Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

میر رضا کو تیزاب میں نہلایا گیا، خدشہ ہے کہ میر رضا کو تیزب بھی پلایا گیا، قتل سے 12 گھنٹے پہلے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، میر رضا کے سوئم کے دن اس کی سمارٹ واچ مانگی گئی، تحقیقاتی ٹیم کا ایک افسر کشمیر گیا ہوا ہے جب...

66,917 Aufrufe • vor 14 Tagen •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

کراچی نوجوان تاجر میر رضا کا قتل، پولیس کو ایک اور سی سی ٹی وی مل گئی، فوٹیج میں میر رضا کو دراز سے اسلحہ نکال کر گاڑی میں رکھتے دیکھا جا سکتا ہے جسکے بعد میر رضا دوبارہ کچن میں چلا گیا مقامی رپورٹر کی مطابق اس رات کے آخری پہر جب میر رضا لگ بھگ چار بجے آن لائن ٹیکسی کرکے نکلا تو والد کے اکاونٹ میں رقم منتقل اور اپنے سوشل میڈیا اکاونٹس ڈیلیٹ کرچکا تھا میر رضا کی سی سی ٹی وی پولیس کو مل چکی ہے جسمیں وہ اپنی دوکان سے گارڈ کا رکھا گیا پستول لیکر نکل رہا تھا دوکان بند ہوتے وقت گارڈ پستول وہیں رکھ کر جاتا اور پستول اسی گارڈ کے نام پہ ہے ٹیکسی میں سفر کے دوران میر رضا بلند آواز میں گانے سن رہا تھا اسوقت فجر کی اذانیں ہورہی تھیں ڈرائیور نے پولیس کو بتایا کہ میں نے نوجوان سے کہا کہ گانے بند کردے کیونکہ اذانیں ہورہی ہیں تو میر رضا نے کہا خیر ہے جس پہ ڈرائیور خاموش ہوگیا اگلی ویڈو میں شارٹس پہنے نوجوان گلستان بلاک ون یونیورسٹی روڈ کے قریب نرسری جھاڑیوں اور قدرے بلندی کیطرف جاتا دکھائی دیتا ہے اور یہ تنہا ہوتا ہے ، میر رضا کو لگنے والی گولی سینے پہ رکھ کر ماری گئی اسکا پاوڈر بھی سینے پہ پھیلا ہوا ہےمگر ابھی تک پولیس کو پستول ملا نہ ہی خول البتہ پستول ہولسٹر مل گیا تھا مگر جس آلے سے موت ہوئی وہ غائب ہے اور خود کشی ثابت کرنے کے لئیے ان شواہد کی موجودگی لازم ہے

