Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

منڈی کہا تھا گاڑی والا یہاں لے آیا مویشی منڈی یا فروٹ منڈی پورا بولا کریں ، ینگو والے بھائی نے سمجھایا پھر ہم نے بھی کرایہ پورا کرنا تھا

24,889 просмотров • 2 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

دو بھائیوں پہ بہیمانہ تشدّد- ایک جان کی بازی ہار گیا اور دوسرا ہسپتال میں کومے کی حالت میں ہے- تفصیلات کے مطابق یہ دونوں بھائی گاؤں رتی پنڈی (ضلع قصور) کے ہیں- دونوں لاہور سے اپنے گھر آ رہے تھے- مبیّنہ طور پر انہوں نے راستے میں رائیونڈ کے ساتھ ایک گاؤں بھمبھ (جائے وقوعہ) سے ایک درجن کیلے خریدے جو 130 روپے کے تھے- ان کے پاس ایک نوٹ سو والا تھا اور باقی 5 5 ہزار والے تھے- فروٹ والے کے پاس پانچ ہزار کا کھلّا نہیں تھا- انہوں فروٹ والے سے کہا کہ ہمارے پاس سو روپے ہیں- یہ لے لو یا اپنے باقی 30 روپے کے کیلے واپس نکال لو- اس بات پر تکرار ہوئی اور فروٹ والا گالیاں دینے لگا- یوں جھگڑا بڑھ گیا اور فروٹ والے نے اپنے دوست کو فون کر دیا کہ یہاں لڑائی ہو گئی ہے- فروٹ والے کے دوست نزدیک ہی کرکٹ کھیل رہے تھے جو سب کے سب اکٹھے ہو کر آ گئے اور بنا تحقیق ان دونوں بھائیوں کو ملکر مارنے لگے- دونوں بھائی شدید زخمی ہوۓ جس پر انہیں قریبی ہسپتال لیجایا گیا- دونوں میں سے چھوٹا بھائی زخموں کی تاب نا لا سکا- اسنے ہسپتال پہنچتے ہی دم توڑ دیا جبکہ بڑا بھائی (جسے آخر میں بیٹ لگا) ابھی تک کومے کی حالت میں ہے- Lahore Police Official Punjab Police (Updates)

Jasim Chatha

37,551 просмотров • 11 месяцев назад

طوائف کے بلتکار کی کہانی !! ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہیرا منڈی کے ایک کوٹھے پر چند ڈاکو تشریف لائے، اتفاق سے 78 سالہ بوڑھی نائیکہ اکیلی تھی، نقدی بھی کچھ زیادہ پاس نہ تھی، زیورات سارے بینک میں پڑے تھے، قصہ مختصر، کوٹھے پر اس 78 سالہ نائیکہ کے سوا کچھ نہ تھا۔ تو جناب من، ڈاکوؤں نے اس بڈھی طوائف کو کچھ ایسے دیکھا جیسے کوئی پھوجی افسر پلاٹ کو دیکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ نہیں تو یہی سہی۔ ڈاکوؤں نے باری باری بڑھیا کی ڈھولکی بجائی اور نکل لیے۔ ڈاکوؤں کے جانے کے بعد، بڑھیا کوٹھے سے نیچے آئی، اور گلی میں لڈیاں ڈالنے لگی، جشن منانے لگی۔ پوچھنے والوں نے پوچھا، کہ اری بڑھیا، اتنی خوشیاں کس لیے ؟ بوڑھی نائیکہ نے کہا، آج چار گاہکوں نے میرا حسن لوٹا۔ میرا حسن آج بھی قیامت ہے۔ بڑھیا پھر بھارتی گانے پر ناچنے گانے لگی، قیامت قیامت ہیرا منڈی کے سارے دلال اور طوائفیں بھی اس بار جشن میں برابر کی شریک تھیں، سبھی ٹھمکے لگا رہے تھے 😊 نوٹ : یہ پوسٹ غیر سیاسی ہے 😂
0:16

