Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

ملکی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ملک کو سیاسی لحاظ سے کمزور کیا گیا جس سے فوج کو مارشل لا لگانے کے مواقع ملے۔ قیام پاکستان کے ٹھیک گیارہ سال بعد سن 1958 میں فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے مارشل لا لگایا اور دس سال تک وہ...

19,690 Aufrufe • vor 13 Tagen •via X (Twitter)

30 Kommentare

Profilbild von Abdul Waheed
Abdul Waheedvor 13 Tagen

We sold Pakistan's water; we handed over three rivers to India, and even today, we are unable to escape the water crisis—this is what dictators decide.

Profilbild von Jamiat Social Media Team
Jamiat Social Media Teamvor 13 Tagen

قائد محترم ❤️

Profilbild von Fawad Bannu JUI
Fawad Bannu JUIvor 13 Tagen

❤️❤️

Profilbild von Maria Khan
Maria Khanvor 13 Tagen

غدار جرنیل سور دہشتگرد باجوا کے جہاز میں بیٹھ کر ملک اجاڑنے والے منافق دین فروش بوٹ چاٹ سور کتے دا پترا تم اور تیرا باپ 78سال سے جرنیلوں کی سہولتکاری کر رھے ھو

Profilbild von Syed Amanat
Syed Amanatvor 13 Tagen

آپ جیسے کرائے کے مولوی ہی نے آمریت کو مضبوط کیا ہے

Profilbild von Furqan Ullah MwT
Furqan Ullah MwTvor 13 Tagen

ماشاءاللہ سلامتی ❤️ قائد محترم ❤️

Profilbild von Malik Zia ur rehman afridi
Malik Zia ur rehman afridivor 13 Tagen

ماشاءاللہ اللہ پاک عمر دراز عطا فرماٸیں۔

Profilbild von S Khan
S Khanvor 13 Tagen

راہ ہموار تیرے جیسے کنجروں نے ہی کی ۔ زمین گرم ہوئی کہ نہیں ؟ بکواس نہ کرو اب ۔ آپ کا کردار بھی ڈکا چھپا نہیں

Profilbild von Hizbullah
Hizbullahvor 13 Tagen

ماشاءاللہ بہت خوب قائد

Profilbild von MUHAMMAD SAFDAR
MUHAMMAD SAFDARvor 13 Tagen

ماشاءاللہ مولانا صاحب

Profilbild von Ziarat shinwari
Ziarat shinwarivor 13 Tagen

قائد انقلاب

Profilbild von محمد انور جمعیتی
محمد انور جمعیتیvor 13 Tagen

❤️

Profilbild von Areesha CH_1
Areesha CH_1vor 13 Tagen

قائد محترم ❤️

Profilbild von Mir Voice
Mir Voicevor 13 Tagen

مارشل لا اور ڈکٹیٹرشپ نے پاکستان کو سیاسی، اقتصادی اور جغرافیائی طور پر ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ مگر تاریخ یہ بھی پوچھے گی کہ خود کو جمہوری کہنے والے مولانا صاحب جیسے سیاستدان کیوں ہر بار مصلحت پسندی کا شکار ہو کر انہی آمروں اور اسٹیبلشمنٹ کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں؟

Profilbild von Anis Marwat
Anis Marwatvor 13 Tagen

بہت خوب ❤️ حضرت

Profilbild von Ehtsham Bhalli🇺🇸
Ehtsham Bhalli🇺🇸vor 13 Tagen

واہ ری جہالت

Profilbild von Wahid Kakar
Wahid Kakarvor 13 Tagen

✌️

Profilbild von asifkhan
asifkhanvor 13 Tagen

مولانا صاحب جو کہتے ہیں دبنگ کہتے ہیں

Profilbild von زین اللّہ
زین اللّہvor 12 Tagen

❤️❤️❤️

Profilbild von Mahmood Salih
Mahmood Salihvor 13 Tagen

قائد ہمارا مولانا

Profilbild von Muhammad Sajid
Muhammad Sajidvor 13 Tagen

Zbardast

Profilbild von NUK
NUKvor 13 Tagen

@ziaurrehman76 Where is blue tick of @MoulanaOfficial account???

Profilbild von HaqnawazMahar
HaqnawazMaharvor 11 Tagen

❣️

Profilbild von Muhammad Rizwan
Muhammad Rizwanvor 12 Tagen

لاشک فیھا

Profilbild von محمد احمد الخضداری
محمد احمد الخضداریvor 12 Tagen

مولانا سیاست نہیں ریاست بچا رہے ہیں

Profilbild von wahid ullah
wahid ullahvor 13 Tagen

Very nice 👍

Profilbild von Pervez Ismial
Pervez Ismialvor 13 Tagen

توں بھی تو۔

Profilbild von Nadeem FCA
Nadeem FCAvor 13 Tagen

V well played …

Profilbild von Hussain Ahmed Asfi
Hussain Ahmed Asfivor 13 Tagen

مولانا کی للکار

Profilbild von 𝕏 عبدالوحيد
𝕏 عبدالوحيدvor 12 Tagen

🎆💯

Ähnliche Videos

صحافی: عمران خان پر دیگر چیزوں کے علاوہ کرپشن کے بھی الزامات ہیں۔ ان الزامات کے بارے میں آپ کا کیا کہنا ہے؟ قاسم خان: یہ سننا سب سے زیادہ مایوس کن باتوں میں سے ایک ہے۔ جب ہم بڑے ہو رہے تھے، تو ہم نے صرف یہی سنا کہ کرپشن کتنی زہریلی ہو سکتی ہے اور یہ کسی ملک کو کیسے تباہ کر سکتی ہے۔ یہی انہوں نے پاکستان میں دیکھا تھا۔ اور جب وہ انگلینڈ آئے، تو وہ اس کا فرق دیکھ سکے اور یہ سمجھ سکے کہ وہ پاکستان کو کس طرح بہتر بنا سکتے ہیں، اور بالآخر وہ پاکستان واپس گئے اور سیاست میں شامل ہوئے۔ جب سے ہم پیدا ہوئے ہیں، ہم نے انہیں ہمیشہ کرپشن کے خلاف بولتے اور اس کے خلاف عمل کرتے دیکھا ہے۔ اگر وہ بند دروازوں کے پیچھے اپنے پانچ اور سات سال کے بچوں کو کرپشن کے خلاف درس دے رہے تھے، تو اب ان پر ایسے الزامات لگایا جانا انتہائی مایوس کن ہے۔ ہمارے لیے یہ اس حکومت کے کھلے جھوٹ اور دھوکے کے سوا کچھ نہیں ہے جو سالوں میں سب سے زیادہ کرپٹ حکومتوں میں سے ایک رہی ہے، جیسا کہ آپ آخری انتخابات میں ہونے والی دھاندلی سے بھی دیکھ سکتے ہیں۔

