Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

میرا بھتیجا پمز میں پیدا ہوا تو میں وہیں موجود تھی ایک عورت بھاگتی ہوئی آئی اور اس نے بتایا کہ اوپر آگ لگ گئی ہے میں فوراً اوپر کی جانب بھاگی اور اپنے بھتیجے کو اٹھا کر وہاں سے نکالا وہاں پمز کا کوئی عملہ موجود نہیں تھا...

142,317 views • 16 hours ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

9 مئی کا واقعہ مجھے لگتا ہے کہ مکمل طور پر پری پلان تھا۔ وہاں کچھ لوگ اکسا رہے تھے کہ ہمیں کور کمانڈر ہاؤس کی طرف جانا چاہیے۔ میں نے وہاں جو سب سے اہم چیز نوٹ کی، وہ یہ تھی کہ جو ورکرز تھے، ان کو کسی چیز کا علم نہیں تھا۔ وہ صرف روڈ بلاک کرنے اور نعرے بازی کرنے کے لیے موجود تھے۔ جو لوگ کور کمانڈر ہاؤس کی طرف اکسا رہے تھے، وہ ورکرز سے بالکل ہٹ کر تھے۔ ان کی باڈی لینگویج اور ان کا فزیکل اپیئرنس بالکل مختلف تھا۔ تو مجھے تھوڑی سی تشویش ہوئی کہ کیا کرنا چاہیے، پھر میں فوراً کور کمانڈر ہاؤس پہنچا۔ انہوں نے جو ڈنڈے پکڑے ہوئے تھے، وہ وہی تھے جو پولیس کے پاس ہوتے ہیں، لیکن وہ سول وردی میں تھے۔ اس کے علاوہ، میں اس سلیکشن سینٹر میں موجود تھا جب وہ جل رہا تھا۔ وہاں میں نے ریکارڈنگ کی، کیونکہ میڈیا کو بین کیا گیا تھا اور انہوں نے کوریج نہیں کرنی تھی۔ تو میں وہاں اُس وقت پہنچا جب وہ آگ لگا رہے تھے، اس کو جلا رہے تھے یا لوگوں کو اکسا رہے تھے۔ میں نے ان کی کوریج کی، جو توڑ پھوڑ کر رہے تھے، ان کی بھی کوریج کی، کیونکہ وہاں میڈیا موجود نہیں تھا۔ جب میں وہاں سے ویڈیو بنا کر باہر نکلا تو مجھے تین، چار بندوں نے گھیر لیا۔ وہ بالکل مختلف تھے۔ ان کی باڈی لینگویج، ان کے بولنے کا انداز اور ان کی مینٹیلٹی مختلف تھی۔ ان میں سے ایک بندے نے مجھے کہا کہ آپ ہماری ویڈیو ڈیلیٹ کریں۔ میں نے کہا کہ میں کیوں ڈیلیٹ کروں؟ اور میں سمجھتا ہوں کہ جو ورکر ہوتا ہے، وہ خود ویڈیو میں آنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنی پارٹیسپیشن دکھاتا ہے۔ انہوں نے میرا کیمرہ مجھ سے چھین لیا اور اسے پھینکنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد میں نے بہت اصرار کیا کہ بھائی، آپ کیوں توڑ رہے ہیں؟ آپ ایسا کریں کہ میرا کیمرہ نہ توڑیں، صرف ویڈیو ڈیلیٹ کر لیں۔ تو ان میں سے ایک اور آدمی نے کہا کہ میں آئی ٹی کا بندہ ہوں اور مجھے پتا ہے کہ یہ دوبارہ ریکور ہو جائے گی۔ آپ ایسا کریں، یا تو اپنا کیمرہ مجھے دے دیں، یا پھر کیمرے میں سے جو کارڈ ہے وہ نکال کر دے دیں۔ میں نے بڑی کوشش کی کہ میں انہیں نہ دوں، لیکن وہ چار، پانچ بندے تھے اور کوئی ورکر نہیں تھے، کوئی اور لوگ تھے۔ اس کے بعد انہوں نے کارڈ لیا اور جلا دیا۔ اس صحافی کی ویڈیو سب کچھ واضح کر دیتی ہے۔ اس ویڈیو کو عمران خان نے بھی شیئر کیا تھا۔ 9 مئی کے فالس فلیگ آپریشن کی حقیقت، عینی شاہد صحافی انس نواز کی زبانی۔ Anas Nawaz انس نواز #May9th_FalseFlag

