو فوجی ماروا کر بلوچستان پر فل کنٹرول حاصل کرنا اور امریکہ سے اربوں ڈالر کی ہمدردی حاصل کرنا یہ ہے ساری گیم

Benzer Videolar

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے آج کوئٹہ میں صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کیا. اجلاس میں چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل، وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمہ کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا. وزیرِ اعظم نے کہا کہ ملک کی سیاسی وعسکری قیادت مکمل یکسوئی کیساتھ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے ،آخری فسادی دہشت گردکے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی،حکومت تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کو امن، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرے گی،دشمن پاکستان کی سفارتی کامیابیوں اور گزشتہ برس معرکہ حق میں حاصل ہونے والی کامیابیوں سے خائف ہے۔ وزیرِ اعظم نے اپنی گفتگو کے دوران کہا کہ گزشتہ چار روز کے دوران بلوچستان میں انتہائی افسوسناک دہشت گردی کے واقعات پیش آئے جن میں پولیس اہلکار، سکیورٹی فورسز کے جوان اور بے گناہ شہری شہید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے مؤثر کارروائیاں کرتے ہوئے 54 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا، دہشت گردی کے خلاف جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک آخری فسادی دہشت گرد کا خاتمہ نہیں ہوجاتا۔ وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ افواج پاکستان، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پوری قوم نے دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ قوم اپنی بہادر افواج اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے اور یقین رکھتی ہے کہ ان قربانیوں کے نتیجے میں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ دہشت گردی کے اس فتنے میں پاکستان کے مشرقی ہمسایہ ملک کا بھرپور کردار ہے جو دہشت گردوں کو اسلحہ، مالی معاونت اور دیگر سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ گفتگو جاری رکھتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے دہشت گرد خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں حملے کرتے ہیں، تاہم ریاست ان عناصر کے مذموم عزائم کو ہر صورت ناکام بنائے گی۔ ملک کی سیاسی و عسکری قیادت مکمل یکسوئی کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں ،دشمن پاکستان کی سفارتی کامیابیوں اور گزشتہ برس معرکہ حق میں حاصل ہونے والی کامیابیوں سے خائف ہے، اسی لیے وہ مختلف ذرائع سے ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت متحد ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان، حکومت بلوچستان اور افواج پاکستان دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے تاکہ ملک کو امن، استحکام اور ترقی کا گہوارہ بنایا جا سکے۔وزیراعظم نے دہشت گردی کے واقعات میں شہید ہونے والوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی شہدا کے درجات بلند اور جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے، ان کے لواحقین کو صبرِ جمیل عطا کرے اور زخمیوں کو جلد صحت یاب کرے۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی بلکہ یہی قربانیاں پاکستان میں پائیدار امن کی بنیاد بنیں گی۔

Prime Minister's Office

13,373 görüntüleme • 22 gün önce

اگر جرگوں سے امن آتا تو ماموند جرگہ کے بعد امن قائم ہوجاتا ۔اس جرگے میں عمائدین، ملک، علماء، ممبران اسمبلی، معززینِ علاقے اور سیاسی کارکن شامل تھے ، مگر یہ بات یاد رکھیں کہ طالبان نہ قرآن کو مانتے ہیں، نہ سفید داڑھی کو اور نہ ہی سفید جھنڈے کو۔ یہ صرف بندوق کو مانتے ہیں۔ اگر ہم نے بندوق نہیں اٹھائی تو یہ دہشت گرد ہمیں بھی بے گھر کر دیں گے، جیسے ماموند میں ہوا۔ ہمیں بھی بے گھر ہونا پڑے گا اور لوگ سوشل میڈیا پر ماتمی گانے لگا کر افسوس کریں گے۔ باجوڑ کے سلارزئی تحصیل میں امن اسی وجہ سے قائم ہے کہ ہمارے غیرتمند مشران نے دہشت گردوں کو یہاں پناہ نہیں دی۔ کوئی سہولت کار دہشت گردوں کو یہاں میسر نہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ہمیں ایک دن مرنا ہے، مگر ہم عزت اور وقار کے ساتھ مرنا چاہتے ہیں۔ دہشت گردی کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ ہماری قربانیوں کی بدولت یہاں امن ہے، اور یہی وجہ ہے کہ سلارزئی قبائل کو پورے ملک میں ہر فورم پر عزت اور احترام حاصل ہے۔یہ ہمارا عزم ہے، یہ ہمارا جذبہ ہے، اور ہم کبھی دہشت گردی کے سامنے نہیں جھکیں گے۔ ملک خان زادہ کا سلارزئی قومی جرگہ سے خطاب

Khadim Ali khan Yousaf zai

11,253 görüntüleme • 11 ay önce