Faisal Khan

18,660 Aufrufe • vor 1 Monat

معروف چینی محقق وکٹر گاؤ کا شرمین نروانی کے ایران جنگ میں پاکستان کے کردار سے متعلق سوال پر تفصیلی جواب: میں پاکستان کو بہت اچھے طریقے سے جانتا ہوں۔ پاکستان کے عوام، حکومت اور فوج غیور مسلمان ہیں اور وہ عالمِ اسلام کے تمام ممالک کے جائز حقوق کی حمایت کرتے ہیں۔ وہ کبھی اپنے کسی برادر اسلامی ملک کی بربادی نہیں چاہیں گے۔ ایران جنگ میں بھی یہی صورتحال رہے گی۔ پاکستان، سعودی عرب کے مشترکہ دفاعی معاہدہ انتہائی اہم ہے۔ پاکستانی فوجی پہلے ہی بڑی تعداد میں مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک میں تعینات ہیں اور پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے۔ لہٰذا اگر کوئی سعودی عرب کے خلاف کوئی بیوقوفانہ حرکت کرے گا تو یہ معاہدہ عمل میں آ سکتا ہے۔ میں یہ نہیں سمجھتا کہ پاکستان کسی بھی ملک کے خلاف اس وقت تک اپنے انتہائی مہلک ہتھیار استعمال کرے گا جب تک کہ سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کو کوئی سنجیدہ ترین خطرہ ہو۔ اور میں نہیں سمجھتا کہ ہم اِس وقت اُس سطح پر ہیں۔ جہاں تک پاکستان اور چین کی بات ہے تو ہم حقیقی بہن، بھائی ہیں۔ اور ہم ایک دوسرے کو تمام تر طرح سے مدد اور حمایت فراہم کرتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان کوئی قانونی طور دفاعی معاہدہ نہیں ہے۔ پر ہم بہت سے اہم ترین معاملات پر ایک دوسرے سے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوتے ہیں۔ آپس میں بھی اور بین الاقوامی سطح پر بھی۔ لہٰذا اگر چین اور پاکستان کے برادرانہ تعلقات پر اس کا کوئی اثر نہیں ہو رہا تو پاکستان اور امریکہ کے درمیان بڑھتے تعلقات کو منفی انداز میں دیکھنے کی قطعاً کوئی وجہ نہیں ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان کے دنیا میں زیادہ سے زیادہ ممالک کے ساتھ مثبت سفارتی تعلقات ہوں اور ہمیں یقین ہے کہ پاکستان کو پتہ ہے اسے کیا کرنا ہے۔ مجھے مکمل یقین ہے کہ پاکستان عالمِ اسلام کے جائز مفادات کا ایک زبردست محافظ ہے، بشمول مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے۔

Naya Daur Videos

96,459 Aufrufe • vor 6 Monaten

آج ان چار صوبوں کو توڑ کر ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے،جب فوج کی حکومت تھی انہی چار صوبوں کو ایک صوبہ مغربی پاکستان بنا کر ون یونٹ لگا دیا تھا،وہ بھی ہماری فوج کی سوچ تھی اور آج صوبوں کو توڑ کر تقسیم کرنا بھی اسی فوج کی سوچ ہے،خواہ مخواہ ایک "کاکے" کو آگے کردیا ہے۔ جب چاہیں پورے مغربی پاکستان کو ایک صوبہ بنا دیں اور جب چاہیں چار صوبوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں، جہاں ہر فیصلے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کے اپنے عزائم ہوں وہاں کوئی قومی مفاد نہیں ہوتا۔ ہم نے اس ملک میں رہنا ہے تو خیرخواہی کی بنیاد پر اپنے ضمیر کی بات کرتے ہیں،ہم اپنی بھلائی اسی میں دیکھتے ہیں اور آپ کی بھی خیرخواہی اسی میں دیکھتے ہیں،مگر ان کا مزاج بن گیا ہے کہ ان کو خوشامدگروں کی زبان اچھی لگتی ہے۔ لیکن ہم ملک کو اسٹیبلشمنٹ کی ملکیت نہیں مانتے،یہ ملک ہمارا ہے،ہم اس کے شہری ہیں،اور ریاست عوام کے بغیر کچھ نہیں ہے۔ ہم اصولاً کسی یونٹ بنانے کے خلاف نہیں،دوسرے ملکوں میں بھی یونٹس بنتے ہیں لیکن وقت اور ماحول کو بھی دیکھنا چاہئے۔ ہم نے فاٹا کو صوبے میں انضمام کے وقت بھی کہا تھا یہ فاٹا کے عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے، لہٰذا فاٹا کے عوام سے پوچھ لیا جائے لیکن آپ نے ان پر انضمام تھوپ دیا، آج اس کا کیا حشر ہے؟ اس وقت باجوہ صاحب تھے، جو مجھے کہتے تھے کہ آپ کیوں اس کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ہمارے لیے ضروری ہے اور جب میں نے ان کو جوابات دئے تو چند روز کے بعد مجھے ایک امریکی افسر گھر آ کر ملا، اور اس نے کہا کہ آپ کیوں فاٹا انضمام کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ضروری اور لازمی ہے۔ آج ہمارا جنرل خود مجھے کہتا ہے کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا۔ جب چاہو لوگوں کے سیاسی مستقبل کو داؤ پر لگا دو اور پھر جب چاہو طریقہ بدل دو، آپ کا فیصلہ جو آج ناگزیر ہے،کل آپ کا وہ فیصلہ غلط ثابت ہوتا ہے،کسی ایک فیصلے کی مثال بھی نہیں ملتی جس کے نتائج قوم کی حفاظت میں سامنے آئے ہوں۔ یہ وہ ساری چیزیں ہیں جس پر ڈیبیٹ ہونی چاہئے یک طرفہ فیصلہ مسلط نہ کریں،یہ عوام کا ملک ہے، یہاں عوام نے رہنا ہے،عوام کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔ صوبوں کی تقسیم کے پیچھے کیا مفادات ہیں؟ نمبر ایک، صوبوں کے اندر جو معدنی ذخائر ہیں، آئین کی اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے اس کے مالک ہیں، صوبوں کے بچے اس کے مالک ہیں، اور یہ چیز انہیں مرکز میں ہضم نہیں ہو رہی ہے۔ دوسری چیز کہ این ایف سی ایوارڈ، قومی محصولات کا جو حصہ صوبوں کو ملتا ہے، وہ اب ستاون فیصد تک پہنچ گیا ہے، اور آئین کہتا ہے کہ اضافہ ہو سکتا ہے، کم ہی نہیں ہو سکتا،یہ بھی ان کو ہضم نہیں ہو رہا۔ اب صوبے تقسیم کرو تاکہ یہ لوگ ازسرِنو معدنیات اور این ایف سی ایوارڈ کے فیصلے پھر سے کریں۔ ہم صوبوں کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ لوگ سب کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی بات تو کرتی ہے، لیکن وہ صرف سندھ کی حد تک کرتی ہے۔اصولی طور پر بات کریں۔ مسلم لیگ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، مرکز میں حکومت مسلم لیگ نون کی ہے، اور اتنے بڑے قومی سطح کے معاملات کاکے کے حوالے ہیں جس کی حیثیت ایک ذاتی ملازم سے ذیادہ اہم نہیں ہے،وہ کابینہ کا ممبر ہے۔ اسلام آباد ٹیریٹری کے لیے دو کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں۔ ایک کمیٹی میں بھی کاکا جی، دوسرے میں بھی کاکا جی، ایک کی رپورٹ کچھ، دوسری کی رپورٹ کچھ اس میں تضادات ہیں تو پاکستان ہم ان کے حوالے نہیں کرسکتے، یہ قوم کی چیز ہے، قوم کی امانت ہے اسکا فیصلہ بھی عوام نے کرنا ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

