Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

میرا دادا وی پنجابی سی میرا پردادا وی پنجابی وے میرا لکڑدادا وی پنجابی وے ! گہل ادھر آ ہی گئی جے تے وآڑ جانی دیو نیرا لاہور ہی پنجاب نہیں ! 🌛 😃😃 چھا گئے Nadeem Afzal Chan بھائی

48,627 görüntüleme • 9 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

مقدمہ پنجاب دا ۔۔۔ کہندے ن پنجاب کھا گیا اے پنجاب کھا گیا اے ، کی کھا گیا ؟ پنجاب تے آپ کھادا گیا اے ۔۔ پنجاب دیاں حکومتاں کم کر دیان ، باقی صوبیاں وچ ونڈیاں پیندیان ، پنجاب نے نئی کھادا ، تُسی کھا گئے او ھاں پاکستان خراب کرن وچ پنجاب دا حکمران طبقہ شامل اے پَر کلا اے نئیں ، سندھ ، بلوچستان تے خیبر پختونخواہ دا حکمران طبقہ وی اس خرابی وچ شامل اے ساڈے تین دریا سن ، ایوب خان انڈیا نوں دے گیا تے پنجاب دیاں زرخیز زمیناں ریگستان بن گئیاں پاکستان بنیا ،تقسیم صرف بنگال تے پنجاب ھوۓ ، خون صرف پنجاب دا وغیا ، او کِسے نوں یاد نئیں ۔۔ 65 دی جنگ وچ خون پنجابی دے وغیا، پَر کِسے نوں یاد نئیں گوادر وزیر اعظم ملک فیروز خان نون نے خرید کے پاکستان چ شامل کیتا ،بلوچستان دا حصہ بنایا ، ادے وچ بلوچستان دا کوئ پیسہ نئیں لگا ، صلہ اے ملیا کہ پنجاب دے وزیر اعظم نوں بے عزت کر کے کڈ دِتا پنجاب وچ کوئ ونڈ نئیں ، ایتھے پنجابی پٹھان بلوچ سندھی لوکل مہاجر دا کوئ چکر نئیں ، سب رل کے رھنے ایں ، تے ھسدے وسدے جیوندےرھن او چاندے ن کہ پنجاب دے جوان وی بُھوتر جان ، تے رد ِ عمل وچ ایتھے وی ساڈے پراواں دا خُون وغے ، اسی ایس جال وچ نئیں پھنسنا ، اسی لڑنا نئیں ، پَر پنجاب دا دفاع ضرور کرنا اے ، سچی دلیل دے نال ، پنجابیاں نے اپنے آ پ نوں پاکستان وچ ضم کر لِیتا سی ، چنگی گَل اے ، پَر اسی ھُن گونگے نہیں رھنا ۔۔

Khawaja Saad Rafique

145,204 görüntüleme • 1 yıl önce

مرزا غالب کی فارسی کی وہ غزل جس کا صوفی تبسم نے منظوم پنجابی ترجمہ کیا اور ایسا شاہکار ترجمہ کیا کہ وہ غزل لوگوں کو ازبر ہو گئی، اور استاد غلام علی کی کی گائگی نے اسے امر کر دیا ♥️ اردو ترجمہ حمید یزدانی نے کیا ہے اس غزل کا پروفیسر رالف رسل نے انگلش میں بھی ترجمہ کیا۔ فارسی غزل کا منظوم پنجابی ترجمہ اور حمید یزدانی کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے فارسی : زمن گَرَت نہ بُوَد باور انتظار بیا بہانہ جوئے مباش و ستیزہ کار بیا پنجابی ترجمہ : میرے شوق دا نہیں اعتبار تینوں، آ جا ویکھ میرا انتظار آ جا اینوں لڑن بہانڑے لبھنا ایں، کیہ توں سوچنا ایں سِتمگار آ جا اردو ترجمہ : میں تیرے انتظار میں ہوں، اگر تجھے اس کا یقین نہیں ہے تو آ اور دیکھ لے۔ اس ضمن میں بہانے مت تلاش کر، بے شک لڑنے جھگڑنے کا طور اپنا کر آ۔ فارسی : وداع و وصل جداگانہ لذّتے دارَد ہزار بار بَرَو، صد ہزار بار بیا پنجابی : بھانویں ہجر تے بھانویں وصال ہووے ،وکھو وکھ دوہاں دیاں لذتاں نیں میرے سوہنیا جا ہزار واری ،آ جا پیاریا تے لکھ وار آجا اردو : فراق اور وصل دونوں میں اپنی اپنی ایک لذت ہے، تو ہزار بار جا اور لاکھ بار آ۔ فارسی : رواجِ صومعہ ہستیست، زینہار مَرَو متاعِ میکدہ مستیست، ہوشیار بیا پنجابی : ایہہ رواج اے مسجداں مندراں دا ،اوتھے ہستیاں تے خود پرستیاں نیں میخانے وِچ مستیاں ای مستیاں نیں، ہوش کر، بن کے ہُشیار آ جا اردو : خانقاہوں میں غرور و تکبر کا رواج ہے، دیکھیو ادھر مت جائیو، جبکہ میکدہ کی دولت و سرمایہ مستی ہے، وہاں ذرا چوکنا ہو کر آجا۔ فارسی : تو طفل سادہ دل و ہمنشیں بد آموزست جنازہ گر نہ تواں دید بر مزار بیا پنجابی : تُوں سادہ تے تیرا دل سادہ، تینوں اینویں رقیب کُراہ پایا جے تُوں میرے جنازے تے نہیں آیا، راہ تکدا تری مزار، آ جا اردو : تو ایک بھولے بھالے بچے کی طرح ہے اور رقیب تجھے الٹی سیدھی پٹیاں پڑھا رہا ہے، سو اگر تو ہمارا جنازہ نہیں دیکھ سکا تو کم از کم ہمارے مزار پر ہی آ جا۔ فارسی : حصار عافیَتے گر ہوس کُنی غالب چو ما بہ حلقۂ رندانِ خاکسار بیا پنجابی: سُکھیں وسنا جے تُوں چاہو نا ایں میرے غالبا ایس جہان اندر آجا رنداں دی بزم وِچ آ بہہ جا، ایتھے بیٹھ دے نیں خاکسار آ جا اردو : اے غالب اگر تجھے کسی عافیت کے قلعے کی خواہش ہے تو ہماری طرح رندانِ خاکسار کے حلقہ میں آ جا۔ منقول