PTI North Punjab

28,057 views • 3 months ago

یہ ارب پتی سردار تھا۔ اربوں روپیہ رائلٹی سوئی گیس کے نام پر یہ حکومت پاکستان سے لیتا تھا۔۔ اس کو پرائیویٹ جہاز دیے جاتے تھے۔۔ مگر اس کے اپنے علاقے میں سوئی گیس نہیں تھی کیونکہ نواب کو یہ پسند نہیں تھا کہ اس کے گھر میں گیس ہو اور سارے گاؤں کے گھروں میں بھی گیس ہو۔۔ اور یہ بات اس کو پروپگینڈا کرنے میں بھی مدد دیتی تھی کہ پاکستان ہمیں لوٹ رہا ہے دیکھیں پورے پاکستان کو سوئی گیس جاتی ہے اور سوئی میں گیس نہیں ہے ‌‌ ۔۔ یہ کمینہ یہ نہیں بتاتا تھا کہ اس نے خود منع کیا ہوا ہے کہ میرے گاؤں کو گیس نہیں دی جائے گی۔ اس نے اپنی ہی قوم کے لاکھوں لوگوں کو مار کر نکال دیا تھا اور ان کی زمینوں پر قبضہ کیا ہوا تھا۔‌ سرفراز بگٹی جو اج وزیراعلی ہے اس کا پورا خاندان بلوچستان سے نکال کر پنجاب میں خوار ہوتا تھا۔ مشرف نے صرف یہ کیا تھا کہ ان دربدر بلوچوں کو واپس لے جا کر ڈیرہ بگٹی میں اباد کر دیا۔‌ اس بات پر ناراض ہو کر اکبر بگٹی نے بغاوت کر دی۔ اور خودکشی کر لی اور ہمارے کئی جوان شہید کر دیے۔‌ اب لوگ اس کو ہیرو بنا کر پیش کرتے ہیں۔ اپ خود بکٹی قبیلے سے پوچھیں کہ یہ کتنا کمینہ اور ح**** تھا۔۔ بلوچستان کو ان سرداروں نے لوٹا ہے اور پتھر کے دور میں رکھتے تھے۔۔ جیسے پیپلز پارٹی اندرون سندھ کو پتھر کے دور میں رکھتی ہے ۔ ان نوابوں اور وڈیروں کا ایک ہی طریقہ واردات ہے۔