33,608 Aufrufe • vor 13 Tagen

ہم نے چالیس سال میں کونسی جنگ لڑی ہے؟ہم نے اپنی فوج اور ریاست کو جنگوں میں دھکیلا ہے، دنیا کے ہر جنگجو کےپاؤں کے نشان پاکستان کی سرزمین سے ہوکر گذرتے تھے اور دنیا کہتی تھی کہ پاکستان دہشت گردی کا مرکز ہے ، کیا ہم اس محاذ سے نکل چکے ہیں ؟ لڑائی میں کوئی افغانی مر جاتا ہے تو ہم افغانستان پر سارا غصہ نکال دیتے ہیں،تاکہ قوم ہماری غلطیوں پر بات نہ کرسکے اور پڑوسی ملک کو مجرم سمجھتی رہے۔ ہمیں اپنا احتساب بھی کرنا چاہئے، جنرل مشرف کے دور میں امریکی صدر کلنٹن انڈیا آرہا تھاتوپاکستان کی سر زمین پر پاؤں رکھنے کے لئے تیار نہیں تھا اور کہا تھا کہ پاکستان میں ڈکٹیٹر کی حکومت ہے، اسے تملے کئے گئے اور دو گھنٹے کے لئے اس شرط پر آئے کہ ڈکٹیٹر کے ساتھ کوئی تصویر نہیں بنوائیں گے، پھر جب نائن الیون ہوا تو امریکہ کے لئے پاکستان کی سرزمین بچھا دی گئی، فوجی اڈے امریکہ کے حوالے کئے گئے اور نام نہاد اتحاد کے حامی بن گئے، کیا کبھی طالبان نے ہمیں کہا کہ آپ کے اڈوں سے امریکی جہازہماری فضاؤں میں کیوں اڑ رہے ہیں؟ آج ہم نے اپنے تجربہ اور ذمہ دار ریاست کے طورپر ان کو چلانا ہے، الیکشن سے پہلے میں ریاست کو اعتماد میں لے کر مشاورت کا ساتھ ایک ایجنڈا لے کر طالبان کی دعوت پر افغانستان گیا اور ایجنڈے کے ہر نقطے پر ان کو قائل کیا، پھر کس نے اس سب پر پانی پھیرا ؟ میں ذاتی حیثیت میں وہاں گیا تھا اس کے بعد اسٹیٹ ٹو اسٹیٹ بات چیت ہونی تھی، لیکن یہ سب کیوں نہیں ہوا ؟ ہم نے ستر سالسے کشمیر کی سرحد پر انڈیا کے ساتھ نبرد آزما ہیں، اب ایک اور سرحد ہم کھو رہے ہیں، ہم نے ریاست کی مٹی کے ساتھ وفاداری کرتے ہوئے اسکے تحفظ کے لئے اپنا کردار ادا کیا لیکن ہماری ریاست کے کرتا دہرتا اتنے نا اہل ثابت ہوئے کہ کئے کرائے کو بھی نہیں سنبھال سکے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

173,427 Aufrufe • vor 1 Jahr

سوال: اچھا مولانا صاحب ملک کے بہتر مفاد میں آپ عمران خان سے بھی مل سکتے ہیں ان کو شامل ہونے کی دعوت دے سکتے ہیں؟ جواب: دیکھیے ہر چیز باوقار انداز سے ہو اس میں کوئی شک نہیں کہ دس بارہ سال ہم ایک دوسرے کے بڑے مد مقابل رہے ہیں اور ہمارے بڑے تحفظات ہیں اور ان کو اگر دور کیا جاتا ہے تو ہم سیاسی لوگ ہیں مذاکرات سے بھی انکار نہیں کریں گے اور مذاکرات کے لیے اگر ماحول بنتا ہے تو اس کی بھی حوصلہ افزائی کریں گے ہم کوئی مستقل جھگڑے اور جنگ اور تلخیاں اس کو باقی رکھنا نہ ملک کے مفاد میں سمجھتے ہیں نہ ہمارے سوسائٹی کے مفاد میں ہے۔ سوال: آپ کی طرف سے ویلکم ہے عمران خان کے لیے۔۔ تو یہ ذرا واضح کیجیے گا اگر آپ کو ضرورت پڑتی ہے یا۔۔۔۔ جواب: میرے پاس ان کے دو وفود آئے ہیں اس کے باوجود ان کے لوگ جو ہیں وہ مجھے مسلسل مل رہے ہیں چاہے آف دی ریکارڈ مل رہے ہیں یا میڈیا کے سامنے بھی مل رہے ہیں تو ملتے ہیں اور یہی گفتگو چل رہی ہے کہ آپس کے جو تحفظات ہیں کس طرح ان کو دور کرنے کے لیے ماحول بنایا جائے۔ سوال: مولانا صاحب ابھی آپ نے فرمایا کہ 10 12 سال کی تلخیاں تھی اب آپ سیاسی طور پر کہہ رہے ہیں کہ سیاسی لوگ دروازے کھلے رکھتے ہیں تو جو سب سے زیادہ پچھلے سات آٹھ سالوں میں آپ کی طرف سے الزام کہ یہ یہودی لابی ہے تو یہ سیاسی تلخیاں ختم ہوں گی تو آپ ان کو یہودی لابی سے مسلمان لابی میں کیسے دیکھیں گے؟ جواب: یہ بات ذہن میں رکھے اگر ہم نے برصغیر کی سیاست میں کسی کو انگریز کا ایجنٹ کہا ہے یا ہم نے عالمی سطح پر کسی کو امریکہ کا ایجنٹ کہا ہے تو یہ عنوان ہے یہ گالی نہیں ہے مطلب یہ ہے کہ جو عالمی سطح پر ایک ورلڈ وائڈ جو ایکنامک نیٹ ورک ہے اور اس کے اوپر جو جیوش کی ایک بالادستی ہے جب میں دیکھوں گا کہ میرے ملک کو بھی اس نیٹ ورک کے اندر ڈالا جا رہا ہے اور یہاں پر میں سود کے خاتمے کی بات کرتا ہوں اور میں مکمل طور پر عالمی سطح پر سودی نظام کے اندر جا رہا ہوں ان کی معیشت کے اصولوں کے مطابق چلوں گا تو اس سے میرا اختلاف ہوگا اب اس اختلاف کا عنوان اگر یہ ہے کہ یہودی ایجنٹ تو اس کو گالی کیوں کہا گیا اس کو سنجیدگی سے لینا چاہیے تھا مجھ سے پوچھنا چاہیے تھا کہ آپ یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں اگر میں کہتا ہوں کہ قادیانیوں کو دوبارہ مسلم سٹیٹس پاکستان میں دینا یہ میرے تحفظات ہیں بجائے اس کے کہ آپ مجھے اس کے بدلے میں گالیاں دیں آپ مجھے مطمئن کریں میں پاکستان کا شہری ہوں میرے پیچھے کچھ لوگ ہیں ان کے ایک سوچ ہے ان کے تحفظات ہیں میں ان کے نمائندگی کر رہا ہوں اگر میں کہتا ہوں کہ پاکستان میں مغربی تہذیب کو فروغ دیا جا رہا ہے اور ہماری اسلامی اور مشرقی تہذیب جو ہے اس کا خاتمہ کیا جا رہا ہے اس کے بدلے میں گالی دینے کی بجائے مجھ سے پوچھا جائے مجھ سے بات کی جائے سیاستدان کا کام یہی ہوتا ہے اگر میں نے آپ کے اوپر کوئی اعتراض کیا ہے یا آپ کے ساتھ میں کوئی ایک تحفظات کا اظہار کیا ہے تو اپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ یہ بات کہے کہ فضل الرحمان یہ بات آپ کیوں کر رہے ہیں مجھے تاکہ جب میں آپ کے ساتھ اپنی بات رکھوں تو آپ یا مجھے مطمئن کر سکیں اس بات پر کہ میں میرے ایجنڈا نہیں ہے یا یہ کہ یہ میرا ایجنڈا ہے اور آپ کے مفاد کے لیے ہے کچھ تو کرنا پڑے گا نا جی تو یہ چیزیں جو ہیں ان کو سیاسی طور پر ہم لے رہے ہیں اور آج جب ان کے لوگ آئے ہیں اگر یہ لوگ 12 سال پہلے بھی اتے تب بھی میرے یہی ایٹیٹیوڈ ہوتا اور اگر آج آئے ہیں تب بھی میرا وہی ایٹیٹیوڈ ہے