اردو ورثہ

28,067 görüntüleme • 9 ay önce

"پنجاب ناکام ہے بوجھ ہے بڑا بھائی ہے بھڑوہ بھائی ہے۔پنجاب کے پاس پانی نہیں ہے،بجلی نہیں ہے گیس نہیں ہے تیل نہیں ہے پورٹ نہیں ہے وسائل نہیں ہیں پنجاب سندھ خیبرہختونخواہ بلوچستان کے ٹکڑوں پر پلتا بھکاری ہے بڑا بھائی چور ہے ۔تینوں صوبوں کو پنجاب سے الگ کردو۔پنجاب ختم ہو جائیگا پنجابی بھکاری بھوکے کتوں کی طرح مارے جائیں گے۔ پنجاب انتظامی بوجھ ہے اسے ٹکڑے ٹکڑے کرکے تینوں صوبوں میں بانٹ کر ختم کردو ".دگڑدلا شبر زیدی آگ سے کھیل رہاہے مسلسل پنجاب کے خلاف نفرت پھیلا رہاہے۔شبر زیدی کس کا ایجنڈہ لے کر چل رہا ہےہر حال میں سندھ کو ملک سے لگ کرنے پر تلا ہے ہر وقت پنجاب پر ہاگل کتوں کی طرح بھونکتا ہے۔سندھو دیش کیلئے بالواسطہ ذہن سازی کررہا ہے۔بےغیرت کا کہا ایک ایک لفظ جھوٹ ہے۔اس حرامی کو لگام نہ دی گئی تو یہ سندھ میں پنجابیوں کا قتل عام کروا کر سرائیکی صوبہ بنوا کر اور ملک تڑوا کر ہی چھوڑے گا۔حرامی کو کوئی جاکر بےغیرت پنجاب کے پاس س کجھ ہے ہمیشہ سے ہے۔پنجاب پر بھونکنا بند کر ملک توڑبا چاہتا ہے سندھو سندھودیش بنانا چاہتا ہے تو کھل کر سامنے آ ۔بزدلوں کی طرح بات ادھر ادھر کیوں گھما رہا ہے۔ہم تجھے بتاتے ہیں پنجاب کیا ہے اور پنجاب کے پاس کیا کچھ ہے۔

Chaudhry Nazeer Kahut

17,138 görüntüleme • 4 ay önce

اس پیکچر کو دیکھ کر ایک بات یاد آئ جو ابو نے مجھے بتائی انکی عمر ہوگی کموبیش اٹھارہ یا بیس سال سنہ 1985کہتے میرا ایک دوست تھا ہے ابھی نام نہی بتاؤں گا اسکے ساتھ کلفٹن تین تلوار گیے ادھر مین روڈ پر ایک بلڈنگ ہے فلیٹ بنے ہیں اسوقت ابو کہتے انکے دوست نے کہا یا میرے دوست کلفٹن پر اسکے گھر وی سی آر فلم دیکھیں گے شاید امتابھ کی لاوا آئ تھی۔ شام کے وقت وہ چلے گھر میں ایک بھائ ایک بہن تھی بس سب دوست اسکے دوست اکھٹے جمع ہوگے فلم لگی بہن سب کے سامنے آ جارہی تھی ابو کہتے کوئ پچیس سال کی ہوگی ہم سے بڑی مگر بولڈ ٹھنڈا پانی اسکے بعد چاے کافی ہوچھ کر کوئ آٹھ لڑکے تھے فلم لگادی گئی کمرہ بڑا خالی تھا چاروں دیواروں سے میٹریس زمین پر بچھا دئیے گئے تھے تکیے تھے مزے سے بیٹھو کچھ دیر چاے آگئی اور سنوسے پیٹس ہھر دو بوتل جانی واکر لاکر رکھ دی گئی گلاس آگئے بوتل کھلی ۔۔ ہم کافی پی رہے تھے ہم سے پوچھا ہم نے منع کر دیا پھر سب پیک بنا رہے بہن بھی آکر اسکی بیٹھ گئی اسنے بھی پیک بنایا اور شان بے نیازی سے چسکی لینے لگی ابو کہتے میری آنکھیں پھٹ گئیں بھائی اسکے دوست ساتھ ہیں اور اسنے ہیک لگایا اور پھر بھائ سے سگریٹ مانگی اسنے گولڈ فلیک نکالی اسے دی اسنے بہن نے ماچس کے اندر سے چرس نکالی اور سگریٹ بنائ سکھائ بگائ کو بھی پلائ خود بھی اور ایک ایک کش سب کی طرف ابو کہتے ہم سگریٹ نہیں پیتے تھے سو ہم نے منع کر دیا ایک دم سے ابو کے دوست کو ابکائ لگی دھویں سے الٹی ہوئ اور ہم اجازت مانگی سو ہم اسطرح عاجز آگیے فلم ادھوری چھوڑ کر سر درد کر چکا تھا خیر یہ بتا تا چلوں سارے لڑکے پٹھان پنجابی تھے فیملی پنجابی تھی بہن پنجابی تھی ۔ اس ویڈیو کو دیکھا تو یاد آیا ابو کے دوست سے اس واقعے کو کنفرم کیا تو وہ بہت ہنستے ہوے ابو کو کہہ رہے سالا چوتیا ہے تیرا باپ 😂😂😂🙏🏻
0:45

Sensitive content

اس پیکچر کو دیکھ کر ایک بات یاد آئ جو ابو نے مجھے بتائی انکی عمر ہوگی کموبیش اٹھارہ یا بیس سال سنہ 1985کہتے میرا ایک دوست تھا ہے ابھی نام نہی بتاؤں گا اسکے ساتھ کلفٹن تین تلوار گیے ادھر مین روڈ پر ایک بلڈنگ ہے فلیٹ بنے ہیں اسوقت ابو کہتے انکے دوست نے کہا یا میرے دوست کلفٹن پر اسکے گھر وی سی آر فلم دیکھیں گے شاید امتابھ کی لاوا آئ تھی۔ شام کے وقت وہ چلے گھر میں ایک بھائ ایک بہن تھی بس سب دوست اسکے دوست اکھٹے جمع ہوگے فلم لگی بہن سب کے سامنے آ جارہی تھی ابو کہتے کوئ پچیس سال کی ہوگی ہم سے بڑی مگر بولڈ ٹھنڈا پانی اسکے بعد چاے کافی ہوچھ کر کوئ آٹھ لڑکے تھے فلم لگادی گئی کمرہ بڑا خالی تھا چاروں دیواروں سے میٹریس زمین پر بچھا دئیے گئے تھے تکیے تھے مزے سے بیٹھو کچھ دیر چاے آگئی اور سنوسے پیٹس ہھر دو بوتل جانی واکر لاکر رکھ دی گئی گلاس آگئے بوتل کھلی ۔۔ ہم کافی پی رہے تھے ہم سے پوچھا ہم نے منع کر دیا پھر سب پیک بنا رہے بہن بھی آکر اسکی بیٹھ گئی اسنے بھی پیک بنایا اور شان بے نیازی سے چسکی لینے لگی ابو کہتے میری آنکھیں پھٹ گئیں بھائی اسکے دوست ساتھ ہیں اور اسنے ہیک لگایا اور پھر بھائ سے سگریٹ مانگی اسنے گولڈ فلیک نکالی اسے دی اسنے بہن نے ماچس کے اندر سے چرس نکالی اور سگریٹ بنائ سکھائ بگائ کو بھی پلائ خود بھی اور ایک ایک کش سب کی طرف ابو کہتے ہم سگریٹ نہیں پیتے تھے سو ہم نے منع کر دیا ایک دم سے ابو کے دوست کو ابکائ لگی دھویں سے الٹی ہوئ اور ہم اجازت مانگی سو ہم اسطرح عاجز آگیے فلم ادھوری چھوڑ کر سر درد کر چکا تھا خیر یہ بتا تا چلوں سارے لڑکے پٹھان پنجابی تھے فیملی پنجابی تھی بہن پنجابی تھی ۔ اس ویڈیو کو دیکھا تو یاد آیا ابو کے دوست سے اس واقعے کو کنفرم کیا تو وہ بہت ہنستے ہوے ابو کو کہہ رہے سالا چوتیا ہے تیرا باپ 😂😂😂🙏🏻

