Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

مہنگائی نے غریب عوام کی کمر توڑ دی ہے،عوام کا مداوا کرنے والا کوئی نہیں ہے اور نہ کوئی حکومت موجود ہے،جو حکمران ہیں انہوں نے کان اور آنکھیں بند کر رکھی ہیں، ان کو نہ کچھ نظر آرہا ہے اور نہ کچھ سننے کو تیار ہیں۔ آج جو...

20,073 Aufrufe • vor 11 Tagen •via X (Twitter)

23 Kommentare

Profilbild von Rabnawazkhan
Rabnawazkhanvor 11 Tagen

ان تمام مسائل کا حل صرف اور صرف جمعیت علمائے اسلام کے پاس ھے آزمائش شرط ہے

Profilbild von Zeeshan Hilali
Zeeshan Hilalivor 11 Tagen

قائڈ

Profilbild von Sulaiman Shah Ajiz
Sulaiman Shah Ajizvor 11 Tagen

Zinda bad Maulana Sab✊🔥💝

Profilbild von Dr -Asim Nadeem
Dr -Asim Nadeemvor 11 Tagen

❤️❤️❤️

Profilbild von محمد انور جمعیتی
محمد انور جمعیتیvor 11 Tagen

♥️♥️♥️

Profilbild von Asad Qazi
Asad Qazivor 11 Tagen

مولانا فضل الرحمٰن کے بیانات پر اب کوئی یقین نہیں کرتا سوائے انکے ورکرز کے

Profilbild von Vixy Chaudhary
Vixy Chaudharyvor 11 Tagen

❤️

Profilbild von Huzaifa Madni
Huzaifa Madnivor 11 Tagen

بہترین

Profilbild von Mohammad Jafar Abbas محمد جعفر عباس
Mohammad Jafar Abbas محمد جعفر عباسvor 11 Tagen

#Saudi has been illegally occupying half of #Yemen for 14 years at the behest of #US #Western countries, including the #Emirates. The areas over which they have illegally occupied are rich in natural oil, gas and other materials. #Yemen is liberating its country's territory.

Profilbild von Abdulrauof
Abdulrauofvor 11 Tagen

مولانا صاحب جتنا مرضی پٹرول مہنگا ہو آپ نے مہنگائی کے خلاف سڑکوں پر نہ خود نکلنا ہے نہ نکلنے والوں کے ساتھ کھڑے ہونا ہے کیا فایدہ نرم کرسی پر بیٹھ کر دو جملے کہنے کا

Profilbild von abdulsami Bhatti
abdulsami Bhattivor 11 Tagen

حکمرانو! عوام کی کمر تو تم نے توڑ دی، اب اللہ عز وجل سے اپنے زوال کی خیر مناؤ۔ کیونکہ جب غریب کا چولہا بجھتا ہے نا، تو ظالم کے اقتدار کا چراغ بھی زیادہ دیر نہیں جلتا۔ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے!

Profilbild von SHOaib
SHOaibvor 11 Tagen

مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کر دی ہے، مگر خاموشی حل نہیں۔ حکمرانوں کو جواب دینا ہوگا: عوامی مسائل کا فوری ازالہ کریں، معاشی فیصلوں میں شفافیت لائیں اور اختلافِ رائے کو دبانے کے بجائے سنیں۔ عوام بھی اپنے آئینی اور پُرامن حقِ آواز کو استعمال کریں—اپنے سوالات اٹھائیں، جواب مانگیں اور اپنے نمائندوں سے جواب دہی کا مطالبہ کریں۔

Profilbild von Zeeshan Hilali
Zeeshan Hilalivor 11 Tagen

قائد

Profilbild von Muhammad Sajid
Muhammad Sajidvor 11 Tagen

مولانا

Profilbild von Muhammad Imran Ahmed
Muhammad Imran Ahmedvor 11 Tagen

اور اُسکے لئیے ھم کٹ پُتلیوں کیطرح مارچ لیکر اسلام اباد آجاتے تھے اب ھم وہی بیغیرت ھیں بے شرموں کی طرح مراعات و وظایف پر لگے اور دایمی آقاؤں کے کہنے پر بس پریس کانفرنسین کررھے 🤓😜😎 جیسے ہی اشارہ آئے گا پٹے کھولے جایئں گے اور پھر لتاں نوں پے جاواں گے کیونکہ زمین گرم ھے ابھی🤪😡