اللہ کے بندے۔۔۔

68,212 views • 1 month ago

بریکنگ نیوز 🚨شہباز گل اپنے موقف پر، اپنے کیے گئے انکشاف پر ڈٹ گئے، اور ساتھ ہی ایک اور بڑا تہلکہ خیز انکشاف کرکے سہیل آفریدی کو چیلنج کردیا 🔥🔥 کل کے جو آپ کے انٹرویوز آئے اُس میں آپ نے Deny کیا اُس خبر کو جو ہم نے دی تھی۔ خبر یہ تھی کہ آپ کی ایک بہت ہی اہم شخصیت کے ساتھ ملاقات ہوئی اور ہم نے کورکمانڈر کا نام لیا تھا۔ پہلے ہم نے جس دن خبر دی بتایا کہ دو سے چار بجے، اُسی دن ہمارے سورس نے کنفرم کیا کہ ٹائمنگ غلط تھی چار بجے کے بعد اور یہ بھی بتایا کہ وہ سنئیر ترین پولیس افسران کے ساتھ ملاقات میں تھے، آئی جی کے گھر کے قریب۔ کتنی گاڑیوں پر گئے، کون کون انکے ساتھ تھا کورکمانڈر کے، کیسے وہ چیف منسٹر ہاؤس تک پہنچے۔ وہ تمام چیزیں ہمارے علم میں ہیں، ہم ان Details میں نہیں جارہے۔ اور ہمارے Source نے بتایا کہ ملاقات چار ساڑھے چار بجے کے بعد ہوئی، اگلے ہی ویلاگ میں ہم نے وہ اپڈیٹ کیا۔ آپ نے کہا کہ وہ ملاقات نہیں ہوئی۔ میری پوری ذمہ داری کے ساتھ انفارمیشن شئیر کرتا ہوں، اگر خبر غلط ہو تو میں پہلے ہی کہے دیتا ہوں، یہ سنی سنائی ہے، ہم اسکے اوپر پہرہ نہیں دے سکتے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آپ کے بہت قریبی شخصیت وہ اس کے سورس ہیں اور وہ ڈرتے بھی نہیں ہیں، اور وہ کہتے ہیں کہ آپ بتا دیں، میں پکڑا بھی گیا تو خیر ہے، لیکن یہ آفریدی صاحب کو پتہ ہونا چاہیے کہ سب کو پتہ ہے۔ اچھا اب کیا آپ پہلی مرتبہ کورکمانڈر سے ملے ہیں، کئی مرتبہ پہلے بھی ملے ہیں۔ اب آپ اس ملاقات کو Deny کر رہے ہیں۔ میں کہے رہا ہوں ایک ملاقات نہیں، آپ کی بہت ساری ملاقاتیں ہوئیں اور پہلے بھی ہوتی رہیں اور آئندہ بھی ہونگی اور ہمارے بہت ساری ملاقاتیں علم میں بھی ہیں اور ہم نے کبھی یہاں سے رپورٹ نہیں کیا کیونکہ وہ Importants نہیں ہیں۔ آپ چیف منسٹر کے عہدے پر ہیں کئی وجوہات کی بناہ پر آپ کو ان سے ملنا پڑ سکتا ہے۔ اب کیونکہ یہ جلسے سے ایک دن پہلے معاملہ تھا اور پھر 27 تاریخ کے اوپر ہماری Reservations ہیں۔ کورکمیٹی کے اندر یہ ڈسکس نہیں ہوا، پولیٹیکل کمیٹی کے اندر یہ ڈسکس نہیں ہوا۔ بہت سے سنئیر لوگوں سے میں نے پوچھا، انہوں نے کہا کہ ہمارے علم میں نہیں ہے کہ Date کیسے دی گئی ہے۔ اُسی پر میں نے بھی سوالات اُٹھائے، مراد سعید صاحب نے بھی اُٹھائے اور علیمہ خانم صاحبہ نے بھی اُٹھائے۔ اب آپ نے کہا کہ ملاقات نہیں ہوئی، میں ابھی بھی پوری ذمہ داری سے اور ایمانداری سے اپنی خبر کے اوپر کھڑا ہوں کہ ملاقات ہوئی۔ بلکہ آپ کو ایک اور Interesting بات بتا دوں۔ کل تین آپ کے انٹرویو چلے، تین ڈیفرنٹ چینل پر۔ حالانکہ پورے سال کے اندر کبھی آپ کا کوئی بھی ایسا انٹرویو چلنے کی اجازت نہیں تھی۔ میرے فون کے اندر میسج ہے کبھی اچھے دن آئیں گے تو یہ کیمرے میں ریکارڈ کر لیجیے تاکہ ثبوت رہے کہ جن تین لوگوں نے کل آپ کا انٹرویو لیا، انٹرویو کے فوراً بعد اُنہی کی ٹیم میں سے مجھے یہ میسج بھیجا گیا۔ وہ بہت ہی معتبر شخصیت جنہوں نے میسج بھیجا کہ آپ کو پتہ ہے آپ کے چیف منسٹر نے آپ کی خبر کو جھٹلا دیا ہے کہ اُنکی ملاقات نہیں ہوئی، میں نے آگے سے کہا مجھے پتہ ہے اور ان کا جھٹلانا ہی بنتا ہے، یہی انکی پوزیشن ٹھیک ہے۔ میں بار بار تو چیزیں Rep نہیں کروں گا، میں نے جو کہنا تھا کہے دیا۔ تو اُس شخصیت نے آگے سے کہا کہ میری بھی یہی خبر ہے کہ اُنکی ملاقات ہوئی ہے۔ یہ میں بالکل خدا کو گواہ بناکر آپ کو بات کہتا ہوں اور یہ انہوں نے کہا اور کبھی آپ کو دیکھا بھی دیں گے اُنکی اجازت سے ویسے نہیں۔ ان سے اجازت لے کے اور وہ اجازت دے بھی دیں گے کیونکہ وہ خان صاحب کے خیرخواہ ہیں اور وہ چاہیں گے کہ آپ کو بھی پتہ چلے کہ میرے پاس یہ خبر تھی۔ اور انہوں نے ایک جملہ بولا کہ ایسی ملاقاتیں چھپتی تھوڑی ہیں۔ اگر مجھے ساری Details پتہ ہے، ایک ایک بات پتہ ہے اور آپ کو بھی پتہ ہے، تو CM صاحب کو بھی چھپانی نہیں چاہیے تھی۔ میں اپنی خبر پر ابھی بھی قائم ہوں کیونکہ اگر یہ خبر غلط ہوتی تو میں خود مانتا اور آپ سے معذرت کرتا کیونکہ کوئی میرا یہ کوئی IQ لیول کا ٹیسٹ تو نہیں ہے ناں۔