afaqkhan

32,391 görüntüleme • 5 ay önce

عمران خان نے ۲۱ جولائی ۲۰۲۳ کو ۹ مئی کے حوالے سے یہ سوالات پوچھے تھے. آج تک جواب نہیں دے سکے وہ لوگ جو “ناقابل تردید ثبوت” کے دعوے کرتے ہیں! ▪️آزادانہ عدالتی تحقیقات کیوں نہیں کرواتے؟ ▪️ہمارے سولہ لوگ شہید ہوئے، سو کو گولیاں لگیں، تین کی ٹانگیں کٹ گئیں، ایک مفلوج ہوگیا ہے…ایک پولیس والا یا رینجر زخمی نہیں ہوا مطلب ہماری طرف سے گولی نہیں چلی. تو انہوں نے نہتے لوگوں پہ گولیاں کیوں چلائیں؟ اور اب آئ جیز کے خلاف ایف آئی آر بھی نہیں کٹوانے دیتے. کبھی انکوائری ہوگی، احتساب ہوگا؟ ▪️ کیا پرامن احتتجاج کرنا جرم ہے؟ ▪️کیوں نہیں سی سی ٹی وی کی فوٹیج سے چیک کرتے کہ کن لوگوں نے آگ لگائی؟ ▪️ریڈیو پاکستان کو کس نے آگ لگائی، کیوں نہیں تحقیقات کرواتے؟ ▪️آئ جی پنجاب سے کیوں نہیں پوچھا جاتا کے کور کمانڈر ہاؤس پہ پولیس کیوں نہیں پہنچائی؟ ▪️میرا ایک بیان دکھا دیں ستائیس سال میں جب میں نے توڑ پھوڑ، انتشار اور لوگوں کو مارنے کے لئے کہا ہو؟ ▪️بچوں کو کیوں اغوا اور گرفتار کرلیتے ہیں؟ ڈاکٹر امجد کے تیرہ سال کے بچے کو اٹھا کے لے گئے اور ساری رات منہ پہ کپڑا ڈال کے رکھا. اور تو اور زمان پارک میں گارڈز وغیرہ کے لئے جو نائی آتا تھا، اس کے پاس بھی پولیس پہنچ گئی اور اس نے ہاتھ جوڑے کے میں آئندہ نہیں آسکتا! #عوام_مانگے_خان_کی_رہائی

Jehanzeb Paracha

16,323 görüntüleme • 1 yıl önce

جو جھوٹ بول رہے ہیں کہ قاسم خان/سلیمان خان نے پاکستان کے GSP+ سٹیٹس کو ختم کرنے کی بات نہیں کی، ان پاکستان کے دشمنوں کو پتہ ہونا چاہئیے کہ جس فورم پر گفتگو کی گئی وہاں کوئی بچے نہیں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ بلاواسطہ بھی ذکر کریں پاکستان کے GSP+ سٹیٹس کا اور آپ کی اشاروں کنایوں میں کی گئی پاکستان مخالف بات کو کوئی سمجھ نہ سکے۔ پاکستان کے سٹیٹس کو mention کرنے کا مقصد ہی اس بات کی طرف اشارہ کرنا تھا۔ یہ backhanded approach ہوتی ہے جس میں براہ راست نہ کہہ کر بھی اپنا مدعا بیان کر دیا جائے۔ افسوس کہ وہ بچے جو آج تک غیرمتنازعہ تھے، اب متنازعہ اور سیاسی بن چکے ہیں۔ کسی کے سیاسی اور پاکستان مخالف مقاصد کے ہاتھوں استعمال ہو گئے۔ والد سے گفتگو میں تو عمران خان نے بتایا کہ ان کی صحت بہتر ہو رہی ہے آنکھ ٹھیک ہو رہی ہے سو یہ تو اس بات کا ثبوت ہے کہ عمران خان کو جیل میں ہر قسم کے انسانی حقوق عام قیدیوں سے بڑھ کر میسر ہیں۔ میں یہ بھی سمجھتی ہوں کہ وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ Attaullah Tarar کو ان 20/25 سال کے "چھوکروں" کی اس پاکستان مخالف حرکت بارے پریس کانفرنس کرنے کی ضرورت نہیں تھی، یہ اتنے اھم نہیں کہ ریاست کا مرکزی وزیر ان کو جواب دے؛ پاکستان الحمدللہ ان 20/25 سال کے "چھوکروں" کی اس حرکت سے بہت زیادہ بلند،مضبوط اور باوقار ہے۔ یہ کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ہاں اپنا ہی تشخص ضرور بگاڑ لیا۔ پاکستان مخالف دشمنوں کو تکلیف ہی اس بات کی ہے کہ اس ملک کو اس قدر عزت، پذیرائی اور عالمی وقار کیوں حاصل ہو رہا ہے اور وہ بھی فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کے دور میں ۔۔۔۔۔ لیکن ایک پلان ان کا ہے اور ایک پلان اللہ کا ہے ۔۔۔ اور غالب پلان تو اللہ ہی کا ہے ✌️💯💥🇵🇰 آج صبح جی ٹی وی GTV پر میرا تجزیہ ۔۔۔ 👇 👇 👇

Gharidah Farooqi (T.I.)