Sensitive content

طوائف کے بلتکار کی کہانی !! ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہیرا منڈی کے ایک کوٹھے پر چند ڈاکو تشریف لائے، اتفاق سے 78 سالہ بوڑھی نائیکہ اکیلی تھی، نقدی بھی کچھ زیادہ پاس نہ تھی، زیورات سارے بینک میں پڑے تھے، قصہ مختصر، کوٹھے پر اس 78 سالہ نائیکہ کے سوا کچھ نہ تھا۔ تو جناب من، ڈاکوؤں نے اس بڈھی طوائف کو کچھ ایسے دیکھا جیسے کوئی پھوجی افسر پلاٹ کو دیکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ نہیں تو یہی سہی۔ ڈاکوؤں نے باری باری بڑھیا کی ڈھولکی بجائی اور نکل لیے۔ ڈاکوؤں کے جانے کے بعد، بڑھیا کوٹھے سے نیچے آئی، اور گلی میں لڈیاں ڈالنے لگی، جشن منانے لگی۔ پوچھنے والوں نے پوچھا، کہ اری بڑھیا، اتنی خوشیاں کس لیے ؟ بوڑھی نائیکہ نے کہا، آج چار گاہکوں نے میرا حسن لوٹا۔ میرا حسن آج بھی قیامت ہے۔ بڑھیا پھر بھارتی گانے پر ناچنے گانے لگی، قیامت قیامت ہیرا منڈی کے سارے دلال اور طوائفیں بھی اس بار جشن میں برابر کی شریک تھیں، سبھی ٹھمکے لگا رہے تھے 😊 نوٹ : یہ پوسٹ غیر سیاسی ہے 😂

Kashif Aslam

61,401 просмотров • 1 год назад

دو بھائیوں پہ بہیمانہ تشدّد- ایک جان کی بازی ہار گیا اور دوسرا ہسپتال میں کومے کی حالت میں ہے- تفصیلات کے مطابق یہ دونوں بھائی گاؤں رتی پنڈی (ضلع قصور) کے ہیں- دونوں لاہور سے اپنے گھر آ رہے تھے- مبیّنہ طور پر انہوں نے راستے میں رائیونڈ کے ساتھ ایک گاؤں بھمبھ (جائے وقوعہ) سے ایک درجن کیلے خریدے جو 130 روپے کے تھے- ان کے پاس ایک نوٹ سو والا تھا اور باقی 5 5 ہزار والے تھے- فروٹ والے کے پاس پانچ ہزار کا کھلّا نہیں تھا- انہوں فروٹ والے سے کہا کہ ہمارے پاس سو روپے ہیں- یہ لے لو یا اپنے باقی 30 روپے کے کیلے واپس نکال لو- اس بات پر تکرار ہوئی اور فروٹ والا گالیاں دینے لگا- یوں جھگڑا بڑھ گیا اور فروٹ والے نے اپنے دوست کو فون کر دیا کہ یہاں لڑائی ہو گئی ہے- فروٹ والے کے دوست نزدیک ہی کرکٹ کھیل رہے تھے جو سب کے سب اکٹھے ہو کر آ گئے اور بنا تحقیق ان دونوں بھائیوں کو ملکر مارنے لگے- دونوں بھائی شدید زخمی ہوۓ جس پر انہیں قریبی ہسپتال لیجایا گیا- دونوں میں سے چھوٹا بھائی زخموں کی تاب نا لا سکا- اسنے ہسپتال پہنچتے ہی دم توڑ دیا جبکہ بڑا بھائی (جسے آخر میں بیٹ لگا) ابھی تک کومے کی حالت میں ہے- میں ارباب اختیار اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے درخواست کرتا ہوں کہ اس واقعے کی مکمّل تحقیقات کروا کر قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں- شکریہ Maryam Nawaz Sharif Punjab Police Official

Amir H. Qureshi

21,124 просмотров • 11 месяцев назад