Profilbild von زین اللّہ
زین اللّہvor 11 Tagen

❤️❤️❤️

Profilbild von Mustafa khan Wazir 💫
Mustafa khan Wazir 💫vor 11 Tagen

پی ٹی ائ کے دور میں جس طرح نکلے تھے اب بھی نکلو اب کیا ہوا ھے کہ نہیں نکلتے ؟؟؟

Profilbild von Qutbuddin Abid
Qutbuddin Abidvor 11 Tagen

زبردست

Profilbild von Fitriosori Candra
Fitriosori Candravor 11 Tagen

The government is the hope of the people. The rioters came in groups from outside just to expect technology transfer from Siska. 😅

Profilbild von Amjad Hussain Qasimi
Amjad Hussain Qasimivor 11 Tagen

قائد تیری بصیرت کو سلام ہے سلام

Profilbild von Aamir Shehzad
Aamir Shehzadvor 11 Tagen

اب متبادل صرف مولانا

Profilbild von Hafeez Khan (JUI)
Hafeez Khan (JUI)vor 11 Tagen

👍❤️

Profilbild von wania Ali
wania Alivor 11 Tagen

خالی باتوں سے کچھ نہیں ہوتا

Ähnliche Videos

اکثر حکمرانوں کو لگتا ہے کہ وہ اتنے مضبوط ہو گئے ہیں کہ کوئی انکا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ وہ کسی احتجاج کو خاطر میں نہیں لاتے کوئی مطالبہ ماننے کو تیار نہیں ہوتے، طاقت کا نشہ اس طرح سر چڑھ کر بولتا ہے کہ حکمران کو دیوار پر لکھا نظر نہیں آتا ، ملک کا فائدہ اور نقصان نظر نہیں آتا، حکمران ہر مسلئے کا حل طاقت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور ایک کے بعد ایک غلطی کرتا ہے۔ تنقید پر زباں بندی اور احتجاج کو کچلنے کی کوشش کرتا ہے۔ کبھی مذہب اور اور کبھی وطن کا استعمال کرتا ہے، مخالفوں پر وطن فروشی اور غداری کے فتوے لگاتا ہے مگر تاریخ گواہ ہے کہ طاقتور حکمرانوں کے یہ حربے عارضی طور پر تو کامیاب ہو جاتے ہیں مگر پھر اس حکمران کو عوام کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑ جاتے ہیں۔ کیونکہ طاقت کا بے دریغ استعمال ہی حکمرانوں کی کمزوری کا باعث بن جاتا ہے، ریاست کی کمزوری کا باعث بن جاتا ہے اور پھر ایسی پالیسیوں کی قیمت دہائیوں تک ریاست کو عوام کو ادا کرنا پڑتی ہے۔ جب حکمرانوں کو لگتا ہے سب کچھ کنٹرول میں ہے، پارلیمنٹ، اپوزیشن، عدلیہ، میڈیا سب پر قابو پا لیا ہے اور کوئی نہیں ہے جو آواز اٹھائے یا خطرہ بن جائے تو اکثر ایک چنگاری آگ بن جاتی ہے اور طاقت کے محل کو جلا کر رکھ دیتی ہے۔ یہ تاریخ میں دیکھا گیا ہے اور بار بار دیکھا گیا ہے لیکن پھر بھی طاقتور حکمران سبق نہیں سیکھتے اور طاقت کے نشے میں ماضی کی غلطیاں دہراتے رہتے ہیں اور پھر تاریخ بھی بار بار اور ہر بار خود کو دہراتی نظر آتی ہے۔ شاہزیب خانزادہ کا تجزیہ

Rizwan Ghilzai (Remembering Arshad Sharif)