‏زہـــرہ لیــاقت

64,969 views • 15 days ago

نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد ملتان سروسز کلب میں—اس زمانے میں سروسز تھا، پھر ایم جی ایم بنایا انہوں نے—ایک فل کرنل کے ساتھ میرا مذاکرہ ہوا، جو حاضر سروس تھا اور تازہ تازہ ڈیفر (defer) ہوا تھا کہ ترقی نہیں ہوئی تھی۔ بلوچستان پر گفتگو ہوئی تو میں نے اسے کہا کہ، ”یہ اکبر بگٹی کو آپ لوگوں نے اس حالت میں مار کے بہت بڑا نقصان کیا ہے، اپنا بھی اور ہمارے ملک کا بھی۔“ کہنے لگا کہ، ”نہیں، آپ کو نہیں پتا۔“ میں نے پوچھا کہ، ”کیا نہیں پتا؟ خیر بخش مری سے زیادہ نیشنلسٹ تو کوئی بھی نہیں ہے بلوچستان میں، نہ کوئی تھا۔ وہ تو کہتا ہے کہ اکبر بگٹی کبھی بھی ان کے ساتھ نہیں تھا، کاش کہ ان کے ساتھ ہوتا!“ پھر کہتا ہے کہ، ”نہیں، آپ لوگوں کو نہیں پتا۔“ میں نے کہا کہ، ”بتاؤ پھر۔“ وہی ٹپیکل منجن کہ وہ پاکستان دشمن ہو چکا تھا، نواب اکبر بگٹی۔ وہ ڈاکٹر کے ریپسٹ کو پکڑوانا—اگر وہ فوجی ہے—تو وہ پاکستان دشمن ہو گیا؟ جب ذوالفقار علی بھٹو نے فوج کشی کی، خیر بخش مری اور اس کے قبیلے کے خلاف، تو یہی نواب اکبر بگٹی اس وقت بھٹو کا گورنر تھا؛ اور ان کو بڑا پتا چلتا ہے کہ گورنر اسٹیٹ کا نمائندہ ہوتا ہے، حکومت کا نہیں۔ تھوڑی دیر تو میں نے اس کی بکواس برداشت کی، پھر میں نے کہا، ”کہاں کے رہنے والے ہو؟“ کہتا ہے، ”چکوال کا۔“ میں نے کہا، ”ریٹائرمنٹ کا کیا پلان بنایا ہے؟“ کہتا، ”یہ میری ذاتی زندگی ہے۔“ میں نے کہا، ”تمہاری ذاتی زندگی تمہارے باپ نے تمہیں دی ہے؟ تمہاری آبائی زمین کا نہیں پوچھ رہا، یہ پوچھ رہا ہوں کہ تم نے تنخواہ میرے سے لی ہے، ریٹائرمنٹ کی پینشن مجھ سے لو گے! دو تین ڈیفنسوں میں اور کنٹونمنٹ میں جو تمہیں پلاٹ مل رہے ہیں، یہ میری زمین ہے۔ تم چکوال میں جا کے استنجا کرو گے اور میں کوہِ سلیمان میں بیٹھتا ہوں۔ مجھے دوسری سائیڈ والے بلوچ بے غیرت کہتے ہیں کہ میں پنجابیوں کے ساتھ ملا ہوا ہوں۔ تم ریٹائرمنٹ کے بعد چکوال میں جا کے بیٹھو گے اور میں وہیں بیٹھوں گا، ڈائریکٹ ان کی ہٹ (hit) میں!“ یہ ہیں جی ہمارے فیصلے کرنے والے، اور ان کا والد ان کے ورثے میں وہ ٹکسال بھی چھوڑ کے گیا تھا، جس میں یہ غدار اور غیر مسلم کا سرٹیفیکیٹ جاری کرتے ہیں! آخری بات بھی تم لوگوں نے کہ اب سخت فیصلے کیے جائیں گے، مجھے اپنے تین سالہ دور میں نرم فیصلے بتاؤ ؟ پنجاب پہ کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ فاٹا کشمیر اور بلوچستان میں کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ سندھ زرداری کو دے کہ تو کوئی سندھ پہ نرم فیصلہ کیا ہے ؟ سب سے بڑی پولیٹیکل پارٹی کو اس حد تک دیوار سے لگا کے تو تم نے ملک پہ کوئی نرم فیصلہ کیا ہے ؟ ڈروز وقت سے کہ یہ سب مل کے جب تم پہ ایک سخت فیصلہ مسلط کریں گے !