30,982 görüntüleme • 6 ay önce

اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں جو افسوسناک سانحہ پیش آیا، اس کی ذمہ داری صرف ایک سرکاری افسر کو ہٹا کر ختم نہیں کی جا سکتی۔ اگر سیکریٹری ہیلتھ کو ہٹایا گیا ہے تو میرا سوال ہے کہ وفاقی وزیرِ صحت سے بھی جواب طلبی کیوں نہیں کی گئی؟ پمز کے حوالے سے ایک سال سے مسلسل شکایات سامنے آ رہی تھیں۔ اگر وفاقی وزارتِ صحت کو ان شکایات کا علم تھا تو پھر ان پر بروقت کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ سرکاری افسر اپنی جگہ جواب دہ ہے، لیکن سیاسی ذمہ داری بھی کسی نہ کسی کی ہوتی ہے۔ وفاقی وزیر صاحب عوام کے ووٹوں سے آنے کا دعویٰ کرتے ہیں، تو پھر عوام کو یہ جواب بھی دینا ہوگا کہ ایک سال سے سامنے آنے والی شکایات پر کیا کارروائی کی گئی؟ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس سانحے کی شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات کی جائیں اور تحقیقات مکمل ہونے تک کسی کو سیاسی یا انتظامی دباؤ کے تحت بچانے کی کوشش نہ کی جائے۔ اور میں پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز صاحبہ سے بھی کہنا چاہتا ہوں کہ صوبے کے ہسپتالوں پر بھی توجہ دیں۔ پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں کی ایمرجنسیز میں آج بھی بیڈز کی کمی ہے، آکسیجن کی سہولیات کئی جگہ ناکافی ہیں، لاہور کے بڑے ہسپتالوں میں لفٹس خراب ہیں، مریضوں کو ایک منزل سے دوسری منزل تک منتقل کرنا اہلِ خانہ کے لیے عذاب بن چکا ہے۔ کئی ہسپتالوں میں MRI، X-Ray اور دیگر ضروری مشینری خراب پڑی ہے۔ بڑے سرکاری ہسپتالوں میں آگ لگنے کی صورت میں ایمرجنسی ایگزٹ اور حفاظتی انتظامات بھی سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔ مریم نواز صاحبہ! چین اور جاپان کے دورے اپنی جگہ، لیکن اگر آپ خود پنجاب کے ہسپتالوں کا دورہ نہیں کر سکتیں تو اپنے ساتھ جانے والے وزراء کو ہی پاکستان میں رکھیں۔ انہیں لاہور اور پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں کا دورہ کروائیں اور دیکھیں کہ عام آدمی کس صورتحال میں علاج کروانے پر مجبور ہے۔ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی جیسے بڑے ہسپتال میں ایک عام مریض کے لیے علاج اور پروسیجر کے انتظار کا طویل عرصہ اس نظامِ صحت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ اگر مریض کے پاس سفارش نہیں تو اسے علاج کے لیے دنوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ہم کسی حادثے کے انتظار میں نہیں رہ سکتے۔ پمز میں جو ہوا وہ ہمارے لیے ایک وارننگ ہے۔ وفاقی اور پنجاب حکومت دونوں کو اس سانحے سے سبق سیکھنا چاہیے۔ ہسپتالوں میں حفاظتی انتظامات، ایمرجنسی سہولیات، مشینری، آکسیجن، بجلی اور ایگزٹ روٹس کا فوری آڈٹ کرایا جائے، تاکہ کسی اور ماں باپ کو اپنے نومولود یا کسی عزیز کی جان اس نظام کی غفلت کی وجہ سے نہ گنوانی پڑے۔ Bilawal Bhutto Zardari Nadeem Afzal Chan Faisal Mir Azma Zahid Bokhari Marriyum Aurangzeb

Ahmad Ghuman

43,583 görüntüleme • 1 ay önce

بدقسمتی یہ ہے کہ افغان ڈائسپورا، جہالت، تعصب اور عصبیت کی باتیں کرتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ خود افغانستان کے اندر پختون، ازبک، تاجک اور ہزارہ سب ایک ہی ریاست میں رہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم اکٹھے رہیں گے، لیکن وہ ہمیں کہتے ہیں کہ تم پختون ہو، تمہیں پنجابی، سندھی اور بلوچ کے ساتھ نہیں رہنا چاہیے۔ بھائی! اگر افغانستان میں پختون ازبک، تاجک اور ہزارہ کے ساتھ رہ سکتے ہیں تو ہم بھی پاکستان میں اپنے پنجابی، سندھی اور بلوچ بھائیوں کے ساتھ خوشی سے رہ سکتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ پختونوں کے لیے پاکستان ایک نعمت ہے۔ دنیا میں پختونوں کا سب سے بڑا شہر کراچی ہے، جہاں لاکھوں نہیں بلکہ ملینز کی تعداد میں پختون کاروبار کرتے ہیں، روزگار کماتے ہیں اور عزت کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ تاریخ بھی واضح ہے کہ افغانستان کی سرزمین مختلف ادوار میں مختلف سلطنتوں کے زیر اثر رہی، حتیٰ کہ احمد شاہ ابدالی کی درانی سلطنت بھی زیادہ عرصہ قائم نہیں رہی۔ اس بنیاد پر یہ دعویٰ کہ پورا خیبر پختونخوا یا اٹک تک افغانستان کا تھا، تاریخی طور پر درست نہیں۔پشاور پر درانی حکمرانی رہی بھی تو مردان، صوابی، ملاکنڈ، سوات اور دیر افغانستان کا حصہ نہیں تھے۔ چترال ایک الگ ریاست تھی، ہزارہ کا اپنا تاریخی پس منظر تھا۔ اب آتے ہیں اس بار بار دہرائی جانے والی بحث پر کہ ڈیورنڈ لائن سرحد نہیں ہے۔ یہ سرحد نہ ماننے سے افغانستان کو کیا ملا؟ داود نور محمد ترہکئی، حفیظ اللہ امین، ببرک کارمل، ڈاکٹر نجیب اللہ، حامد کرزئی اور اشرف غنی سب کے نتائج عدم استحکام اور مہاجرت کی صورت میں سامنے آئے۔آپ دعویٰ کرتے ہیں کہ دو سپر پاورز کو شکست دی گئی، لیکن جب سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا، ببرک کارمل روسی ٹینکوں کے نیچے کابل میں آیا، اور افغان شہری ان پر پھول نچھاور کر رہے تھے۔ پانچ ملین افغان مہاجر بن کر پاکستان اور دیگر ممالک چلے گئے۔ 2001 میں امریکہ کے حملے کے بعد بھی لاکھوں افغان مہاجر پاکستان آئے، اور پاکستان نے انہیں پناہ دی۔افغانستان میں تعلیم کا نظام کمزور ہے، اسپتال اور ڈاکٹرز نہیں ہے، بنیادی انفراسٹرکچر موجود نہیں۔ ان مسائل پر توجہ دو ، ڈیورنڈ لائن کی بحث لاحاصل ہے۔۔لہٰذا بہتر یہی ہے کہ افغانستان پاکستان کو حقیقی ہمسایہ تسلیم کرے، نفرت اور پرانی بحثوں کو ختم کرے اور امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے کام کرے۔ خطے کا مستقبل تعلیم، تعاون اور ترقی میں ہے، نہ کہ ماضی کے تنازعات کو بار بار زندہ کرنے میں۔ افغانستان کے ٹی وی چینل امو سے بات چیت