18,985 Aufrufe • vor 4 Tagen

ابھی اسلام آباد میں چند روز بعد کچھ جماعتوں نے مظاہروں کا اعلان کیا ہے؟پورے اسلام آباد کو کنٹینروں سے بھر دیا گیا ہے،پاکستان کے دارالخلافہ کا تصور دنیا بھر میں کیا جا رہا ہے؟ اور ہم ہیں کہ کسی کو بھی احتجاج کرنے کا حق نہیں دینا، اظہارِ رائے کا حق نہیں دینا۔ اور پھر جب لوگوں کی آواز بند کر دیتے ہیں اور وہ دیوار سے جا کر لگ جاتے ہیں تو پھر زبان کے بجائے ہاتھ استعمال کرتے ہیں، تو پھر ان کو باغی کہا جاتا ہے،ملک کے لیے باغی تو آپ خود بنا رہے ہیں۔ کشمیر کے اندر تو کسی کے پاس بندوق نہیں ہے، ان کو بھی لاشیں دی جا رہی ہیں،تین مہینے سے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں، اور ان کے ساتھ کیے گئے وعدے اور وہ مطالبات جو تسلیم کیے جا چکے ہیں، حکومت وہ واپس لے چکی ہے۔اور ہر ایک پر الزام ہے، کوئی را کا ایجنٹ بن جاتا ہے، تو کوئی افغانستان کا ایجنٹ بن جاتا ہے، تو کوئی ایران کا ایجنٹ بن جاتا ہے۔ کیا صرف یہی پاکستانی رہ گئے ہیں؟ جس طرح خوارج صرف اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں،اسی طریقے سے ہمارے طاقتور لوگ بھی اپنے آپ کو پاکستانی کہتے ہیں اور اپنے علاوہ کسی کو پاکستانی نہیں سمجھتے ہیں۔ یہ رویے ناقابلِ برداشت ہوتے جا رہے ہیں، اور اس پر حکومت کو غور کرنا چاہیے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