Jack~The~Ripper

19,361 views • 1 month ago

میں اپنی ورچوئل کلاس روم میں تھی اپنے ورچوئل طلبہ کے ساتھ۔ وہ لنچ کے لیے لاگ آؤٹ کر رہے تھےاور میں یہیں بیٹھی تھی کہ اچانک راہداری میں کچھ شور سنائی دیا۔ میں باہر نکلی تو دیکھا کہ چند پانچویں جماعت کے بچے کھڑے ہیں، وہ نماز پڑھنے کے لیے جگہ تلاش کر رہے تھے، رمضان کا مہینہ ہے،وہ مسلمان ہیں، اپنے دین پر عمل کرتے ہیں اور انہیں نماز ادا کرنے کے لیے ایک جگہ درکار تھی۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا وہ میرے کمرے میں آکر نماز پڑھ سکتے ہیں؟ میں نے اس سے پہلے کبھی ان بچوں کو نماز پڑھتے نہیں دیکھا تھا۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ پڑھتے ہیں، عموماً اسکول میں کسی اور جگہ پر، لیکن آج وہ ٹیچر موجود نہیں تھے، کونسلر۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا وہ یہاں آ سکتے ہیں؟ انہیں معلوم تھا کہ میرے پاس اس وقت کوئی طالب علم نہیں ہے۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ چاہیں تو یہیں رہ سکتی ہیں۔ میں اپنی میز پر بیٹھی رہی اور میں نے ان چار معصوم بچوں کو دیکھا۔ وہاں کوئی بڑا موجود نہیں تھا جو انہیں مجبور کر رہا ہو، جیسا کہ اکثر مذہب کے بارے میں سمجھا جاتا ہے۔ کوئی انہیں ہدایات نہیں دے رہا تھا، نہ کوئی رہنمائی کر رہا تھا، نہ بتا رہا تھا کہ کیا کرنا ہے۔ لیکن منظر بے حد خوبصورت تھا۔ ان چاروں کی ایک ہم آہنگی تھی۔ انہیں بخوبی معلوم تھا کہ کیا کرنا ہے، ہاتھوں کی حرکات، جسم کی ادائیں، کھڑے ہونا، بیٹھنا، رکوع کرنا، سجدہ کرنا۔ سب کچھ مکمل سنجیدگی اور ترتیب کے ساتھ۔ یہ منظر دیکھنا ناقابل بیان تھا۔ میں اپنی ڈیسک پر بیٹھی رہی اور میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں اپنے آنسو پونچھ رہی تھی۔ انہوں نے مجھے دیکھا اور پوچھا، "کیا ہوا؟" میں نے کہا، "مجھے تم پر فخر ہے، مجھے تم سب پر بہت فخر ہے۔" وہ میرے پاس آئے۔ ہم نے ایک دوسرے کو گلے لگایا اور وہ لمحہ بہت خاص تھا۔ واقعی، پانچویں جماعت کے بچے کا یہ ایمان کہ وہ خود ذمہ داری لے کر وقت پر نماز ادا کرے، جو اس پر فرض ہے، یہ دیکھنا بہت خوبصورت تھا اور مجھے اپنے بچوں پر بہت فخر ہے ایک غیر مسلم ٹیچر کا بیان