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,018 Aufrufe • vor 2 Jahren

نئے صوبوں سے متعلق سوال پر امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا جواب: ایک بات میں پہلے آپ صحافیوں سے کرنا چاہوں گا جی، ذرا مہربانی کریں، آپ میڈیا کی دنیا میں حمایت اور مخالفت کی لکیر نہ کھینچیں۔ یہ ایک ڈیبیٹیبل ایشو ہے اور اس پر مختلف پہلوؤں سے بات ہو سکتی ہے۔ اصولی طور پر ایک مسئلے کی پوزیشن اور ہوتی ہے، عملی طور پر جب آپ آتے ہیں تو پھر اس کی صورت اور ہوتی ہے۔ اصولی طور پر آپ کو حق ہے کہ آپ اپنا گھر بنائیں، لیکن کیا آپ کے پاس وسائل ہیں کہ آپ بنا سکیں؟ وسائل نہیں ہیں، جیب خالی ہے اور آپ جا کر وہاں اینٹیں رکھنا شروع کر دیں تو لوگ کہیں گے کہ یہ کیا کر رہا ہے؟ تو وہ ایک خامخواہ ضائع ہونے والی بات ہو جاتی ہے۔ میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ اصولی طور پر تو ہم یونٹس کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم نے اس سے پہلے بہاولپور صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے سرائیکی صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے ہزارہ صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے خود فاٹا کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم سندھ ذرا اس سے مختلف تھا کہ سندھ کے عوام صوبے کی تقسیم کے لیے آمادہ نہیں تھے، اس وقت بھی نہیں تھے اور اب بھی نہیں ہیں۔ لیکن جو میری معلومات ہیں، جب اس وقت صوبہ، صوبہ ہو رہا تھا تو اسٹیبلشمنٹ بھی اس کی مخالف تھی۔ چنانچہ ان عناصر کی حوصلہ شکنی کی گئی جو صوبہ، صوبہ کر رہے تھے اور حکومتوں اور اسمبلیوں میں وہ لوگ نہیں آ سکے، کمزور پوزیشن میں آئے اور بالآخر ان کو وہ ایشوز چھوڑنے پڑ گئے۔ آج پھر کون سی ایسی وحی آ گئی ہے ان کے اوپر کہ آؤ، ان کو پتا نہیں کتنے اور کوئی نقشہ بھی نہیں ہے۔ کبھی آپ سولہ یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی آپ بتیس یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی ہر ڈویژن کو صوبے کا درجہ دے رہے ہیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ نقشہ کیا ہے۔ تو ایک بات کہہ دینا اور پھر لوگوں کو چھوڑ دینا کہ وہ اس پر بحث کرتے رہیں، میرے خیال میں ملک کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ ایشو پھینکا گیا ہے۔ اس میں کوئی سنجیدگی ہے، نہ اس کے لیے اس وقت کوئی ماحول موجود ہے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی تیاری موجود ہے۔ جب ماحول بھی نہیں ہے، اس وقت تیاری بھی نہیں ہے، تو خامخواہ ایک غیر سنجیدہ گفتگو، جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہمارے حکمران اس وقت باہر کی دنیا کے ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہیں اور ان کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ پاکستان کی سرزمین جو خون سے سرخ ہے، اس کو بھی تو ہمیں سنبھالنا ہے۔ تو جہاں خون بہہ رہا ہو، جہاں ملکی زمین جو ہے وہ خون سے سرخ ہو اور آپ باہر دنیا میں جا کر وہاں پر ریڈ کارپٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہوں، تو ذرا گھر کو تو ٹھیک کریں۔ ہم نہیں کہتے کہ آپ باہر کی دنیا سے اچھے تعلقات نہ رکھیں۔ ہم نے تو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کو سپورٹ کیا ہے۔ ہم نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کو سپورٹ کیا ہے۔ ترکی کی شمولیت کو ہم نے سپورٹ کیا ہے۔ مصر اس میں آتا ہے، ایران اس میں آتا ہے۔ خیر، مقدم کریں گے ایک اسلامی بلاک کے قیام کا۔ یہ خود جمعیت علماء اسلام کے منشور کا حصہ ہے۔ تو جو چیزیں دنیا میں ہمارے اپنے فکر اور ہمارے نظریے کے مطابق آگے بڑھیں گی، ہم اس کو سپورٹ کریں گے۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

11,368 Aufrufe • vor 1 Monat

جب تک ہمارے دماغ سے یہ کیڑا نہیں نکلے گا کہ ہم نے افغانستان کو زیر نگیں رکھنا ہے اور افغانستان میں کوئی حکومت وہ ہماری مرضی کے بغیر نہیں چلے گی اس وقت تک معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے، ہمیں ایک آزاد افغانستان ایک صاحب استقلال افغانستان ایک خودمختار افغانستان اس پر توجہ رکھنی چاہیے اور ماضی کے جو ہمارے اس حوالے سے قربانیاں ہیں ان کو کسی ایک کامیاب نتائج تک ہمیں پہنچانا چاہیے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں سفارتی جو ہماری ستتر یا اٹھتر سالہ کوششیں ہیں وہ اب تک کیوں ناکام ہیں یہ مستقل ایک سوال ہے، یہ کافی نہیں ہے ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے اور ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے، مسئلہ یہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیوں نہیں مانتے، کیا ساری غلطیاں ستتر سال سے انہی کی طرف ہیں اور کیا ہمارے طرف بلکل کوئی غلطی نہیں ہے، یہ بھی ہمیں قومی سطح پر سوچنا چاہیے، افغانستان صرف حکومت کا نام نہیں ہے، افغانستان صرف وہاں امارت اسلامیہ کا نام نہیں ہے، افغانستان وہاں کے عوام کا بھی نام ہے، افغان قوم کا نام ہے، افغان قوم کے ہمارے ساتھ رشتے ہیں، ہمارے ساتھ ان کے تعلقات ہیں، ہمارے ساتھ ان کی برادریاں شریک ہیں اور ہمارے ساتھ ان کی معاشرت شریک ہے، ان تمام رشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں افغانستان کے حوالے سے سوچنا چاہیے، یہ ہر وقت رجیم چینج اور رجیم چینج کے باتیں یہ شاید نہ ختم ہونے والا سلسلہ بنے، ہم نے ظاہر شاہ کے خلاف انقلاب کی حمایت کی، پھر اس کے بعد کمیونسٹ انقلاب آیا پھر ہم نے ان کے خلاف جہاد اس وقت ہم امریکہ جب آیا تو ہم بھی شامل ہو گئے، پھر وہی امریکہ تھا اس نے طرف تبدیل کر دیا تو مشرف کے زمانے میں ہم پھر امریکہ کی جنگ لڑ رہے تھے، آج ہم پھر ایک دفعہ امریکہ کی خواہشات کی مطابق، یہ کیسا امریکہ ہے کہ پاکستان کی اگر انڈیا سے لڑائی ہو تو کریڈٹ لیتا ہے کہ میں نے جنگ بند کرا دی اور اگر افغانستان کے ساتھ لڑائی ہو جائے تو کہتے ہیں پاکستان ٹھیک جا رہا ہے اس کو اور کرنا چاہیے۔ تو یہ چیزیں ان کی بدنیتی پر دلالت کرتی ہے اور ہمیں کسی کے ٹریپ میں نہیں آنا چاہیے وہ اب خود ٹریپ میں آ چکے ہیں، پھنسے ہوئے ہیں، مشکلات کے شکار ہیں اور وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر پا رہے ہیں، پاکستان کو ہر قدم احتیاط سے اٹھانا چاہیے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