30,748 Aufrufe • vor 11 Tagen

کیا دہشتگردی ختم ہوگئی؟آپ اور ہم جس صوبے سے تعلق رکھتے ہیں، پورے طول و عرض پر آپ نظر ڈال لیں، کہیں پر امن ہے؟ اور صرف بدامنی کی بات نہیں کر رہا، بدامنی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ حکومتی رِٹ ختم ہو رہی ہے، پولیس کا چین آف کمانڈ ٹوٹ گیا ہے۔ لکی مروت میں، بنوں میں، ٹانک میں پولیس جو ہے، وہ آزاد ہو گئی ہے اور اس نے اپنی امن کمیٹیاں بنا لی ہیں، اور وہ وردی بھی نہیں پہن رہے، اور کانسٹیبل جو ہے، وہ خود اپنا نظام اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہیں۔ نہ کوئی ڈی پی او کا آرڈر چلتا ہے، نہ کوئی ڈی آئی جی کا آرڈر چلتا ہے، نہ کوئی آئی جی کا آرڈر چلتا ہے۔ پرسوں ترسوں ہمارے بنوں کے ڈی آئی جی کی جو سیکیورٹی ہے، وہ ایک کانسٹیبل نے کِلوز کی ہے۔ ایک کانسٹیبل نے آرڈر دیا کہ سب یہ ڈیوٹی چھوڑ دو، آ جاؤ واپس۔ یہ حالت ہے! اب اس حالت میں ہم زندگی گزار رہے ہیں۔ کب تک ہم یہ زندگی اس طرح گزارتے رہیں گے؟ اور کہہ رہے ہیں کہ ہم ٹھیک کریں گے، ہم لڑیں گے۔ وہ ایک چڑیا ہے، وہ کہتا ہے: بلوچستان کےلئے تو ایک تھانیدار کی مار ہے۔ بس ،، تمہارے تھانیداروں کا کیا حشر کر دیا۔ تمہارے تھانوں کا کیا حشر کر دیا؟ کچھ تو حقائق کی طرف جاؤ۔ تو جب ہم حقائق کی طرف جائیں گے تو پھر ہم اس کے بعد مشاورت تو ہونا ہے۔ اب شہباز شریف بیچارہ وزیر اعظم ہے، پوری دنیا میں جاتا ہے، اور اگر وہ قابلِ قبول ہوگا تو آرمی چیف کو ساتھ لے کر جائے گا، ورنہ پھر اس کو کوئی ہاتھ بھی نہیں ملائے گا۔ بھئی، تم باہر جاؤ، تمہیں کوئی عزت دے، ہم اس کو پاکستان کی عزت کہیں گے، لیکن آپ کے ملک کے اندر کی سرزمین خون سے سرخ ہے اور تم باہر دنیا میں ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہو، کوئی احساس نہیں آپ کو؟ اسی سے گزارہ کر رہے ہو، کہ فلاں ملک پر آپ اتر رہے ہیں، ریڈ کارپٹس پر جا رہے ہیں، آپ کا استقبال ہو رہا ہے، بادشاہ آپ کا استقبال کر رہے ہیں۔ یہ ساری چیزیں ہیں۔ ہاں، کوئی جائز کام ہے، اگر آپ نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا، جمعیت اس کو سپورٹ کرتی ہے۔ اگر اس پر ترکی شامل ہو گیا، ہم سپورٹ کرتے ہیں۔ جمعیت علماء اسلام کا منشور ہے: ایک اسلامی بلاک کا قیام۔ اگر اور اسلامی ممالک اس میں شامل ہوتے ہیں، اور یہ درحقیقت اس طرف ایک قدم ہے کہ اسلامی دنیا امریکہ پر اپنا انحصار ختم کرے، اور باہم یہ اپنی قوت کو مجتمع کرے، تو اگر کوئی ایسی بات ہوتی ہے تو ہم نے تو اختلاف نہیں کیا۔ اختلاف برائے اختلاف نہیں ہو رہا، ورنہ ہم یہاں بھی اختلاف کرتے ہیں۔ تو آپ کیوں جا رہے ہیں؟ آپ تو نمائندے نہیں ہیں پاکستان کے، آپ کی حکومت تو جعلی ہے اور واقعی جعلی ہے، اس میں بھی کوئی شک نہیں۔ اور پھر اقلیت حکومت کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ نہیں ہے، صرف آئینی عہدے لئے ہوئے ہیں ۔ گلگت میں الیکشن ہے، ایک دوسرے کے خلاف بول رہے ہیں، مقابلہ ہے ان کا۔ کشمیر میں الیکشن ہے، ایک دوسرے کے خلاف بول رہے ہیں، بھرپور بول رہے ہیں۔ اور اسمبلی میں آ کر بیٹھتے ہیں تو پہلے اختلاف کرتے ہیں، پھر جب ووٹ کا وقت آتا ہے،،،،،،،،،،،،،،، اس قسم کی ایک سیاست ہے جو ملک کے اندر چل رہی ہے۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا پشاور میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

14,573 Aufrufe • vor 1 Monat

کہاں ہیں وہ لوگ جو دعویٰ کرتے تھے کہ گوادر ایئرپورٹ بلوچ قوم کے لیے نقصان دہ ہوگا؟ کہاں ہیں وہ لوگ جو وسائل پر قبضے اور استحصال کے نام پر اس ایئرپورٹ کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے تھے؟ اس وقت گوادر ایئرپورٹ پر سب سے زیادہ بلوچ ہی موجود ہیں، اور اس کا سب سے زیادہ فائدہ بھی بلوچستان، خاص طور پر مکران ڈویژن کے عوام کو ہو رہا ہے۔ وہ سفر، جو پہلے کئی دنوں میں طے ہوتا تھا، آج چند گھنٹوں میں ممکن ہو گیا ہے۔ یہ ایئرپورٹ ترقی کا وہ دروازہ ہے جس نے علاقے کے لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کر دی ہیں۔ آج وہی لوگ، جو اس ایئرپورٹ کی مخالفت میں پیش پیش تھے، نہ صرف یہاں موجود ہیں بلکہ جب عمان اور کراچی کے لیے پروازیں روانہ ہو رہی تھیں، تو یہی لوگ سب سے پہلے ایئرپورٹ پر پہنچے تھے۔ گوادر ائیرپورٹ کی کامیابی ان تمام جھوٹے دعووں اور الزامات کا جواب ہے جو گوادر ایئرپورٹ کے خلاف کیے گئے تھے۔ گوادر ایئرپورٹ آج نہ صرف ترقی کی علامت بن چکا ہے بلکہ اس نے واضح کر دیا ہے کہ اس سے سب سے زیادہ فائدہ خود بلوچ عوام کو ہو رہا ہے۔ #Balochistan #Gwadar #GwadarAirport

