Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

مہدی حسن کے ساتھ انٹرویو, مہرنگ بلوچ نے پوری دنیا کو بتا دیا تھا, مجھ پر پابندیاں ہے کیوںکہ جرنیلوں کو ڈر ہے میں انٹرنیشنل کمیونٹی میں انکو ایکسپوز کرونگی!! مجھے اور میرے لوگو کی زندگیوں کو خطرہ ہے! یہ صرف بلوچستان میں نہیں بلکہ ہر صوبے میں ظلم...

22,292 просмотров • 2 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 0

Нет доступных комментариев

Здесь появятся комментарии из оригинального поста

Похожие видео

میں یہ سطور ایک بھاری دل کے ساتھ لکھ رہا ہوں۔ خاران کے علاقے کلی بزگ گواش میں جو کچھ ہوا، وہ صرف ایک واقعہ نہیں تھا، اس نے مجھے بطور بلوچ، بطور صحافی اور بطور انسان اندر سے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ رات کے اندھیرے میں بی ایل اے کے مسلح افراد ایک شہری کے گھر میں داخل ہوئے۔ یہ کوئی میدانِ جنگ نہیں تھا، کوئی مورچہ نہیں تھا، بلکہ ایک عام گھر تھا جہاں خواتین اور بچے موجود تھے۔ متاثرہ خاندان نے مجھے بتایا کہ گھر کے تمام افراد کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ دو حملہ آوروں کی شناخت بھی ہو چکی ہے، اور یہ لوگ کوئی اجنبی نہیں، مقامی سطح پر جانے پہچانے جاتے ہیں۔ مجھے سب سے زیادہ تکلیف اس بات نے دی کہ اس حملے میں صرف جسمانی تشدد نہیں ہوا، بلکہ گھریلو تقدس کو پامال کیا گیا۔ بلوچ معاشرے میں گھر اور عورت کو ہمیشہ حرمت دی گئی ہے۔ میں نے اپنے بڑوں سے سنا، اپنی تاریخ میں پڑھا اور اپنی زمین پر دیکھا ہے کہ بلوچ روایت میں عورت پر ہاتھ اٹھانا غیرت کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ مگر اس رات، بندوق کے زور پر اسی روایت کو روند دیا گیا۔ میں صاف کہنا چاہتا ہوں کہ عورت پر تشدد کسی بھی نام پر قابلِ قبول نہیں۔ چاہے کوئی خود کو آزادی کا دعویدار کہے، مزاحمت کے نام پر ہتھیار اٹھائے یا کسی نظریے کا سہارا لے ۔ خواتین پر ہاتھ اٹھانا نہ بلوچ روایت ہے، نہ بلوچ غیرت، اور نہ ہی انسانیت۔ اس واقعے کے بعد میں نے خاران ہی نہیں، پورے بلوچستان میں غم اور غصہ محسوس کیا۔ قبائلی عمائدین، سماجی حلقے اور انسانی حقوق کے کارکن سب ایک آواز میں یہی کہہ رہے ہیں کہ یہ عمل ناقابلِ قبول ہے۔ میں بھی انہی لوگوں میں شامل ہوں جو سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے آج اس پر خاموشی اختیار کی تو کل یہ آگ ہر گھر تک پہنچ سکتی ہے۔

Junaid Baloch

10,971 просмотров • 7 месяцев назад