شبانہ شوکت

49,598 views • 5 months ago

کیا عمران ریاض کو خاتون سے معافی مانگنی چاہیے؟ کیا انہیں اس بدتمیزی سے جواب دینا چاہیے تھا؟ یا پھر عمران ریاض ایک "چھوٹا مستری" بن چکے ہیں؟ پچھلے دنوں عمران ریاض یورپ کی یاترا پر تھے، ڈنمارک میں ایک خاتون نے ان سے پوچھا کہ آپ نے گواہی کیوں نہ دی؟ اس وقت عمران ریاض بیٹھے ہوئے تھے، پتہ نہیں کہاں کہاں مرچیں لگی کہ اٹھ کر اونچی اونچی اواز میں چیخنے لگے، کبھی یہاں کھڑے ہو کر تو کبھی وہاں کھڑے ہو کر۔ کیوں؟ یہی بات تو وہ بیٹھ کر بھی کر سکتے تھے۔ تو چیخنے چلانے کی ضرورت کیوں پڑی؟ اور کیا انہوں نے سوالات کے جوابات دیے؟ عمران ریاض کا پہلا موقف تھا : مجھے کہا جاتا تو میں گواہی ضرور دیتا اور برگیڈیر کی پمبیری گھما دیتا۔ دوسرا موقف : میری گواہی سے کوئی فرق نہ پڑتا۔ بلکہ آئی ایس آئی تو چاہتی ہے کہ میں گواہی دوں۔ تیسرا موقف : یہ الٹے بھی لٹک جائیں تو میں گواہی نہ دوں گا۔ عمران ریاض کا ایک موقف اور بھی ہے : عاصم منیر بھی میرا موقف نہیں بدل سکتا. پہلے بتاتے تھے کہ عادل راجہ نے ان کی فیملی کی لوکیشن ایکسپوز کی، ان کے پورے خاندان کی جان خطرہ میں ڈالی، میں گواہی کیوں دوں ؟ اب ان کے اپنے انٹرویو سے، جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ ان کی فیملی کی لوکیشن ان کی اپنی وجہ سے ایکسپوز ہوئی تھی، تو اب ایک اور موقف لے ائے : ایک فوجی نے میرے جسم کو چوٹ پہنچائی، دوسرے نے میری روح پر وار کیا۔ ساتھ میں مظلومیت کے ساز پر وہی مانترا : عاصم منیر بھی میرا موقف نہیں بدل سکتا. ان کے جواب کو غور سے سنیں، ڈرامہ کو الگ کریں، جذبات کو ایک سائیڈ پر کریں، نوٹنکی کو ایک طرف رکھیں، اور دیکھیں کہ عمران ریاض نے اصل میں کہا کیا؟ ان کی روح پر کون سا وار ہوا؟ عادل راجہ ان کی اہلیہ کو ان کے بارے میں غلط بتاتے رہے، اور وہ بے چاری یہاں وہاں ڈھونڈتی رہیں۔ جب ایک دنیا کہہ رہی تھی کہ عمران ریاض کو قتل کر دیا گیا ہے، ان کی زبان کو نقصان پہنچا دیا گیا ہے، اپ وہ بول نہیں سکیں گے، اس وقت عادل راجہ ہی تھے جن کے الفاظ میرے سمیت بہت سارے لوگوں کے لیے تسلی کا باعث تھے کہ وہ زندہ ہیں۔ اس وقت میرا عادل راجہ سے کوئی رابطہ نہیں تھا، بلکہ میں عمران ریاض کا پرستار تھا۔ عمران ریاض کا رویہ یہ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ کہیں انہیں غصہ اس بات پر تو نہیں، کہ جب پوری قوم ان کی زندگی کے بارے میں فکر مند تھی، تو عادل راجہ لوگوں کو کہہ رہے تھے کہ وہ زندہ ہیں، ان کی رہائی کے لیے کوششیں کریں؟ یا پھر انہیں اس بات پر افسوس ہے کہ عادل راجہ کی یہ خبر بھی سچی کیوں ہو گئی ؟ اب پچھلے کچھ ماہ میں جتنا میں نے عادل راجہ کو جانا، یہ والا الزام بہت گھٹیا ہے۔ بہت سے لوگوں کو لگتا ہوگا کہ عادل راجہ بتاتے ہوں گے کہ کیا لکھنا ہے؟ وہ کبھی بھی نہیں کہتے۔ میرا کوئی سوال ہو تو اس کا جواب دیتے ہیں، ایک دو بار پوچھا تو یہی کہا کہ جو تمہیں ٹھیک لگتا ہے وہ لکھو، بے شک میرے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ اب میں یہ تو مان سکتا ہوں کہ عادل راجہ کے پاس یہ خبر تھوڑی دیر سے پہنچی ہو کہ عمران ریاض کہاں قید ہیں، اور اس وقت تک جگہ بدل چکی ہو، لیکن یہ ماننا مشکل ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر غلط بتایا ہو۔ اس موضوع پر عادل راجہ اور سبین کیانی ایک تفصیلی وی لاگ بھی کر چکے ہیں، اس میں اپ کو بہت سارے سوالات کا جواب مل جاتا ہے۔ وہ ضرور دیکھیے۔ خیر مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ عمران ریاض کی روح پر کون سا وار ہوا جس کی وجہ سے انہیں شانتی نہیں مل پاتی؟ اور کون سے ویوز لینے تھے عادل راجہ نے؟ ان کا تو اس وقت یوٹیوب چینل بھی نہیں تھا ! جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا اگر جذباتیت کو ایک طرف رکھیں، تو عمران ریاض کے جواب میں کچھ بھی نہیں ہے۔ سچ صرف یہ ہے، کہ الفاظ بدل بدل کر عمران ریاض یہی شعر پڑھتے رہتے ہیں کہ میں راجے کو کبھی میرے ڈھول سپاہی نہ دوں گی، میں گواہی نہ دوں گی، میں گواہی نہ دوں گی۔ اور رہی بات حاضرین محفل کی، تو اس بات پر افسوس ہوا کہ کسی نے عمران ریاض کو روکا نہیں۔ انہیں جواب دینا تھا، لیکن وہ الٹا یہ سوال خاتون سے پوچھ رہے تھے کہ عادل راجہ نے کبھی سہیل وڑائچ پر وار کیا؟ حالانکہ سب جانتے تھے کہ عادل راجہ نے سہیل وڑائچ کو بہت ایکسپوز کیا۔ بچے بچے کو پتہ ہے کہ ان کی رومانوی گفتگو کی ریکارڈنگز ایجنسیوں کے پاس ہیں، کس کی وجہ سے؟ عادل راجہ کی وجہ سے! بہتر تو یہ ہوتا کہ اگر حاضرین محفل سے کوئی انسان روکتا، عمران ریاض کو کہتا کہ جوش جذبات میں خاتون کا احترام ملحوظ رکھیں، جواب نہیں دینا، نہ دیں، لیکن بے پر کی نہ اڑائیں، چیخیں نہیں، چلائیں مت۔ لیکن کوئی بھی ایسا نہ تھا جو یہ کہنے کی جسارت کر سکتا۔ سلام ہے اس خاتون کی ہمت کو، جس نے بھری بزم میں سوال اٹھانے کی ہمت تو کی۔ کاش تھوڑی سی ہمت وہاں بیٹھے مرد بھی دکھا سکتے !! کہیں عمران ریاض ایک "چھوٹا مستری" تو نہیں بن چکے جو ہر وہ بات کہہ سکتے ہیں جو وہ کہنا چاہتے ہیں، لیکن ان سے کوئی سوال نہیں ہو سکتا؟ کاش یہی جرات عمران ریاض بریگیڈیر کے خلاف دکھا سکتے! کاش یہی جذبات وہ اس وقت دکھا پاتے جب افتاب اقبال نے انہیں سامنے بٹھا کر تیتر کی پھبتی کسی تھی, اور محترم نے دانتوں کی نمائش کر دی تھی۔ کاش یہی ہمت وہ اس وقت دکھاتے، جب ان کی وجہ سے ان کی فیملی کی لوکیشن ایکسپوز ہوئی، اور یہ اپنی فیملی کو خطرے میں چھوڑ کر سات ملکوں کی سیر کو نکل گئے ! کاش ان کا یہ لہجہ اس وقت بھی ہوتا جب انجینیئر مرزا کو ان کے اوپر چھوڑا گیا تھا، اور وہ للکار للکار کر تھک گیا کہ میری آڈیوز لیک کرو، لیکن ٹارزن بھیا پتلی گلی سے کلٹی مار گئے۔ اس سوال کے ساتھ اجازت : کیا اپنے نامناسب اور غیر مہذب طرز تکلم کی وجہ سے، عمران ریاض کو معافی مانگنی چاہیے یا نہیں؟ کھلم کھلا جھوٹ بولنے پر ندامت کا اظہار کرنا چاہیے، یا نہیں؟ 🤔