30,044 Aufrufe • vor 5 Monaten

اب نئی بحث چھڑ گئی کہ ہم نئے صوبے بنائیں گے۔ میں نے کہا، کوئی عقل بھی ہے تمہارے اندر، کم بختو! سوچو تو سہی، ایک گھر ہے، اس کے ایک حصے میں آگ لگی ہوئی ہے، دوسرے حصے میں آگ لگی ہوئی ہے۔ کیا اس ماحول میں بھائی بیٹھ کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ آئیے، ذرا مکان جو ہے، اس کو تقسیم کر لیں؟ ان شعلوں کے اندر آپ صوبوں کی بات کر رہے ہیں؟صوبے بنتے رہتے ہیں، دنیا میں بھی بنتے ہیں، انڈیا میں بھی بنتے ہیں، لیکن نہ ماحول اس وقت موجود ہے، نہ تیاری ہے۔ بس ایک ادارہ اور ایک ادارے کے سربراہ کی خواہش ہے اور وہ جبراً قوم پر مسلط کر رہا ہے۔ تو ہم نے اس کا مشاہدہ کیا ہے کہ فاٹا انضمام پر ہم چیخ رہے تھے کہ وقت نہیں ہے، ابھی تم تیار نہیں ہو، ماحول نہیں ہے۔ آپ نے کہا، نہیں، بن کے رہے گا۔ تو مجھے تو اس وقت بھی پتا ہے کہ اس کے پیچھے امریکہ تھا۔ تو میں کیسے نہیں کہوں گا کہ آج صوبوں کی تقسیم اور ملک کے اندر یہ افراتفری، اس کے لیے بیرونی دباؤ نہیں ہوگا؟ اور تم خود اتنے تگڑے ہو کہ ملک کے اندر یہ رسک لے رہے ہو اور صوبوں کو کیوں توڑا جا رہا ہے!اس لیے نہیں کہ اصولی طور پر یونٹ بنتے ہیں اور پوری دنیا میں ہو رہے ہیں اور انڈیا میں بھی ہو رہا ہے، اس لیے کہ اٹھارویں ترمیم میں این ایف سی ایوارڈ آئینی طور پر طے ہوا کہ محصولات میں صوبوں کے حصے میں اضافہ کیا جا سکے گا اور کمی نہیں کی جا سکے گی۔ اور اس وقت شاید انچاس فیصد محصولات کا صوبوں کے لیے تھا، بڑھتے بڑھتے شاید چھپن، ستاون فیصد تک ہو گیا ہے۔ یہ ہے وہ چیز جس کے لیے وہ صوبوں کو توڑنا چاہتے ہیں، تاکہ ازسرِنو ہم نیا این ایف سی ایوارڈ کریں گے۔ اور دوسرا یہ کہ جو صوبوں کے اندر معدنی ذخائر ہیں، ان پر صوبوں کے عوام کا حق ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے تحت وہ صوبوں کی ملکیت ہے۔ ان معدنی ذخائر کے لیے وہ ہمارے قبائل کو، ہمارے صوبوں کے عوام کو، عام آدمی کو مالک تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ان کو اپنے قبضے میں لینا چاہتے ہیں۔ ان دو مقاصد کے لیے صوبوں کو تقسیم کرنا بڑا ناگزیر ہو گیا ہے، بڑا ناگزیر ہو گیا ہے۔ تو ہم نہ ہی ایسی چیز کی حمایت کر سکتے اور نہ ہی آپ کی بس میں ہے کہ آپ جبراً قوم کے اوپر فیصلے مسلط کریں گے اور ہم اس کو مانتے رہیں گے۔ یہ کیسے ہوگا؟ بلوچستان میں آپ کی گرفت نہیں ہے۔ ہنہ اوڑک اور اس کے پہاڑ یہ چھاؤنی کے بالکل اوپر ہے اور وہاں لوگ چڑھ گئے اور لوگوں کو شہید کیا۔ زیارت میں یہی ہوا۔ آج جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلسِ عمومی کا جو اجلاس کراچی میں ہو رہا تھا، بلوچستان کی جماعت کی درخواست پر پشاور میں لایا گیا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم کراچی نہیں پہنچ سکتے، ہمارے راستے نہیں ہیں اس قابل۔ کبھی ہم نے، آج سے، کسی جماعت نے اس حوالے سے کوئی عذر نہیں پیش کیا۔ میں خود پورے بلوچستان میں پھرا ہوں، ایک گاڑی کے اندر پھرتا رہا ہوں، مکران تک گیا ہوں، تربت تک گیا ہوں، پنجگور تک گیا ہوں، پسنی تک گیا ہوں، گوادر تک گیا ہوں۔ آج وہاں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ کراچی، کوئٹہ شاہراہ غیر محفوظ ہے، ہمارے ہاں کی شاہراہوں پر گھنٹوں گھنٹوں کے ناکے لگے ہوتے ہیں۔ ہم کیا زندگی گزار رہے ہیں؟ ہمیں ٹھنڈی زمین تو دو، ہمیں امن تو دو۔ تو صوبوں کے حوالے سے بھی ہم ان کو خیرخواہانہ مشورہ دے رہے ہیں کہ اس وقت صوبوں کو توڑنا، اس کو نئے صوبوں میں تبدیل کرنا، اور پھر لوگوں کو لالچ دیتے ہیں، پھر آپ کی حکومت ہوگی، پھر آپ کی حکومت ہوگی، پھر آپ کی حکومت ہوگی۔ جیسے ہم حکومت کے بھوکے ہیں! تو ان مشکلات سے ہم گزر رہے ہیں۔ بلوچ علاقوں میں خون ریزی ہو رہی ہے، جنگ ہے، پشتون علاقوں میں جنگ ہے، خیبر پختونخوا میں جنگ ہے۔ کشمیر میں، راولاکوٹ میں، تین مہینے ہو گئے ہیں لوگ بیٹھے ہیں، یہ ان سے بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ کیا مقاصد ہیں؟ رفتہ رفتہ اس میں ان عناصر کو غلبہ مل رہا ہے جو خودمختار کشمیر کی بات کرتے ہیں۔ جذبات میں تبدیلی آ رہی ہے۔ کیا مقصد ہے؟ کیا اس ملک کو توڑنا ہے؟ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا پشاور میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,972 Aufrufe • vor 28 Tagen