Khadim Ali khan Yousaf zai

18,699 görüntüleme • 6 ay önce

یہ 35 سیکنڈ کی وڈیو سب کو ہر حالت مین دیکھنا ہے جو مجھے پڑھتے ہین ۔ ہمت کر کے ۔ جن کو مان باپ اور رب سے اختلاف ہے ۔ جن کی خواہشات ہین ۔ ۔۔۔۔۔۔ اپنی بیٹیوں کو ضرور دکھائیں کے ایسے بھی شادیاں طے ہوتی ہین ۔ 13 تاریخ کو شادی ہے ۔ اور جہیز کیا ہے ۔ ہوش حواس اڑ جائیں گے اپ کے ماں اور باپ کی بات سن کر۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ جس کو پنجابی زبان کی سمجھ نہ لگے وہ پوسٹ پڑھ لے۔ کل شام میں اس گھر پہنچا بہت دیر سے پتا چلا۔ ان کی چھت اور کمرے کے حالات دیکھیں۔ 35 سیکینڈ کی یہ وڈیو میرا سب کچھ ایک امتحان تھی۔ بس ان سے پوچھا آپ کی تو بچی کی شادی بھی ہے کب ہے۔ تو باپ بولا 13 تاریخ کو ہے۔ میں بولا کچھ بنایا ہے بچئ کا۔ اس پر ماں بولی۔ کائی شے نہین بنائی ہیک کولی وی کائی نہین ساڈے کولی دھی دی۔ بس بچی کی بازو پکڑ کر اگلے گھر والون کو دینی ہے ۔ ترجمہ کوئی چیز نہیں بنائی ایک سالن ڈالنے والی پیالی بھی نہین ہے ہمارے پاس ایک چارپائی بنوائی تھی وہ بھی یہ کمرے مین بارش کیوجہ سے ختم ہو گئی ہے بس بچی کو بازو سے پکڑ کر لڑکے والون کے حوالے کر دینا ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بس اتنا سا سوال ہے ۔ اب آپ کر کے دیکھاو ناشکری ۔ کیا اپ کے حالات اس گھر سے بھی بدتر ہین ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا دل کر رہا ہے یہ 35 سیکنڈ کی وڈیو کالجز اور یونیورسٹیوں کے اوڈیٹوریم میں پروجیکٹر پر دیکھاون اور وہاں موجود لڑکیوں سے سوال کرون ۔ دس پندرہ ہزار کے سنیکرز 4 لاکھ کا آئی فون ہاتھ میں جس جس بچی کے ہے اس کو ہم کیا تربیت دے رہے ہین گھر بسانے کو۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ آج دوپہر کو اس بچئ کا جہیز کپڑے برتن پنکھا میک اپ کا سامان چارپائیان بستر سب خرید کر اس گھر مین پہنچانا ہین انشاءاللہ۔ ۔ ۔ #SaqibAllyana #Punjab

Saqib Allyana

164,719 görüntüleme • 2 ay önce

میرے پاس طلاق کا ایک کیس آیا ۔۔ شوہر نے کہا کہ آج سے پچیس سال پہلے میرا اپنے ایک عزیز کے ساتھ جھگڑا ہوا،جس میں اس نے مُجھے میری بیوی کے سامنے سکھ کہا ۔۔ بات آئی گئ ہو گئ ہماری صلح ہو گئ ۔ مگر میری بیوی جب بھی جہاں بھی اس واقعے کا ذکر ہوتا ہے تو کہتی ہے کہ اس نے آپ کو کہا تھا " سکھ " یہانتک کہ حج پہ جاتے ہوئے جہاز میں اور منی عرفات میں بھی بہت سارے لوگوں کے سامنے اونچی آواز میں کہا کہ آپ اس کے لئے یہاں سے تحفہ کیسے لے جا سکتے ہیں جس نے آپ کو بولا تھا " سکھ" یہانتک کہ شادی بیاہ کی تقریب میں بھی عورتوں کے سامنے اس گالی کو دھرا دیتی ہے ۔ اس بندے نے مُجھے ایک بار کہا تھا اور میری بیوی اس بات کو بلا مبالغہ ہزاروں دفعہ دہرا چکی ہے،، اب میں تنگ آ گیا ہوں، میرے کان پک گئے ہیں اس کے منہ سے یہ گالی سن سن کر ۔۔ بیوی بھی اس کے ساتھ آئی ہوئی تھی، سامنے بیٹھی تھی، میں نے اس سے کہا کہ یہ بندہ سچ کہہ رہا ہے؟ اس نے کہا کہ میں تو یہ زندگی بھر اس کو یاد کراتی رہونگی شاید اسے غیرت آ جائے،، اس وقت میں نے سمجھا بجھا کر واپس کر دیا کچھ ہی عرصے بعد ایک شادی میں ہی مجمعے کے سامنے اسی بات پر اس عورت کو طلاق دے دی اس بندے نے ۔۔ عالی مقام امام حسین علیہ السلام کے ساتھ خواتین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کی عورتوں سے بدسلوکی ہوئی یا نہیں ہوئی یہ خدا جانتا ہے مگر جس طرح ہر سال جس طرح ان مظالم اور خواتین کے حالات کو مجمعوں میں بیان کیا جاتا ہے، یہ ہر گز ہر گز قابلِ قبول نہیں ہے، کسی کی بہو بیٹیوں کے پھٹے ہوئے کپڑوں اور جسم کے ننگے حصوں کی تفصیلات ثواب سمجھ کر بیان کرنا دوستی نہیں دشمنی ہے، ثواب نہیں عذاب ہے،، اس میں حرم نبوی کی خواتین کی عزت نہیں بےعزتی ہے ۔ شیعہ علماء خاص طور پر پنجابی علماء سے گزارش ہے کہ خدا را اس پر بات کریں ۔۔ قاری حنیف ڈار

نواب عادل رندھاوا✍🏻

14,165 görüntüleme • 3 ay önce

ماورائے عدالت قتل۔۔۔ شہید حمدان کی بہن “یہ تصویر جو آپ میرے ہاتھ میں دیکھ رہے ہیں، یہ میرے بھائی شہید حمدان کی ہے، جسے 29 دسمبر 2025 کو گھر سے لاپتہ کیا گیا، اور تقریباً ایک ہفتے بعد اس پر جھوٹے الزامات لگا کر میڈیا میں پیش کیا گیا۔ اس کے بعد میرے بھائی کو تین مرتبہ عدالت میں بھی پیش کیا گیا، لیکن وہ ہر بار کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے۔ اسی ناکامی کو چھپانے کے لیے، اگلی پیشی کی تاریخ سے ایک دن پہلے، میرے بھائی حمدان اور دیگر تین بلوچ نوجوانوں کو اپنی کسٹڈی میں تشدد کرکے ماورائے عدالت قتل کیا گیا، اور پھر اسے مقابلے کا نام دیا گیا۔ اگر یہ مقابلہ تھا تو اس میں صرف بلوچ نوجوان ہی کیوں مارے گئے؟ آپ کے اہلکاروں کا ایک بندہ تک کیوں نہیں مرا؟ اور پھر اسی طرح، بنا ثبوت اور ناانصافی پر مبنی فیصلے کے تحت ڈاکٹر ماہ رنگ اور ان کی دیگر ساتھیوں کو آپ کی عدالت نے عمر قید سنائی ہے۔ میرا یہ ویڈیو بنانے کا مقصد یہ ہے کہ سرفراز بگٹی صاحب کہتے ہیں کہ اہلکار شبیر بلوچ کے لواحقین کے ساتھ انصاف ہوا ہے۔ اگر ایک واقعے پر مکمل طور پر ردِعمل آ سکتا ہے، اگر لوگوں کو سزائیں سنائی جا سکتی ہیں، تو پھر ہمارے بھائی حمدان بلوچ کے معاملے میں خاموشی کیوں ہے؟ کیوں ہمارے بھائی کے کیس کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے؟ اگر آپ کی عدالت بے گناہ لوگوں کو عمر قید کی سزا سنا سکتی ہے، تو اُن سی ٹی ڈی اہلکاروں کی کیا سزا ہونی چاہیے جنہوں نے بلوچ نوجوانوں کو اپنی کسٹڈی میں تشدد کرکے انہیں ماورائے عدالت قتل کیا؟ اگر بقولِ آپ کے شبیر کے لواحقین کو انصاف ملا ہے، تو حمدان بلوچ کے لواحقین کا انصاف کہاں ہے؟ اگر آپ انصاف کی بات کر رہے ہیں، تو ہمارے لیے آپ لوگوں کے منہ اور عدالتوں کے دروازے کیوں بند ہو جاتے ہیں؟ ہم بھی یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ہمارے اہلِ خانہ کو انصاف دیا جائے اور ان سی ٹی ڈی اہلکاروں کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ اگر ان کو سزا نہیں دی گئی تو یہ آنے والی نسلوں کے لیے خطرہ ہے۔ اسی لیے ہمارے خاندان کو انصاف دیا جائے۔”

