正在加载视频...

视频加载失败

میرا فارم ہاؤس گرایا گیا تھا ، الٹا میرے خلاف فوجداری کیس بھی کر دیا گیا ، تین سال تک بطور ملزم عدالتوں کے چکر کاٹے تین سال کے ٹرائل کے بعد آج اُس کیس میں بری ہوا ، میرے خلاف ملک بھر میں 28 ایسے اور کیسز ہے...

26,592 次观看 • 3 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

آج میرے کیس کی پیشی تھی۔ آئی ایل ایف کے وکلاء نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ وہ میرا کیس مزید نہیں لیں گے اور مجھے اپنا پرائیویٹ وکیل کرنا ہے۔۔۔۔ جج صاحب نے بھی ریمارکس دیے کہ کیس آپ کو ہی لینا چاہیے۔ میں نے اگے سے کہا کہ میرے اوپر پی ٹی ائی کے احتجاج کا کیس ہے تو کیس بھی انہیں لینا چاہیے تو تب محترمہ وکیل نے کہا کہ آپ نیگیٹو نہ ہوں، ہم ٹرائل کیسز نہیں لیتے، ہم صرف ضمانتوں کے کیس کرتے ہیں۔ لیکن ایک اور کیس عامر مغل اور باقیوں کے خلاف ہو رہا تھا اور اس کیس کا بھی ٹرائل جاری ہے۔ اگر آئی ایل ایف والے ٹرائل کیسز نہیں لیتے تو پھر اس کیس کو کیا کیا جا رہا ہے؟ میرے کیس میں ہی کیوں کہا گیا کہ ہم ٹرائل نہیں لیتے؟ یہ ہیں آئی ایل ایف کے حالات۔۔۔۔ یہ نااہلی ہے آئی ایل ایف کی پارٹی پر تنقید کرنے والوں کے کیس شاید آئی ایل ایف نہیں لیتی یا اگر لے تو سپریم کورٹ تک بات کو پہنچا دیا جاتا ہے۔۔۔۔ آئی ایل ایف کے وکیل میرے کیس کے لیے نہیں آئے تھے وہ کسی اور کیس کے لیے آئے تھے میں جب وہاں گیا تو انہوں نے دیکھا اور میرے پاس آگئے ورنہ انہیں میرے کیس کا معلوم بھی نہیں تھا۔۔۔۔

Haider Saeed

41,900 次观看 • 2 个月前

چھبیس نومبر کو خان صاحب کے سپورٹرز، پی ٹی آئی ورکرز اور نہتے عوام پر گولی چلی۔ لوگ شہید بھی ہوئے اور زخمی بھی۔ اس قتل عام کے خلاف قانونی راستہ اپناتے ہوئے عمران خان صاحب کے مشورے اور ہدایات کے مطابق سیشن جج کے سامنے درخواست دائر کی، جس میں لطیف کھوسہ صاحب وکیل تھے۔ اس کی کل 14 سماعتیں ہوئیں اور تین مرتبہ جج تبدیل ہوئے۔ 17 جولائی کو افضل مجوکہ صاحب کے سامنے کیس پیش ہوا تو میں حاضر ہوا اور درخواست کی کہ لطیف کھوسہ صاحب سپریم کورٹ میں پیشی کی وجہ سے General Adjournment ہے، اس لیے کیس ان کی واپسی تک موخر کیا جائے۔ جج صاحب نے 22 جولائی کی تاریخ دی۔ آج چیف جسٹس کے دورے کی وجہ سے باقی کیسز کی سماعت نہیں ہوئی، لیکن ہمارے کیس کو ہمیں سنے بغیر خارج کر دیا گیا۔ یہ انصاف کا قتل ہے۔ کوئی کرمنل کیس درخواست گزار کو سنے بغیر خارج نہیں کیا جا سکتا۔ ہم اس کے خلاف ہائیکورٹ میں اپیل دائر کریں گے۔ اس کیس کی چودہ سماعتوں میں میں ہر سماعت پر عدالت کے سامنے پیش ہوا، کھوسہ صاحب بھی پیش ہوتے رہے۔ اس درخواست کا خارج ہونا آئین کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ بیرسٹر گوہر خان

PTI

86,816 次观看 • 29 天前

کہا گیا کہ کے پی حکومت دہشت گردی کے خاتمے میں سیریس نہیں ہے۔ میں نے ایپکس کمیٹی کی میٹنگ بلائی۔ اس میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عمران خان کے ویژن کے مطابق پالیسی پیش کی کہ اس پر عمل کرو تو دہشت گردی ختم ہو جائے گی، کیونکہ 21 سال سے ان کی پالیسی ناکام ہو رہی تھی۔ لیکن ہماری پالیسی پر عمل نہ ہوا۔ ہمارے خلاف فوج مخالف بیانیہ بنایا گیا، وہ ختم ہوا۔ پھر غیر جمہوری انتشاری کا بیانیہ بنا۔ ہم تمام آئینی و قانونی راستے اپنا رہے ہیں، یہ آئین کے خلاف جا رہے ہیں۔ قوم حقیقت جانتی ہے۔ یہ بیانیہ بھی ان کا ختم ہوا۔ دہشت گردوں کے ساتھ ملے ہونے کا بیانیہ بھی ان کا ختم ہو چکا۔ ایک طرف پولیٹیکل کمیٹی کے فیصلے پر میں اپنی تمام مخالفت بھلا کر پاکستان کی خاطر ان کے ساتھ میٹنگ میں جا کر بیٹھا۔ میں نے ان سے کہا کہ اگر میں پاکستان کے لیے یہاں آیا ہوں تو آپ بھی پاکستان کی خاطر پی ٹی آئی کے خلاف جاری سیاسی انتقام ختم کریں گے۔ کیونکہ صرف ہم پی ٹی آئی والوں نے محب وطن رہنا ہے، یہ نہیں ہیں؟ اس کے اگلے روز عمران خان اور بشری بی بی کی فیملی کی ملاقات روک دی جاتی ہے، میرے خلاف نیا کیس کھل جاتا ہے۔ تو کیا محب الوطنی کا ٹھیکہ ہم نے لیا ہوا ہے؟ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی Sohail Afridi

PTI

13,257 次观看 • 4 个月前