میرے خیال میں اب صورت حال وہ نہیں ہے اب امریکہ سپر طاقت نہیں رہا ہے، وہ اپنا ایک بھرم رکھنے کے لئے یہ سارا کچھ کر رہا ہے، بلکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید ٹرمپ اپنے ذاتی دفاع کیلئے یہ سب کچھ کر رہا ہے، امریکہ کی دفاع کیلئے بھی نہیں کر رہا اور وہاں پر اس وقت امریکہ کی عوامی تائید بھی اس وقت حاصل نہیں ہے، بڑا سوال یہ ہے کہ جس شخص نے الیکشن لڑا کہ دنیا سے جنگ ختم کروں گا اس نے اقتدار میں آ کر دنیا پر جنگ مسلط کر دی ہے یہ خود امریکیوں کے اور امریکی عوام کے نظر میں بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ سو اس وقت پوری دنیا ازسر نو سوچ رہی ہے اور ظاہر ہے سوویت یونین کی ٹوٹنے کے بعد ہم پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ عالمی تبدیلی اور تغیرات آئیں گی سو اس وقت پوری دنیا امریکہ سے لے کر روس تک اور چین تک یہ عالمی تغیرات کی زد میں ہیں اور ہمیں خود بیٹھ کر خود اعتمادی کے ساتھ اپنے مستقبل کو خود تراشنا ہوگا۔ ہمیں یہی سوال ہے کہ اس وقت ثالثی کی باتیں بھی ہو رہی ہیں کیا پاکستان اس پوزیشن میں ہے کہ وہ ثالثی کر سکے اور شہباز شریف جیسے حکمران کے ٹویٹ پر ٹرمپ کا ٹویٹ آنا خود ٹرمپ کی کمزوری اور امریکی پالیسی کی کمزوری کی عکاس ہے۔ سو اس حوالے سے ہمیں سوچنا چاہیے۔ صحافی: کیا ہماری طاقت عکاس نہیں ہے؟ نہیں پاکستان بہرحال محاصرے میں ہے اور سوائے ثالثی کے کردار کے ہمارے پاس اور کون سا راستہ ہے؟ جب تک ہمارے دماغ سے یہ کیڑا نہیں نکلے گا کہ ہم نے افغانستان کو زیر نگیں رکھنا ہے اور افغانستان میں کوئی حکومت وہ ہماری مرضی کے بغیر نہیں چلے گی اس وقت تک معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے، ہمیں ایک آزاد افغانستان ایک صاحب استقلال افغانستان ایک خودمختار افغانستان اس پر توجہ رکھنی چاہیے اور ماضی کے جو ہمارے اس حوالے سے قربانیاں ہیں ان کو کسی ایک کامیاب نتائج تک ہمیں پہنچانا چاہیے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں سفارتی جو ہماری ستتر یا اٹھتر سالہ کوششیں ہیں وہ اب تک کیوں ناکام ہیں یہ مستقل ایک سوال ہے، یہ کافی نہیں ہے ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے اور ہم نے بڑی کوشش کی اور افغانی نہیں مانتے، مسئلہ یہ نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ کیوں نہیں مانتے، کیا ساری غلطیاں ستتر سال سے انہی کی طرف ہیں اور کیا ہمارے طرف بلکل کوئی غلطی نہیں ہے، یہ بھی ہمیں قومی سطح پر سوچنا چاہیے، افغانستان صرف حکومت کا نام نہیں ہے، افغانستان صرف وہاں امارت اسلامیہ کا نام نہیں ہے، افغانستان وہاں کے عوام کا بھی نام ہے، افغان قوم کا نام ہے، افغان قوم کے ہمارے ساتھ رشتے ہیں، ہمارے ساتھ ان کے تعلقات ہیں، ہمارے ساتھ ان کی برادریاں شریک ہیں اور ہمارے ساتھ ان کی معاشرت شریک ہے، ان تمام رشتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں افغانستان کے حوالے سے سوچنا چاہیے، یہ ہر وقت رجیم چینج اور رجیم چینج کے باتیں یہ شاید نہ ختم ہونے والا سلسلہ بنے، ہم نے ظاہر شاہ کے خلاف انقلاب کی حمایت کی، پھر اس کے بعد کمیونسٹ انقلاب آیا پھر ہم نے ان کے خلاف جہاد اس وقت ہم امریکہ جب آیا تو ہم بھی شامل ہو گئے، پھر وہی امریکہ تھا اس نے طرف تبدیل کر دیا تو مشرف کے زمانے میں ہم پھر امریکہ کی جنگ لڑ رہے تھے، آج ہم پھر ایک دفعہ امریکہ کی خواہشات کی مطابق، یہ کیسا امریکہ ہے کہ پاکستان کی اگر انڈیا سے لڑائی ہو تو کریڈٹ لیتا ہے کہ میں نے جنگ بند کرا دی اور اگر افغانستان کے ساتھ لڑائی ہو جائے تو کہتے ہیں پاکستان ٹھیک جا رہا ہے اس کو اور کرنا چاہیے۔ تو یہ چیزیں ان کی بدنیتی پر دلالت کرتی ہے اور ہمیں کسی کے ٹریپ میں نہیں آنا چاہیے وہ اب خود ٹریپ میں آ چکے ہیں، پھنسے ہوئے ہیں، مشکلات کے شکار ہیں اور وہ کامیابیاں حاصل نہیں کر پا رہے ہیں، پاکستان کو ہر قدم احتیاط سے اٹھانا چاہیے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے۔ دیکھیے سفارت کاریاں حکومتوں کا کام ہے، ریاستوں کا کام ہے، پارٹیوں کا کام نہیں ہوتا ہے، ہم پبلک ٹو پبلک ریلیشنز جو ہیں اس میں مدد دے سکتے ہیں، ہم سب مسلمان ہیں ہم سب بھائی بھائی ہیں ہم ایک دوسرے پر ڈیپنڈ کر رہے ہیں، لیکن عوام کی ضرورتوں اور خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے ریاستیں فیصلہ کریں، بین الاقوامی قوتوں کے تابع فیصلہ نہ کریں، اپنے ملک کے عوام کے خواہشات اور ان کی ضرورتوں کے تابع فیصلے کریں۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی ڈیرہ اسماعیل خان میں گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,445 Aufrufe • vor 5 Monaten