Baloch Yakjehti Committee

13,732 görüntüleme • 2 ay önce

میرے ساتھ یہ کیوں ہو رہا ہے کہ ہر تقریر میں سینیٹ کی آفیشل فیج سے کٹنگ کی جاتی ہے؟ جملے کاٹے جاتے ہیں، یہ کیوں ہو رہا ہے؟ پنجاب بڑا بھائی ہے، اور یہ بات رانا ثناء اللہ نے بالکل صحیح کہی۔ لیکن بڑے بھائی کا جابرانہ کردار 14 اگست 1947 سے شروع ہوا اور آج تک مسلط ہے۔ بدقسمتی سے، چاہے وہ کسی بھی پارٹی سے تعلق رکھتا ہو اور چاہے پنجاب ہی کیوں نہ ہو، اس کا رویہ پختونخوا، بلوچستان اور سندھ کے ساتھ ہمیشہ ایک جیسا ظالمانہ اور استحصالی رہا ہے۔اگر میں پنجاب کے کردار اور بھائی چارے کی بات کروں، تو یہ زبردستی کا معاملہ لگتا ہے۔ اور پتہ نہیں یہ کب تک جاری رہے گا۔ اللہ خیر کرے۔ لیکن جب ہم گلہ کرتے ہیں، تو فوراً یہ جواب آتا ہے کہ پنجاب یا پنجابی کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوگی۔ وہ ہمارا بھائی ہے، لیکن خدا کی قسم! اگر اپنا بھائی بھی اپنے بچوں کے حق پر ڈاکا ڈالے تو ہم اس کے خلاف بھی بولیں گے۔ تاریخ کے حوالے سے اگر کھل کر بات کی جائے تو بڑے مسائل سامنے آئیں گے۔ پانی کے معاملے میں اے این پی ہمیشہ چھوٹے صوبوں کے حقوق کے ساتھ کھڑی رہی، بالکل اسی طرح جیسے ہم 18ویں آئینی ترمیم کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے تھے۔ پی ڈی ایم میں بھی ہم ایک تھے، لیکن بعد میں ہمیں اور پاکستان پیپلز پارٹی کو نکال دیا گیا۔ اس دور میں ہم نے بہت سے نعرے سنے، جیسے “ووٹ کو عزت دو”، لیکن آج وہی نعرہ بدل کر “بوٹ کو عزت دو” ہو چکا ہے۔ اتنی تابعداری کہ ایک رجسٹرڈ پارٹی آئین کی مخالفت کر رہی ہے۔ کل کو آپ کس منہ سے کہیں گے کہ آئین کی خلاف ورزی ہو رہی ہے؟ آپ نے خود کتنی مخالفت کی ہے؟ کیا 18ویں آئینی ترمیم پر مسلم لیگ کے دستخط نہیں ہیں؟ آج پختونخوا کو بجلی کا حق کیوں نہیں دیا جا رہا؟ آخری این ایف سی ایوارڈ کب ہوا تھا؟ یہ سب کیوں نہیں ہو رہا؟ پھر آپ کہیں گے کہ آئین کو نظر انداز کیا گیا، تو آپ کے ساتھ کون کھڑا ہوگا؟ ہم یہ سمجھتے تھے کہ اب جمہوریت ہوگی، انقلاب آئے گا، لیکن جب آئینہ دیکھا تو حقیقت سامنے آئی کہ ہر طرف صرف حافظ ہی حافظ ہیں۔ آج کس حیثیت سے چیف آف آرمی اسٹاف باہر گھوم رہے ہیں اور سوٹ کیسوں میں زمینی وسائل اٹھا کر پھر رہے ہیں؟ یہ کیا مذاق ہے؟ جو تصویر سامنے آئی ہے، اس سے لگ رہا ہے جیسے ایک برین اسٹور ہے، اس کا منیجر خوشی خوشی اندر بیٹھا ہے، اور باہر دکاندار لوگوں کو بلا رہا ہے: “آؤ، ہمارے پاس اچھی چیزیں ہیں، لے لو۔” یہ کس معاہدے، آئین اور قانون کے تحت ہو رہا ہے؟ یہ تو آمریت ہے، جمہوریت نہیں۔ کیا پارلیمان کی کوئی حیثیت ہے یا نہیں؟ جو سعودی عرب اور پاکستان کا معاہدہ ہوا ہے، اس کی تفصیلات کہاں سے سامنے آ رہی ہیں؟ جو 20 نکاتی ایجنڈا دنیا کے سامنے رکھے گئے، اس میں ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان نے یہ سب قبول کیا ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ کس پاکستان نے یہ قبول کیا؟ ہمیں تو کوئی خبر ہی نہیں۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ جب وزیراعظم اور چیف آف آرمی اسٹاف واپس آئیں، تو پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے۔ اتنا بڑا سودا کیا جا رہا ہے، تو پارلیمان کے سامنے بتایا جائے کہ حقیقت کیا ہے۔ ملک ایک خطرناک سمت کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ 20 نکات میں صرف دعوے اور ڈرامہ دکھایا گیا۔ کیا معلوم اسرائیل کو بھی تسلیم کر لیا گیا ہو؟ یہ اتنا آسان نہیں ہوگا۔ SIFC ایک غیر قانونی ادارہ ہے۔ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد اس کی موجودگی قانونی ہے یا غیر قانونی؟ کیا پاکستان دوبارہ ون یونٹ کی طرف جا رہا ہے کہ نہیں؟ آج سارے فیصلے ایک ہی جگہ ہو رہے ہیں، اور وہ ہے SIFC۔ باجوڑ میں ہمارا دوسرا رہنما شہید کر دیا گیا، اور حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی۔ میں نے مطالبہ کیا تھا کہ مولانا خانزیب شہید کے واقعے پر ایک جوڈیشل انکوائری کمیشن بنایا جائے، لیکن یہ کیوں نہیں ہو رہا؟ ایسا لگتا ہے کہ حکومت خود ملوث ہے۔ آخر میں سانحۂ تیراہ پر بات شروع کرتے ہی ایمل ولی خان کا مائیک بند کر دیا گیا۔ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر، سینیٹر ایمل ولی خان کا سینیٹ اجلاس میں خطاب