Dukhtar-E-Balochistan🇵🇰

33,701 Aufrufe • vor 1 Jahr

امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کی اسلام آباد میں پریس کانفرنس حکومت اور حکومت میں شامل جماعتیں خاموش ہیں، اس کا ایک فرد بول رہا ہے، وہ ہوتا کون ہے؟ ملک کے اندر اس کی حیثیت کیا ہے، اس کی پہچان کیا ہے؟ وہ جس کے گھر کا نوکر ہے، اس کی نوکری کرے، ان کے برتن دھوئے، کپڑے دھوئے، ان کی یہی ڈیوٹی ہے۔ ملک کے مسائل سے اس کا کوئی سروکار نہیں۔ اتنے بے بس ہم بھی نہیں ہیں کہ آپ ملک کے ساتھ کھیلتے رہیں اور ہم تماشا دیکھتے رہیں۔ اگر حالات نہیں ہیں، نئے مسائل اور ایشوز کا پاکستان متحمل نہیں ہے، تو پھر ہم بھی پاکستانی ہیں۔ ہم آپ کو پاکستان کا مالک تصور نہیں کرتے۔ حد سے آگے بڑھیں گے تو پھر اور لوگ بھی حد سے آگے بڑھیں گے۔ شکر کرو کہ ابھی ملک آپ کے ساتھ ہے، عوام پاکستان کے ساتھ ہیں، مذہبی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں، سیاسی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں۔ ہم نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا، ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا، لیکن قوم کو نتائج تو بتائے جائیں ناں کہ اس کردار کا کیا نتیجہ نکلا؟ آج سعودی عرب پر گولے برسائے جا رہے ہیں، حرمین شریفین کی طرف راکٹوں کے رخ کر دیئے گئے ہیں، اور کچھ پتہ نہیں کہ یہ جو ثالثی کا کردار تھا، خطے میں قیامِ امن کے لیے ایک کوشش تھی، اصولی طور پر ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا۔ لیکن قوم کو بتایا تو جائے، اور میں نے کئی بار اس بات کا ذکر کیا ہے کہ پارلیمنٹ کا اِن کیمرہ اجلاس بلا کر قوم کے نمائندوں کو بتایا جائے کہ ملک کہاں کھڑا ہے۔ کوئی جواب نہیں دیا جا رہا۔مولانا فضل الرحمن

Fahim Akhtar Malik

11,304 Aufrufe • vor 11 Tagen

"ہمارے پاس وقت بہت کم ہے۔ بہت کم ہے۔" ​"افغانستان کی مثال ہمارے سامنے ہے، وہاں لوگ جو کچھ کہہ رہے ہیں (وہ سب جانتے ہیں)۔ پشتون وطن میں تو ہر جگہ بارود (جنگ و جدل) کا کھیل شروع ہو چکا ہے۔" ​"یہ تو پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ اب تک لوگوں نے یہ فیصلہ نہیں کیا کہ خدانخواستہ کوئی دوسرا راستہ اختیار کریں۔ اگر ایسا ہوا، تو پھر کیا ہوگا؟" ​"دریائے سندھ کا بالائی علاقہ، جہاں پشتون اور بلوچ دونوں آباد ہیں، تاریخی طور پر یہ وسطی ایشیا (Central Asia) کے لوگ ہیں۔" ​"یہ دونوں وسطی ایشیا کے لوگ ہیں— پشتون اور بلوچ دونوں۔" ​"دریائے سندھ کی اس طرف پنجاب اور سندھ ہیں، اور یہ برصغیر کے لوگ ہیں۔" ​"دریائے سندھ کے اس پار، اوپر سے نیچے تک بارود کا ڈھیر ہے۔ کوئی بھی طاقت اس صورتحال کو کسی بھی وقت اپنے فائدے کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔" ​"اور وہ کیوں نہ کریں؟ اگر ہندوستان یا کوئی اور ایسا کر رہا ہے، تو کیوں نہ کرے؟ آپ کیوں اپنے بچوں کو اتنا مجبور کرتے ہیں کہ وہ جا کر دوسروں سے امداد مانگیں؟" ​"اور اگر خدانخواستہ وہ وقت آ گیا، تو 'نہ رہے گا بانس، نہ بجے گی بانسری'۔" قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