Kashif Aslam

65,128 views • 9 months ago

میرے پاس طلاق کا ایک کیس آیا ۔۔ شوہر نے کہا کہ آج سے پچیس سال پہلے میرا اپنے ایک عزیز کے ساتھ جھگڑا ہوا،جس میں اس نے مُجھے میری بیوی کے سامنے سکھ کہا ۔۔ بات آئی گئ ہو گئ ہماری صلح ہو گئ ۔ مگر میری بیوی جب بھی جہاں بھی اس واقعے کا ذکر ہوتا ہے تو کہتی ہے کہ اس نے آپ کو کہا تھا " سکھ " یہانتک کہ حج پہ جاتے ہوئے جہاز میں اور منی عرفات میں بھی بہت سارے لوگوں کے سامنے اونچی آواز میں کہا کہ آپ اس کے لئے یہاں سے تحفہ کیسے لے جا سکتے ہیں جس نے آپ کو بولا تھا " سکھ" یہانتک کہ شادی بیاہ کی تقریب میں بھی عورتوں کے سامنے اس گالی کو دھرا دیتی ہے ۔ اس بندے نے مُجھے ایک بار کہا تھا اور میری بیوی اس بات کو بلا مبالغہ ہزاروں دفعہ دہرا چکی ہے،، اب میں تنگ آ گیا ہوں، میرے کان پک گئے ہیں اس کے منہ سے یہ گالی سن سن کر ۔۔ بیوی بھی اس کے ساتھ آئی ہوئی تھی، سامنے بیٹھی تھی، میں نے اس سے کہا کہ یہ بندہ سچ کہہ رہا ہے؟ اس نے کہا کہ میں تو یہ زندگی بھر اس کو یاد کراتی رہونگی شاید اسے غیرت آ جائے،، اس وقت میں نے سمجھا بجھا کر واپس کر دیا کچھ ہی عرصے بعد ایک شادی میں ہی مجمعے کے سامنے اسی بات پر اس عورت کو طلاق دے دی اس بندے نے ۔۔ عالی مقام امام حسین علیہ السلام کے ساتھ خواتین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کی عورتوں سے بدسلوکی ہوئی یا نہیں ہوئی یہ خدا جانتا ہے مگر جس طرح ہر سال جس طرح ان مظالم اور خواتین کے حالات کو مجمعوں میں بیان کیا جاتا ہے، یہ ہر گز ہر گز قابلِ قبول نہیں ہے، کسی کی بہو بیٹیوں کے پھٹے ہوئے کپڑوں اور جسم کے ننگے حصوں کی تفصیلات ثواب سمجھ کر بیان کرنا دوستی نہیں دشمنی ہے، ثواب نہیں عذاب ہے،، اس میں حرم نبوی کی خواتین کی عزت نہیں بےعزتی ہے ۔ شیعہ علماء خاص طور پر پنجابی علماء سے گزارش ہے کہ خدا را اس پر بات کریں ۔۔ قاری حنیف ڈار

نواب عادل رندھاوا✍🏻

14,165 views • 2 months ago