Awami National Party

20,561 görüntüleme • 1 yıl önce

کیا عمران ریاض کو خاتون سے معافی مانگنی چاہیے؟ کیا انہیں اس بدتمیزی سے جواب دینا چاہیے تھا؟ یا پھر عمران ریاض ایک "چھوٹا مستری" بن چکے ہیں؟ پچھلے دنوں عمران ریاض یورپ کی یاترا پر تھے، ڈنمارک میں ایک خاتون نے ان سے پوچھا کہ آپ نے گواہی کیوں نہ دی؟ اس وقت عمران ریاض بیٹھے ہوئے تھے، پتہ نہیں کہاں کہاں مرچیں لگی کہ اٹھ کر اونچی اونچی اواز میں چیخنے لگے، کبھی یہاں کھڑے ہو کر تو کبھی وہاں کھڑے ہو کر۔ کیوں؟ یہی بات تو وہ بیٹھ کر بھی کر سکتے تھے۔ تو چیخنے چلانے کی ضرورت کیوں پڑی؟ اور کیا انہوں نے سوالات کے جوابات دیے؟ عمران ریاض کا پہلا موقف تھا : مجھے کہا جاتا تو میں گواہی ضرور دیتا اور برگیڈیر کی پمبیری گھما دیتا۔ دوسرا موقف : میری گواہی سے کوئی فرق نہ پڑتا۔ بلکہ آئی ایس آئی تو چاہتی ہے کہ میں گواہی دوں۔ تیسرا موقف : یہ الٹے بھی لٹک جائیں تو میں گواہی نہ دوں گا۔ عمران ریاض کا ایک موقف اور بھی ہے : عاصم منیر بھی میرا موقف نہیں بدل سکتا. پہلے بتاتے تھے کہ عادل راجہ نے ان کی فیملی کی لوکیشن ایکسپوز کی، ان کے پورے خاندان کی جان خطرہ میں ڈالی، میں گواہی کیوں دوں ؟ اب ان کے اپنے انٹرویو سے، جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ ان کی فیملی کی لوکیشن ان کی اپنی وجہ سے ایکسپوز ہوئی تھی، تو اب ایک اور موقف لے ائے : ایک فوجی نے میرے جسم کو چوٹ پہنچائی، دوسرے نے میری روح پر وار کیا۔ ساتھ میں مظلومیت کے ساز پر وہی مانترا : عاصم منیر بھی میرا موقف نہیں بدل سکتا. ان کے جواب کو غور سے سنیں، ڈرامہ کو الگ کریں، جذبات کو ایک سائیڈ پر کریں، نوٹنکی کو ایک طرف رکھیں، اور دیکھیں کہ عمران ریاض نے اصل میں کہا کیا؟ ان کی روح پر کون سا وار ہوا؟ عادل راجہ ان کی اہلیہ کو ان کے بارے میں غلط بتاتے رہے، اور وہ بے چاری یہاں وہاں ڈھونڈتی رہیں۔ جب ایک دنیا کہہ رہی تھی کہ عمران ریاض کو قتل کر دیا گیا ہے، ان کی زبان کو نقصان پہنچا دیا گیا ہے، اپ وہ بول نہیں سکیں گے، اس وقت عادل راجہ ہی تھے جن کے الفاظ میرے سمیت بہت سارے لوگوں کے لیے تسلی کا باعث تھے کہ وہ زندہ ہیں۔ اس وقت میرا عادل راجہ سے کوئی رابطہ نہیں تھا، بلکہ میں عمران ریاض کا پرستار تھا۔ عمران ریاض کا رویہ یہ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ کہیں انہیں غصہ اس بات پر تو نہیں، کہ جب پوری قوم ان کی زندگی کے بارے میں فکر مند تھی، تو عادل راجہ لوگوں کو کہہ رہے تھے کہ وہ زندہ ہیں، ان کی رہائی کے لیے کوششیں کریں؟ یا پھر انہیں اس بات پر افسوس ہے کہ عادل راجہ کی یہ خبر بھی سچی کیوں ہو گئی ؟ اب پچھلے کچھ ماہ میں جتنا میں نے عادل راجہ کو جانا، یہ والا الزام بہت گھٹیا ہے۔ بہت سے لوگوں کو لگتا ہوگا کہ عادل راجہ بتاتے ہوں گے کہ کیا لکھنا ہے؟ وہ کبھی بھی نہیں کہتے۔ میرا کوئی سوال ہو تو اس کا جواب دیتے ہیں، ایک دو بار پوچھا تو یہی کہا کہ جو تمہیں ٹھیک لگتا ہے وہ لکھو، بے شک میرے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ اب میں یہ تو مان سکتا ہوں کہ عادل راجہ کے پاس یہ خبر تھوڑی دیر سے پہنچی ہو کہ عمران ریاض کہاں قید ہیں، اور اس وقت تک جگہ بدل چکی ہو، لیکن یہ ماننا مشکل ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر غلط بتایا ہو۔ اس موضوع پر عادل راجہ اور سبین کیانی ایک تفصیلی وی لاگ بھی کر چکے ہیں، اس میں اپ کو بہت سارے سوالات کا جواب مل جاتا ہے۔ وہ ضرور دیکھیے۔ خیر مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ عمران ریاض کی روح پر کون سا وار ہوا جس کی وجہ سے انہیں شانتی نہیں مل پاتی؟ اور کون سے ویوز لینے تھے عادل راجہ نے؟ ان کا تو اس وقت یوٹیوب چینل بھی نہیں تھا ! جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا اگر جذباتیت کو ایک طرف رکھیں، تو عمران ریاض کے جواب میں کچھ بھی نہیں ہے۔ سچ صرف یہ ہے، کہ الفاظ بدل بدل کر عمران ریاض یہی شعر پڑھتے رہتے ہیں کہ میں راجے کو کبھی میرے ڈھول سپاہی نہ دوں گی، میں گواہی نہ دوں گی، میں گواہی نہ دوں گی۔ اور رہی بات حاضرین محفل کی، تو اس بات پر افسوس ہوا کہ کسی نے عمران ریاض کو روکا نہیں۔ انہیں جواب دینا تھا، لیکن وہ الٹا یہ سوال خاتون سے پوچھ رہے تھے کہ عادل راجہ نے کبھی سہیل وڑائچ پر وار کیا؟ حالانکہ سب جانتے تھے کہ عادل راجہ نے سہیل وڑائچ کو بہت ایکسپوز کیا۔ بچے بچے کو پتہ ہے کہ ان کی رومانوی گفتگو کی ریکارڈنگز ایجنسیوں کے پاس ہیں، کس کی وجہ سے؟ عادل راجہ کی وجہ سے! بہتر تو یہ ہوتا کہ اگر حاضرین محفل سے کوئی انسان روکتا، عمران ریاض کو کہتا کہ جوش جذبات میں خاتون کا احترام ملحوظ رکھیں، جواب نہیں دینا، نہ دیں، لیکن بے پر کی نہ اڑائیں، چیخیں نہیں، چلائیں مت۔ لیکن کوئی بھی ایسا نہ تھا جو یہ کہنے کی جسارت کر سکتا۔ سلام ہے اس خاتون کی ہمت کو، جس نے بھری بزم میں سوال اٹھانے کی ہمت تو کی۔ کاش تھوڑی سی ہمت وہاں بیٹھے مرد بھی دکھا سکتے !! کہیں عمران ریاض ایک "چھوٹا مستری" تو نہیں بن چکے جو ہر وہ بات کہہ سکتے ہیں جو وہ کہنا چاہتے ہیں، لیکن ان سے کوئی سوال نہیں ہو سکتا؟ کاش یہی جرات عمران ریاض بریگیڈیر کے خلاف دکھا سکتے! کاش یہی جذبات وہ اس وقت دکھا پاتے جب افتاب اقبال نے انہیں سامنے بٹھا کر تیتر کی پھبتی کسی تھی, اور محترم نے دانتوں کی نمائش کر دی تھی۔ کاش یہی ہمت وہ اس وقت دکھاتے، جب ان کی وجہ سے ان کی فیملی کی لوکیشن ایکسپوز ہوئی، اور یہ اپنی فیملی کو خطرے میں چھوڑ کر سات ملکوں کی سیر کو نکل گئے ! کاش ان کا یہ لہجہ اس وقت بھی ہوتا جب انجینیئر مرزا کو ان کے اوپر چھوڑا گیا تھا، اور وہ للکار للکار کر تھک گیا کہ میری آڈیوز لیک کرو، لیکن ٹارزن بھیا پتلی گلی سے کلٹی مار گئے۔ اس سوال کے ساتھ اجازت : کیا اپنے نامناسب اور غیر مہذب طرز تکلم کی وجہ سے، عمران ریاض کو معافی مانگنی چاہیے یا نہیں؟ کھلم کھلا جھوٹ بولنے پر ندامت کا اظہار کرنا چاہیے، یا نہیں؟ 🤔