14,201 Aufrufe • vor 3 Monaten

آج جو شریکِ جرم ہیں، کل کو وہی فریادی ہوئے تو ؟ ایک صوبے کا منتخب وزیراعلیٰ، اپنی پوری کابینہ اور ارکانِ پارلیمنٹ کے ساتھ، گزشتہ رات اڈیالہ جیل کے باہر سڑک پر کھڑا رہا، اور آج صبح سویرے سے سپریم کورٹ کے دروازے پر دھرنا دے کر بیٹھ گیا ہے، نہ اقتدار کی شان، نہ پروٹوکول کا غرور۔ اور اس لیے نہیں کہ اسے اقتدار چاہیے، اس لیے بھی نہیں کہ کوئی این آر او مانگ رہا ہے، بلکہ صرف ایک مطالبہ کہ جس شخص کے نام پر عوام نے ووٹ دیا، وہ اڈیالہ جیل میں قید ہے، 2 دسمبر کے بعد نہ اس سے ملاقات کرائی گئی، نہ اس کی خیریت کی خبر دی گئی۔ وہ ملاقات، جس کی اجازت آئین دیتا ہے، قانون دیتا ہے، جیل مینوئل دیتا ہے اور عدالتی فیصلے دیتے ہیں، وہ ملاقات چھین لی گئی، اور پھر ایک رات، خاموشی سے، اندھیرے میں، اسی قیدی کو پمز اسپتال منتقل کیا جاتا ہے، جزوی اینستھیزیا دیا جاتا ہے، سرجری ہوتی ہے اور پھر اسی خاموشی سے واپس جیل پہنچا دیا جاتا ہے، نہ خاندان کو بتایا جاتا ہے، نہ پارٹی کو، نہ قوم کو۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ غیر آئینی ہے کہ ایک منتخب وزیراعلیٰ اپنے لیڈر کی صحت پر سوال اٹھائے؟ کیا یہ غیر قانونی ہے کہ اس کے ذاتی معالجین کو مریض سے ملنے دیا جائے؟ کیا یہ جرم ہے کہ قوم کو بتایا جائے کہ جسے انہوں نے مینڈیٹ دیا، اس کی صحت کس حال میں ہے؟ جمہوریت، نیم جمہوریت یا ہائبرڈ نظام، دنیا کے کسی نظام میں ایسا نہیں ہوتا، ہاں بندوبستی نظام میں ایسا ضرور ہوتا ہے، جہاں آمریت نافذ ہوتی ہے، جہاں فیصلے آئین سے نہیں، طاقت سے ہوتے ہیں، جہاں عدالتیں، حکومتیں اور ادارے سب ایک ہی جگہ سجدہ ریز ہوتے ہیں، لہٰذا ایسے بندوبستی نظام سے کیا شکوہ، وہ قائم ہی اسی مقصد کے لیے کیا گیا ہے۔ لیکن سوال ان سیاسی جماعتوں، ان کے رہنماؤں اور کارکنوں سے ہے جن کی شراکت داری سے یہ بندوبستی نظام قائم ہے، انہیں سوچنا چاہیے کہ وقت کا پہیہ رکنے کا نام نہیں لیتا، آج آپ شریکِ جرم ہیں، کل اس کا شکار بھی ہو سکتے ہیں، پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان مار کھا کر بھی کھڑے ہیں، کیونکہ ان کے ساتھ عوام ہے، جو ٹوٹے نہیں، بکھرے نہیں۔ اگر خدا نہ کرے کہ کل یہی ظلم کسی اور جماعت، کسی اور لیڈر کے حصے میں آئے، تب نہ کندھا ملے گا، نہ ہمدردی، نہ آواز، کسی بھی معاشرے کے لیے اس سے زیادہ شرمناک لمحہ اور کوئی نہیں ہوتا کہ وہ ظلم کو دیکھے، سمجھے اور پھر بھی خاموش رہے۔

Waseem Malik

38,228 Aufrufe • vor 8 Monaten