Shahid Hussain

51,191 Aufrufe • vor 23 Tagen

میر رضا علی کو 12 گھنٹے سے زائد مغوی بنا کر جو سفاکانہ تشدد کیا گیا، اس کا تصور ہی روح کے کانپنے کے لیے کافی ہے۔ مقتول کو بے حس اور ساکت کرنے کے لیے اس کی نس کے زریعے خون میں محلول اتارا گیا، تاکہ وہ پور ے ہوش و حواس میں رہتے ہوئے ہر زخم اور درد کو محسوس تو کر سکے، لیکن نہ ہل سکے اور نہ ہی کسی قسم کی مزاحمت کر سکے۔ اس بے بس نوجوان کو تیزاب سے نہلایا گیا، اس کا چہرہ اور فنگر پرنٹس جلائے گئے، اور منہ میں زبردستی تیزاب انڈیلا گیا۔ حقائق نے ثابت کر دیا ہے کہ کراچی میں قانون نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ 25 سالہ جوان کو سفاکانہ طریقے سے اغوا کیا گیا، 12 گھنٹے سے زائد محبوس رکھ کر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا، ہڈیاں توڑی گئیں اور تیزاب پلایا گیا تیزاب میں نہلایا گیا اور اس سفاکانہ قتل کو "خودکشی" ثابت کرنے کے لیے یہ پیپلزپارٹی کے سیاسی بھرتی شدہ حرام خور راشی افسران ایڑی چوٹی کا زور لگارہے تھے ۔ ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو، ایس ایس پی زبیر نذیر احمد شیخ ، ایس ایچ او کامران قریشی ، ایس ڈی پی او / ڈی ایس پی محمد ارشد آفریدی یہ تمام حرام خور راشی افسران مل کر اس کیس کو پہلے دن سے خودکشی کا رخ دینے، سمارٹ واچ جیسا اہم فرانزک ثبوت دبانے اور میڈیا پر مقتول کی کردار کشی، تفتیش کو گمراہ کن سمت میں موڑنے، واقعے کی درست ٹائم لائن چھپانے اور لواحقین کی جانب سے اغوا و تشدد کی نشاندہی کو مکمل نظر انداز کرنے لاش پر تشدد، ٹوٹی ہڈیوں اور تیزاب کے نشانات کو نظر انداز کر کے من گھڑت کہانیاں بنائیں اور پرانی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے ذریعے قاتلوں کو بچانے کی راہ ہموار کرنے میں ملوث ہیں ۔ یہ ان اہلکاروں کی نااہلی نہیں، بلکہ ایک سنگین جرم اور قاتلوں کی سیدھی سیدھی دلالی ہے!

Sყҽԃ Mσɳιʂ Jαʋҽԃ

21,864 Aufrufe • vor 14 Tagen

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان کا سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کے اجلاس میں ایف آئی اے کی جانب سے بے بنیاد الزامات میں گرفتار کسٹم کلکٹر ڈاکٹر کرم الہی بارے اظہار خیال 🟥ڈاکٹر کرم الہی جس کا تعلق پختونخوا کے ضلع دیر سے ہے، ایک نہایت ایماندار کسٹم کلکٹر ہے 🟥عوامی نیشنل پارٹی سے ان کا کوئی تعلق نہیں، نظریاتی طور پر ان کا گھرانہ جماعت اسلامی سے وابستہ ہے 🟥اس کو بلوچستان ٹرانسفر کیا گیا، وہ ایک دیانتدار آفیسر تھا اور کسی دباؤ میں نہیں آرہا تھا 🟥اس سے روابط ہوئے مگر اس نےکوئی بھی غیر قانونی کام سے انکارکیا 🟥دباؤ نہ ماننے کی پاداش میں آج اس کو نشان عبرت بنانے کی کوشش ہورہی ہے 🟥پہلے تو وہ غائب کردیا گیا، کسی کو معلوم نہیں تھا کہ وہ کہاں پر ہے 🟥اس کی فیملی کو ہراساں کیا گیا، اس کا ایک بھائی یونیورسٹی لیکچرر ہے، اس کو بھی اذیت دی گئی 🟥اس کا قصور یہ تھا کہ اس نے 600 کلو غیر قانونی چاندنی پکڑی تھی 🟥چاندنی پکڑنے کے بعد اس کو پختونخوا ٹرانسفر کیا گیا 🟥600 کلو کی چاندنی کی لاہور منتقلی کے وقت 200 کلو نقلی چاندنی کے ساتھ تبدیل کی گئی 🟥اگر اس نے کرپشن کی تھی تو گرفتاری کا بھی ایک طریقہ کار اور ادارے ہیں 🟥مگر یہاں تو 20 دن اس کا پتہ تک نہیں چل رہا تھا کہ وہ کہاں اور کس کے پاس ہے 🟥اگر اس نے کرپشن کی بھی ہے تو اس کے گھر والوں کا کیا قصور تھا کہ ان کو ہراساں کیا گیا 🟥آج وہ ایف آئی اے کی کسٹڈی میں ہے کیونکہ اس نے غیرت کی تھی اور غیر قانونی کام سے انکار کیا تھا #AimalWaliKhan | #ANP

Awami National Party

38,808 Aufrufe • vor 4 Tagen