Kashif Aslam

65,128 görüntüleme • 10 ay önce

کاشف عباسی کی یہ گفتگو سنی تو میرا ذہن ماضی میں چلا گیا۔ جولائی 2018 میں جب آج ٹی وی کی انتظامیہ نے عاصمہ شیرازی کو فون کر کے کہا کہ نواز شریف اور مریم نواز لندن سے گرفتاری دینے پاکستان آ رہے ہیں آپ کا ویزا لگا ہوا ہے کسی اور کے پاس نہیں آپ فوری لندن چلی جائیں کیونکہ سارا میڈیا اسی جہاز پر واپس آ رہا ہے، عاصمہ شیرازی نے لندن پہنچ کر نواز شریف اور مریم نواز کے انٹرویوز کیے جو چینل کے لیے ایکسکلوسیو تھے، چینل پر پروموشن چلتے ہی جنرل فیض نے مالکان کو فون کر کے کہا یہ انٹرویوز چلے تو اس کے بعد چینل نہیں چلے گا۔ انٹرویوز روک دیے گئے۔ ساری فلائیٹ اینکرز اور صحافیوںں سے فُل تھی مگر جب عاصمہ شیرازی واپس پہنچیں تو ان کے لینڈ کرنے سے پہلے "صرف ان کے" خلاف سوشل میڈیا پر کمپین کا طوفان آ چکا تھا، جیسے باقی میڈیا صحافتی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے ٹھیک کر رہا تھا صرف عاصمہ شیرازی نے غلط کیا تھا۔ واپسی کے چند روز بعد عاصمہ شیرازی کو رابطہ کر کے بتایا گیا کہ آپ کے نام پر ادارے نے کراس لگا دیا ہے۔ اب آپ نہیں بچیں گی۔ الیکشن کے بعد عمران خان صاحب کی حکومت آئی تو بنک سے کال آئی کہ آپ کے بنک اکاؤنٹ اسٹیٹمنس نکلوائی گئی ہیں۔ عاصمہ شیرازی کا مکمل ٹیکس آڈٹ ہوا، ان کی والدہ، بہن بھائیوں کے اکاؤنٹس کے آڈٹ ہوئے۔ عاصمہ شیرازی کے ایک قریبی دوست کے دوست ایسٹ ریکوری یونٹ میں تھے، انہوں نے بتایا کہ ہم نے احکامات کے مطابق عاصمہ شیرازی کے خلاف پورا یورپ، یوکے، امریکا چھان مارا مگر ہمیں کچھ نہیں ملا۔ اسی دوران عاصمہ شیرازی کے گھر میں دو بار نامعلوم افراد گھسے، ایک شخص کی ساتھ والے گھر سے ریکی کرنے کی نشاندہی ہوئی، پولیس نے عاصمہ شیرازی اور محلے کے معتبر لوگوں کو جمع کیا اور کہا آپ کو معلوم ہے یہ کون لوگ تھے، ہم ان کا کچھ نہیں کر سکتے۔ سوشل میڈیا پر آئے روز کمپین کے بعد ایک کالم کو بے بنیاد بنیاد بنا کر نیشنل براڈ کاسٹ پر عاصمہ شیرازی کے خلاف پریس کانفرنسیں کی گئیں، پروگرام ہوئے، سوشل میڈیا پر حجاب میں لپٹی طوائف سات روز تک ٹرینڈ کرتا رہا۔ ایک وفاقی حکومت کی پوری وفاقی کابینہ نے عاصمہ شیرازی کی کردار کشی مہم میں فخریہ حصہ لیا۔ اس سے پہلے غداری کا ٹرینڈ حامد اور عاصمہ شیرازی کے خلاف چلا۔ اسد طور معاملے پر پریس کلب کے باہر تقریر کرنے پر عاصمہ شیرازی اور حامد میر کے خلاف بغاوت کے مقدمات۔ تضحیک، تذلیل، گالم گلوچ اور پتا نہیں کیا کیا اس دوران ہوا۔ یہاں تک کے بچوں کو بھی نہیں بخشا گیا۔ مگر تب سب ٹھیک تھا، کئی صحافی دوستوں کے گھر پی ٹی آئی کے راہنما بیٹھ کر پلاننگ کرتے تھے عاصمہ شیرازی کی کردار کشی کیسے کرنی ہے، الزام کیا لگانا ہے، ٹرینڈ کیا ہونا چاہیے۔ اسی دوران کئی صحافی دوستوں نے پی ٹی آئی کی قربت میں عاصمہ شیرازی کا سوشل بائیکاٹ شروع کر دیا۔ بات سمیٹتے ہوئے: جو آج غلط ہے تب بھی غلط تھا۔ مگر تب کئی دوستوں کی دوستیاں ان کی اخلاقیات کی راہ میں رکاوٹ تھیں، سب اچھا لگ رہا تھا، آج سب برا لگ رہا ہے مگر ہے تو وہی صورتحال۔ موجودہ صورتحال میں میری ہمدردیاں اور دعائیں کاشف عباسی اور ان کے فیملی کے ساتھ ہیں۔ ان پر پابندی اور سختیوں کا کوئی جواز نہیں۔

Mudassar Saeed

68,425 görüntüleme • 9 ay önce