میری ماہ رنگ بلوچ کی جو بہن ہے، نادیہ بلوچ، ان سے اور وہ باقی جو ان کی سینئر رہنما ہے، سمی دین بلوچ، ان سے تفصیلی بات ہوئی ہے۔ اور میں آپ کو بتاؤں کہ پچھلے دس دن سے وہ بل... جو جیل میں ہیں وہاں پہ انہوں نے دھرنا دے رکھا ہے۔ اور اس بنیاد پہ انہوں نے دھرنا دیا ہے کہ ان کو، اب عدالت یہ کہہ رہی ہے، پراسیکیوشن یہ کہہ رہی ہے کہ ان کو ہم عدالت نہیں لا سکتے، ان کا جو ہے نہ وہ موبائل پہ جو فیس ٹرائل ہے وہ، اس طرح کا ٹرائل کریں۔ تو اس کے خ... خلاف انہوں نے دھرنا دے رکھا ہے۔ یہ ان کا، یہ سیاسی قیدی ہیں۔ ​یہ سیاسی قیدی ہیں اور سیاسی قیدیوں کو سیاسی قیدیوں کی طرح ہی ٹریٹ کیا جائے۔ یہ خدانخواستہ کوئی ملک دشمن عناصر نہیں ہیں۔ بلوچستان آگے اس میں جو ہے نہ آپ کو سب کو پتا ہے کہ بلوچستان کے اس وقت حالات کیا ہیں؟ بلوچستان کے اندر لاء اینڈ آرڈر کی سچویشن کیا ہے؟ اور آپ اس میں پھر جمہوری آوازوں کے ساتھ اس طرح کا رویہ رکھ رہے ہیں۔ ​پرسوں اختر مینگل صاحب کی پارٹی کے ایک سینئر رہنما کو ان کے گھر کے دہلیز پہ شہید کیا گیا اور کلاشنکوف کے بٹ سے مار کر شہید کیا گیا۔ پھر لواحقین کو ان کی لاش حوالے نہیں کی گئی۔ پھر اختر مینگل صاحب اور ان کی پارٹی کے باقی لوگ ان کے گھر جانا چاہتے تھے، ان کی رسائی روک دی گئی۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسیران کے ساتھ آپ کا یہ رویہ ہے، تو ہم آپ سے پھر یہی پوچھنا چاہتے ہیں کہ آپ خدارا اس ملک کو کس طرف لے کے جانا چاہ رہے ہیں؟ ​تو ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جتنے بھی اسیران ہیں، ان کا آئینی اور قانونی حق ہے کہ ان کا عدالتی ٹرائل اسی طرح ہو جس طرح باقی ملزمان کے ساتھ ہوتے ہیں

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

12,890 Aufrufe • vor 3 Monaten

دو سال سے عمران خان پر الزامات لگا رہے ہیں، ان کے الزامات میں کوئی صداقت نہیں، عمران خان تمام بے بنیاد مقدمات سے بری ہو گئے، ہمارے سینکڑوں کارکن اب بھی جیلوں میں ہیں، پاکستان تحریک انصاف سے بڑی کوئی محب وطن نہیں، ہم پاکستان کا مستقبل اور بچوں کا مستقبل کی جنگ لڑ رہے ہیں، اگر ہم پاکستان کے خواہ نہیں تو کیا مودی ہوگا؟ رؤف حسن ایک بوڑھا شخص ہے، کینسر سروائیور ہے، آج اسے سی ٹی ڈی کے حوالے کر کے دو روزہ ریمانڈ پر لیا گیا۔یہ سراسر بے شرمی اور بے حیائی پر اتر آئے. آج ہم پر جو صورتحال مسلط ہے وہ ایرانیوں، افغانوں اور چینیوں پر مسلط ہوتی تو یہ لوگ اس نظام کو کب ٹھیک کر چکے ہوتے، کیونکہ ملک کی فلاح اور بقا بھی اسی میں ہے ہم سب کو متحد ہو کر اپنے آئینی اور بنیادی مقاصد کے لیے نکلنا ہو گا۔ عمران خان ہمارے پاس پاکستان کی امید ہے عمران خان کی زندگی کو جو تریٹ ہے خدانخواستہ اللہ نہ کرے خان کو کچھ ہوا تو ہمارے پاکستان کی مستقبل کی کوئی امید نہیں.

Sher Afzal Khan Marwat

23,338 Aufrufe • vor 2 Jahren

جب تک سب مل کے نہیں بیٹھیں گے اور مسائل کا حل نہیں نکالیں گے ہم دائرے کا سفر کرتے رہیں گے دائرے کا سفر ختم ہونا چاہیے، پاکستان کو آگے جانا چاہیے پاکستانیوں کا مقدر بھوک اور غربت اور ناانصافی نہیں ہے مختلف مواقع پہ انصاف کے نام پہ یا تو دھوکہ دیا گیا ہے یا انصاف دیا ہی نہیں گیا لوگ حکومت میں بغیر تیاری کے آ جاتے ہیں، انہیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ادارے چلانے کا میکنزم کیا ہے آپ بیٹیوں، بچیوں اور بہنوں کو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جب بھی فیصلہ کریں جذبات میں آ کر نہ کریں، سوچ سمجھ کے فیصلہ کریں وقت آنا چاہیے کہ ہمیں ائی ایم ایف کے آگے ہاتھ نہ پھیلانے پڑیں جب آپ پیسے مانگنے کے لیے دوسرے ملکوں میں جاتے ہیں تو دل کرتا ہے کہ زمین پھٹ جائے اور ہم اس میں چلے جائیں اپنے سے سو گنا چھوٹے ملکوں کے آگے جا کے ہاتھ پھیلاتے ہیں تو اچھا نہیں لگتا پھر ہم کہتے ہیں کہ گرین پاسپورٹ کی عزت نہیں ہے، جب ہم پیسے مانگیں گے، خیرات مانگیں گے تو کون ہماری عزت کرے گا؟ یہ درسگاہ صرف ٹیکسٹ بک کے لیے نہیں ہے یہ آپ کی گرومنگ اور روحانی نشونما کی درس گاہ ہے آپ کے اساتذہ کے لیے ذمہ داریاں ہیں کہ وہ آپ کو اس طریقے سے تیار کریں کہ آپ جہاں رہیں میرٹ پر کام کریں میں نے بھی زندگی میں بہت قیمت ادا کی ہے لیکن ہر مشکل سے آپ نکل ہی آتے ہیں، اگر مشکل آتی ہے تو اس کے بعد آسانی بھی آ جائے گی ریل حادثہ ہمارے کم وسائل کا شاخسانہ ہے، ہم اس کو انویسٹیگیٹ کر رہے ہیں چائنیز کے ساتھ ایم ایل ون کا ہمارا فیصلہ ہو گیا ہے فیصلہ تو ہم 2018 میں کر گئے تھے مگر پھر سب کچھ بی فریزر میں چلا گیا یہ میں نے ڈنکے کی چوٹ میں سب کو بتایا ہے کہ پی آئی اے کو بدلنا پڑے گا اور ویسے ہی بدلنا پڑے گا جیسے دنیا میں باقی ایئر لائن کو بدلا گیا ہے آج پی آئی اے کی حالت بری ہو گئی ہے کیونکہ اس میں سیاسی بھرتیاں کی گئیں اور میرٹ کی بنیاد پر کام نہیں کیا گیا اسلام آباد کا ایئرپورٹ ہم 15 سال کے لیے آؤٹ سورس کریں گے یہ اسلام آباد کا ایئرپورٹ جوخالی ایئرپورٹ نظر آتا ہے یہ بھرا ہوا ایئرپورٹ ہوگا، دنیا بھر کے برانڈز اس کے اند ر ہونگے اور اس کی کپیسٹی 90 لاکھ سے ایک کروڑ 30 لاکھ پہ چلی جائے گی یہ چند چیزیں جو میری ذمہ داری تھی میں نے سمجھا کہ میں آپ کو بتاؤں کہ ایسا نہیں ہے کہ ہر طرف مایوسی کی بات ہے بہت سے کام ہیں جو ہو رہے ہوتے ہیں لیکن لوگوں کو اس کا پتہ نہیں ہوتا

Khawaja Saad Rafique

40,146 Aufrufe • vor 3 Jahren

پاکستان نے اس وقت جو ایران امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور اس کے جو دنیا میں مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں، پاکستان کے اندر ان کو ہمیں سمیٹنا چاہیے، حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اس طرز عمل کو اس کے مفادات کو سمیٹے، لیکن جہاں وہ باہر سے کما رہے ہیں پاکستان کے اندر اس کو گنوا رہے ہیں، یہاں حکومت کی ان کامیابیوں کے عوام پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہو رہے ہیں۔ یہاں امن و امان نہیں ہے اور خیبر پختونخوا، بلوچستان میں تو پہلے ہی امن و امان نہیں تھا، سندھ کے لوگ ڈاکوں کے ہاتھوں محکوم نظر آ رہے ہیں، لیکن اگر کشمیر کی بھی ایسی صورت حال بنتی ہے تو جہاں فوج کو یا بارڈرز پہ ہونا چاہیے یا بیرکوں پہ ہونا چاہیے آج وہ پاکستان کے صحراؤں میں پھیلے ہوئے ہیں، پاکستان کے پہاڑوں میں پھیلے ہوئے ہیں، ان کے فوجی شہید ہو رہے ہیں، اور اس مشکل میں ریاست پھنسی ہوئی ہے کہ اس مشکل وقت میں انہیں قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ اگر ان حالات میں بھی حکومت کی طرف سے ایسے بیانات آئے کہ جس سے قوم تقسیم ہو، جس سے اپوزیشن کو سخت سے ردعمل دینا پڑے تو پھر میں نہیں سمجھتا کہ یہ ملک کی یکجہتی کے لیے کوئی کردار ہوگا، بلکہ ملک کو تقسیم کرنے کا سبب بنے گا۔ بہت زیادہ اشتعال ہے ملک کے اندر، ہم نے پرسوں چارسدہ میں جلسہ کیا، ہم نے اس سے پہلے پشین میں جلسہ کیا، لاکھوں لوگ وہاں اکٹھے ہوئے، بہت ہی کامیاب اجتماعات، پبلک نے اتفاق کیا اور یہ وہ میدان ہے کہ اگر ایک سیاسی جماعت پبلک میں اترتی ہے اور تاحد نظر انسانوں کا سمندر اکٹھا کرتی ہے یہ ایک وہ سیاسی جنگ ہے کہ جہاں قوم کا مورال بلند ہوتا ہے اور آپ کے کارکنوں کا مورال بلند ہوتا ہے، امن پسندوں کا مورال بلند ہوتا ہے، اور مسلح قوتوں کا مورال گر جاتا ہے، تو میرے خیال میں ہم جس محاذ پر کام کر رہے ہیں، میں تو سمجھتا ہوں کہ ہمیں پبلک کی طرف سے زبردست قسم کا ایک مثبت ردعمل ملا ہے، کیا وہ ردعمل حکومتی پارٹی کو بھی مل سکتا ہے؟ میرے خیال میں اس وقت ان کے لئے وہ حالات نہیں ہیں۔ آپ کو وہ حالات بنانے ہوں گے، کہ ہم یکجہتی کا اظہار کریں۔ قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن کا پارلیمنٹ ہاوس میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,165 Aufrufe • vor 2 Monaten

جو کچھ اسلام آباد میں ہوا گزشتہ روز مجھے کسی پارٹی کے فیصلے سے کوئی غرض نہیں ہے وہ اپنے فیصلے کے خود ذمہ دار ہیں صحیح فیصلہ کرتے ہیں غلط فیصلہ کرتے ہیں ہاں اگر ہم سے مشورہ لیں گے تو دیانت کے ساتھ مشورہ دیں گے، المُستَشارُ مؤتَمَن، لیکن جب پورے ایک صوبے سے قافلے آرہے ہیں اس وقت تو آپ ان کے لیے راستے چھوڑ رہے ہیں پیچھے ہٹ رہے ہیں پھر احسان جتلاتے ہیں کہ ہم گولی نہیں چلانا چاہتے تھے پھر جب وہ ڈی چوک پہنچ گئے پھر گولی کیوں چلائی؟ سیاسی کارکن تھے دو چار روز بیٹھے رہتے تو بیٹھے رہتے، ہم اس حوالے سے بھی حکمرانوں کے اس پر تشدد رویے کی مذمت کرتے ہیں ہر پارٹی کو جلسہ کرنے مظاہرہ کرنے کا حق حاصل ہے، مجھے بھی حاصل ہے میرے مخالف کو بھی حاصل ہے لیکن جس صوبے سے آپ کو شکایت ہے کہ وہاں سے یلغار ہوتی ہے کوئی کہے نہ کہے میں بڑے واضح الفاظ میں کہتا ہوں کہ اس صوبے کی حکومت بھی تو تم نے بنوائی تھی وہ دھاندلی بھی تو آپ نے کرائی تھی جب نا اہلوں کو آپ حکمرانی دیں گے تو پھر یہی نتائج اس کے سامنے آئیں گے، تم نے جمعیۃ علماء اسلام کے ساتھ زیادتی کی تم نے جمیعۃ علماء کا مینڈیٹ چرایا اور اب حالات بھی قابو نہیں کر سکتے، کوئی حکومتی رٹ نہیں ہے، مسلح گروہ علاقوں پہ قابض ہوتے جا رہے ہیں حکومت کی کوئی رٹ موجود نہیں، بلوچستان کی یہی صورتحال ہے کہ وہاں پر امن و امان کی صورتحال وہ وہاں کے حکمرانوں کے بس کی بات نہیں رہی، ہمارے امن قائم کرنے والے ادارے وہ کس چیز کی تنخواہیں لے رہے ہیں؟ سیاسی لوگوں کے کارکن شہید ہوتے ہیں وہ بھی جنازے اٹھاتے ہیں وہ بھی کہتے ہیں ہمارے کارکن شہید ہو گئے اصول کے لیے شہید ہو گئے نظریے کے لیے شہید ہو گئے، آپ کی بھی دو چار شہداء آجاتے ہیں آپ بھی کندھوں پر اپنے شہداء اٹھائے پھرتے ہیں آپ بھی کہتے ہیں ہمارے جوان شہید ہو گئے بتاؤ عام لوگوں میں اور آپ کے فرائض میں کوئی فرق بھی ہے یا نہیں ہے! ملک کو سنبھالنا ہے یہ ملک ہمارا ملک ہے یہ ہم سب کا ملک ہے ہم اس ملک کے اندر رہتے ہوئے اور اس ملک کو مستحکم کرنے کی جدوجہد کرتے ہوئے اس کے اندر اپنے حقوق کی جنگ لڑیں گے، تو پاکستان زندہ باد پاکستان رہے گا ان شاءاللہ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان کا سکھر میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

18,240 Aufrufe • vor 1 Jahr